ایک مذاکرہ کے بہانے (پہلی قسط) از: اشعر نجمی

0
123

شمس الرحمٰن فاروقی نے ایک بار جب یہ کہا تھا کہ نئے لکھنے والوں کو اپنا نقاد لانا چاہیے تو اس پر کافی واویلا مچا تھا، لیکن کسی نے اس مطالبے کے بین السطور میں پوشیدہ آڈن (Auden) کے فقرے کی گونج نہیں سنی کہ کوئی نسل اس وقت تک جدید نہیں کہلا سکتی جب تک وہ اپنی فوری پیش رو نسل کو مسترد نہ کرے۔گویا فاروقی کہہ رہے تھے کہ اگر نئی نسل یہ سمجھتی ہے کہ اس کے مسائل، موضوعات، نظریۂ حیات، تخلیقی طریقہ کار جدیدیوں سے مختلف ہیں بلکہ اس سے سوا ہیں تو پھر ظاہر ہے اس کے تنقیدی اوزار بھی مختلف ہوں گے یا ہونے چاہئیں۔ لیکن افسوس، فاروقی کے اس ’چیلنج‘ کا جواب اب تک اردو تنقید پیش نہیں کرپائی ہے، وہ اب بھی ترقی پسند تنقید اور جدید تنقید کے قبلے کے چاروں طرف طواف کر رہی ہے بلکہ اکثر دونوں کے ملغوبے کا بقدر ضرورت استعمال کرتی رہی ہے۔ یہ صورت حال اس وقت زیادہ پریشان کن محسوس ہونے لگتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جدیدیوں کی صفوں کو توڑتے ہوئے کئی فن پارے آگے نکل جاتے ہیں اور اپنی خاموش زبان سے چیخ چیخ کر نئے نقادوں کو اپنے اوزاروں پر نظر ثانی کرنے کے لیے للکارتے ہیں۔ انھیں کچھ تخلیق کاروں میں ایک نام خالد جاوید کا ہے ۔ خالد جاوید کا پہلا ناول ’موت کی کتاب‘ کو میں اردو فکشن کے تناظر میں ’جدیدیت ‘ کے خاتمے سے تعبیر کرتا ہوں۔ یہ اردو فکشن کا وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے پہلی بار ہمیں ’تنگنائے تنقید‘ کا احساس دلایا۔ اگرچہ فاروقی نے اس ناول پر میری ہی فرمائش پر ایک طویل مضمون لکھا اور اچھا لکھا (’اثبات‘:۱۰) لیکن آپ اس مضمون کو پڑھ چکے ہوں تو پھر ایک بار پڑھ ڈالیے، چند باتیں چھوڑ کرآپ کو محسوس ہوگا کہ وہ خالد جاوید کے ناول کی متن کشائی میں جدیدیوں کے پرانے اوزار کو ناکافی سمجھ رہے ہیں، مثلاً انھوں نے اپنے مضمون کی ابتدا ہی کچھ اس طرح کی ہے: ’’خالد جاوید کے بارے میں کچھ لکھنا اس لیے مشکل ہے کہ اگر ہم ان کے افسانے کے معنی بیان کرنے سے بات شروع کریں تو ان کی نثر دامن گیر ہوتی ہے کہ پہلے ہم سے معاملہ کرو۔‘‘ یعنی ان کے ایک طرف تو انتظار حسین کی سادہ اور ہر قسم کی تزئین کے بوجھ سے عاری لیکن پُر فریب نثر تھی تو دوسری طرف انور سجاد کی بے حد مرتب اور منظم نثر تھی اور تیسری طرف نیر مسعود کی بظاہر سادہ لیکن رواں نثر تھی۔ ظاہر ہے جدید نثر کے ان تین بڑے ستونوں سے بالکل مختلف نثر خالد جاوید کی ہے جس کی پرتیں کھولنے کے لیے فاروقی کا سنبھلنا فطری تھا ۔ کہتے ہیں: ’’خالد جاوید کی نثر ان تینوں سے مختلف ہے۔بناؤ اور تزئین کی کوشش یہاں بھی نہیں ہے،لیکن ان کے افسانے کی فضا، اور اس کے کردار اور واقعات ، طرح طرح کی ناپسندیدہ با توں سے بوجھل ہیں،اور یہ سارا بوجھ ان کی نثر اٹھاتی ہے ۔‘‘

