ایک مذاکرہ کے بہانے (دوسری قسط )از: اشعر نجمی

1
83

جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کا یہ مذاکرہ کئی اعتبار سے اُن آن لائن مذاکروں سے منفرد تھا جو گزشتہ کئی برسوں سے webinarکے نام سے ہمارے روبرو ہوتے رہے ہیں۔ لیکن کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے سبب ان میں تیزی آئی ہے۔ اب ’عظیم الشان مشاعرے‘ اور ’بین الاقوامی سیمینار‘ چٹکی بجاتے ہی منعقد ہوجاتے ہیں جنھیں برپا کرنے کے لیے کبھی لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے تھے۔لیکن گزشتہ دو سالوں میں میری نظروں سے صرف دو ایسے آن لائن مذاکرے گزرے ہیں جنھیں میں سچ مچ اس آن لائن ٹرینڈ کا ثمرہ کہہ سکتا ہوں۔ تقریباً دو ماہ قبل بہاالدین ذکر یا یونیورسٹی (ملتان) نے ’ترجمہ اور بین الثقافتی مطالعات‘ کے نام سے ایک مذاکرہ منعقد کیا تھا جس میں دنیا بھر کے مترجم، دانشور ، اساتذہ اور ادیب شریک ہوئے تھے اور موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ دوسرا یادگارآن لائن مذاکرہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تھا جس پر گفتگو جاری ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا یہ مذاکرہ ان معنوں میں بھی منفرد تھا کیوں کہ یہ ’رسم اجرا‘ کی قسم کا کوئی نمائشی پروگرام نہیں تھا بلکہ اس میں خالد جاوید کے تازہ ترین ناول کے حوالے سے نئے فکشن کے ابعاد و جہات پر اتنی سیر حاصل گفتگو ہوئی جس کی مدد سے اگر کوئی اسکالر نئے فکشن کی بوطیقا تیار کرنا چاہے تو اسے اس پروگرام سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ چونکہ ایک ایسا ناول جس پر لب کشائی کرنے سے پہلے شرکا کے لیے ’ہوم ورک‘ کرنا ضروری ہو(جس کا اظہار کئی شرکا نے اس مذاکرے میں بھی کیا) ، وہ رسمی اور عمومی مذاکرہ نہیں ہوسکتا تھا۔ ’ہوم ورک‘ کرنا کوئی بری بات نہیں ہے کہ ہر باشعور نقاد جانتا ہے کہ تخلیق میں چھپنے چھپانے کی تھوڑی بہت تو گنجائش ہو تی ہے لیکن تنقید کھلے میدان میں آنے کا نام ہے جہاں فوراً نظر میں آجاتا ہے کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔ ایک کمزور تنقید کسی تخلیق کے صرف ظاہری تزئین و بناوٹ پر فریفتہ ہوجاتی ہے جو تخلیق اور تنقید دونوں کی مشترکہ موت کے مترادف ہے۔ جہاں تن آسان تنقید کو یہ سہولتیں دستیاب نہیں ہوتیں، وہاں اس کی جھنجھلاہٹ کبھی کبھی تخلیق کو خارج کرنے یا اسے نظر انداز کرنے کی یا پھر اسے کمتر قرار دینے کی کوششوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس نہایت ہی اہم مذاکرے کو ترتیب دینے کا سہرا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر شہزاد انجم صاحب کے سر بندھتا ہے۔ میں ذاتی طور پر ان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے لاک ڈاؤن کی اذیت ناک تنہائی کو جشن میں بدل دیا۔ لیکن یہ جشن اس طرح کا جشن نہیں تھا جو عموماً عالمی مشاعروں یا تہنیتی محفلوں کا خاصہ ہوتا ہے بلکہ یہ ادب کے ان فاقہ زدہ تربیت یافتہ قارئین کا جشن تھا جواس خود آرائی، خود پسندی، خود فروشی اور خود نمائی کے دور میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ میں اس فرض کفایہ کو ادا کرنے کے لیے پروفیسر شہزاد انجم کا شکرگزار ہوں کہ ان کا یہ کام ہم فاقہ زدگان کے لیے ’مسیحائی‘ سے کم نہیں۔ شہزاد انجم صاحب نے نہ صرف اس با وقار پروگرام کو ترتیب دیا بلکہ پورے سیشن کو جس تدبر اور حکمت کے ساتھ رواں رکھا، وہ بھی کم اہم نہیں تھا۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ مشاعروں کے ناظم کے طرح لوگ مذاکروں کو بھی چلاتے ہیں جب کہ اول الذکر کی بہ نسبت مذاکروں کا ماحول الگ ہوتا ہے، اس کے سامعین و شرکا بھی الگ ہوتے ہیں جن کے ذوق کی ضیافت اس طرح ممکن نہیں ہے جس طرح مثلاً مشاعروں کے سامعین و شعرا کی ہو سکتی ہے۔ مذاکروں میں فقرے بازی ، لطیفے اور پھڑکتے ہوئے اشعار کام نہیں کرتے بلکہ اس کا ناظم خود اس موضوع پر دیگر شرکا کی ہی طرح دسترس رکھنے والا ہوتا ہے جس کا کام کلاس روم میں نہ تو حاضری لینے تک محدود ہے اور نہ وہ شرکا کو پاؤڈر اور لپ اسٹک لگا کر سامعین کی ’منڈی‘ میں پیش کرتا ہے۔ اس طرح کے سنجیدہ مذاکروں میں ناظم ہر مقرر کے بعد مختصر میں اپنے تاثرات بھی پیش کرتا جاتا ہے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے اس تین گھنٹے کے سیشن کو جس دانشورانہ حسن اسلوبی سے نمٹایا، وہ اس طرح کے سنجیدہ مذاکروں کی نظامت کرنے والوں کے لیے یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی صفیں درست کریں۔

