انشائیہ ‘‘سوچنا ‘‘ از : جہانگیر اُنس (سیوان )

247
116

جس طرح جسمانی صحت کے لیے ورزش ضروری ہے اسی طرح دماغی صحت کے لیے سوچنا ضروری ہے، لیکن حق یہ ہے کہ اکثر لوگ صرف سوچنے کی خاطر سوچتے ہیں۔ ایک مفکر کے بقول:’’سوچنا ایک بیماری ہے جو ہر شخص کو ہوتی ہے‘‘کہتے ہیں کہ انسان اگر سوچنا چھوڑدے تو بہت سے دکھوں سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ مگر انسان، انسان ہے اپنی فطرت سے مجبور، سوچتا ہی رہتا ہے۔ گزرے ہوئے کل کے بارے میں ، آنے والے کل کے بارے میں اور سوچ سوچ کر اپنے آپ کوخراب کر لیتا ہے لیکن سوچنا نہیں چھوڑتا، شاید یہی زندگی ہے‘‘…لیکن مفکر کے اس قول سے مجھے جزوی اختلاف ہے۔ انسان اگر سوچنا چھوڑدے تو بہت سے دکھوں سے نجات پانے کے بجائے زندگی سے ہی نجات پاجائے۔ اگر کسی معجزے کے طفیل زندگی سے نجات نہ پاسکا تو زندگی کے باقی ایام کسی پاگل خانے میں گزارنے ہوں گے۔

سوچنا میرے نزدیک بیماری نہیں بلکہ دماغی صحت کی دلیل ہے۔ سوچنے کی صلاحیت ہی انسان کو حیوان سے ممتاز بناتی ہے اور اشرف المخلوقات کادرجہ عطاکرتی ہے اگر انسان سوچنا چھوڑدے تو مجسمہ بن جائے جو میوزیم، چوراہوں اور پارکوں کی شان بڑھانے کے لیے ہوتے ہیںیا پرستش کے لیے اور انسان پرستش کیے جانے کی چیز نہیں یہ حق تو خالقِ مطلق کا ہے۔انسان درندوں سے بڑا درندہ اور گدھوں سے بڑا گدھا اس لیے ہے کہ اس کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہے۔
زیادہ کھانے سے بدہضمی ہوتی ہے اور زیادہ سوچنے سے انسان مفکر، مدبریا دانشور بن جاتاہے۔ جس طرح بدہضمی ایک بیماری ہے اسی طرح مفکر، مدبر یا دانشور ہونا بھی ایک بیماری ہے لیکن یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے لیے ہر آدمی سوچتا ہے لیکن ع

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں ؎
ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازِ عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مکڑی کے جال میں پھنسا ہوا پرندہ آزادی کی طلب میں جس طرح پھڑپھڑاتا ہے اسی طرح فکر، تدبیر یا دانش مندی کے جال میں پھنسا ہوا آدمی بھی تڑپنے لگتا ہے۔

شراب اور سوچ میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ زیادہ شراب پینے سے بھی آدمی بہک جاتا ہے اور زیادہ سوچنے سے بھی بہک جاتا ہے۔ دونوں حالتوں میں آدمی بہکی بہکی باتیں کرنے لگتاہے۔ لیکن شراب نوشی کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس کی بہکی بہکی باتیں’’ مجذوب کی بڑ‘‘سے تعبیر کی جاتی ہیں اور سوچ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس کی بہکی بہکی باتیں مفکرانہ، مدبرانہ یا دانشمندانہ کہلاتی ہیں۔ اگر سچ پوچھاجائے تو شراب نوشی سے زیادہ سوچنے میں سرور ہے۔ قدم دونوںکے طفیل لڑکھڑاتے ہیںلیکن سوچ کی لڑکھڑاہٹ شراب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس میں خمار بھی زیادہ ہوتاہے۔
جو جتنا زیادہ سوچتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ خانہ خراب ہوتاہے جو نہیں سوچتا وہ اور زیادہ خانہ خراب ہوتاہے۔ شیخ چلی کوئی معمولی آدمی نہیں تھااس کے ’’بڑاپن‘‘کی یہ دلیل کیا کم ہے کہ وہ مرکر بھی رشی منیوں اوتاروں اور اولیاء کی طرح آج بھی انسان کے ذہن میں زندہ ہے لیکن اس لیے وہ خانہ خراب ہوا کہ ہمارے رہنمائوں کی طرح بہت زیادہ سوچتا تھا یعنی سبز باغ دیکھتا تھا۔ شیخ چلی اور ہمارے رہنمائوں میں فرق یہ ہے کہ و ہ سبز باغ دیکھتا تھا یہ سبز باغ دکھاتے ہیں نتیجہ دونوں کا صفر ہی بر آمد ہوتاہے لیکن صفر کی بھی یہ خوبی ہے کہ وہ کسی عدد کے پہلو میں چلا جائے تو اس کی شان میں دس گنا اضافہ کر دیتا ہے۔
سوچ ایک تیز رفتار سواری ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بھی سواری نہیں کر سکتی۔ یہ روشنی اور آواز سے بھی تیز سفر کرتی ہے۔ اس سواری پر سوار انسان آنِ واحد میں دنیا ہی نہیں بلکہ ساتوں آسمان کا سفر طے کرلیتا ہے، بلند وبالا پہاڑ، بیکراں سمندر، لق ودق صحرا، سنگلاخ گھاٹیاں اور بڑے سے بڑاجنگل اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ اس سواری پر سوار ہوکر انسان وہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں خود کو خود کی خبر نہیں ہوتی۔