فاروقی نے خالد جاوید کی نثر اور ان کی تخلیقی کارگزاریوں پر جو طویل مضمون لکھا ہے اسے پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کے اس چیلنج کا جواب جس کا ذکر میں نے مضمون کی ابتدا میں کیا ہے، ’موت کی کتاب‘ آج سے گیارہ برس قبل دے چکی تھی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک ہمارے نقاد نہیں دے پائے۔ اب تک ہمارے ناقدین (چند مثتثنیات کو چھوڑ کر) نے نقد افسانہ کے باب میں ’پلاٹ سمری‘ (Plot Summery) پیش کر کے اپنے مضمون کو حجم دینے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔ دوسروں کی بات چھوڑیے، فضیل جعفری ایک پڑھے لکھے نقاد تھے اور میں انھیں جدید ناقدین میں وارث علوی سے کچھ اوپر ہی رکھتا ہوں۔ لیکن ان سے بھی جب میں نے صدیق عالم کے افسانوں کا جائزہ لینے کی فرمائش کی تو انھوں نے بھی ’پلاٹ سمری‘ پیش کی اور سماج کی عکاسی وغیرہ کہہ کر دامن چھڑا لیا جو ترقی پسندوں کے پسندیدہ اوزار تھے۔ ان اوزاروں کا استعمال کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن آپ اول تو ان کا استعمال ہر قسم کے متن پر نہیں کرسکتے اور دوم یہ کہ اس سے مخصوص فن پارے کی قدر کا تعین نہیں ہوسکتا۔ جوزف براڈسکی نے ایک بار کہا تھا کہ زندگی کے عام حالات میں آپ ایک لطیفے کو تین بار سنا کر لوگوں کو تین بار ہنسا کر جان محفل بن سکتے ہیں لیکن ادب میں اسی فعل کو از کار رفتہ یا کلیشے کہتے ہیں۔پریم چند سے لے کر مشرف عالم ذوقی تک یہ ’لطیفہ‘(سماج کی عکاسی یا نمائندگی) اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب اس پر ہنسنا تو کجا، رونے کا بھی جی نہیں چاہتا۔ ہمارے ہر افسانہ نگار میں ’گہرا سیاسی ، سماجی ، ثقافتی اور معاشی شعور‘ مل جائے گا تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ اس مخصوص فن پارے یا فن کار کا نقطہ امتیاز کیا ہے؟

