انشائیہ ”موڈ” از : جہانگیر انس (سیوان)

0
35

ہوایوں کہ میں اور میرا ہم پیشہ دوست مختصر وقفے سے اپنے سینیئرکے پاس ٹرانسفر کی درخواست لے کر حاـضر ہوئے۔ سینیر نے مجھے لال جھنڈی دکھاکر میرے بڑھتے ہو ئے قدم میں بریک لگا دیا اور میر ے دوست کو سبز جھنڈی دکھا کر ان کی لائن کلیر کردی۔ میری درخواست پر گھمنڈ میں چور’’No‘‘کھڑا میرا مذاق اڑا رہا تھا ۔ غیظ و غـضب سے اس کا چہرہ لا ل ہو گیا تھا اور میر ے دوست کی درخواست پر سبز پو شاک زیب تن کیے’’Yes‘‘عجزو انکسار کی تصویر نظر آرہا تھا۔سینیر کے ذاتی معاون سے جب میں نے اس کے اس متضاد فیصلے کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا موڈ، موڈ کی بات ہے جب میری درخواست سینیر کے پاس پیش ہوئی تو اس کا موڈ ’’آف‘‘تھااور میرے دوست کی پیش ہوئی تو اس کا موڈ ’’آن‘‘تھا…یعنی معاملات کا فیصلہ اب اس کی نوعیت کے بجائے متعلقہ فرد کے موڈ کا مرہونِ منت ہے۔ ’’آن‘‘موڈ لیکھ کو لاکھ کرسکتا ہے اور آف موڈ لاکھ کو لیکھ کر سکتاہے۔چچا غالبؔ نے کیا خوب کہاہے ع

ایک ہنگامہ پہ مو قوف ہے گھر کی رونق

لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب سنا تھا صنم کو کمر ہی نہیں تھی اور پسینہ گلاب تھا۔ چچا غالبؔ کے دور کی شہنشاہیت اور جمہوریت میں وہی فرق ہے جو، بیل گاڑی اور جمبوجیٹ میں۔ آج شہنشاہیت دیوانے کا خواب بن گئی ہے اور بیل گاڑی مشینوں کے کثیف دھویں میں گم ہوچکی ہے۔ جدید کلچر اور سائنس کی روزافزوں ترقی نے روایت کے زیر کو زبر کر دیا ہے۔ ایک اور ایک گیارہ کا حساب عام ہے۔ شب کی آمد غروبِ آفتاب اور طلوعِ ماہتاب کے بجائے کھڑکی کے پردے کی مر ہونِ منت ہو گئی ہے۔ مرغ کی چونچ سورج کی آرام گاہ ہے۔ مہمان نوازی اور اخلاق و آداب کا سمبل چاے کی پیالی ہے، حسن میک اپ کا مر ہونِ منت ہے اور افزایش نسل ٹیسٹ ٹیوب کی محتاج، انسان کا کا م کمپیوٹر نے سنبھال لیا ہے…اب گھر کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی بھی رونق ہنگامے کے بجائے انسان کے موڈ پر موقوف ہے۔ انسان کا موڈ دورِحال کا وہ مر کزی نقطہ ہے جس پر دنیا رقص کر رہی ہے۔ جنگ سے لے کر امن تک کی کنجی موڈ کی تحویل میں ہے۔ موڈ ہی وہ سوئچ ہے جس کے آن رہنے پر دنیا کا وجود منحصر ہے اگر یہ آف ہوا تو دنیا، دنیا نہ رہ کر آگ اور دھویں کا گہوارہ بن جا ئے گی۔

کہنے کو تو موڈ انگریزی زبان کا لفظ ہے لیکن ’’بدیسی گھس پیٹھوں ‘‘کی طرح چور دروازے سے مشرقی زبانوں میں داخل ہوکر اس نے وہی اہمیت حاصل کرلی ہے جو ماضی قریب میں بھارت میں انگریز وں کو حاصل تھی، جو اندھوں میں کانے کو یا شرفامیں نو دولتیے کو حاصل ہوتی ہے۔ اب مشرق کا شبنمی مزاج شبنمی نہ رہ کر مغرب کے آتشیں موڈ میں بدل گیا ہے۔

