“بلاغ 18 ڈاٹ کام”: اس کے عزائم بلند، اس کے مقاصد جلیل ! از : امتیاز وحید

1
182

ذرائع ابلاغ کی اہمیت یوں تو ہمیشہ سے مسلم رہی ہے۔ تا ہم حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں برقی ذرائع ابلاغ کی اہمیت و افادیت دوچند ہوگئی ہے۔ اردو زبان و ادب کے منظر نامے پر”بلاغ 18 ڈاٹ کام” ایک نوعمر ویب سائٹ ہے۔ تاہم اس نے اپنی کم عمری کے باوصف بڑی تیزی سے اہلِ علم و نظر کی توجہ حاصل کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کا ایک نیا پلیٹ فارم ہے، جس میں تخلیقات، وتنقیدات شعر و نثر کے ساتھ ساتھ معاصر دنیا کی صورت حال کی اشاعت کا سامان کیا گیا ہے۔ مثبت اور تعمیری افکار کا فروغ اس کا بنیادی ایجنڈا ہے۔ اور یہ اپنے اہداف کی طرف بڑی خود اعتمادی سے گامزن ہے۔ دراصل بلاغ 18 ڈاٹ کام باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے عہدبند ہوتی ہے۔ اسے ملت مسلمہ کی زوال پذیری اوربے بضاعتی کا بخوبی احساس ہے۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بننے کا مجازہے، جو اس نظریہ سے اتفاق رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں ملت کے سبھی افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ بلاغ 18 ڈاٹ کام کے قافلے میں شامل ہوکر اپنے علمی، تخلیقی اور عملی تعاون سے ملتِ بیمار کے لیے افاقہ کا سامان کریں۔
اصلاحی، علمی، تاریخی، تحقیقی اور سائنسی نگارشات پر مشتمل ‘مضامین و مقالات’ کے زمرے میں اب تک کل 98 مضامین شایع ہوچکے ہیں۔ شاعری، طنز و مزاح، انشائیہ ، افسانہ، ناول، ڈرامہ اور ادب اطفال جیسی جہات پر مبنی گوشہ ادب کے تحت شایع ہونے والی تخلیقات اور مضامین کی تعداد 178 بنتی ہے۔ اسی طرح طویل و مختصر تجزیے، کالم، قومی اور بین الاقوامی خبریں اورتعلیم و صحت کے ضمن میں اب تک بیش قیمت مواد کا ایک قابلِ لحاظ ذخیرہ قارئین کے لیے مہیا کرایا جاچکا ہے۔ متفرقات کا باب ابھی سرِراہ ہے۔ تاہم اس کے تحت اہم کتب کی پی ڈی ایف اور اہم لنکس کی دستیابی کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ یہ اس اعلیٰ اور سنجیدہ مقاصد کے حصول کا خاکہ ہے جسے ترجیحاتی بنیادوں پر بلاغ 18 ڈاٹ کام نے ملت کی نشاۃ ثانیہ کے اپنے منشورمیں شامل کررکھا ہے۔

بلاغ 18 ڈاٹ کام کے موسس و محرک صدیق مکرم جناب عبدالوہاب قاسمی صاحب بالکل تازہ دم قلم کار ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، سیوان میں ایک اسکول میں استاد ہیں اور ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں بھی منہمک ہیں۔ قلم و قرطاس سے بڑا گہرا رشتہ ہے۔ پیر و مرشد ڈاکٹر ظفرکمالی کی رشد و ہدایت میں بڑی یکسوئی کے ساتھ لکھنے پڑھنے کا کام کررہے ہیں۔ ابتدا اصلاحی اور دینی مضامین سے کی۔ اب پیر کی رہنمائی میں تنقید کی طرف گامزن ہیں۔ حال ہی میں ”ظفرکمالی کی گیارہ طنزیہ نظمیں: ایک تجزیاتی مطالعہ مع متن” کی اشاعت کے بعد دوسری کتاب طباعت کے مراحل میں ہے۔ قاسمی صاحب کی مستقل مزاجی اور کام کی لگن سے بجا طور پر امید رکھی جاتی ہے کہ بلاغ اپنے مقاصد سے غافل ہوگا اور نہ ہی اس کے جواں سال مدیر کا حوصلہ کم ہوگا۔ مدیر اور اس کے برقی رسالے کے لیے نیک خواہشات۔

Previous articleاردو ادب کی ورجینا وولف تھیں قرۃ العین حیدر- امان ذخیروی
Next articleشاذ رحمانی! شاعری کا خاموش جزیرہ از: احسان قاسمی

1 COMMENT

  1. ماشاء اللہ !بلاغ 18. کوم۔ اپنی انفرادیت کی بنیاد پرعروج و ارتقاء کے منازل بڑی سرعت کے ساتھ طے کرتا جارہا ہے اورقارئین کے لئےمواد اور معلومات کے ناحیہ سے مثل بحر ذخار بنتا جارہا ہے اسی لئے مستفیدین کی توجہ اس کی طرف مبذول ہوتی جارہی ہے جو اس کی کامیابی کا ضامن ہے۔اس حوالے سے امتیاز وحید صاحب نے اچھی نشاندہی کی ہے۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here