گفتگو طویل ہوجائے گی جسے کسی اور روز کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ لیکن جن باتوں کا ذکر اوپر میں نے کیا ہے ، اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ خالدجاوید کے فکشن پر گفتگو کرنے کے لیے تادم تحریر ہمارے پاس نئے تنقیدی اوزارنہیں ہیں، چونکہ انھوں نے اپنے نقادوں اور مبصروں کے لیے پلاٹ سمری پیش کرنے کی عیاشی کی راہیں مسدود کررکھی ہیں اور دوم یہ کہ وہ بورخیس کی طرح نامانوس کو مانوس بنانے اور پھر مانوس کو نامانوس بنانے کے باب میں ایک بے مثال کاریگر ہیں۔ اور اس کے لیے وہ بورخیس ہی کی طرح فکشن لکھنے کا روایتی ڈھانچہ بآسانی توڑتے چلے جاتے ہیں ؛ پلاٹ غائب، جیتے جاگتے کردار غائب، آغاز وسط اور انجام کا ارسطوئی نظام غائب؛ جس سے پروفیسر سرور الہدیٰ جیسے قارئین بوکھلا جاتے ہیں جو اب تک ڈپٹی نذیر احمد کے دور میں شاید جی رہے ہیں اور جو اب بھی شاید ای۔ایم، فورسٹر کے Aspects of the Novelپر تکیہ کیے ہوئے ہیں جو 1927میں لکھی گئی تھی اور جس کے بعد دنیا کی ہر شے کے ساتھ ناول میں انقلاب آفریں تبدیلی آچکی ہے۔ خیر، ہم سرور الہدیٰ صاحب کے مزعومات پر آگے تفصیل سے بات کریں گے، فی الحال ہم اس آن لائن مذاکرے میں شریک ہوتے ہیں جو خالد جاوید کے تازہ ترین ناول ’ایک خنجر پانی میں‘ کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی نے آن لائن منعقد کیا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ خالد جاوید بھی اسی تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں، اس لیے اس موقر ادارے کے شعبہ اردو نے اپنے ساتھی پروفیسر کے اعزاز میں یہ محفل منعقد کی تھی۔ اس پروگرام کے اعلان کے بعد بنگال کے ایک نومولود ناول نگار نے خالد جاوید پر طنز کیا تھا کہ اس محفل میں ’سارے پروفیسر ہی ہیں۔‘ یہ طنز تقریباً اسی طرح کا تھا جیسا کچھ دنوں قبل لکھنؤ کے ایک نومولود ناول نگار نے میرے ناول پر خالد جاوید اور صدیق عالم کے تبصرے پر کیا تھا کہ ’یہ لوگ مصنف کے میکے والے ہیں۔‘ میں اپنا جواب اسی وقت دے چکا تھا، خالد جاوید پر کیے گئے طنز کا جواب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے’ ڈین‘ اسدالدین صاحب نے دیا کہ اکثر ہم اپنے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے والوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتےجب کہ یہ ہماری یونیورسٹی کے برانڈ ایمبیسڈر ہوتے ہیں۔ مجھے یہاں ایک بات اور یاد آتی ہے کہ سید محمد اشرف صاحب کا ناول ’آخری سواریاں‘ جب ریلیز ہوا تھا تو ان کے کسٹم ڈیپارٹمنٹ نے اس ناول پر مذاکرہ رکھا تھا۔ ممکن ہے بنگال کے نومولود ناول نگار جہاں کام کرتے ہیں، وہاں ان کے کولیگ بھی انھیں خاطر میں نہ لاتے ہوں جس کا مجھے سخت افسوس ہے۔

اس مذاکرے میں پہلی بار میری کچھ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو ان تنقیدی اوزاروں سے لیس تھے ، جن سے ہمارے پیش رو نقاد محروم نظر آتے ہیں۔ پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر نیرج کمار، پروفیسر نجمہ رحمانی اور بطور خاص پروفیسر سونیا سوربھی گپتا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہی اسپینش اور لاطینی امریکی اسٹڈیز کے شعبے میں پڑھاتی ہیں ، اتنا ہی نہیں بلکہ گبرئیل گارسیا مارکیز پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کا ایک پیپر کچھ دنوں پہلے ہی جمع کیا گیا ہے۔ یہ چاروں شرکا اس مذاکرے کا حاصل تھے۔

شافع قدوائی کو میں نے زیادہ نہیں پڑھا لیکن پڑھا ضرور ہے اور جتنا پڑھا ہے وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کے تبصرے اور تنقید میں روایتی تنقیدی عناصر بہت کم ہوتے ہیں اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اردو کے ’برانڈیڈ نقادوں‘ میں اس طرح شمار نہیں کیے جاتے جس طرح ان کا حق ہے۔ ان کا تدریسی شعبہ بھی علیحدہ ہے، اگر شعبہ اردو ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ بھی پروفیسر سرور الہدیٰ کی کاپی ہوتے۔ لیکن شافع قدوائی کے کسی بھی کالم یا مضمون کا صرف ایک پیراگراف آپ کو بتا اور جتا دیتا ہے کہ مضمون نگار کی دلچسپی کی جولان گاہیں مختلف ہیں اور ان کی فکری ترجیحات بھی الگ ہیں۔

