بلا عنوان “انشائیہ” (قسط-2) از: کامران غنی صبا

0
154

جی صاحب! تو جنگل میں گدھوں کی حکومت آنے کے بعد لسانی مسائل سر اٹھانے لگے۔ وہ جانور جو اقلیت میں تھے ان کی زبانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ اختیار کیا جانے لگا۔ کوئلیں اپنی زبان کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں لیکن گدھوں کی حکومت آنے کے بعد مکر و فریب کا ایسا بازار گرم ہوا کہ گدھوں کے علاوہ دوسرے جانور بھی مکاری پر آمادہ ہو گئے۔ اصل اور نقل کی شناخت مشکل ہونے لگی۔ کچھ الو، کوئلوں کا روپ دھار کر ان کی لسانی تحریک میں گھس گئے۔ وہ خود کو کوئلوں کی زبان کا مسیحا ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے “جنگل ٹائمز” “روزنامہ جنگل” “دینک ون” جیسے اخبارات کا سہارا لیا۔ جنگل کے اخبارات میں لسانی تحریک زور و شور سے اٹھائی گئی۔ دوسری طرف چیلوں اور گدھوں کے توسط سے گدھوں سے یہ خفیہ معاہدہ ہو گیا کہ لسانی تحریک صرف اخبارات تک محدود رہے گی۔

سیدھی سادی کوئلوں کی جماعت فریبی اور نام نہاد مسیحاؤں کی باتوں میں آ گئی۔ معصوموں کو کیا پتہ کہ اصل کھیل تو کرسی کا ہے۔ جس طرح گدھوں نے کرسی حاصل کرنے کے لیے جنگل کے جانوروں کا لڑایا، خون خرابا کروایا، جنگل کے ماحول میں نفرت کا زہر گھول دیا، اسی طرح لسانی اداروں کی کرسی حاصل کرنے کا کھیل جاری ہے۔۔۔۔۔
(جاری ہے)۔(یہ بھی پڑھیں!بلاعنوان (انشائیہ)از: کامران غنی صبا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Previous articleاتحاد ملت کانفرنس از: مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی
Next articleدیوبند اے ٹی ایس کمانڈو پروجیکٹ اور خدشات از: ڈاکٹرراحتؔ مظاہری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here