بلاعنوان (انشائیہ)از: کامران غنی صبا

1
51

جنگل میں گدھوں کی حکومت کیا آئی پورے جنگل کا منظر نامہ ہی بدل گیا. درختوں پر “خرِ اعظم” کی تصویریں آویزاں کی گئیں. “خر اعظم” سے قربت حاصل کرنے کے لیے گدھوں اور چیلوں نے تصویروں کو جعلی عقیدتوں کے بوسے دینے شروع کر دییے. بس کیا تھا چیلوں اور گدھوں کو وزارت میں شامل کر لیا گیا. “جنگل ٹائمز” “دی فوریسٹ” “روزنامہ جنگل” “دینک ون جیسے اخبارات میں خر اعظم اور اس کے وزیروں کی قصیدہ خوانی کے لیے تمام کے تمام صفحات وقف کر دئیے گئے.” خر اعظم” کے خلاف بولنا” جنگل ورودھی” کہا جانے لگا.

کہا جاتا ہے کہ جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمراں ہوتے ہیں اور جیسے حکمراں ہوں عوام کی ذہنیت بھی ویسی ہی ہونے لگتی ہے. جنگل میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے حکمرانوں اور عوام کے مزاج میں یکسانیت پیدا ہونے لگی. نمود و نمائش اور پروپیگنڈہ اتنا عام ہونے لگا کہ اصلی اور نقلی کی تمیز مشکل ہونے لگی. سیاست کی گلیوں سے نکلنے والی پروپیگنڈا گاڑی مذہب اور ادب میں بھی داخل ہو گئی. اس پروپیگنڈا گاڑی نے مذہب کا تو ایسا ستیاناس کیا کہ خدا ہی بچائے. “خر اعظم” کو ماننے والا ہی سچا مذہب پرست کہلایا. جس نے انکار کیا اسے “ادھرمی” کی سرٹیفکیٹ تھما دی گئی.
پروپیگنڈا کی سیاست ساہتیہ سنسار میں بھی پرویش کر گئی. اس پروپیگنڈا کی چھیترا چھایا میں ایسے ایسے ساہتیہ کار جنم لینے لگے جن کا کبھی کوئی استیتوا بھی نہ تھا.

ایک زبان جو بے چاری بدقسمتی سے جنگل کے اقلیتی طبقے سے منسوب ہو چکی تھی، سب سے زیادہ تعصب کا شکار ہوئی. جنگل کے تعلیمی اداروں سے اسے بے دخل کرنے کے منصوبے بنائے جانے لگے. اس بے چاری مظلوم زبان پر ہو رہے مظالم کا فائدہ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے شاطر جانوروں نے خوب اٹھایا. جنگل میں زبان کے تحفظ کے لئے ایک تحریک چلائی گئی. جنگل ٹائمز میں “خر اعظم” کی طرز پر تصویریں شائع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا. دوسری طرف “خر اعظم” کی وزارت سے جڑے جانوروں کو خوش کرنے کے لیے ان کے دربار میں خوب حاضری بھی لگائی گئی. انہیں یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ یقین رکھیں ہم آپ کو تکلیف پہنچانے والا کوئی کام ہرگز نہیں کریں گے اور یہ بھی یقین رکھیں کہ ہماری تحریک بس جنگل کے چند اخبارات تک ہی ہے. آپ کی حکومت پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا. بس آپ ہمیں ہمارے ٹوٹے پھوٹے اداروں کی ٹوٹی پھوٹی کرسیاں مخدوش الماریوں اور کچھ رقم کے ساتھ ہمارے حوالے کر دیں اور ہاں پچھلے پانچ سال سے ہم لوگ “مشتری” نام کا ایک رسالہ نکالنے کا اعلان کرتے آ رہے ہیں اور مسلسل جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں حضور والا کی مہربانی ہو جائے تو……..(یہ بھی پڑھیں!بہار میں اردو: نئی نسل کو نظر انداز کرنے کا رویہ افسوس ناک از:کامران غنی صبا)

Previous articleاور کتنا انتظار ؟از: محمد احسان الاسلام
Next articleطلاق دینا ____کتنا آسان؟ کتنا مشکل؟ از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here