ٹونٹی دار لوٹا

0
396

ٹونٹی دار لوٹا
ٹونٹی دار لوٹے کی سب سے بڑی خوبی یا خامی یہ ہے کہ یہ اہلِ عرب کی ایجاد ہے۔ ٹونٹی دار لوٹا چوں کہ اپنی ابتدا سے لے کر دور ِحاضر تک ٹونٹی دار لوٹا ہی ہے اورلوٹا خواہ مٹی کا ہو یا المونیم کا ، پیتل کا ہو یا تابنے کا، چاندی کا ہو یا سونے کا، یا پلاسٹک کا ، ٹونٹی دار لوٹا ہی رہتا ہے، اس لیے اس کی ایجاد کا سہرا کسی یوروپین یا امریکن ، عیسائی یا یہودی اور کسی بھارتی راجا یارشی منی کے سر نہیں بندھا۔ ٹونٹی دار لوٹا اگر ہوائی جہاز یا بادنما ہوتا تو یقینا اس کے موجد کے بطور کسی امریکن ، یوروپین عیسائی یا یہودی کا نام جلی حروف میں درج ہوتا، ٹونٹی دار لوٹا اگر تاج محل ہوتا تو پھر اس کا معمار کوئی بھارتی راجا یا رشی منی گردانا جاتا۔
ٹونٹی دار لوٹے کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ موہن جوداڑو یا ہڑپہ کی کھدائی میں دستیاب نہیں ہوا اور نہ مصر کے کسی شاہ کے اہرام میں موجود پایاگیا۔ یونان کے پرانے کھنڈرات میں بھی اس کا سراغ نہیں ملا۔ ورنہ آریائوں، فرعونوں اور یونانیوں سے رشتہ جوڑ کر جدید تاریخ داں اس کی عربیت کا تیا پانچہ اسی طرح کردیتے جس طرح یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کا ہورہا ہے۔
ٹونٹی دارلوٹے کی ایجاد کب ہوئی یہ بتانا مشکل ہے۔ تاریخ دانوں کے چاہیے کہ وہ اس کی ابتدا کے متعلق سراغ لگائیں یا پھر کوئی جیالا اسکالر آگے بڑھے اورٹونٹی دار لوٹے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنائے۔ ملک کی بڑی سے بڑی یونیور سٹی اس کے اس بیش قیمت کارنامے پر ڈاکٹر یٹ کی ڈگری سونے کی طشتری میں رکھ کر پیش کرنے میں فخر محسوس کر ے گی اور اس کا یہ کارنامہ تاریخ کے صفحات پر سنہرے حرفوں میں جگمگاتا رہے گا۔
ٹونٹی دارلوٹا امیر سے لے کر غریب تک، آقا سے لے کر غلام تک اور بادشاہ سے لے کر رعایا تک کے دکھ سکھ کاساتھی تھا اور آج بھی ہے۔ رفیق رقیب بن جاتے ہیں، گوشت سے ناخن جدا ہوجاتا ہے، سایہ ساتھ چھوڑ دیتاہے لیکن ٹونٹی دار لوٹا ہر حال میں رفاقت کا حق ادا کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ شیر شاہ سے شکست کھانے کے بعد جب ہمایوں دربدر بھٹک رہا تھا ، اپنے منہ موڑ اور رشتہ توڑ بیٹھے تھے اس برے وقت میں ٹونٹی دارلوٹا ہی ہمایوں کا سچا رفیق اور حقیقی ہم سفر تھا۔ ٹونٹی دارلوٹے کے طفیل ہی اسے دوبارہ دلی کا تخت و تاج نصیب ہوا۔ شاہجہاں کے برے وقت میں جب وہ اورنگ زیب کی قید میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہا تھاتو ٹونٹی دار لوٹے نے ہی حقِ رفاقت ادا کیاتھا۔ آج کے دور میں بھی فلسطینیوں کی مثال موجود ہے ٹونٹی دارلوٹے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا ان کا حقیقی رفیق نہیں ۔
