ایک مذاکرہ کے بہانے (آخری قسط) از:اشعرنجمی

0
26

پروفیسر نجمہ رحمانی دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں ، آپ کی نظر نہ صرف اردو ادب پر بلکہ ہندوستان کی دیگر زبانوں کے ادب کے ساتھ عالمی ادب پر بھی رہی ہے جس سے ان کے دائرہ مطالعہ کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے انکسار کا یہ عالم ہے کہ وہ اس مذاکرے میں اس اعتراف کے ساتھ اپنی گفتگو کا آغاز کرتی ہیں کہ انھیں خالد جاوید کا پہلا ناول ’موت کی کتاب‘ پہلی قرأت میں سمجھ میں نہیں آیا تھا اور اسے انھوں نے کنارے رکھ دیا تھا لیکن کوئی ایسی بے نام سے کشش تھی جو بار بار اس ناول کی طرف انھیں کھینچ رہی تھی۔ لہٰذا انھوں نے اسے پورا پڑھا، پھر کچھ وقفے کے بعد اس کا دوبارہ مطالعہ کیا اور یوں خالد جاوید کے دیگر ناولوں کے سروکار اور ان کی نثر نے مجھے پوری طرح اپنا لیا۔

نجمہ رحمانی نے ’ایک خنجر پانی میں‘ پر اپنی گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ادب ہوا میں نہیں پیدا ہوتا۔ خالد جاوید کے تمام ناول جو وجودی ہیں، ان کا تعلق بھی اسی دنیا سے ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پوری دنیا کو سفید و سیاہ میں تقسیم کررکھا ہے۔ ہم مان چکے ہیں کہ جو سفید ہے وہ سب اچھا ہے اور جو سیاہ ہے وہ سب خراب ہے۔ لیکن ہم جب اپنے اندر جھانکتے ہیں تو خود اپنے اندر وہی سیاہی پھیلی ہوئی پاتے ہیں جنھیں اکثر ہم اپنی کوتاہ بینی یا منافقت کے سبب نظر انداز کرجاتے ہیں۔ خالد جاوید اسی کوتاہ بینی اور منافقت پر ضرب لگاتے ہیں۔ وہ عام لوگوں کی طرح اس سیاہی سے نظریں نہیں چراتے بلکہ اس کا سامنا کرتے ہیں اور ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ فاروقی نے اپنے مضمون میں اسی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا تھا، ’’یہی وجہ ہے کہ خالد جاوید کو پڑھ کر ان لوگوں کو گھبراہٹ اور وحشت ہوتی ہے جو افسانے میں زندگی کے صرف اخباری وجود کابیان اور وہ بھی سادہ اور یک رنگ بیان پسند کرتے ہیں۔‘‘

پروفیسر نجمہ رحمانی نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، وبا کی صورت حال انسانی نفسیات کو بدلنے کی بجائے انسان کے اندر چھپے ہوئے جانور کو باہر نکال دیتی ہے۔ پھر انھوں نے آج کی صورت حال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وبا ئی صورت حال نے بھی اقتدار کے سامنے موت کو گھٹنے ٹیکتے دیکھا ہے۔ خالد جاوید نے اپنے تازہ ترین ناول میں اسی آئینے کے سامنے ہمیں لا کھڑا کیا ہے ۔ آپریشن کرنے کے لیے زخم کھولنا تو ہوگالیکن یہ اور بات ہے کہ خالد جاوید نے اس سرجری کے لیے ان آلات جراحی کا استعمال نہیں کیا جو مثلاً ڈپٹی نذیر احمد کے تھے۔

