السلام علیکم کے معاملے پرخالد سیفی کا عدالت میں دوٹوک بیان

0
110

نئی دهلی، 10 /ستمبر(ایجنسی) السلام علیکم کے معاملے پردلی پولیس کےتبصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دہلی فساد سازش معاملے کے ملزم خالدسیفی نے آج کہا کہ السلام علیکم کہا اگر غیر قانونی ہے تو وہ یہ کہنا بندکردے گا۔ خالد سیفی کا تبصرہ اس وقت آیا جب
کچھ دن پہلے پولس نے کہا تھا کہ اس معاملے میں
ملزم جے این یو طالب علم سر جیل امام نے اپنے
مبینہ اشتعال انگیز تقریروں میں سے ایک کا آغاز
السلام علیکم سے کیا تھا، جو اس بات کی طرف اشارہ
ہے کہ یہ ایک خاص فرقے کو مخاطب کرنے کے
لیے کیا تھا۔ خالد سیفی نے ایڈیشنل شیشن جج
امیتا بھ راوت سے پوچھا میں ہمیشہ اپنے دوستوں
کا سلام کے ساتھ استقبال کرتا ہوں، مجھے لگتا
ہےکہ اگر یہ غیر قانونی ہے تو اسے کہنا بند کر دوں گا، یہ
کوئی قانون ہے یا فریق کا خیال ہے؟ ان کے اس سوال پر جسٹس راوت نے واضح کیا کہ یہ فریق مخالف کی دلیل ہے نہ کہ عدالت کا بیان ہے۔عدالت میں سنوائی ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے ہوئی۔

اس سوال پر جسٹس راوت نے واضح کیا کہ یہ استغاثہ کی دلیل ہے نہ کہ عدالت کا بیان، عدالت میں سماعت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوئی۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امیت پرساد نے یکم جنوری 2020 کو علی گڑھ میں شرجیل امام کی تقریر پڑھ کر سنائی اور کہاکہ انہوں نے (شرجیل امام) اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم کہہ کر کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک برادری سے خطاب تھا۔

سیفی نے کہا کہ جب بھی انہیں ضمانت ملے گی، وہ سازش کے مقدمے میں چارج شیٹ پر 20 لاکھ قیمتی کاغذات ضائع کرنے پر پولیس کے خلاف نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں مقدمہ دائر کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ سیفی سمیت کئی دیگرمشہور افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر فروری 2020 میں تشدد کاماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ اس تشدد میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

Previous articleجامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیرنگرانی دارالقضاء کا افتتاح
Next articleعلم تفسیر تاریخ و تعارف از: مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here