شافع قدوائی نے’ایک خنجر پانی میں‘ پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وبا اصل دنیا کی پیروڈی ہے اور اسی کے گرد پورا ناول گردش کرتا ہے۔ پانی جو آب حیات ہے، وہ کیسے باعث ہلاکت بن سکتا ہے، خالد جاوید کے اس ناول کا مرکزی خیال کہا جا سکتا ہے۔ شافع قدوائی اس تمہید کے بعد آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک یوٹوپیا ہوتا ہے جس میں ایک ایسی خیالی دنیا کا تصور ہوتا ہے جس میں ہر شے پرفیکٹ یا کامل ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف ایک ڈس ٹوپیا (Dystopia) ہوتا ہے، یہ بھی خیالی ہوتا ہے لیکن یوٹوپیا کے برعکس یہ دنیا تمام برائیوں، گندگیوں اور نا انصافیوں کا مرکز ہوتی ہے بلکہ مطلق العنان ہوتی ہے۔’ایک خنجر پانی میں‘ ڈس ٹوپیا پر محیط ہے۔ اس ناول میں ایک پانی کا ایشو اٹھا کر انسانی وجود اور سائیکی پر سوالیہ نشان ثبت کیا گیا ہے۔ شافع قدوائی نے ایک مزے کی بات مسکراتے ہوئے کہی کہ ناول کی جزئیات یا اس میں ہو رہے ’ایکشن‘ وغیرہ کی تفصیلات اخباری رپورٹروں کی دلچسپی کا باعث ہوسکتے ہیں لیکن ان کے لیے یہ ناول اس لیے اہم ہے چونکہ یہ ناول اخلاقی اور مذہبی تناظر سے ہٹا کر وبا کو ایک انسانی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ان کا اشارہ ماضی قریب و بعید میں وبا کے اثرات کی جانب تھا، مثلاً ’زمانۂ قدیم میں،جب آتشک کا مرض لامعلوم تھا،بدن کے چھالوں اور نہ بھرنے والے زخموںکو ہمیشہ جذام سے تعبیر کیا جاتا تھا اور مشرق و مغرب دونوں میں جذام کو عذاب خداوندی تصور کیا جاتا تھا،اور جذام کے مریض کو بقیہ آبادی سے الگ کر دیا جاتا تھا۔جذام کو گناہ کا ثمرہ قرار دیاجاتا تھا۔‘ اور پھر زمانۂ قدیم ہی کیوں، حالیہ وبا کورونا وائرس کے نزول کا سبب بھی بعض مذہبی حلقوں کے طرف سے عذاب الٰہی ہی تصور کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں خالد جاوید کا ناول ’ایک خنجر پانی میں‘ اور زیادہ اہم ہوجاتا ہے چونکہ یہ انسانی وجود کے اندر اس پوشیدہ سیاہ دھبے کو کسی محدب شیشے کی طرح بڑا بنا کر قارئین کے سامنے پیش کردیتا ہے جو اس کے وجود کا ہی حصہ ہے لیکن جسے ہر انسان عموماً اپنے اندر چھپائے رکھتا ہے۔ شافع قدوائی نے دوران گفتگو میرے ناول ’اس نے کہا تھا‘ کا بھی ذکر کیا جس کے لیے میں ان کا شکرگزار ہوں۔

لیکن شافع قدوائی کی اس گفتگو کو مزید وسعت دیتے ہوئے پروفیسر سونیا سوربھی گپتا اور نیرج کمار نے ’ایک خنجر پانی میں‘ کو سیاسی ناول قرار دیا بلکہ پروفیسر سونیا نے اس ناول کو ’پلیگ‘ اور مارکیز کی ’وبا کے دنوں میں محبت‘ سے موازنہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے دلائل کی روشنی میں حوزے ساراماگو کی ’بلائنڈنس‘ کے قریب بتایا۔ لیکن یہ لمبی گفتگو ہے، اس پر ہم کل بات کرتے ہیں۔(یہ بھی ملاحظہ کریں“اثبات”کا خصوصی شمارہ”عالمی نثری ادب”:ایک تعارف۔۔از: اشعرنجمی)

(جاری ہے)

Previous articleامیرشریعت کے انتخاب کے لیے ٨/اگست کی تاریخ ملتوی نائب امیرشریعت کے اِس اقدام کی ہرطرف تعریف!
Next articleایک مذاکرہ کے بہانے (دوسری قسط )از: اشعر نجمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here