شہزاد انجم صاحب نے پروفیسر سونیا سوربھی گپتا کا ہم سے تعارف کراتے ہوئے ان کے بارے میں بتایا کہ آپ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہی ایک شاخ Centre for Spanish and Latin American Studies میں پڑھاتی ہیں۔ پھر خود سونیا گپتا نے دوران گفتگو بتایا کہ گبرئیل گارسیا مارکیز پر ان کا ایک پیپر آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر غور ہے۔ سونیا گپتا بہت اچھی ہندی اور انگریزی بول رہی تھیں لیکن وہ کوشش کررہی تھیں کہ اردو کا استعمال بھی کریں جس سے ان کی گفتگو کی روانی متاثر ہو رہی تھی جس پر وہ بار بار معذرت بھی کررہی تھیں۔ شہزاد انجم صاحب نے انھیں اطمینان دلایا کہ وہ جس زبان میں بات کرنا چاہیں ، کرسکتی ہیں۔ سونیا گپتا نے خالد جاوید کے ناول کا ہندی ترجمہ پڑھا تھا جس کے مترجم رضوان الحق ہیں۔

سونیا گپتا نے ابتدا میں خالد جاوید کے تینوں ناول یعنی ’موت کی کتاب‘، ’نعمت خانہ‘ اور ’ایک خنجر پانی‘ کو trilogyقرار دیا جیسا کہ خود خالد جاوید اپنے آخر الذکر ناول کو ’موت کی تیسری کتاب‘ کہہ چکے ہیں۔پروفیسر سونیا گپتا نے کہا کہ ان تینوں ناول کے درمیان ایک رشتہ تو ہے لیکن تینوں کے تخلیقی assets مختلف ہیں۔ اس ناول میں کوئی بظاہر اسٹوری لائن نہیں ہے لیکن اس میں جس طرح پورے شہر کو کنسٹریشن کیمپ (Concentration Camp)میں تبدیل کیا گیا ہے وہ مجھے نازی (ناتسی) کنسٹریشن کیمپ کی یاد دلاتا ہے ۔ انھوں نے دوران گفتگو ایک چونکا دینے والی بات بتائی جو اس سے پہلے کم از کم میرے علم میں نہیں تھی کہ نازی کیمپوں میں قیدیوں کو ذہنی اذیت دینے کے لیے ’مسلمان‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، حالاں کہ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن نازی اس لفظ ’مسلمان‘ کو ’وحشی‘ کا متبادل سمجھتے تھے۔ پروفیسر سونیا گپتا نے کہا کہ جس طرح کورونا وائرس نے گزشتہ دو سال سے وطن عزیز کو ایک کنسٹریشن کیمپ میں بدل دیا ہے، وہ نازیوں کے کنسٹریشن کیمپ ہی کی طرح ہے جہاں چیخنے پر بھی سزا مقرر تھی ۔ واضح رہے کہ 1933اور 1945 کے دوران نازی جرمنی نے بیس ہزار کیمپ بنائے تھے جن میں نام نہاد ’ملک دشمن‘ افراد کو قید کرنے، انھیں مختلف قسم کی ایذائیں دینے اور انھیں موت کے گھاٹ اتارنے کے بہت سے شعبے تھے ۔ ان کیمپوں میں ہزاروں قیدی بھوک، تھکن، بیماری اور موسم کی شدت کے اثرات سے بھی مرگئے۔’آشوٹز‘ کیمپ کے کمپلیکس ’برکینوقتل گاہ‘ میں تو چار گیس چیمبر تھے جہاں آٹھ ہزار قیدیوں کو روزانہ مارا جاتا تھا ۔ بہرحال اس حوالے سے سونیا گپتا نے کہا کہ کنسٹریشن کیمپ میں جو bare life ہوتی تھی، وہ اب ہماری سب کی ہے۔ کورونا کے سبب ہم سب اس bare life کو جینے پر مجبور ہیں، اس اعتبار سے خالد جاوید کا ناول سیاسی ہے کہ یہ اسی animal life کی نمائندگی کرتا ہے جسے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔

پروفیسر سونیا گپتا نے کہا، قاری کو اس ناول کو پڑھنے اور خود کو ایڈجسٹ کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے لیکن کچھ صفحات کے پڑھنے کے بعد خالد کی رواں نثر ہمیں اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے سونیا گپتا نے مزاحاً کہا کہ خالد جاوید کی جو خرابی ہے، وہ ان کا ٹریڈ مارک ہے۔ مثلاً کچھ لوگ بے تکی حقیقت نگاری کے زاویے سے اگر اسے پڑھیں تو اس میں تشدد، ہیجان، نفرت، گندگی، انتشار وغیرہ ملتا ہے لیکن خالد جاوید کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ان کی حقیقت نگاری بالکل منفرد ہے، جو سطحی قارئین کو الجھا سکتا ہے اور غیر تربیت یافتہ قارئین کو گمراہ بھی کرسکتا ہے۔خالد جاوید کی حقیقت نگاری کو جادوئی حقیقت نگاری بھی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ post realist ناول ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو اپنی دنیا کو realist novels سے زیادہ بہتر اور زیادہ واضح طور پر دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ پروفیسر سونیا گپتا نے کہا کہ اسی لیے میں خالد جاوید کا ناول مارکیز کے کسی ناول کی بجائے ساراماگو کے بلائنڈنس سے موازنہ کرنا زیادہ پسند کروں گی چونکہ زیر بحث ناول اسی کیٹگری کا ہے۔ مارکیز کا ناول Love in the Time of Choleraیا البیئر کامیو کا The Plague میں کچھ کرداروں کی کہانیوں کو وبا کے تناظر میں دیکھا گیا تھا، بلاشبہ ان ناولوں میں وبا پس منظر میں پوری طرح موجود ہے لیکن ’ایک خنجر پانی میں‘ وبا پس منظر میں نہیں بلکہ پیش منظر میں موجود ہے۔خالد جاوید کے لیے کردار مسئلہ نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے زیر بحث ناول میں پوری سوسائٹی، پورے شہر کو ایک کردار بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور یہیں ’ایک خنجر پانی میں‘ عالمی وبا پر لکھے گئے تمام ناولوں سے الگ ہوجاتا ہے۔ سونیا گپتا نے اپنے انھی دلائل کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالا کہ زیر بحث ناول اس اعتبار سے ان کی نظر میں ایک شاندار سیاسی ناول ہے ۔

پروفیسر سونیا گپتا کی گفتگو اتنی مدلل اور اتنی focused تھی کہ مجھ جیسا سامع ان کے نتائج سے تھوڑا سا اختلاف رکھتے ہوئے بھی ان کا قائل رہا۔ اگرچہ مجھے ’ایک خنجر پانی میں‘ کو ایک سیاسی ناول تسلیم کرنے میں تامل ہے لیکن جس زاویے سے انھوں نے اس ناول کو پیش کیا، وہ بتاتا ہے کہ خالد جاوید کے اس ناول میں اتنی تہہ داری ہے کہ اسے مختلف قاری مختلف زاویہ نگاہ سے پڑھ سکتا ہے، بقول مظفر حنفی، ’ایک اچھے شعر کی ہوتی ہیں تفسیریں بہت۔‘

حالاں کہ پروفیسر سونیا گپتا کے بعد پروفیسر نجمہ رحمانی نے گفتگو کی لیکن میں ان سے پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہندی شعبہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر نیرج کمار کی گفتگو پیش کرنا چاہوں گا چونکہ پروفیسر سونیا گپتا نے جہاں اپنی گفتگو ختم کی تھی یعنی ’سیاسی ناول‘ پر، وہیں سے پروفیسر نیرج کمار نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔

نیرج کمار صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ خالد جاوید اتنے sensuous اور اتنے contemporaryہیں کہ وہ ہمیشہ تناؤ میں رہتے ہیں جسے ان کا قاری نہیں جھیل پاتا۔ اس لیے میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس ناول کو سیاسی ناول سمجھ کر ہی پڑھنا چاہیے چونکہ اس میں ایکٹیویزم ہے۔ ناول کے عنوان میں ’ایک خنجر‘ ہی دراصل اس ناول کو ایکٹیویزم میں بدل دیتا ہے چونکہ’ ایک‘ کا لفظ ہی غیریت کا استعارہ ہے، اس لیے اس’ ایک خنجر‘ میں کئی خنجر پیوست ہیں۔ اس ناول میں اندھیرا اس لیے اتنا زیادہ ہے چونکہ روشنی کی چاہ بہت ہے۔ پروفیسر نیرج کمار نے ایک انوکھا نکتہ پیش کیا، کہتے ہیں:پانی نیچر کا ایک element ہے لیکن پانی کی آلودگی’ ہیومن نیچر‘ کا حصہ ہے۔ اگر اس ناول سے’ نیچر‘ کوہٹا کر اس کی جگہ’ہیومن نیچر‘ رکھ دیاجائے تو ناول کی گرہیں کھلتی چلی جائیں گی اور اس کی آلودگی بھی واضح ہوجائے گی۔ یہ ناول اس بیانیہ کا counter narrative ہے جس کے ہم ان دنوں شکار ہیں۔ یعنی جیسا کہ پروفیسر سونیا گپتا نے اس ناول کو سیاسی کہا تھا ، تقریباً نیرج کمار بھی ان کی اس بات سے متفق نظر آئے۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک ذرا ٹھہر کر ناول کے سیاسی ہونے یا نہ ہونے پر تھوڑی گفتگو ہوجائے۔ میرا خیال ہے کہ ممکن ہے ایک تربیت یافتہ قاری اپنے طور پر کسی ناول سے وہ چیز بر آمد کرلے جس کے بارے میں ناول نگار نے لکھتے ہوئے سوچا تک نہ تھا لیکن تنقید صرف سطور کے درمیان نہیں بلکہ لفظوں کے پیچھے بھی دیکھتی ہے۔ اس اعتبار سے وہ لاشعور کے کاروبار کی تفتیش کرنے والا ایک شعوری عمل بھی ہے۔ وہ تخلیق میں استعمال ہونے والے الفاظ، صرف و نحو ، وقفے حتیٰ کہ رموز اوقاف میں بھی پوشیدہ ان ’حرکتوں‘ کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے اور دکھانے کی حکمت بھی ہے جن سے تخلیق کار خود بے خبر ہوتا ہے۔ ایک شہ پارہ صرف متن یا ٹیکسٹ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے اسلوب سے بھی اپنے معانی ترسیل کرتا ہے۔ تنقید کی نظر اس ’کہے‘ اور ’اَن کہے‘ ، اور اس میں مزاحم یا مددگار عناصر پر بھی جاتی ہے۔ کسی تنقید کو پڑھنے کے بعد جتنا فن پارہ روبرو ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ نقاد کی قابلیت اور حدود کا ایکسرے بھی پیش کرتا ہے۔ اس لیے میں کہوں گا کہ سونیا گپتا اور نیرج کمار کی گفتگو کا حاصل دراصل قاری اساس تنقید کا نتیجہ ہے جس میں خود قاری کے اپنے تحفظات اور نظریات در ہی آتے ہیں۔