ٹونٹی دار لوٹا انسان کے پیدا ہونے سے لے کر مرنے کے وقت تک اس کا ساتھ نبھاتا ہے۔ والدین ، عزیزواقارب، دوست احباب وقت کے ساتھ ایک ایک کرکے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں لیکن ٹونٹی دارلوٹا تا حیات ساتھ نہیں چھوڑتا۔ آپ ’’رستمِ زماں ‘‘ہیں یا ’’تنکہ پہلوان‘‘،آقا ہیں یا غلام، شریف ہیں یا رذیل، ٹونٹی دار لوٹے کو اس سے مطلب نہیں۔ اسے تو صرف آپ کا ساتھ نبھانے سے مطلب ہے۔ سفر میں، حضر میں، خلوت میں، جلوت میں، گھر میں بازار میں غرضیکہ ہر جگہ اور ہرحال میں آپ کا سچا رفیق اور ہم سفر ٹونٹی دار لوٹا ہی ہوتا ہے۔ ٹونٹی دار لوٹے سے بڑھ کر آ پ کا کوئی دوسرا رازدار نہیں وہ آپ کے اندر اور باہر کے تمام راز وں سے واقف ہوتاہے۔
اولاد کی پرورش میں والدین کی یہ غرض شامل ہوتی ہے کہ جوان ہوکر ا ن کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ شوہر کی خدمت گزاری میں بیوی کے پیشِ نظر کچھ نہ کچھ مادّ ی فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ سرکار ہو یا عوام، امیر ہویا غریب، حبیب ہو یا رقیب سبھی اس ہاتھ دواس ہاتھ لو کے قائل ہوتے ہیں۔ سب کی محبت ،شفقت اور خدمت میں غرض شامل ہوتی ہے۔ لیکن ٹونٹی دار لوٹا اپنی خدمت کے عوض کچھ طلب نہیں کرتا اس کی رفاقت بے لوث ہوتی ہے وہ خود غرضی او رمطلب پرستی سے دور ہوتا ہے۔
ٹونٹی دار لوٹا ہمارے ماضی کا ورثہ اور عظمتِ گذشتہ کی نشانی ہے۔ ہمارے اسلاف نے ٹونٹی دار لوٹے سے اپنا رشتہ استوار رکھا تھا اس لیے عظمت اور بزرگی کا علم ا ن کے ہاتھوں میں رہا۔ زمانہ ان کے سامنے سرنگوں رہا۔ اغیار بھی ان کی قصیدہ خوانی پر مجبور رہے۔ دشت اور دریا کا کیا ذکر بحرِ ظلمات میں بھی ان کے گھوڑے دوڑتے رہے۔ ان کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ خش وخاشاک ثابت ہوئی۔ ہم نے ٹونٹی دار لوٹے کو اخلاق اورایمانداری کی طرح دورِ قدیم کی فرسودہ نشانی سمجھ کر خودسے الگ کردیا۔ ہم یہ بھول گئے کہ ہر پرانی چیز فرسودہ نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنی راہ بھٹک گئے۔ ہمارے حال اور ماضی کاسفر سخت دشوار گزار بن گیا۔ آپ بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہیںکہ حال اور مستقبل کا سفر خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لیے ماضی کی رہنمائی کتنی اہم ہوتی ہے۔ ٹونٹی دارلوٹے کے توسط سے ہم اپنے ماضی سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی ٹونٹی دار لوٹے سے رشتہ جوڑ لیں تو ہمارے حال اور مستقبل کی راہ روشن ہوجائے گی۔ ٹونٹی دار لوٹا وہ زینہ ہے جس سے ہم ایک بار پھر بلندی کی چوٹی عبور کرسکتے ہیں۔
