اکبر الٰہ آبادی ایک تعارف از: انسان گروپ مغربی بنگال

0
212

پیدائش: 16 نومبر 1846ء
وفات:09 ستمبر 1921ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکبر الٰہ آبادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزاحیہ شاعری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سے اصلاح معاشرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرنے والا شاعر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنویر احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُردو ادب کے قاری جب اکبر الٰہ آبادی کے ظرافت سے بھرپور اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہنستے ہیں، مسکراتے ہیں اور جب اس شاعری کو سامنے رکھ کر اپنا محاسبہ کرتے ہیں تو شرمندہ بھی ہوتے ہیں۔ 16 نومبر 1846 میں تفضل حسین کے گھرانے میں پیدا ہوئے اکبر الٰہ آبادی، جن کا اصل نام سید اکبر حسین تھا، نے اپنی شاعری سے اصلاح معاشرہ کا وہ کام لیا جو سر سید احمد خان اور علامہ اقبال جیسی شخصیتوں کا شیوہ رہا۔ انھوں نے اپنی شاعری میں اکثر سماجی برائیوں، مغربی تہذیب اور لادینیت کو طنز و مزاح کے پیکر میں ڈال کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی اس طرز شاعری کی خوبی ہی تھی کہ لوگوں کی انا کو ٹھیس بھی نہیں پہنچتی تھی اور وہ اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور بھی ہو جاتے تھے، مثلاً
دنیا میں لذتیں ہیں نمائش ہے شان ہے
ان کی طلب میں حرص میں سارا جہان ہے
اکبرؔ سے سنو کہ جو اس کا بیان ہے
دنیا کی زندگی فقط اک امتحان ہے

عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے
نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے

نہیں رہے گی وہ خوبی جو زن ہے بے پردہ
سبب یہ ہے کہ نگاہوں کی مار پڑتی ہے
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اکبر الٰہ آبادی مغربی تعلیم کے دلدادہ سر سید احمد خان کے مخالف تھے۔ لیکن دونوں شخصیتوں پر گہری نظر رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ سر سید سے اکبر کا اختلاف شخصی نہیں بلکہ نظریاتی تھا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اکبر الٰہ آبادی مغربی تہذیب اور برطانوی عادات و اطوار سے انتہائی درجہ نفرت کرتے تھے۔ سر سید سے اختلاف بھی اسی سلسلے میں تھا، ورنہ اپنی زندگی کے آخر وقت میں انھوں نے سر سید کے کاموں کی تعریف کئی اشعار کے ذریعہ کی ہے۔ اس اشعار کو پڑھ کر آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ وہ سر سید کی کارگزاری سے خوش تھے اور ان کے ذریعہ کیے گئے کاموں کے دلدادہ بھی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
واہ اے سید پاکیزہ گہرکیا کہنا
یہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہنا
قوم کے عشق میں یہ سوز جگر کیا کہنا
ایک ہی دھن میں ہوئی عمر بسر کیا کہنا

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق ہے جو کہنے والے اور کرنے والے میں
صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی کتاب ’انتخاب اکبر الٰہ آبادی‘ میں اس تعلق سے بہت خوب لکھا ہے اور سرسید و حالی کی طرح اکبر کو بھی اصلاح پسند ادیب قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’’ اکبر کے نزدیک شاعری کا مقصد زندگی کی تنقید و اصلاح تھا… سرسید تحریک کے علمبرداروں نے اور اکبر نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق شاعری کے ذریعے قومی اصلا ح کی کوشش کی۔سماجی اعتبار سے متضاد نقطہ نظر رکھنے کے باوجود سرسید، حالی اور اکبر یکساں ادبی نقطہ نظر کے حامل تھے‘‘۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اکبر الٰہ آبادی نے انگریزی زبان یا مغرب کی اچھی چیزوں کو اختیار کرنے سے منع نہیں فرمایا، اگر اپنی شاعری میں کہیں ’انگریزی‘ یا ’انگلش‘ کی تنقید کی ہے تو ان کا اشارہ انگریزی یا مغربی تہذیب کی طرف ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں جا بجا انگریزی الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ انگریزی زبان کے مخالف نہیں تھے۔ اس کی مثال ان کے ہی اشعار سے ملاحظہ فرمائیے:
عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کام
ہم توABمیں رہے اغیار BAہوگئے