سوچنا ذہنی بالیدگی کی دلیل ہے جس کا ذہن جتنا زیادہ بالیدہ ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ سوچتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کی زندگی سوچنے میں ہی ختم ہوجاتی ہے بالفاظِ دیگر ان کی زندگی کا مقصد ہی سوچنا ہوتا ہے۔ مستقبل میں رونما ہونے والے خطرات کے متعلق سوچنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ بعض لوگ ان خطرات کے سدِباب کے متعلق بھی سوچتے ہیں لیکن جتنا وہ ان خطرات کے سدِ باب کے متعلق سوچتے ہیں مستقبل میں انھیں اس سے بھی زیادہ خطرات سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ’’حال‘‘میں بھی۔ بعض لوگ اس لیے سوچتے ہیں کہ وہ سوچنا نہیں چاہتے۔
’’پہلے سوچو اس کے بعد کرو‘‘یا پہلے ’’کرواس کے بعد سوچو‘‘…جمہوریت کی طرح یہ بھی ایک نہایت ہی الجھا ہوا مسئلہ ہے۔ جمہوریت کا مسئلہ تو ’’بالواسطہ‘‘یا ’’بلا واسطہ‘‘کی تعریف کے ذریعے کچھ حد تک سلجھا یا جا سکتا ہے یا اس کی خامیوں کو چھپایا یا خوبیوں کو اجاگر کیا جاسکتاہے۔ بعض لوگوں نے’’بیوقوفوں کی حکومت‘‘یا ’’عوام کے ذریعے عوام کے لیے چلا ئی جانے والی عوامی حکومت‘‘جیسا دوٹوک فیصلہ صادر فر ماکر اس کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے لیکن ’’سوچو اورکرو‘‘یا ’’کرو اور سوچو‘‘کے متعلق دوٹوک فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔ بہت سے لوگ اس کے متعلق سوچتے ہیں، پہلے بھی لوگ سوچتے رہے ہیں اور آیندہ بھی سوچتے رہیں گے…ویسے بعض بزرگوں نے دبی زبان میں یہ کہنے کی جسارت کی ہے کہ ’’سوچو اورکرو‘‘لیکن ایسے بزرگوں کی بھی کمی نہیںجن کا قول ہے کہ عشق، آتشِ نمرود میں بے خطر کود پڑتاہے۔

