بدقسمتی ہے کہ کافی عرصے سے اردو زبان زوال کا شکارہے از :رازدان شاہد

0
86

’’زبان نہ کسی کی ایجاد ہوتی ہے اور نہ کو ئی ا یجاد کر سکتا ہے جس اصول پربیج سے کونپل پھوٹتی ہے ،پتے نکلتے ہیں،شاخیںپھوٹتی ہیں،پھول لگتے ہیںاور ایک د ن وہی ننھا سا پودا ایک تناور درخت ہو جاتا ہے۔اسی اصول کے مطابق زبان پیداہوتی ،بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے‘‘(مولوی عبدالحق)

زبان کا مطلب ایسا ذریعہ کلام کہلاتاہے جس کے ذریعے انسان اپنے مافی الضمیر کی ادایئگی کر سکے ۔ میری نظرمیں زبان آپس مین ابلاغ کا بھی بہترین ذریعہ ہوتی ہے زبان کیسی بھی قوم میں رابتے اور یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے ہر ملک کی زبان ا س کی شنا خت ہوتی ہے۔ زبان کسی بھی ملک کی تہذیبی ثقافتی مشارتی اور سماجی اقدارکی عکاسی کرتی ہے۔

اسی طرح اردوبھی ہمارے ملک کی ایک زبان ہے ،یہ نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ تہزیب وتمدن کا بھی حصہ ہے اور تہزیب بھی وہ جو انسانیت کی پہچان کرائے۔ کسی نے کیا خوب لکھا ہیــــــــ’’اردو جسے کہتے ہین تہزیب کا چشمہ ہے،وہ شخص مہذب ہے جس کویہ زبان ائے‘‘ اردو ادب کا پورا پلندہ ہے اسکے بولنے والے اسکی خوبیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔اردو نے ہمیں نرمی بھرے انداز والے آدابِ گفتگو سکھائی ہے اردو نے انسان کے بہمی رشتوں کو بھی سمبھالا ہے جبکہ دنیا کے دیگر زبانوں کا حال یہ ہے کہ نہ ہی اس میںکوئی تہزیب ہے نہ اداب۔ا ور سب سے بڑی خصوصیت اس کی یہ ہے اس میںدوسری زبانوں کے الفاظ کو سمولینے کی طاقت ہے۔ اردو کے دامن مین فکروخیال کے بیش قیمتی گوہر پوشیدہ ہیں صرف ان گوہروں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

مگر بدقسمتی سے کافی عرصے سے اردو زبان زوال پذیری کا شکارہو گئی ہے،جس کی وجہ یہ ہے کے اب ہم انگریزی زبان (انگلش) کو اردو پر ترجیح دینے لگے ہین ۔وہ زبان جس کی ترقی کے لئے ــ’ ’سر سید احمد خان‘‘ جیسی شخصیات نے محنت کی،جس میں ’’اقبال‘‘ کی نظموں کی مٹھاس ہے،’’غالب ‘‘ا ور’’میر‘‘کی غزلوں کا ترنم ہے اس کی اہمیت کو بھلایا جا رہا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ مجھے یے دیکھ کر بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل کو اردو سے دلچپی ہی نہیںہے، آج کی نوجوان نسل کو اردو نہ تو لکھنا اتا ہے نہ ہی پڑھنا انگریزی بولنے کو ہی کامیابی اور تعلیم یافتہ ہونے کا راز سمجھتے ہیں ،اور کہتے ہیں’’ہم توانگلش بولنے اور لکھنے میںہی پر سکون محسوس کرتے ہیں‘‘جبکہ یہ بات شرم کا باعث ہے۔ کسی بھی جگہ آپ کی کامیابی کی ضمانت یہ ہے کہ آپ انگریزی زبان پر کتنا عبور رکھتے ہیں۔سرکاری ہو یا نجی، ہر شعبے کی ہر سطح پر انگریزی کے بغیر کام نہیں چلتا۔ایک زمانہ تھا کہ ہندو مسلمان سبھی مل کر ارد و زبان پڑھنا لکھنا سکھتے تھے، آج اردو زبان سے دوری اختیارکرنے کی وجہ احساس کمتری ہے۔اردو زبان کو سب سے زیادہ خطرہ اس کے غلط استمعال سے ہے۔