میرے خیال میں نجمہ رحمانی کے یہ نتائج ناول مذکور کی کلید ہے۔ شاید اسی لیے خالد جاوید سے جو شکایتیں لوگوں کو رہتی ہیں، وہ اسی سبب ہیں کہ ان میں سادہ اور یک رنگ بیان موجود نہیں ہے۔ایسے لوگوں نے شاید یہ مان لیا ہے کہ ناول یا افسانے صرف ایک ہی طرح سے لکھے جا سکتے ہیں۔ ایک عدد پلاٹ، دو چار عدد کردار، ایک عدد مرکزی خیال، مٹھی بھربھر کے سماجی معنویت کا گرم مسالہ اور چٹکی بھر تخلیقی زعفران ؛ ہوگیا تیار ناول، اب اسے Code of Honour کی تام چینی کی پلیٹ میں پروس کر عام دعوت کر ڈالیے اور شکم سیر فقیروں کی دعائیں لیجیے۔

خالد جاوید کے ہاں یہ اہتمام آپ کو نہیں ملے گا اور اگر آپ اسی طرح کی پکوان کی تلاش میں ان کے دسترخوان کے گرد بیٹھے ہیں تو معاف کیجیے گا، آپ کا معدہ خراب ہوسکتا ہے بلکہ ممکن ہے کہ کئی دنوں تک آپ نفخ شکم کے شکار رہیں یا پھر طبی اعتبار سے اب تک ’فاسٹ فوڈ‘ کھانے کے سبب آپ کے دماغ کے مخصوص حصوں کی نشو و نما سست پڑگئی ہو۔

خالد جاوید ناول نگاری کے ان تمام تصورات سے جو پہلے سے سوچی ہوئی Position اور رویے، جو دوسرے لوگوں نے مثلاً پریم چند یا ڈپٹی نذیر احمد کے فکشن کے رول ماڈل سے جاری ہوئے تھے، اس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

پروفیسر نجمہ رحمانی کہتی ہیں، خالد جاوید کے نزدیک جس طرح محبت زندگی کا ایک سچ ہے، اسی طرح نفرت بھی زندگی کا ایک سچ ہے جسے ہم صرف برا کہہ کر خود کو الگ نہیں کرسکتے۔ ناول میں گندگی پانی میں نہیں ہے بلکہ پانی کے حوالے سے انسان کے اندر کی گندگی، اس کا کمینہ پن باہر لایا گیا ہے۔ تینوں ناول کی ایک کڑی ہونے کے باوجود ان کا ہر ناول ارتقائی منزل طے کررہا ہے۔

