ایسا شکستہ حالِ غزل خواں نہ آئے گا از:مظفر نازنین ، کولکاتا

253
423

کلیم عاجزؔ کی شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انکی غزلیں اس خمیر سے تیار کی گئی ہیں جب ۱۹۴۶ء؁ میں عزیز ختم ہوگئے تھے اور انہوں نے اس مجرانی دور کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اسی درد و کرب، مصائب و آلام سے لبریز ہیں ان کی غزلیں۔ ان کی بیشتر غزلیں بے حد Emoitional ہیں۔ ان کی غزلیں کلاسیکی لہجے کیلئے مقبول اور ممتاز ہوئیں ۔ا ن کی پیدائش ۱۱؍اکتوبر، ۱۹۲۴ء؁ میں پٹنہ کے تلہاڑا میںہوئی تھی۔ ان کا پورا نام محمد کلیم اور تخلص عاجز ؔ تھا۔ ۱۹۴۶ء؁ کے فساد میں ان کے تمام گھر والے شہید کردئے گئے۔ ایسے مشکل اور پر آشوب دور میں انہوں نے آنکھیں کھولیں تھیں۔ ان غم و الم، درد و کرب، مصائب و آلام کا ذکر ان کی غزلوں میں صاف شیشے کی مانند عیاں ہے۔ ۱۹۵۶ء؁ میں کلیم عاجز صاحب نے بی اے آنرز کیا۔ ۱۹۵۸ء؁ میں ایم اے پٹنہ یونیورسٹی سے کیا اور پوری یونیورسٹی میں اول رہے جس بنا پر انہیں طلائی تمغہ (Gold Medal) ملا۔ ۱۹۶۵ء؁ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری (PHD) کی ڈگری تفویض کی گئی۔ جس کا مقالہ تھا ’’بہار میں اردو شاعری کی ارتقاء‘‘ (Evolution of Urdu in Bihar) تھا۔

موصوف جب نویںن جماعت میں تھے تو چند غزلیں لکھ کر ثمر آرہوی سے پہلی اور آخری بار صلاح لی تھی۔ انہیں ۱۹۸۹ء؁ میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا کیا۔ ان کے ایک درجن سے زائد نثری، نظمی، ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ تصنیفات ہیں ’’جانِ جاناں۔‘‘
’’یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ۔‘‘ ایک بدیس ایک بدیسی جو امریکہ کا سفر نامہ ہے اور خطوط کا مجموعہ ’’دیوان دو پہلو نہ دکھے گا‘‘ اور ’’ابھی سن لو مجھ سے‘‘ خود نوشت ہے۔ ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ کے پہلے صفحے پر یہ شعر ہے جو ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب رقم کرتے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں !رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند! از: مظفر نازنین، کولکاتا)