اس کے علاوہ اردو میں انگریزی الفاظ کی ملاوٹ کرنا آج کل نیا چلن سا ہو گیا ہے۔آج کل گھر میں بھی بچوں کو اردو کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے اور دیگر زبانوں پر ہی توجہ دی جاتی ہے ،کہا جاتا ہے کے گھر ہی بچوں کا پہلا مدرسا ہوتا ہے اس لئے ماںباپ کو چاہیے کے گھر میں ہی بچوں کو اردو کی تعلیم دیں، تعلیمی عدا روں میں بھی صرف انگریزی ز بان کو ہی رائج کیا جاتا ہے اور انگریزی سیکھنے اور بولنے پر توجہ دی جاتی ہے جسکی وجہ سے بھی آج اردو زوال پزیری کا شکار ہوتی جا رہی ہے،اور اسے وہ مقام حاصل نہیں ہو پا رہا ہے جسکی وہ مستحق ہے۔ میں یے بلکل نہیں کہ رہا کہ انگرزی زبان بولنی یا سیکھنی ہی نہیں چاہیئے ضرور سیکھئے اور بولیئے کیو نکہ انگریزی بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے، مگر اسکے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دیجیے۔آج اردو زبان پر تنقید کرنے والے تو بہت ہیں لیکناس کے تحفظ اور ترویج کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا اس کا بڑا ثبوت اردو ادب میں نئے لوگوں کی کمی ہے۔اردو زبان اپنے اندرکتنی خصوصیات رکھتی ہے،اگر ہم تھوڑا سابھی اس کا خیال رکھیں تو یہ ترقی کے میدان میںبڑی تیزی سے پروان چڑھے گی۔ہمیں اردو کے فروغ کے لئے فوراًسنجیدہ ہونا پڑے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اس پیاری اور انمول زبان اردو کو زندہ رکھنے اور بعد کی نسلوں تک پہنچانے کے لیے ہر سطح پر سنجیدہ ہوں۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اس زبان نے ہر عہد میں تاریخ ساز علمی و ادبی کارناموں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو ہندوستان کی خوبصورت مشترکہ تہذیبی وراثت ہے، جسے ہمارے آبا ؤ اجداد نے ہمیں سجا سنوار کر ورثے میں دیا ہے۔ ہماری ذمّہ داری یہ ہے کہ ہم اس امانت کو پوری ایمان داری کے ساتھ اگلی نسلوں میں منتقل کریں۔ ہمیں اردو سے سچی اور عملی محبت کرنی چاہیے۔اردو کو پھر سے زندہ کرنا ہے تو ہمیں اردو اداروں و تنظیموں کو پستی سے اٹھاکر فلک کی اونچائی پہ پہنچانا ہوگا،جس کے لئے مہینے میں ایک یا دو مرتبہ علمی مقابلے اور ادبی اجلاس منعقد کرنے ہونگے، اردو سے جڑے نئے لکھاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، اپنے گھروں میں اردو ادب کا ماحول بنانا ہوگا، ہر گھر میں اپنی ایک لائبریری تشکیل کرنی ہوگی بھلے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اپنے اندازِ گفتگو میں پہلے والی چاشنی گھولنی ہوگی، جسکے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے تلفظ کا خیال رکھیں ہر لفظ کو صحیح طریقے و بہترین انداز سے ادا کرنے کی کوشش کریں، غلط تلفظ کی وجہ سے اردو الفاظ کے روح کو نکال کر اس کی ہئیت بگاڑنے سے گریز کرنا ہوگا، اپنے مخصوص دائرے کے علاوہ عام حلقوں میں بھی غیرزبانوں کو ترک کرکے اردو کو اہمیت دینی ہوگی اور یہ سب کچھ اْسی وقت ممکن ہوگا جب اردو کی محافظت و اشاعت کے لئے زمینی سطح پر متحد ہوکر پیہم جدوجہد کی جائے ۔ اس بات کی کوشش جاری رہے کہ اردو سماج کے بچوں کی اردو تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے ۔سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواستیںدیںاور دینے کی ترغیب دیتے رہیں۔روز مرہ کی زندگی میں اردو زبان کا استعمال کیا جائے۔ہم اردو کتابوں کے ساتھ اردو اخبارات، رسالے اور اردو ادب سے جڑی شخصیات کی رہنمائی حاصل کریں گے، ان کے طرز عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور کم از کم ایک اردو اخبار کو اپنے گھر کی رونق بنائیں گے، تاکہ مستقبل میں ہم بھی یہ فخر سے کہہ سکیں:

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

آخر میں آل احمد سرور اپنی کتاب اردو تحریک میںکہتے ہیں ’’اگرآپ واقعی میں اُردو زبان محبوب ہے اور ہم اس کو پوری آن بان کے ساتھ زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو دوسروں کا بھروسہ چھوڑ کر صرف یہ سوچئے کہ آپ اپنے حدود کے اندر اُردو کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ادیب ہیں تو ہر فن اور ہرمعیار کی اچھی کتابیں شائع کیجئے۔ اگر آپ مدرس ہیں تو طریقہ ہائے تعلیم کی ساری خوبیاں اپناکر اُردو کو دوسری زبانوں کے مقابلے میں درسی طور پر آسان سے آسان تر بنائیے… اگر آپ کسان ہیں تو اپنے گاوں کے ہربچے کو مقامی سرکاری اسکولوں میں اُردو پڑھائیے…اور اگر آپ کو اُردو کی خدمت کرنے کا کچھ بھی موقع نہیں ہے تو کم از کم ایک دو اخبار اور چند اُردو کتابیں ہی خرید کر اُردو طباعت کی ہمت افزائی کیجئے‘‘۔

اپنی اردوکامحافظ ہمیںخود بنناہے
اب کوئی میرؔنہ غالبؔ کبھی آنے والا۔

آبگلہ، گیا ،بہار

Email-sarim.jamil@gmail.com

Previous articleعوام کیلئے ’آپدا‘ حکومت کیلئے ’اَوسر‘ از : محمد فاروق اعظمی
Next article“معاشرے کی عکاس ذاکر فیضی کی کہانیاں “از: عارفہ مسعود عنبر مرادآباد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here