مشرق و مغرب کا یہ قدرِمشترک بن گیا ہے ع
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز

مزاج اور موڈ میں وہی فرق ہے جو مشرقی فکر اور مغربی فکر میں ہے،شیروانی اور کوٹ میں ہے، السلام علیکم اور گوڈ مارننگ میں ہے،بیٹھ کر آب دست کرنے اور کھڑے ہوکر آب دست کرنے میں ہے، اصل گھی اور ڈالڈا میں ہے۔ مغربی فکر، کوٹ، گڈمارننگ اور ڈالڈا کی طرح موڈ آج وہ سکۂ رائج الوقت ہے جس کی زلف گرہ گیر کا اسیر بلا تفریق راجا بھوج اور گنگواتیلی، ہر فرد بشر ہے۔ اس کا عمل دخل گانوکی چوپال سے لے کر اقوامِ متحدہ تک میں جا ری وطاری ہے۔

جس طرح عریانیت فیشن کا نیا روپ ہے اسی طرح موڈ انسانی مزاج کا ماڈرن روپ ہے جو لیڈر اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے۔ موڈ انسان کے جسم کے اندر اُگا ہوا ایک ایسا پودا ہے جس پر کبھی پھول کھلتے ہیں تو کبھی کانٹے۔ اگر جسم کا موسم اعتدال پر ہے، خوش مزاجی کی ہوا اور اخلاق و آداب کی روشنی میسر ہے تو اس میں گلاب کے پھول کھلتے ہیں۔ گلاب سچائی، محبت اور امن کی علامت ہے جس کی خوشبو فضا کو معطر کر دیتی ہے، اس کی ڈالیوں پر کوئل کوکتی ہے، پپیہا’’پی کا نغمہ‘‘سناتا ہے، بلبل چہچہاتی ہے، بھونراگنگناتا ہے اوراگر جسم کاموسم برہم ہے تو یہ پودا کانٹے دار جھاڑی بن جاتا ہے جو دامن کو تارتار کردیتا ہے جس کے چھونے سے انگلیاں لہو لہان ہوجاتی ہیں، پیر زخمی ہو جاتے ہیں، جس کے نیچے کیڑے مکوڑے بسیرا کرتے ہیں۔

موڈ کی کرشمہ سازی انسان کے سماجی قامت پر منحصر کرتی ہے۔ کسی عام آدمی کا موڈ آف ہوتا ہے تو اس کا اثرخاندان تک ہی محدود رہتاہے۔ افسرکا موڈ آف ہوتاہے تو اس کے اثر کی زد میں ماتحت کے علاوہ متعلق افراد بھی آجاتے ہیں۔ گھر کی مالکن کا موڈ آف ہوتا ہے تو گھر کے مالک کے علاوہ بچوں اور گھر کے سامانوں کی بھی شامت آجاتی ہے اور جب کسی حکمراں کا موڈ آف ہوتاہے تو ملک کے ملک تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں اور اس کا اثر تمام دنیا پر پڑتا ہے۔
انسانی موڈ کی کرشمہ سازی وہ وہ تماشہ دکھاتی ہے کہ انسان انگشت بہ دنداں رہ جاتا ہے۔ کہتے ہیںکہ نادرشاہ کا موڈ آف ہوا تو دہلی کے گلی کوچوں میں کٹے ہوئے سروں اور تڑپتے ہوئے جسموں کا ڈھیر لگ گیا، ہٹلر کا موڈ آف ہوا تو دوسری جنگِ عظیم بر پا ہوگئی۔ صرف انسان ہی موڈکا غلام نہیں بلکہ قدرت بھی موڈ کے تابع ہے۔ جب قدرت کا موڈ اعتدال پر رہتا ہے تو زمین پر سبز چادر بچھ جاتی ہے ، چاروں طرف ہریالی ہی نظر آتی ہے، درخت پھل کے بوجھ سے جھک جاتے ہیں، کھیتوں میں روپہلی بالیاں چمکنے لگتی ہیں لوگوں کی آنکھوں میں طمانیت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ رقصاں کرتی رہتی ہے۔ دل میں ارمان مچلنے لگتے ہیں۔ محبت کے نغمے سحر کا سماںپیدا کردیتے ہیں۔ فضا میں سوندھا پن گھل جاتا ہے اور جب قدرت کا موڈ آف ہو تا ہے تو دنیا کی بساط الٹ جاتی ہے۔ علاقے کا علاقہ قہر کی آگ میں بھسم ہوجاتاہے۔ طوفان ، سیلاب اور زلزلے نظامِ زندگی کو تہہ و بالا کردیتے ہیں۔