ٹونٹی دار لوٹے نے تاریخ کا رخ موڑنے کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے۔اس کے طفیل ایک نئی تہذیب اور تمدن کا جنم ہوا ہے لیکن ٹونٹی دار لوٹے کی یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ اسے کبھی قابلِ توجہ نہیں سمجھا گیا۔کسی بادشاہ نے اپنے ہم منصب کو تحفہ میں ٹونٹی دار لوٹا پیش نہیں کیا۔ اس کی کبھی نمایش نہیں لگا ئی گئی۔ صراحی کو دیکھیے صرف گرمی کے موسم میں ساتھ دیتی ہے لیکن صراحی کی و ہ وہ قصیدہ خوانی ہے کہ خدا کی پناہ۔ صراحی دار گردن حسن کا شاہ کار سمجھی جاتی ہے لیکن بیچارہ ٹونٹی دار لوٹا! کسی شاعر کو تو فیق نہیں ہوئی کہ اس کی تعریف میں پوری نظم نہیں تو ایک دو اشعار ہی قلم بند کردے۔ کسی ادیب کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس کی مدح میں مکمل کتاب نہیں تو ایک مختصر مضمون ہی لکھ دے۔ غیر تو غیر حضرتِ شیخ بھی اپنی تقریر میں اس کا نام کفر سمجھتے ہیںحالانکہ ان کے ہر جملے میں جام و سبو کا ذکر ہوتا ہے۔
زمانہ لاکھ ٹونٹی دار لو ٹے کی اہمیت کو نظر انداز کرے لیکن ٹونٹی دار لوٹا، ٹونٹی دار لوٹا ہی رہے گا’’بیگن ‘‘نہیں بن جائے گا۔ حالانکہ بیگن کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ آپ نے بیگن کے تعلق سے اکبرو بیربل کا و ہ سوال جواب تو تاریخ کی کتابوں میں تو ضرور پڑھا ہوگا اور ہاں بیگن کے ذکر پر یاد آیا ہمارے ایک واقف قلمکار بیگن کی خوش قسمتی (گرچہ اسے وہ اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں)کے طفیل ادبی دنیا میں سرخرو ہونے کے ساتھ پچاس ہزار روپے اور طلائی تمغہ حاصل کرچکے ہیں۔ واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ سرکار کے محکمہ زراعت نے ’’بیگن کی کاشت‘‘موضوع پر بہترین تصنیف پیش کرنے والے قلمکار کو پچاس ہزار روپے اور طلائی تمغہ دینے کا اعلان کیا۔ موصوف نے کبھی ’’تھالی کا بیگن‘‘ نام کی کوئی کتاب لکھی تھی جس میں اپنے ایک دوست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے وصف کا خاکہ اڑایا تھا۔ انھوں نے مذاق ہی مذاق میں اس انعامی مقابلے میں اپنی یہ تصنیف پیش کردی۔ انعامی کمیٹی کے ارباب حل وعقد ’’تھالی‘‘کے بیگن کی امتیازی خصوصیت سے اس قدر متأثر ہوئے کہ موصوف کو انعام کا حق دار قرار دے دیا۔
جس گھر میں ٹونٹی دار لوٹا نہیں ہوتا، وہ گھر ، گھر نہ ہو کر بھوتوں کا مسکن ہوتاہے۔ ٹونٹی دار لوٹے کو نظر انداز کرنا اپنی تہذیب وتمدن کو نظر انداز کرنا ہے۔ اسے اپنے گھر میں جگہ نہ دینا اپنی ملی شناخت اور اپنی تہذیب سے منہ موڑنا ہے۔ غریب سے غریب آدمی بھی اپنی لختِ جگر کو خواہ کچھ بھی نہ دے لیکن بہترین ٹونٹی دار لوٹا ضرور دیتاہے کیو نکہ ہرشخص کو یہ احساس ہے کہ ٹونٹی دار لوٹے کے بغیر زندگی کا سفر ایسا ہی ہے جیسے بغیر پتوار کے کشتی کاسفر۔
ٹونٹی دار لوٹے کو دیکھتے ہی ہمارے تصور میں ایک نہایت ہی وضع دار با کردار، صاحبِ ایمان، پابند صوم و صلوۃ اور فرشتہ صفت بزرگ کی نورانی شبیہ ابھر آتی ہے اور ہمارا سر عقیدت سے جھک جاتا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں میں نمازیوں اور عقیدت مندوں کی صف کے پیچھے ٹونٹی دار لوٹوں کی بھی ایک صف ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔
سفر میں رفیقِ سفر کے انتخاب کا مسئلہ نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔ کسی کے چہرے پر اس کی شرافت یا رذالت تحریر نہیں ہوتی۔ عموماً معصوم چہروں کے پیچھے نہایت ہی بھیانک چہرہ چھپا ہوتاہے۔ کبھی صورت حال اس کے برعکس بھی ہوتی ہے۔ نادانستگی میں یا اپنی فطری شرافت کے طفیل ہم اکثر غلط رفیقِ سفر کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں جس کے سبب مختلف پریشانیوں اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم محتاط ہوکر ’’صاحبِ ٹونٹی دار لوٹے‘‘کا بطورِ رفیقِ سفر انتخاب کریں تو پریشانیوں اور نقصانات کے بجاے ہم فائدے میں رہیں گے کیو نکہ ٹونٹی دارلوٹا اہلِ ایمان کا سمبل اور صاحبِ کردار کا نشان ہے۔
ٹونٹی دار لوٹے کے مخالفین کا سب سے بڑا اعتراـض یہ ہے کہ یہ اہلِ عرب کی ایجاد ہے اور اس دور کی ایجاد ہے جب عرب میں پانی کی قلت ہوا کرتی تھی اس کی ایجاد کا مقصد یہ تھا کہ ٹونٹی کے طفیل غیر ضروری پانی ضائع نہ ہو۔ اب جب کہ پانی کی قلت نہیں تو ٹونٹی دار لوٹے کو سینے سے لگا ئے رکھنا کہاں کی اور کیسی عقلمندی ہے۔ عرب میں تو اسے گوارا کیا جاسکتاہے لیکن ہندستان جیسے ملک میں اس بے ہنگم پیمانہ کو استعمال کرنا اپنے کو بیوقوف ثابت کرنا ہے ،لیکن یہ اعتراض براے اعتراض ہے۔ اگر کوئی ان اعتراض کرنے والوں سے پوچھے کہ اس گولی بندوق کے زمانے میں ’’ترشول‘‘کی کیا ضرورت ہے تو ان کا کیا جواب ہوگا؟
ٹونٹی دار لوٹے میں اس کی سب سے اہم چیز’’ٹونٹی‘‘ ہوتی ہے اگر اس کی ٹونٹی الگ کردی جائے تو صرف لوٹا رہ جائے گا۔ لوٹے کو بعض لوگ ہندوتہذیب کی علامت اور ٹونٹی دار لوٹے کو مسلم تہذیب کی علا مت کہتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست آرجے تیواری کا خیال ہے کہ ہندئوں اور مسلمانوں کے درمیان ٹونٹی دار لوٹے کی ٹونٹی پھنسی ہوئی ہے جس دن درمیان سے یہ ’’ٹونٹی‘‘ نکل جا ئے گی دونوں شیروشکر ہو جائیںگے لیکن مجھے اس پر اعتراض ہے اور اعتراض کی معقول وجہ بھی ہے۔ ایک دن ایک شریف آدمی نے درمیانی صنف کے ایک فرد کو مذاقاً بغیر ٹونٹی کا لوٹا کہہ دیا تھا اس مذاق پر درمیانی صنف کے فردنے وہ واہی تباہی مچائی کہ شریف آدمی کی شرافت خطرے میں پڑگئی اگر لوگوں نے معاملے کو رفع دفع نہ کردیا ہوتا تو بیچارے شریف آدمی کی شرافت کی دھجیاں سرِراہ بکھر جاتیں۔
مجھے خوف ہے کہ اگر ٹونٹی دار لوٹے سے ٹونٹی الگ ہوگی تو ہماری تہذیب بھی بغیر ٹونٹی کا لوٹا بن جائے گی اور یہ ہماری تہذیب کا بہت بڑا المیہ ہوگا۔
جدید تہذیب نے پانی کے بہت سے پیمانے ایجاد کیے ہیں لیکن ٹونٹی دار لوٹے کا بدل پیدا نہیں کر سکی ہے اس لیے ٹونٹی دارلوٹے کی اہمیت اپنی جگہ بر قرار ہے اور بر قرار رہے گی۔

Previous articleبلاغ 18ڈاٹ کام ایک نظر میں
Next articleادائے خلیل کی اتباعِ ایمانی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here