ایک اہم سوال! “کیا صرف بیان بازی سے مسائل حل ہوجائیں گے”؟ از: ریحان غنی

1
76

پٹنہ:کیا کوئی بھی مسئلہ بیان بازی سے اور ڈائس سجا کر زوردار تقریر کرنے سے حل ہوا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نفی میں ہی ہوگا لیکن

اس حقیقت کے باوجود ایسا ہی کچھ ہورہا ہے اور کہاجارہا ہے کہ ہم لوگوں کو بیدار کر رہے ہیں۔ جو لوگ بھی ایسا کر رہے ہیں ان سے اگر یہ پوچھا جائے کہ آپ کی پلاننگ اور منصوبہ بندی کیا ہے اورآپ لوگوں کو بیدا رکرکے کیا کریں گے؟ تو اس کا کوئی خاطر خواہ جواب ان کے پاس نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کام کا کوئی خاکہ نہیں بنایا ہے۔ میں نے اکثر کہا ہے کہ مختلف

نظریہ رکھنے والی سیاسی پارٹیاں اقتدار کے حصول کے لیے متحدہ محاذ بنا لیتی ہیں۔ ’’یوپی اے‘‘ اور’’این ڈی اے‘‘ وجود میں آجاتا ہے۔ ہم اگر واقعی مخلص ہیں تو ہمارے مذہبی، ملّی اور لسانی ادارے اور تنظیمیں ایسا کوئی متحدہ محاذ کیوں نہیں بناتیں جس کے تحت وہ اپنا وجود برقرار رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر آکر ملّی، مذہبی اور لسانی مسائل کو حل کرنے کے لیے لڑائی لڑ سکیں۔ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے اوائل کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہر کسی کی جیب میں ایک عدد ادارہ ضرور ہے اور جن اداروں کے پاس عالیشان عمارتیں، بینک بیلنس اور سیاسی اثر و رسوخ ہے وہ ادارے اسے اور بڑھانے کے لیے ڈائس سجانے

اور اپنے رہنمائوں کے نفس کو موٹا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان اداروں کے ذمہ داروں کو اگر چھینک بھی آتی ہے تو شام تک تصویر کے ساتھ ایک عدد پریس ریلیز اخبارات اور میڈیا کے لیے جاری ہوجاتی ہے۔اگر ہم سروے کریں تو ہمیں ہر ضلع میں دوچار دس نام ایسے مل جائیں گے جو بہت ہی خاموشی کے ساتھ اور قربانی کے جذبے سے ملّی، سماجی اور لسانی محاذ پر کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر حاجی پور میں انوارالحسن وسطوی اور شاہد محمود پوری، گیا میں فضل وارث اور بھاگلپور میں حبیب مرشد خاں کا نام پیش کیاجاسکتا ہے۔لیکن ہم نے ایسے لوگوں کو آج تک ٹھیک سے نہیں جوڑا۔ نئی نسل کو اگر ہم سے شکایت ہے تو غلط نہیں ہے۔ ہماری تمام سرگرمیوں پر اس کی نگاہیں ہیں۔جب نئی نسل یہ دیکھتی ہے کہ ہم حقائق سے منھ موڑ کر اپنی ہی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں اور اسے نظرانداز کر رہے ہیں تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے سامنے نہ تو جلسوں اور میٹنگ کا کوئی نتیجہ سامنے آرہا ہے اور نہ بیان بازی کے کوئی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اس میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس بے چینی کو اگر ہم نے نہیں سمجھا اور اسے ختم کرنے کی کوشش نہیں کی تو ہمیں ڈر ہے کہ ان کی یہ بے چینی اور ناراضگی کہیں آتش فشاں بن کر نہ پھٹ پڑے۔ابھی ایک بڑا مسئلہ سینکڑوں اردو بنگلہ ٹی ای ٹی امیدواروں کا ہے۔ یہ امیدوار گذشتہ آٹھ برسوں سے سڑکوں پر اپنی لڑائی لڑ رہے ہیں اور پولس کی لاٹھیاں بھی کھارہے ہیں۔ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جس طرح ہندی ٹی ای ٹی امیدواروں کو کٹ آف مارکس میں 10فیصد رعایت دے کر ان کا دوبارہ رزلٹ کیا گیا، اسی طرح انہیں کٹ آف مارکس میں صرف 5 فیصد رعایت دے کر ان کا بھی دوبارہ رزلٹ جاری کیاجائے۔ ان کا سوال ہے کہ بہار اسکول اکزامینشن بورڈ کی غفلت اور خامی کی سزا انہیں کیا دی جارہی ہے؟ یہ اردو کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی کوئی بڑا ملّی اور لسانی ادارہ مضبوطی کے ساتھ سامنے نہیں آیا۔ جبکہ اردو بنگلہ ٹی ای ٹی سنگھ نے کوئی ایسا دروازہ نہیں چھوڑا جہاں صدا نہ لگائی ہو۔ اب ان امیدواروں کی ملازمت کی عمر بھی ختم ہورہی ہے۔ ان حالات میں کیا ملّی اور لسانی اداروں کو ان بے بس، مجبور اور ناانصافی کے شکار

امیدواروں کو انصاف دلانے کے لیے آگے نہیں آنا چاہیے؟ ہم نے مصلحت کی چادر کیوں اوڑھ رکھی ہے؟ ہمارے اکابر کی نگاہیں حقیقت حال سے منھ موڑ کر صرف ’’چھچھڑے‘‘ پر کب تک مرکوز رہیں گی۔ ہم اپنی کارگذاریوں کی تشہیر کب تک کرتے رہیں گے اور اپنی پیٹھ تھپتھپاتے رہیں گے؟ اس وقت حالات بہت سنگین ہیں۔ بڑوں کی ناعاقبت اندیشی کے خلاف نئی نسل میں لاوا بُری طرح پک رہا ہے۔ خدانخواستہ اگر اردو بنگلہ ٹی ای ٹی امیدواروں کو انصاف نہیں ملا تو یہ لاوا پھوٹ پڑے گا۔ ایسی صورت میں سب سے زیادہ شامت ہمارے ایسے اکابر پر آئے گی جو صرف عہدے اور منصب کے لیے زندہ اور سرگرم ہیں۔

Previous articleدبستانِ عظیم آباد کی ایک گم شدہ کڑی: سید محمد محسن [حصّہ دوم] از: صفدر امام قادری
Next articleمولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی از: مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

1 COMMENT

  1. ڈاکٹر ریحان غنی صاحب قبلہ السلام و رحمہ اللہ و برکاتہ اللہ تعالی آپ کو دونوں جہان کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے آپ نے جس دبے کچلے اور ہر دروازے سے ٹھوکریں کھائے ہوئے اس غریب ، حقیر اردو ٹی ای ٹی کے مسئلے پر قلم بند کیا ہے واقعی آپ نے اس مردہ اردو کو ایک حیات ، نئی زندگی بخشنے کا کلیدی کردار ادا کیا ہے جو تمام اردو داں طبقہ اور اردو کارواں کی غفلت کو دور کرنے میں دلچسپی پیدا کرے گا نیز اردو ٹی ای ٹی کی تمام امیدوار وں پر آپ کا احسان قرض حسن بن کر رہے گا ۔۔۔ اللہ تعالی آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو دارین کی سعادتوں سے نوازے ۔۔۔من جانب ۔۔۔محمد توصیف رضا مصباحی پورنوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here