جہاں تک اس ناول کے بارے میں میری قرأت کا تعلق ہے تواسے پڑھتے ہوئے یہ احساس غالب رہا کہ میری تمام حسیات ناکافی ہیں اور انھیں پڑھنے کے لیے مجھے دو چار مزید محسوسات بیدار کرنے ہوں گے۔برسبیل تذکرہ میں ایک مزیدار بات بتاتا ہوں جو ممکن ہے آپ کو مضحکہ خیز بھی لگے۔ ’ایک خنجر پانی میں‘ پڑھنے کے دوران اور اس کے بعد معمول سے دو چار بار زیادہ غسل کیا، ہاتھ پاؤں زیادہ دھوئے، یہ کیفیت مجھ پر کافی دنوں تک طاری رہی۔ممبئی شہر میں آپ جانتے ہیں کہ پانی کی کتنی قلت ہے۔ یہاں ہفتے میں ایک دو بار پانی نہ آنا عام بات ہے جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں لیکن اس ناول کو پڑھنے کے دوسرے یا تیسرے دن جب ہماری بلڈنگ کے واچ مین نے خبر دی کہ کل پانی نہیں آئے گا تو پتہ نہیں کیوں میرے جسم نے ایک جھرجھری لی، حالاں کہ اس سے پہلے ایسی خبر میرے لیے معمول کا حصہ تھی۔ اسی لیے میں نے کبھی کہا تھا کہ میں پورے جسم کے ساتھ پڑھتا ہوں ۔ لہٰذا اس ناول کی قرأت جہاں سونیا گپتا کو نازی کنسٹریشن کیمپ کی یاد دلاتی ہے اور نیرج کمار کو عالمی وبا کے تناظر میں درپیش بیانیہ کا counter narrativeمحسوس ہوتا ہے، وہیں مجھے یہ میرے وجود کے اندر پھیلے ہوئی غلاظت کا شدید احساس دلاتا ہے جسے میں بار بار غیر شعوری طور پر دھونے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ اب یہاں تین قارئین(سونیا گپتا، نیرج کمار اور راقم الحروف) کی قرأت اور اس کے نتائج سے یہ راز افشا ہوتا ہے کہ تخلیق کا فن سماج کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ یہ صرف اس شخص کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو اس کے رابطے میں آتا ہے ۔ معروف نوبل انعام یافتہ ناول نگار گاؤ ژینگیان (Gao Xingjian) تو یہاں تک کہتا ہے کہ ’’ادب ایک ناگزیر انسانی سرگرمی ہوتا ہے جس میں قاری اور مصنف دونوں اپنی مرضی سے مصروف ہوتے ہیں۔‘‘ لہٰذا، پھر کہتا ہوں کہ ایک اچھا ناول نگار اپنے تجربوں سے جتنا سیکھتا ہے، اپنے تصورات میں اتنا ہی سچا ہوتا ہے۔ اور شاید اسی لیے میں نے بارہا محسوس کیا ہے کہ ایک ’سچے تصوراتی‘ ناول کو آپ خواہ کتنی بار ہی کیوں نہ پڑھ جائیں، یہ بتانا ہمیشہ مشکل ہوگا کہ وہ کیسے لکھا گیا ہوگا۔ ہر شہ پارہ اپنی اکائی میں پُراسرار ہوتا ہے ، آپ جتنی بار پڑھ جائیں ، ہر بار اس میں سے کچھ نیا ڈھونڈ نکالیں گے، جیسا کہ مثلاً سونیا گپتا اور نیرج کمار نے نکالا۔آپ ایسے ناولوں کی مدد سے اچھے ناول نگاروں کا طریق کار تلاش کرسکتے ہیں، ان کی ترجیحات اور ان کے تخلیقی عمل کو ’ڈی کوڈ‘ کرسکتے ہیں اور اس کے لیے آپ کو نقاد ہونے یا کہلانے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں خالد جاوید کے تینوں ناولوں کو پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ زندگی کے تجربات پر تکیہ نہیں کرتے،نہ ہی وہ اپنے ذاتی تجربے کے پابند ہوتے ہیں۔چنانچہ وہ حقیقت کی محض ایک Backup file نہیں بناتے بلکہ اس کی سطحوں میں سرایت کرتے ہیں اور ان کی اندرونی بنت کی گہرائیوں تک پہنچ جاتے ہیں، ناراست فریب نظر کو رفع کرتے ہیں، معمولی واقعات کو بہت اونچائیوں سے دیکھتے ہیں اور ان کی کلیت کو ایک وسیع تناظر میں افشا کرتے ہیں۔

میرے خیال میں آج کی قسط کافی طویل ہوچکی ہے اور ابھی بہت سی باتیں باقی ہیں۔ چنانچہ پروفیسر نجمہ رحمانی، پروفیسر سرور الہدیٰ اور پروفیسر خالد مبشر پر کل گفتگو ہوگی۔(ایک مذاکرہ کے بہانے (حصہ اول) از: اشعر نجمی)

(جاری ہے)

Previous articleایک مذاکرہ کے بہانے (پہلی قسط) از: اشعر نجمی
Next articleلاریب مذھبی برادری کے لیے یہ ناقابل تلافی خسارہ ہے از: عبدالمالک بلندشہری

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here