تم شوق سے کالج میں پڑھو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو
پر ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو
اٹھو تہذیب سیکھو، صنعتیں سیکھو، ہنر سیکھو
بڑھاؤ تجربے اطراف دنیا میں سفر سیکھو
خواص خشک و تر سیکھو علوم بحر و بر سیکھو
اکبر الٰہ آبادی کو انگریزوں سے سخت درجہ کی نفرت تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے 1857 کی جنگ اور انگریزوں کے مظالم کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کالج و یونیورسٹیوں میں انگریزی طرز تعلیم کے خلاف خوب آواز اٹھائی۔ سر سید نے جب اس انگریزی طرز کو اختیار کیا تو انھوں نے برجستہ یہ شعر کہہ ڈالا:
ابتدا کی جناب سید نے
جن کے کالج کا اتنا نام ہوا
انتہا یونیورسٹی پر ہوئی
قوم کا کام اب تمام ہوا

نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی فوائد پر
گراکے چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر
لسان العصر کے لقب سے سرفراز اکبر الٰہ آبادی نے ہمیشہ اسلامی تہذیب کا پاس رکھا اور مسلمانوں سے ہمیشہ یہی گزارش کی کہ وہ اپنی تابناک تہذیب و ثقافت سے دستبردار نہ ہوں۔ اس معاملے میں ان کا ذہن کافی حد تک علامہ اقبال سے وابستہ تھا، بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ علامہ اقبال اکبر الٰہ آبادی کو اپنا مرشد معنوی تصور کرتے تھے۔ اقبال نے اکبر الٰہ آبادی کے نام 6 اکتوبر 1911 کو لکھے ایک خط میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں آپ کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس نگاہ سے کوئی مرید اپنے پیر کو دیکھے اور وہی محبت اور عقیدت اپنے دل میں رکھتا ہوں، خدا کرے وہ وقت جلد آئے کہ مجھے آپ سے شرف نیاز حاصل ہو اور میں اپنے دل کو چیر کر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ لاہور ایک بڑا شہر ہے لیکن میں اس ہجوم میں تنہا ہوں، ایک فرد واحد بھی ایسا نہیں جس سے دل کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جا سکے‘‘۔ کچھ ایسی ہی محبت اکبر الٰہ آبادی کو اقبال سے بھی تھی۔ انھوں نے اپنے ایک شعر میں اس بات کا اظہار بھی کیا جو اس طرح ہے:
دعویٔ علم و فرد میں جوش تھا اکبر کو رات
ہو گیا ساکت جب ذکر اقبال آگیا
ادب صرف شعر و شاعری یا داستان گوئی و افسانہ سازی نہیں بلکہ تنقید حیات کا بھی نام ہے۔ ہر ادیب اپنی زندگی میں الگ الگ طریقے سے تنقید حیات کا کام کرتا رہتا ہے، اور اکبر الٰہ آبادی نے بھی اپنی ایک منفرد راہ اختیار کی تھی۔ ان کی شاعری جس قدر آسان فہم اور سہل ہوا کرتی تھی وہ اس سے کہیں زیادہ ذہین تھے۔ انہوں نے ادب ‘فلسفہ اور مذہب کی کتابیں خوب پڑھی تھیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے انگریزی کتاب’فیوچر آف اسلام ‘ کا سلیس اور با محاورہ ترجمہ بھی کیا۔ وہ ایک ذہین اور باصلاحیت انسان تھےجنھوں نے تحصیلداری بھی کی، عدالت خفیفہ کی منصفی بھی کی، سیشن جج بھی رہے اور اپنی خدمات کے باعث ’خان بہادر‘ کا خطاب بھی حاصل کیا۔ انہیں ہائی کورٹ میں جج بننے کا بھی موقع حاصل ہوا تاہم خرابی صحت کے سبب 1903 میں قبل از وقت وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے۔ سبکدوشی کے بعد انھوں نے پوری طرح سے خود کو شعر و ادب اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دیا۔ زندگی کے آخر وقت میں انھوں نے ایک زمانہ شناس، ماہر نباض اور حاذق حکیم کی صورت اختیار کی اور اپنی شاعری میں کھری کھری باتیں سنانے کے ساتھ ساتھ مرض کا علاج بھی بتایا۔ ان کی نظم ’تعلیم نسواں‘ اس کی بہترین مثال ہے جس میں انھوں نے انتہائی ناصحانہ انداز اختیار کیا ہے۔ اس نظم کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
تعلیم عورتوں کو بھی دینی ضرور ہے
لڑکی جو بے پڑھی ہو تو وہ بے شعور ہے

داتا نے دھن دیا ہے تو دل سے غنی رہو
پڑھ لکھ کے اپنے گھر ہی دیوی بنی رہو

مشرق کی چال ڈھال کا معمول اور ہے
مغرب کے ناز و رقص کا اسکول اور ہے
اکبر الٰہ آبادی کا نام جب بھی زبان پر آتا ہے تو لوگ کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آنے لگتی ہے اور ان کے مزاحیہ اشعار ذہن میں گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے قطعی انکار ممکن نہیں کہ وہ اصلاح ملت کے عظیم علمبردار ہیں۔ وہ مزاحیہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ جدید فلسفی شاعر بھی تھے۔ اس عظیم اور خاکسار شاعر کا انتقال 9 ستمبر 1921 کو الٰہ آباد میں ہوا اور یہیں کی خاک میں دفن کیے گئے۔ اس مشہور عام شاعر کے بے شمار اشعار ہیں جو لوگوں کی زبان زد ہیں۔ آخر میں پیش ہیں کچھ ایسے ہی اشعار جنھیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا:
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں

اک دن تھا وہ کہ دب گئے تھے لوگ دین سے
اک دن یہ ہے کہ دین دبا ہے مشین سے

بتاؤں آپ سے مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

بہت ہی بگڑے وہ کل مجھ سے پہلے بوسے پر
خوش ہوگئے آخر کو تین چار کے بعد

حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق ہے اتنا
کہ یہ جامے سے باہر ہے اور وہ پاجامے سے باہر ہے

یوں قتل سے بچوں کے وہ بد نام نہ ہوتا
افسوس کے فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھاجو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

برق کے لیمپ سے آنکھوں کو بچائے رکھنا
روشنی آتی ہے اور نور چلا جاتا ہے

متفرق اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ

جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایا
کہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے

بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں
سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی
ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ
جاگنا رات بھر مصیبت ہے

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں
مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

تیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور
جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی

عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

سینے سے لگائیں تمہیں ارمان یہی ہے
جینے کا مزا ہے تو مری جان یہی ہے

اب تو ہے عشق بتاں میں زندگانی کا مزہ
جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا

یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمال
انساں کرے اگر نہ تری چاہ کیا کرے

عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کام
ہم تو اے.بی میں رہے اغیار بے.اے. ہو گئے

لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہے
قیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہے

عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا
جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے
کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا
کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر

جس طرف اٹھ گئی ہیں آہیں ہیں
چشم بد دور کیا نگاہیں ہیں

ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

بولے کہ تجھ کو دین کی اصلاح فرض ہے
میں چل دیا یہ کہہ کے کہ آداب عرض ہے

تعلق عاشق و معشوق کا تو لطف رکھتا تھا
مزے اب وہ کہاں باقی رہے بیوی میاں ہو کر

جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں
یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر

کیا وہ خواہش کہ جسے دل بھی سمجھتا ہو حقیر
آرزو وہ ہے جو سینہ میں رہے ناز کے ساتھ

ان کو کیا کام ہے مروت سے اپنی رخ سے یہ منہ نہ موڑیں گے
جان شاید فرشتے چھوڑ بھی دیں ڈاکٹر فیس کو نہ چھوڑیں گے

ڈنر سے تم کو فرصت کم یہاں فاقے سے کم خالی
چلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالی

رحمان کے فرشتے گو ہیں بہت مقدس
شیطان ہی کی جانب لیکن مجارٹی ہے

میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر
مجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے

ضروری چیز ہے اک تجربہ بھی زندگانی میں
تجھے یہ ڈگریاں بوڑھوں کا ہم سن کر نہیں سکتیں

سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لے

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک
مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں

مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی
اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

کچھ الہ آباد میں ساماں نہیں بہبود کے
یاں دھرا کیا ہے بجز اکبر کے اور امرود کے

میری یہ بے چینیاں اور ان کا کہنا ناز سے
ہنس کے تم سے بول تو لیتے ہیں اور ہم کیا کریں

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہے
بس کرم کیجے مجھے بے کار رہنے دیجئے

ان کو کیا کام ہے مروت سے اپنی سے یہ منہ نہ موڑیں گے
جان شاید فرشتے چھوڑ بھی دیں ڈاکٹر فیس کو نہ چھوڑیں گے

اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبرؔ
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا

سدھاریں شیخ کعبہ کو ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا ہم خدا کی شان دیکھیں گے

پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا
ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں

انہیں بھی جوش الفت ہو تو لطف اٹھے محبت کا
ہمیں دن رات اگر تڑپے تو پھر اس میں مزا کیا ہے

یہ ہے کہ جھکاتا ہے مخالف کی بھی گردن
سن لو کہ کوئی شے نہیں احسان سے بہتر

اگر مذہب خلل انداز ہے ملکی مقاصد میں
تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

کالج سے آ رہی ہے صدا پاس پاس کی
عہدوں سے آ رہی ہے صدا دور دور کی

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

بت کدہ میں شور ہے اکبرؔ مسلماں ہو گیا
بے وفاؤں سے کوئی کہہ دے کہ ہاں ہاں ہو گیا

پڑ جائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلہ اکبرؔ
پڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون

ایک کافر پر طبیعت آ گئی
پارسائی پر بھی آفت آ گئی

پبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجیے مجھ سے
صاحب مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے

سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں
اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو
طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

تحسین کے لائق ترا ہر شعر ہے اکبرؔ
احباب کریں بزم میں اب واہ کہاں تک

کچھ طرز ستم بھی ہے کچھ انداز وفا بھی
کھلتا نہیں حال ان کی طبیعت کا ذرا بھی

دختر رز نے اٹھا رکھی ہے آفت سر پر
خیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا

خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں

بتوں کے پہلے بندے تھے مسوں کے اب ہوئے خادم
ہمیں ہر عہد میں مشکل رہا ہے با خدا ہونا

دم لبوں پر تھا دل زار کے گھبرانے سے
آ گئی جان میں جان آپ کے آ جانے سے

اس گلستاں میں بہت کلیاں مجھے تڑپا گئیں
کیوں لگی تھیں شاخ میں کیوں بے کھلے مرجھا گئیں

شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی

ڈال دے جان معانی میں وہ اردو یہ ہے
کروٹیں لینے لگے طبع وہ پہلو یہ ہے

تمہارے وعظ میں تاثیر تو ہے حضرت واعظ
اثر لیکن نگاہ ناز کا بھی کم نہیں ہوتا

جوانی کی ہے آمد شرم سے جھک سکتی ہیں آنکھیں
مگر سینے کا فتنہ رک نہیں سکتا ابھرنے سے

تم ناک چڑھاتے ہو مری بات پہ اے شیخ
کھینچوں گی کسی روز میں اب کان تمہارے

بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے اک مضموں لکھا
ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا

مرا محتاج ہونا تو مری حالت سے ظاہر ہے
مگر ہاں دیکھنا ہے آپ کا حاجت روا ہونا

میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔ
ناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ

کچھ نہیں کار فلک حادثہ پاشی کے سوا
فلسفہ کچھ نہیں الفاظ تراشی کے سوا

موت آئی عشق میں تو ہمیں نیند آ گئی
نکلی بدن سے جان تو کانٹا نکل گیا

سب ہو چکے ہیں اس بت کافر ادا کے ساتھ
رہ جائیں گے رسول ہی بس اب خدا کے ساتھ

خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہے
موت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہے

شیخ جی گھر سے نہ نکلے اور مجھ سے کہہ دیا
آپ بی اے پاس ہیں اور بندہ بی بی پاس ہے

کیا پوچھتے ہو اکبرؔ شوریدہ سر کا حال
خفیہ پولس سے پوچھ رہا ہے کمر کا حال

مجھ کو تو دیکھ لینے سے مطلب ہے ناصحا
بد خو اگر ہے یار تو ہو خوب رو تو ہے

کمر یار ہے باریکی ث غائب ہر چند
مگر اتنا تو کہوں گا کہ وہ معدوم نہیں

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے
بلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے

رہ و رسم محبت ان حسینوں سے میں کیا رکھوں
جہاں تک دیکھتا ہوں نفع ان کا ہے ضرر اپنا

نگاہیں کاملوں پر پڑ ہی جاتی ہیں زمانے کی
کہیں چھپتا ہے اکبرؔ پھول پتوں میں نہاں ہو کر

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

مسجد کا ہے خیال نہ پروائے چرچ ہے
جو کچھ ہے اب تو کالج و ٹیچر میں خرچ ہے

جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئی
وقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے

کعبے سے جو بت نکلے بھی تو کیا کعبہ ہی گیا جو دل سے نکل
افسوس کہ بت بھی ہم سے چھٹے قبضے سے خدا کا گھر بھی گیا

غم خانۂ جہاں میں وقعت ہی کیا ہماری
اک ناشنیدہ اف ہیں اک آہ بے اثر ہیں

ہر چند بگولہ مضطر ہے اک جوش تو اس کے اندر ہے
اک وجد تو ہے اک رقص تو ہے بے چین سہی برباد سہی

نظر ان کی رہی کالج کے بس علمی فوائد پر
گرا کے چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر

عزت کا ہے نہ اوج نہ نیکی کی موج ہے
حملہ ہے اپنی قوم پہ لفظوں کی فوج ہے

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے
کر دیا کعبے کو گم اور کلیسا نہ ملا

دلا دے ہم کو بھی صاحب سے لوئلٹی کا پروانہ
قیامت تک رہے سید ترے آنر کا افسانہ

پردے کا مخالف جو سنا بول اٹھیں بیگم
اللہ کی مار اس پہ علی گڑھ کے حوالے

Previous articleڈاکٹر ابرار احمد اجراوی وفا راشدی ایوراڈ سے سرفراز
Next articleاعظم خان کی رام پور جوہر یونیورسٹی پر اب یوپی حکومت کا قبضہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here