پروفیسر سرورالہدیٰ (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے بھی خالد جاوید کے نالوں کی ارتقا پر بات کی لیکن اس کےعلاوہ انھوں نے ناول کے حوالے سے کچھ ایسے سوال بھی اٹھائے جس سے مذاکرے کی معنویت و افادیت مستحکم ہوگئی۔ عموماً سیمیناروں میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوتا ہے جس میں حاضرین پیش کیے گئے مقالوں یا خطبات پر مقررین یا مقالہ نگاروں سے اپنے ترددات کو رفع کرنے کی غرض سے سوال کرتے ہیں جس سے موضوع کے کئی تاریک گوشوں اور اشکالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ آن لائن مذاکروں میں یہ اہتمام اس لیے نہیں ہوسکتا چونکہ اس میں حاضرین غائب ہوتے ہیں ۔ اس مذاکرے میں پروفیسر سرور الہدیٰ کی شمولیت نے اس کمی کو دور کردیا۔ میرے خیال میں ان کی اس مذاکرے میں شرکت سے مذاکرے میں توازن آیا اور دوم یہ کہ انھوں نے خالد جاوید کے ان قارئین کی ایک طرح سے بالراست نمائندگی کی جنھیں ان کے تخلیقی اسلوب سے بہت سی الجھنیں اور دشواریاں پیش ہیں جن کا ذکر پروفیسر سونیا گپتا، نیرج کمار اور نجمہ رحمانی نے بھی اپنے اپنے ڈھنگ سے کیا۔ پروفیسر سرور الہدیٰ نے بڑی حکمت سے انھی سوالوں کو اٹھایا ، جن سے ان ترددات کا ازالہ ممکن ہوپائے اور ان قارئین کی تشفی ممکن ہوپائے۔ مثلاً ابھی کچھ روز قبل فیس بک پر ایک صاحب نے ’ایک خنجر پانی میں‘ کے عنوان پر کہا کہ یہ 1962 میں بنی ایک پولش سائیکلوجیکل تھریلر ‘Knife in the Water’کا ترجمہ ہے۔ خورشید اکرم نے انھیں اس کا جواب وہیں دے دیا تھا۔ سرور الہدیٰ صاحب نے بھی اسی فلم کا حوالہ دیا۔ ناموں کا مسئلہ عجیب ہے۔ ’آگ کا دریا‘ جگر مرادآبادی کے ایک شعر کا ٹکڑا ہے، جسے قرۃ العین حیدر اپنے ناول کا عنوان بنانے کی سزاوار ہیں، یا پھر قرۃ العین حیدر نے اپنے بیشتر کتابوں کے عنوانات فیض صاحب کے اشعار سے ماخوذ کیے ہیں، یا خود شمس الرحمٰن فاروقی نے احمد مشتاق کے ایک شعری فقرے کو اپنے ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ کا عنوان بنا دیا۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ شعر کے کسی مصرعے سے کوئی فقرہ اٹھالینا معیوب بات نہیں ہے تو پھر فضیل جعفری کے تنقیدی مجموعے ’کمان اور زخم‘ کو کیا کہیں گے جس پر کافی پہلے شمیم طارق صاحب نے اعتراض کیا تھا کہ یہ ایڈمنڈ ولسن کی کتاب ‘The Wound and the Bow’ کا چربہ ہے۔ سرور الہدیٰ صاحب نے ایسا کچھ نہیں کہا ، ظاہر ہے انھوں نے وہی کہا جو شاید کچھ قارئین سوچتے ہوں گے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میرے دوست خورشید اکرم کو معلوم ہوا کہ میں نے اپنے ناول کا نام ’اس نے کہا تھا‘ رکھا ہے تو انھوں نے مجھے طباعت سے پہلے ہی آگاہ کردینا مناسب سمجھا کہ اس نام سے ہندی میں چندر دھرشرما گلیری کی کتاب ہے جو 1915 میں لکھی گئی تھی اورجو شاید ہندی ساہتیہ کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ لیکن یہ جاننے کے باوجود میں نے اپنے ناول کا نام اس لیے نہیں بدلا چونکہ میں عنوان کو کوئی نمائشی چیز نہیں سمجھتا اور نہ کتاب کی خانہ پُری سمجھتا ہوں۔ ناول کا عنوان، ناول کا حصہ ہوتا ہے اور اسے ناول نگار نہیں بلکہ خود ناول مقرر کرتا ہے۔ ہر اچھا ناول اپنے عنوان بلکہ سرورق سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ خالد جاوید کے اس ناول کا عنوان ناول کا حصہ ہے یا نہیں، یا ان کا ناول عنوان ہی سے شروع ہوجاتا ہے یا نہیں۔ میں شیکسپیئر کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ’نام میں کیا رکھا ہے؟‘ بلکہ میں ایک فلم اسکرپٹ لکھتے وقت بھی کرداروں کے نام سوچنے میں کافی وقت لگا دیتا ہوں جو ان کی کردار سازی کا اہم عنصر ہوتا ہے۔ اور شاید اسی لیے بعض تجریدی ناولوں میں اس کے لکھنے والوں نے اپنے کرداروں کے نام نہیں دیے بلکہ حروف تہجی کا سہارا لیا۔ میں نے خود اپنے ناول میں اس کا بقدر ضرورت استعمال کیا چونکہ نام رکھتے ہی وہ کردار کچھ مخصوص صفات کا حامل ہوجاتا ہے جسے میں ہر اچھے برے صفات سے پاک رکھنا چاہتا ہوں۔ خالد جاوید نے بھی اکثر اپنے کرداروں کو بے نام رکھا ہے۔

