امیر شریعت کے عملی اقدامات شروع!

0
211

پٹنہ11اکتوبر۔ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے آج نائب امیر شریعت اور قائم مقام ناظم امارت شرعیہ کے ہمراہ امارت شرعیہ میں مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران وکارکنان سے تعارفی ملاقات کی اور الگ الگ شعبوں میں ہونے والے کاموں کا جائزہ لیا۔ دارالقضاء امارت شرعیہ کے ذمہ داران سے ملاقات پر قاضی انظار عالم قاسمی صاحب نے دارالقضاء کے تمام نائب اور معاون قضاۃ کا تعارف کرایا۔ حضرت امیر شریعت نے اِس موقع سے یہ معلوم کیا کہ ایسے کون سے امور ہیں جن کی ضرورت آپ دارالقضاء میں آپ محسوس کرتے ہیں؟ جس کے ذریعہ دارلقضاء کے نظام کو اور بہتر بنایا جاسکے۔ قاضی انظار عالم صاحب نے فرمایا کہ چالیس پچاس سال یا اس سے پرانی جو فائلیں ہیں اُن کی اسکیننگ کا کام اور بہتر بنایا جاسکے۔ حضرت نے فرمایا کہ اسکیننگ کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ اِن فائلوں کو آن لائن کلاؤڈ پر محفوظ کیا جاسکے۔

مولانا سہیل اختر قاسمی نے کہا کہ اِس سلسلہ میں امیر شریعت سابع علیہ الرحمہ نے خدا بخش لائبریری کے ذمہ داروں سے بھی رابطہ کا حکم دیا تھا جس پر پہلے بھی کچھ کام ہوا تھا اور مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ سالانہ کتنے فیصلے ہم لوگ کرتے ہیں، قاضی صاحب نے فرمایا کہ ۳ سے چار ہزار کے قریب سالانہ فیصلے ہوتے ہیں، اِس پر حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ دارالقضاء کے نظام کے تحت تقریباً ڈھائی کروڑ مسلمان آباد ہیں، اُن کے درمیان ہم دارالقضا کی اہمیت کو اگر بہتر طریقے سے پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یقینا ہم اس تعداد کو پہلے مرحلے میں دوگنا ضرور کرسکتے ہیں ۔

حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ اگر ہم نے اپنے معاملات کو آسان نہیں بنایا تو مستقبل قریب میں خطرہ ہے کہ حکومت کے ذریعہ معاملات کو اتنا آسان کردیا جائے گا کہ لوگ دارالقضا کے بجائے دیگر جگہوں میں جاکر اپنے معاملات کا تصفیہ کرانے میں بہتری محسوس کریں گے، جس سے دارالقضا اور امارت کے وجود کو خطرہ پہنچے کا امکان ہے۔

لہٰذا ہمیں لوگوں کو دارالقضا سے مضبوط طریقے سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اِس کا نظام بہتر سے بہتر بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اِسے پہنچایا جائے۔

Previous articleجائیں تو کدھر جائیں ہر اور اندھیرا ہے از: ڈاکٹر کہکشاں عرفان الہ آباد
Next articleجلتے چراغ میں اپنے حصے کا تیل ڈالتے رہئے!از: عین الحق امینی قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here