وہ جو شاعری کا سبب ہوا۔ وہ معاملہ بھی عجب ہوا۔
میں غزل سناؤں ہوں اسلئے کہ زمانہ اسکو بھلا نہ دے
اس کا تبصرہ کلیم احمد نے کیا ہے۔ تجزیہ علامہ جمیل مظہری اور تعارف سید علی عباس نے کیا ہے۔ڈاکٹر کلیم عاجزؔ کی خوبصورت غزل کے چند خوبصورت اشعار قارئین کی فن شناس نظروں کی نذر ہے ؎
بہت کم کہتے ہیں لیکن بامحل کہتے تو ہیں۔
اور کچھ کہتے نہ ہوں لیکن غزل کہتے تو ہیں۔
تم ہی سننے کا سلیقہ بھول سمجھئے۔
ورنہ ہم بات جس انداز سے کہنے تھے کل کہتے تو ہیں
کاروانِ فصل گل جاری تو ہیں بے فصل گل۔
تم غزل سنتے تو ہو ہم غزل کہتے تو ہیں
ہم نے رسم دردمندی کا بھرم رکھا تو ہے
روکتے جاتے غزل کہتے تو ہیں
فقر و فاقہ ہی سہی شاہانی خودداری تو ہے
جھونپڑے کو ہم اپنے اپنا محل کہتے تو ہیں
ہم تو باتوں میں کبھی دروبدل کرتے نہیں
لوگ کرنے کیلئے ردو بدل کہتے تو ہیں
جھوٹ کہتے ہیں ۔ غلط یہی کہتے ہیں
باتیں ہماحوگ ہمکو میرؔ صاحب کا بدل کہتے تو ہیں
اس نے یادیں اپنی بھیجی ہیں کہ جاکر پوچھو
میری یاد آتی ہے تو ہے عاجزؔ غزل کہتے تو ہیں۔
دوسری غزل کے اشعار ؎
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
غزل کیا پڑھے قیامت کرے ہے
بھلا آدمی تھا پر نادان نکلا
سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
کبھی شاعری اسکو کرنی نہ آتی
اسی بیوفا کی بدولت کرے ہے
چھری پر چھری کھائے جائے ہے کب سے
اور اب تک جئے ہے کرامت کرے ہے
دھڑکنے لگے ہے بہت دل ہمارا
مروت جو بے مروت کرے ہے
غزل کے اشعار
پیار کے زخموں کا گلدستہ بنالائے گا کون؟
ایسا شاعر کون ہے ایسی غزل گائے گا کون؟
درد کا قصہ سنانے والا اب کوئی نہیں
اک ہم ہیں ۔ ہم نہین آئیں گے تو آئے گا کون؟
ایسے عالم میں کہ سارے چاند تارے بجھ گئے
کہ چراغ زخمِ دل سے نور پھیلائے گا کون؟
سب نظر آئیں گے جس کو ہم نظر آئے نہیں
ہم نظر آئے جسے اس کو نظر آئے گا کون؟
جو غزل چھیڑی کہ کانٹے بھی شگفتہ ہوگئے
اس طرح فضلِ خزاں میں پھول برسائے گا کون؟
ہم تو دیوانے ہیں اس میں بہت ہوشیار ہیں
وقت کی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھائے گا کون؟
صاحب میخانہ و جام و خمار و مینا ہے تو
نہ اترائے گا تو اے ساقی تو اترائے گا کون؟
ہم نہیں ہوں گے تو لطف رقصِ مستانہ کہاں
پینے والے ہیں یہاں پی لیں گے چھلکائے گا کون؟
وہ غزل سن کر میری منھ پھیر کر کہنے لگے
یہ تو دیوان ہہے کمبخت اس کو سمجھائے گا کون؟
غزل کے چند اشعار
میں فقیر خانہ بدوش ہوں میرا انجمن میں گذر نہیں
نہ دکھاؤ خواب محل جسے اپنے جھونپڑے کی خبر نہیں
میرا درد کون سا درد ہے کہ قرار شام و سحر نہیں
میرے دشمنوں کو ہے سب پتہ میرے دوستوں کو خبر نہیں
میرے درد عشق کا ساتھ دے کسی پرہوس کا ذکر نہیں
یہ تمام عمر کی راہ ہے گھڑی دو گھڑی کا سفر نہیں
مجھے عشق اگر نہ ابھارتا تیری زلف کون سنوارتا
یہ ہنر ہے میری نگاہ کا تیرے آئینے کا ہنر نہیں
تیری داستاں کو بھی رنگ دوں تیری آستاں کو بھی رنگ دوں
میرے پاس خونِ جگر تو ہے مگر اتنا خون جگر نہیں