سرور الہدیٰ صاحب نے ایک بڑا اچھا نکتہ اٹھایا کہ خالد جاوید کا مطالعہ کافی وسیع ہے اور انھوں نے مغربی ادب اور مغربی تصور کائنات کا خوب مطالعہ کیا ہے اور انھیں اپنے ناولوں کے ذریعے پیش کیا ہے۔ واقعی ، خالد جاوید کا مطالعہ کافی وسیع ہے، بورخیس کا بھی تھا، فاروقی کا بھی تھا۔ بورخیس نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ لائبریری میں گزارا تھا جہاں اس نے رنگارنگ علوم کی ایک دنیا اپنے سینے میں جذب کر رکھی تھی۔ اس کا قول ہے کہ میرے لیے جنت کا تصور کسی لائبریری سے مختلف نہیں۔ لیکن یہاں واضح رہے کہ صرف پڑھنا کافی نہیں ہے، پڑھ کر اسے سمجھنا اور سمجھ کراپنے وجود کا حصہ بنانا اور وجود کا حصہ بنانے کے بعد اسے اپنے فن کی جادوئی چھلنی سے گزار کر پیش کرنے کا ہنر بھی آتا ہو تبھی کوئی بورخیس یا خالد جاوید بن سکتا ہے۔اس کے برخلاف فاروقی صاحب کا ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ دیکھیے، اس میں فاروقی صاحب کا مطالعہ celestial bodyکی طرح کام کررہا ہے، حتیٰ کہ انھیں حاشیہ لکھنے کی ضرورت آن پڑی۔ قرۃ العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ پڑھ ڈالیے، کیا ایسا ناول بغیر کثیر المطالعہ ہوئے لکھا جا سکتا تھا؟

سرور الہدیٰ صاحب نے قارئین کے اس طبقے کی جانب سے سوال اٹھانے کی دور اندیشی کی جنھیں خالد جاوید کا ناول اس لیے مایوس کرتا ہے چونکہ وہ بے ربطی کا شکار ہوتا ہے، اس میں نہ آغاز ہے اور نہ انجام۔ناول کے کسی مقام پر جب بات بنتی نظر آتی ہے تو وہ اچانک دوسری کروٹ لے لیتا ہے اور ایک بار پھر قاری کی یکسوئی متاثر ہوجاتی ہے یہ شکایت پرانی ہے اور صرف خالد جاوید سے نہیں بلکہ متعدد جدید فکشن نگاروں سے ہے۔ اس کا بہت اچھا جواب برسوں پہلے ایک انٹرویو میں فاروقی صاحب نے قرۃ العین حیدر کے حوالے سے دیا تھا، بہتر ہوگا کہ میں اپنی طرف سے کچھ کہنے کی بجائے اسے ہی پیش کردوں۔ فاروقی کہتے ہیں:

’’ جہاں ناول ختم ہوتا ہے، اس پر آپ کو ایک طرح کی بے اطمینانی ہو کہ ناول نگار نے آپ کو بہت گھمایا پھرایا لیکن بتایا نہیں کہ باہر کیسے نکلیں، لیکن ہوسکتا ہے یہ اس کی استواری ہو۔ ناول نگار پوزیشن نہیں لے رہی ہے اور آپ کے گلے میں پھندا ڈال کر دوڑا نہیں رہی ہے جیسا کہ پریم چند کرتے ہیں۔ تو ممکن ہے اس میں شامل ہو یہ بات کہ اگرچہ وہ آپ کو غیر مطمئن چھوڑ دے جیسے بالزاک آپ کو غیر مطمئن چھوڑتا ہے۔ بالزاک اپنے ناولوں میں دکھاتا ہے کہ دنیا میں دولت کی کتنی زیادہ بھرمار ہے۔ ہر چیز دولت ہی کے بل بوتے پر چلائی جارہی ہے۔ شادی ہے تو، عشق ہے تو، موت ہے تو، چل رہے ہیں تو، وہ کہتے نہیں کہ اس سے کیسے بھاگیں ، چھوڑدینا ہے آپ کو۔ ہوسکتا ہے کہ قرۃ العین حیدر کی طرف سے یہ کہا جائے اور صحیح کہا جائے کہ صاحب ہم نے تو چھوڑدینا ہے۔ ہم نے آپ کو دکھا دیا کہ ہندوستان ایسا ہے اور ہم اس کو یوں دیکھتے ہیں۔ اب اس میں اگر کوئی Trap ، اس میں کوئی Deilemma ہے تو اس سے کیسے باہر نکلیں ، یہ آپ کا معاملہ ہے۔ ‘‘