موڈ کوئی جامد شے نہیں۔ یہ انسان کے داخلی جذبے کا ردِّعمل ہے جس کی تحریک خارجی عوامل سے ملی ہوئی ہے۔ موڈ کے بغیر انسان کی حیثیت صفر ہوجاتی ہے۔ موڈ وہ بکرا ہے جو انسان کی غلطیوں پر قربان ہو تا رہتاہے۔ انسان اپنی خوبیوں اور اچھائیوں کا سہرا اپنے سر باندھ لیتا ہے اور من جملہ لغزشوں کا سہرا موڈ کے سر باندھ کر بری الذّمّہ ہو جاتا ہے ع
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

ذہین آدمی جب کسی کا کوئی کام نہیں کرنا چاہتا یا کسی غلط کام یا سفارش سے بچنا چاہتا ہے تو موڈ کو ڈھال بنا کر آگے بڑھا دیتا ہے’’اس وقت موڈ نہیں آگے دیکھا جائے گا‘‘اور آیندہ آیندہ ہی رہتاہے۔ اس طرح اس کاہاتھ اور پیر اور دوسرے کا دل ٹوٹنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اس سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو وہ مطلق ہراساں نہیں ہوتا گرفت ہونے پر سارا الزام موڈ کے سر ڈال کر صاف بچ کر نکل جاتا ہے۔

ہر شخص کا موڈ گرچہ اس کے موڈ کے تابع ہوتا ہے لیکن ایسے ذہین لوگوں کی بھی کمی نہیںجو دوسروں کے موڈ کو اپنے حق میں بدلنے کا فن جانتے ہیں۔میرے ایک واقف کار مسٹر’’الف‘‘آج تک اپنے کسی مقصد میں خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز، ناکامیاب نہیں ہوتے۔ ان کی اس کامیابی کا راز دوسروں کے موڈ کو اپنے حق میںبدلنے کے فن میں پوشیدہ ہے ۔ ڈھائی روپے کا لڈوان کے قدموں پر رکھ کر میں نے ان سے یہ فن سیکھنا چاہا، انھوں نے اپنا منہ میرے کان کے قریب لاکر کہا:’’دوسروں کے موڈ کو آن کر نے والا جن کسی بوتل میں نہیں بلکہ ’’پرس‘‘میں بند رہتا ہے۔ ’’پرس‘‘کا چین کھول کر اس کے اندر کے جن کو باہر نکالیے، یہ جن بڑے بڑے سورما کو چت کر دیتا ہے‘‘…اپنے افسر کے موڈ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مسٹر الف کے بتائے ہوئے جن سے میں نے کام لیا اور یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کہ یہ ماڈرن جن علاء الدین کے چراغ والے جن سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ برسوں سے میرے ٹرانسفر کا لٹکا ہوا معاملہ منٹوں میں حل ہوگیا، جس طرح سر مایہ داروں کے ہاتھوں میں حکمرانوں کی باگ ڈور ہوتی ہے اسی طرح اس جن کے ذریعے اپنے تمام افسروں کو میں نے اپنی مٹھی میں بند کر لیا ہے۔(یہ بھی ملاحظہ کریں!انشائیہ “تنقیدی تجربے”)

Previous articleدرس و تدریس کی راہوں میں [حصّہ اوّل]از: صفدر امام قادری
Next articleمسجد نبوی کے خطاط کی زندگی ،ایک کہانی ایک سبق از:تحریر: توقیر بُھملہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here