امیرشریعت کے انتخاب کے لیے ٨/اگست کی تاریخ ملتوی نائب امیرشریعت کے اِس اقدام کی ہرطرف تعریف!

0
75

(محمدانس عبادصدیقی)١٩/جولاٸی کوامارت شرعیہ سے انتخاب کی تاریخ اورطریقہ کے سلسلہ میں لیٹرجاری کیاگیاتھا۔جس میں ایک سواکیاون ارباب حل وعقدکے دستخط کے ساتھ امیدواری ظاہرکرنے کی شرط بیان کی گٸی تھی۔جس کولے کرپورے ملک کے انصاف پسندعلما ٕ نے آوازاٹھاٸی کہ یہ طریقہ عہدہ طلب کرنے کے زمرہ میں آتاہے جس سے احادیث میں منع کیاگیاہے۔لہذاشرعی ادارہ میں یہ غیرشرعی طریقہ منظورنہیں۔حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی صاحب نے بھی پٹنہ کے اٸمہ ودانشوران کے سوال پریہی جواب دیاکہ یہ طریقہ خلاف شرع ہے۔آخرمیں خودامارت کے صدرمفتی حضرت مولانامفتی سہیل احمدقاسمی صاحب کے فتوی نے بھی اس طریقہ انتخاب کوغیرشرعی قراردیا۔اس کے بعدپورے ملک سے اس انتخاب کوردکرنے کے مطالبے آنے شروع ہوٸے۔لیکن اس پرامارت کے ذمہ داروں کی طرف سے کوٸی ردعمل نہیں آیا۔بلکہ ملک کے بڑے فقیہ حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی صاحب کے جواب کے خلاف امارت شرعیہ کے لیٹرپیڈپراحتجاج کرتے ہوٸے کہاگیاکہ ان کوپہلے امارت شرعیہ کے قاضی سے بات کرنی چاہٸے۔اس پریس ریلیزپربھی انصاف پسندعلما ٕ نے ناراضگی ظاہرکی اوراسے مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کی توہین قراردیا۔لیکن نہ فیصلہ بدلاگیانہ تاریخ ملتوی کی گٸی۔بالآخردستورکے مطابق ایک تہاٸی سے زیادہ اراکین شوری کی طرف سے دستخط کے ساتھ انتخاب ردکرنے کی بات کہی گٸی تب جاکرناٸب امیرشریعت صاحب نے انتخاب کی تاریخ ملتوی کرنے کافیصلہ فرمایا۔کیوں کہ دستورکے مطابق ناٸب امیرکوتین ماہ کے اندرانتخاب کااختیارتھا۔تین ماہ کے بعدیہ اختیاراراکین شوری کوجاٸے گااورایک تہاٸی سے زیادہ اراکین شوری کسی بھی فیصلہ کوبدل سکتے ہیں۔چنانچہ ایک تہاٸی سے زیادہ اراکین شوری کی طرف سے تاریخ انتخاب کے ملتوی کرنے کی بات گویاشوری کی طرف سے ہی تاریخ کوملتوی کردینے کی بات ہے۔جس کااعلان ناٸب صاحب نے کیا۔

اس اعلان پردوسرے گروہ نے کافی ناراضگی ظاہرکی اوربہت دیرتک تیار پریس رپورٹ کوروک کررکھاگیااوربالآخراسے جاری کردیاگیا۔ناٸب امیرشریعت صاحب اس حوالے سے مبارک بادکے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک گروپ کی ناراضگی کے باوجودہمت کامظاہرہ فرمایااورامارت کے لیٹرپیڈپرپریس ریلیزجاری فرمادی۔

(جدہ سعودی عرب)

Previous articleیکساں سول کوڈ دستور کے خلاف اور ناقابل عمل از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(2)
Next articleایک مذاکرہ کے بہانے (پہلی قسط) از: اشعر نجمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here