معاملہ صرف اتنا ہے کہ خالد جاوید ہر پڑھنے والوں کے لیے لقمۂ تر نہیں ہیں۔ اور یہ بات صرف خالد جاوید پر ہی موقوف نہیں ، بلکہ عالمی ادب کے کئی لکھنے والوں پر کھری اترتی ہے۔ مثلاً جب بورخیس کی پہلی کتاب ’ناانصافی کی عالمی تاریخ‘ کے صرف 37 نسخے ہی بک سکے تھے، تو انھوں نے ان خریداروں سے جا کر معذرت کرنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، کیوں کہ ان کے مطابق وہ تو سترہ نسخے، یا سترہ کیوں، صرف سات نسخے بکنے پر بھی مطمئن رہتے ۔ اسی لیے میں بار بار کہتا ہوں کہ ہر اچھا ادیب اپنا قاری ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اور اس میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

سرور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ خالد جاوید کے بقیہ ناولوں کے مقابلے میں ان کا یہ ناول (’ایک خنجر پانی میں‘) الگ ہے، اس میں انھوں نے رپورٹنگ بھی کی ہے۔ رپورٹنگ کا تو خیر مجھے علم نہیں کہ وہ کہاں اور کس صفحے پر کی ہے، البتہ اس ناول میں انھوں نے جزئیات نگاری ضرور کی ہے جسے ہم اسکرپٹ کی زبان میں build-up کہتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ضرور ہے کہ ایک ناول نگار اپنا ہر ناول ایک ہی طرح سے لکھے؟ میں نے کبھی لکھا تھا کہ ایک نیا ناول لکھتے وقت میرا ناول نگار ویسا ہی نہتا ہوتا ہے جیسا وہ گذشتہ ناول لکھنے سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ نیا ناول شروع کرتے ہوئے اسے یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اس بار کھیل کے اصول کیا ہوں گے۔ اسے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھر سے کھیلنے جا رہا ہے۔ ہمیشہ یہی بے نام خوف اسے متشکک بنادیتا ہے، اسے مہم جو بنا دیتا ہے، وہ اس ادھیڑ بن کی گرفت کا شکار ہوجاتا ہے کہ پتہ نہیں اس بار اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کیا پانے والا ہے، اس بار وہ کیا کھونے والا ہے اور اس بار کون سی ایسی شے اس کے ہاتھ لگنی والی ہے جس کا اس سے پہلے اسے تجربہ نہیں تھا۔ یہ ساری چیزیں ناول کو ایک ایسی قوت سے سرفراز کرتی ہیں جن میں بہت ساری چیزوں کے آنے نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ناول اپنی رفتار سے، اپنی قوت سے آگے جاری رہتا ہے۔