لکھ اے کلیم حال دل اپنا اٹھا قلم
اشکوں کی روشنائی بنا آہ کا قلم
یہ بوجھ کیا اٹھائے کوئی دوسرا قلم
تیری زبان ، تیری کہانی ،تیرا قلم
تھوڑا سا دل کا خون قلم سے نچوڑ دے
دو چار آبلے ہی سہی آج پھوڑدے
ارباب ذوق بھی ہیں سخنور بھی ہیں یہاں
رہبر بھی ہین، رہ شناس بھی، رہبر بھی ہیں یہاں
دریائے آگہی کے شناور بھ یہیں یہاں
ہیں ان میں اہل ناز بھی اہل نیاز بھی
پہلو میں ہوگا ان کے دل گداز بھی
ان دوستو کے دل میں اترتے چلو کلیم
یادوں کے زخم بن کے ابھرتے چلو کلیم
خوشبو بنو ، فضا میں بکھرتے چلو کلیم
چپکے سے یہ عرض بھ یکرتے چلو کلیم
کیا کیا حسین صبح حسین شام آئے گی
لیکن ہماری یاد بھلائی نہ جائے گی
کیوں کہہم اک ایسے گلستاں سے آئے ہیں
جس گلستاں میں پھولوں پہ کانٹوں کے سائے ہیں
شبنم کی طرح پتوں نے آنسو بہائے ہیں
اک اک کلی نے دل پر بڑے زخم کھائے ہیں
بکھرا کئے ہیں شاخوں سے گل ٹوٹ کے
روئی ہے عندلیبِ چمن پھوٹ پھوٹ کر
کچھ دور ہی بہارِ چمن آکے رہ گئی
ابھری نہ تھی کہ آرزو مرجھا کے رہ گئی
پھیلائے ہاتھ شاخ نے پھیلا کے رہ گئی
خوشبوئے گل نہ جانے کہاں جاکے رہ گئی
اک عمر گذری حسرت فصل بہار میں
ابک تڑپ رہے ہیں اسی انتظارمیں
ہیںاس چمن کے درد کو پھیلانے والے ہم
سپنے میں ہیں غموں کی امانت سنبھالے ہم
اشعار میں اشعار کے چراغ میں اشکوں ڈھلے ہم
پھرتے ہیں گنگنائے ہیں اندھیرے اجالے ہیں ہم
جو اس کی چشم ناز میں زلفوں کے بل میں ہے
وہ ساری داستان ہمارے غزل میں ہے
آپ آشنائے درد ہیں آپ آشنائے دل
آپ سب کے درمیاں پہ خوشنوائے دل
بیٹھا ہے اس لئے کہ سنائے صدائے دل
اہل زبان اہل سخن آئیں گے بہت
اصحاب فکر ، صاحب فن آئیں گے بہت
ساغر بکف سبو بسر دہن آئیں گے بہت
لے کر کلام تو بہ شکن آئیں گے بہت
ایسا شکستہ حال غزل خواں نہ آئے گا
پھر ہم کوئی چاک گریباںنہ آئے گا
ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب کی زبان، ان کے انداز ، ان کی آواز بہت الگ ہیں۔ شاید اب کلیم عاجزؔ پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔ جو بذاتِ خود ان کے ان اشعار سے ظاہر ہیں۔
اہل زبان ،اہل سخن آئیں گے بہت
اصحاب فکر صاحب فن آئیں گے بہت
ساغر بکف، سبو بہ دہن آئیں گے بہت
لے کر کلام توبہ شکن آئیںگے بہت
ایسا شکستہ حال غزل خواں نہ آئے گا
پھر ہم سا کوئی چاک گریباں نہ آئے گا
ایسی نابغۂ روزگار شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جنہوں نے زندگی کے درد و کرب، مصائب اور آلام کو قریب سے دیکھا ہے۔ اور اسی درد و کرب کو اپنی شاعری میں ڈھال دی ہے۔ بلاشبہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب غزلوں کے بے تاج بادشاہ ہیں اور بلاشبہ وہ ’’ثانیٔ میر‘‘ ہیں۔ اردو غزل میں ان کے گراں قدر سرمایہ یقینا اردو والوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ان کی غزلیں جو بار بار سننے کا جی چاہتاہے ۔ اک سوز و گداز ہے، ایک ذہنی کیفیت ہے، جو شاعر کے ان اشعار سے ظاہر ہے ؎
مشعلِ جاں روشن کرنے میں شام سویرا نہ کر نا
جلنے کا وقت آجائے کوئی بہانہ مت کرنا
خونِ تمناسے مت ڈرنا۔ ترک تمنا مت کرنا
ہم نے جیسا حال کیاہے ۔ اپنا ایسا مت کرنا
ہم نہ رکے گوشہر کے سارے لوگ سمجھاتے رہے
عشق مندی میں مت جانا درد کا سودا مت کرنا
آخر میں یہ بات بھی کہہ دوں تم ہو نازک لوگ میاں
شعر ہمارے پڑھتے رہنا کام ہمارا مت کرنا
Dr. Kalim Ajiz Sahab was an entiment poet, educationist and Padma Shree recipient. We can say that the entire poems of Janab Dr. Kalim Ajiz Saheb has great depth. It is full of tragedic adventure. And definitely poet has passed his entire life in tragedy. The poet has seen the tragedy through his own eyes in 1946 when his dearones were killed.
بقول ڈاکٹر کلیم عاجزؔ صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ایسا شکستہ حال غزل خواں نہ آئے گا
پھر ہم سا کوئی چاک گریباں نہ آئے گا

Mobile – 9088470916
Email – muzaffar.niznin93@gmail.com

Previous article’’چشم حیراں‘‘ تجزیاتی مطالعہ از: ڈاکٹر قطب الدین اشرف (سیوان)
Next articleسجاد حیدر یلدرم کی زندگی اور شاعری از:ڈاکٹر ہاجرہ بانو

253 COMMENTS

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here