جس طرح سماج کے ہاتھوں میں انسانوں کو ناپنے کے کئی پیمانے ہوتے ہیں اسی طرح سوچ کے بھی بہت سے پیمانے ہیں۔ کسی کی سوچ اپنے آپ تک محدود رہتی ہے، کوئی اہلِ خاندان کو بھی شامل کرلیتاہے، کوئی خاندان کی حد سے بڑھ کر قوم تک پہنچ جاتاہے، کوئی ملک کو بھی اپنے دامن میںسمیٹ لیتا ہے اورکسی کادامن اتنا وسیع ہوتا ہے کہ سارے جہاں کادرد اس میں سمٹ آتاہے۔ لیکن ہر ایک میں ایک قدرِ مشترک ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اس کی سوچ کی سواری منفی راہ پر سفر کرتی ہے یا مثبت راہ پر۔
سوچنے کے طفیل انسان کے بہت سے غم غلط ہوجاتے ہیں۔ جھونپڑی میں بھی محل کا مزہ آنے لگتاہے۔ بیگن کے بھر تہ کاذائقہ مرغ و ماہی میںبدل جاتا ہے، جوکی روٹی پراٹھا اور مکئی کا بھات بریانی بن جاتا ہے، کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے، چت اور پٹ دونوں کا نتیجہ سوچ کے حق میں ہی بر آمد ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سوچ کا کا روبار کرنے والے قدم قدم پر ملتے ہیں یہ اور بات ہے کہ کوئی اس کا تھوک بیوپاری ہوتا ہے اور کوئی پھٹکر بیچتا ہے ۔ اس کے دلال بھی کم نہیں۔
سوچ کی پیدایش فرصت کے بطن سے ہوتی ہے پہلے لوگوں کو کام زیادہ کرناپڑتا تھا جس کے سبب فرصت کے اوقات کم ہوتے تھے اس لیے وہ بہت کم سوچتے تھے اور امن وچین سے رہتے تھے۔ مشینوں کی ایجاد نے انسان کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ انسان کا کام ہوگیا فرصت کے اوقات بڑھ گئے اس لیے انسان اب زیادہ سوچتا ہے اور زیادہ پریشان رہتا ہے۔
ہرشخص کے سوچنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے ’’عام آدمی‘‘’’خاص آدمی‘‘کے متعلق سوچتا ہے۔ ’’خاص آدمی ‘‘’’خاص الخاص‘‘ آدمی کے متعلق سوچتا ہے۔ سر کاری ملازم کا م کم کرنے بلکہ نہ کرنے تنخواہ زیادہ سے زیادہ پانے اور تنخواہ سے زیادہ اوپری آمدنی کے متعلق سوچتا ہے، اساتذہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیوشن پڑھانے اور مہنگائی بھتہ میں اضافے کے متعلق سوچتے ہیں، طالب علم پڑھنے کے بجاے امتحان میں نقل نویسی اور پاس ہونے کے متعلق سوچتا ہے، شادی شدہ خاتون نئی نئی ساڑیوں ، میک اپ کے سامان، زیور، اپنے شوہر کے معاشقوں،اپنی بڑھتی ہوئی عمرکو چھپانے اور شوہر کی پوری آمدنی پر قابض ہونے کے متعلق سوچتی ہے، شوہر بیوی کو خوش رکھتے ہوئے غیر کی بیوی سے تعلق قائم کرنے کے متعلق سوچتا ہے، تاجر اپنے سامانوں کی قیمت بڑھانے، کوائیلٹی گھٹانے اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے متعلق سوچتا ہے، مولوی دعوتِ طعام اور مولانادعوتِ تقریرمع طعام و نذرانہ کے متعلق سوچتاہے، ادیب اورشاعر، پریم چند اور غالب بننے پدم بھوشن اور پدم شری کاخطاب حاصل کرنے ، نوبل پرائز پانے اور اکادمی کا چیئر مین بننے کے متعلق سوچتے ہیں، بہو‘ساس کو او رساس‘ بہو کو نیچا دکھانے کے متعلق سوچتی ہے، ایم ایل اے، منتری اور منتری پردھان منتری بننے کے متعلق سوچتا ہے۔

پلاو پکانا عام طور سے باورچیوں کا کام ہے لیکن ایک ایسا بھی پلاو ہے جسے ہر شخض پکاتا ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے میں کس پلاو کا ذکر کر رہاہوں’ جی ہاں‘میں خیالی پلاو کا ہی ذکر کررہاہوں ۔ یہ پلاو سوچ کی دیگ میں پکتا ہے اس کا تمام میٹریل سوچ کی فیکٹری میں تیار ہوتا ہے اور اسے سوچ کی تشتری میں کھا یا اور کھلایا جاتا ہے۔ اس پلاو کا مقابلہ دنیا کا کوئی پلاو نہیں کرسکتا اس کو کھانے کے بعد انسان مدہوش ہو جاتا ہے۔ ہوا کے دوش پر اڑنے لگتا ہے، بلبل کی طرح چہکنے لگتا ہے،کوئل کی طرح کوکنے لگتا ہے، بھونرے کی طرح گنگنانے لگتا ہے۔ وہ اتنا مست و بے خود ہوجاتا ہے کہ اپنے جامے سے باہرہوجاتا ہے۔ بعض لوگ خیالی پلاو پکا نے میں اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ شاہی باورچی بھی ان کے سامنے پانی پانی ہوجاتاہے۔
خیالی پلاو کی طرح ہوائی قلعہ بھی سوچ ہی کا مر ہونِ منت ہے ۔ اگر سچ پوچھا جائے تو ہوائی قلعہ اور سوچ میں وہی تعلق ہے جو آر ایس ایس اور فرقہ وارانہ فساد میں ہے۔ فرقہ وارانہ فساد کے بغیر آر ایس ایس کا وجود قائم نہیں رہ سکتا، سوچ کے بغیر بھی ہوائی قلعہ کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔
سوچنا انسان کی فطرت بھی ہے اور عادت بھی۔ آدمی اپنی عادت بدل سکتا ہے لیکن اپنی فطرت سے باز نہیں آسکتا، جس طرح آج کا نیتا اپنی پارٹی بدل سکتا ہے لیکن اپنے مفاد کو قربان نہیں کرسکتا۔ سوچنے کی فطرت کو بدلنے کو ’’خیالی پلاو‘‘اور ہوائی قلعہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا… اس لیے آپ بھی سوچیے میں بھی سوچتا ہوں کیوں کہ سوچنا ہی زندگی ہے۔

Previous articleمغربی بنگال کا معاصر ادبی منظرنامہ (پہلی قسط) از: حقانی القاسمی
Next articleامیر چند بَہار از: ڈاکٹر سیدشاہداقبال(گیا)

247 COMMENTS

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here