اگر میرے کسی ایک پسندیدہ مصنف کے دو ناولوں میں مجھے کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو سمجھ جاتا ہوں کہ وہ کھیل کے اصولوں کی تبدیلی کے سبب ہے۔میں نے بہت سارے ایسے ناول پڑھے ہیں، جن میں ایک خاص اسلوب اختیار کیا جاتا ہے، جس میں سب کچھ طے شدہ ہوتا ہے، کوئی الجھن نہیں نظر نہیں آتی۔ کھیل کے اصول بھی مقرر ہیں۔ ایک ہی طرح سے ناول اپنا سفر کرتا ہے، ایک ہی طرح سے منزل پر پہنچتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اصول برسوں کی ریاضت کے بعد پیدا کیا گیا ہو، ممکن ہے کہ اس اسلوب کو وضع کرنے میں ناول نگار نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جھونک دیا ہو ، لہٰذا ایک صاحب اسلوب ناول نگار خوفزدہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر کی کمائی کہیں لٹا نہ دے، اس لیے وہ تادم مرگ اس اسلوب سے چمٹا رہتا ہے، اس کے اندر نئی راہوں کو تلاش کرنے کی وہ فطری صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے جو گمنام جزیروں کی بازیافت کرسکتی تھی۔ پھر ایسا تن آسان ناول نگار یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا نیا ناول اس سے کس اسلوب کا تقاضا کررہا ہے، وہ تو بہرحال اس کی انگلی پکڑ کر اپنی چال چلانا چاہتا ہے۔ اس کے اندر نئی شروعات کا جذبہ تقریباً ختم ہوچکا ہوتا ہے۔

اب درج بالا میرے تحفظات میں سے ’میراناول نگار‘ کی جگہ ’خالد جاوید ‘کو رکھ دیجیے تو آپ کو پروفیسر سونیا سوربھی گپتا کے اس قول کی گونج سنائی دے گی کہ ’’ان تینوں ناول کے درمیان ایک رشتہ تو ہے لیکن تینوں کے تخلیقی assets مختلف ہیں۔‘‘

گفتگو طویل ہوجائے گی، اگرچہ میں خالد جاوید کے ناول سے کچھ اقتباسات بھی یہاں پیش کرکے ان کے زیر نظر ناول کے assets پر بات کرنا چاہتا تھا لیکن اس کام کو اس دن کے لیے اٹھا رکھتا ہوں جب میں خالد جاوید کی تخلیقی انفرادیت پر مضمون لکھوں گا ، فی الحال میں خود کو مذاکرے میں ہونے والی گفتگو تک محدود رکھوں گا۔

سرور الہدیٰ صاحب نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا کہ وبا کے گزر جانے کے بعد اس ناول کا مقام کیا ہوگا؟ یہ سوال اتنا اہم ہے کہ اس پر ان لوگوں کو ضرور غور کرنا چاہیے جو موضوع کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ہنگامی ادب تخلیق کرتے ہیں۔میرے خیال میں خالد جاوید کو مذاکرے میں یہ صفائی دینے کی قطعی کوئی ضرورت نہ تھی کہ انھیں اس ناول کا آئیڈیا حالیہ کورونا وبا سے تین سال قبل ذہن میں آیا تھا۔ سرور الہدیٰ صاحب نے ناول نگار کے اس دعوے کو مسترد کرکے اچھا کیا چونکہ یہ ناول پر منحصر ہے کہ اس میں کتنے دنوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت ہے۔ خالد جاوید کے ناول میں اگر وہ عناصر ہیں جو ہنگامی یا پروپیگنڈائی ادب کا خاصہ ہوتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس کی جواں سال موت یقینی ہے۔ لیکن جو ناول اس ذیل میں ہی نہیں آتا کہ وہ پاپولر لٹریچر کی طرح سنسنی پیدا کرےیا قارئین کے فوری ردعمل کو کیش کرے، اس کی عمرکے بارے میں زیادہ شک نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً The Plague غالباً 1927 میں لکھا گیا تھا ، Love in the Time of Cholera، 1985میں اور Blindness، 1995میں ریلیز ہوا تھا لیکن یہ ناول اب بھی زندہ ہیں۔ وجہ؟ ظاہر ہے یہ ناول اپنے موضوع سے نہیں بلکہ اپنی تخلیقیت کے سبب زندہ ہیں۔ اس لیے مجھے خالد جاوید کے زیر بحث ناول پر اس قسم کی کسی تشویش کی منطقی وجہ نہیں ملتی، خواہ انھوں نے یہ ناول حالیہ وبا کے تین سال پہلے لکھنا شروع کردیا ہو یا وبا کے دوران لکھا ہو۔ کیوں کہ خالد جاویدکے ہر ناول کی طرح اس ناول کی کلید بھی ’موت‘ ہے جو کبھی از کار رفتہ نہیں ہوسکتی۔ وبا ختم ہوسکتی ہے، موت نہیں۔ سبھی کا اس پر یقین ہے کہ ہماری زندگی فانی ہے اور کسی بھی وقت موت ہمیں آنی ہے۔ موت کے خوف پر قابو پانے کے لیے مذہب اور فلسفہ نے ہمیں کئی وسائل مہیا کیے ہیں لیکن بقول پیٹر بخسل، دل گیری پر قابو نہیں کرپائے۔ ادب کا واسطہ اسی دل گیری کو قبول کرنے سے ہے۔انسانی فطرت کے اندر پائے جانے والی یہی دل گیری اسے ادیب بنا دیتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک ادیب اس وصف کے باوجود لکھنے کی استطاعت رکھتا ہو لیکن وہ ادب کا مخلص اور بے لوث قاری نہیں بن سکتا۔ چنانچہ خالد جاوید موت کا جب تک تعاقب کرتے رہیں گے، ان کے قارئین انھیں زندہ رکھیں گے۔ اس کی ایک وجہ پال تلخ(Paul Tillich) نے ہمیں بتائی ہے کہ مایوس ہونے کے لیے بھی جرأت درکار ہوتی ہے۔ مایوس ہونا اس بات کا اعتراف کرلینا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔زندگی زندگی کا رٹّا مارنے والے ادیبوں اور قارئین میں اسی جرأت کی کمی ہے۔

میں پروفیسر سرور الہدیٰ صاحب کا ذاتی طور پر شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اپنے ناخن تدبیر سے ناول کی کچھ گرہیں کھولنے میں مدد فرمائی،اگر وہ یہ سوال نہ اٹھاتے تو مذاکرہ ادھورا کہلاتا اور میں خود اتنی باتیں نہ کرسکتا۔ اس مذاکرے کے آخر میں پروفیسر خالد مبشر(جامعہ ملیہ اسلامیہ) شریک ہوئے۔ وقت کافی ہوچکا تھا، اس لیے خالد مبشر نے اس نزاکت کو سمجھتے ہوئے مختصر میں اپنی بات ختم کردی۔ انھوں نے بتایا کہ خالد جاوید ان کے استاد بھی رہ چکے ہیں اور اب ان کے ساتھی ہونے کا انھیں فخر حاصل ہے۔ واقعی یہ اعزاز ہی ہے کہ کوئی طالب علم جس استاد سے تعلیم حاصل کرے، بعد میں وہ اسی کے ساتھ اسی تعلیمی ادارے میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے منصب پر فائز ہو۔ خالد مبشر کو بہت بہت مبارکباد کہ انھوں نے بہت مختصر وقت میں خالد جاوید کے تعلق سے اظہار خیال کیا۔ ہم مستقبل قریب میں امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کی تخلیقی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

خالد مبشر کے بعد کسی سبب میں مذاکرے میں شامل نہ رہ سکا اور مجھے افسوس ہے کہ میں مشہور ترجمہ نگار اور انگریزی و اردو کے شاعر ڈاکٹر عبدالنصیب خان کو سن نہ سکا۔ بعد میں اس پروگرام کی رپورٹنگ کی مدد سے صرف اتنی بات جان سکا کہ انھوں نے فرمایا، یہ ناول عالمی وبائی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ خالد جاوید نے عصری المناکیوں، وبا کے خوف، انسانی مصائب، بیماری کی ہمہ گیریت اور اشرف المخلوقات کی بے بضاعتی کو نرالے انداز میں پیش کیا ہے۔ پورا ناول ایک جبراً تھوپی ہوئی خاموشی ، قیامت خیز تباہی اور معاشرتی تعطل کا غماز ہے۔ میر ا اس پر تبصرہ کرنا اس لیے مناسب نہیں ہے کہ جب تک ان کے اس بیان کے سیاق وسباق سے میں واقف نہ ہوں تب تک اس پر کچھ کہنا نا انصافی ہوگی۔

مذاکرہ ختم ہوا اور اس کے ساتھ ہی میرا زیر نظر تجزیہ بھی اپنے انجام کو پہنچا۔ لیکن میں آخر میں ایک ضروری بات صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ شہزاد انجم صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ شاندار مذاکرہ برپا کرکے بہت بڑا کام کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دور ادبی رسائل کا دور نہیں ہے جہاں کسی قلم کار کو خود کو ثابت کرنے کا چیلنج بڑا تھا۔ اچھا لکھنے والوں کو تربیت یافتہ قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں برسوں لگ جاتے تھے۔ افسانہ نگاروں کو بھی سال میں دو چار کہانیاں لکھنی پڑ جاتی تھیں۔ اس کے برعکس آج خود آرائی، خود پسندی، خود فروشی اور خود نمائی کی جو آندھی چل رہی ہے اس سے کسی جینوئن لیکن بے نیاز تخلیق کار کی حفاظت کا کام اب تعلیمی اداروں کا ہی ہے۔ سوشل میڈیا نے جس طرح فوری تعین قدر کو حاوی کردیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نان رائٹرس اپنا پروموشن دھڑلے سے کررہے ہیں اور یہ وہ دنیا ہے جہاں ہر احمق کو دس بیس احمق ’لائکس‘ کرنے والے مل ہی جاتے ہیں۔ اب تخلیق کی کسوٹی ادبی محاسن نہیں بلکہ لائکس اور شیئرنگ کی تعداد ہوگئی ہے، اب کسی ادبی ناول کی ریٹنگ اس کے فروخت کی تعداد پر منحصر ہوگئی ہے جب کہ ہمیں فاروقی صاحب نے بتایا کہ ’’کوئی چیز جس کا نام ادب عالیہ اگر ہے تو اس کے پڑھنے والے ڈیڑھ دو لاکھ نہیں ہوں گے۔ اب آپ دیکھیں کہ ورجینیا وولف خود ایک پریس کی مالک تھی لیکن اس کے زمانے میں اس کے ناولوں کا پرنٹ آرڈر تین ہزار ہوتا تھا۔… لیکن اگاتھا کرسٹی کی سترہویں سالگرہ پر پنگوئن نے اس کے دس ناول چھاپے اور ہر ناول کا پرنٹ آرڈر دس لاکھ دیا تھا۔ بڑے ادب کی پہچان ہے کہ وہ رہتا ہے اگرچہ اس کے پڑھنے والے کم ہوتے ہیں۔‘‘ (’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘) مختصر یہ کہ سوشل میڈیا کی اس جمہوری توسیع کی قیمت ادب کو چکانی پڑ رہی ہے کیوں کہ یہاں ہر ڈیل (deal)ایک پیکج ڈیل (package deal)ہوتی ہے۔ اس قحط الرجال میں ایک تعلیمی ادارے کا کام اور بھی اہم اور نسبتاً مشکل ہوجاتا ہے ۔ اسے اس دھند کے پار بھی دیکھنا ہے اور خود کو دھندلکا پھیلانے سے بچانا بھی ہے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل قریب میں شہزاد انجم صاحب کی طرح دیگر تعلیمی اداروں کے سربراہان بھی اس طرف متوجہ ہوں گے۔(ایک مذاکرہ کے بہانے (دوسری قسط )از: اشعر نجمی)

Previous articleنئے امکانات پر دستک دیتا گرم سیر: عظیم انصاری از: عالیہ خان
Next articleبھارتیہ جنتا پارٹی سے مقابلے کے لیے متّحدہ محاذ کا قائد کون ہو؟از:صفدر امام قادری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here