اقبال کا نظریۂ حسینیت از: انتخاب : ڈاکٹر خالد مبشر

0
108

جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

کربلا کلام اقبال کی ایک نمایاں تلمیح ہے،جس سے اقبال استحکامِ خودی، شجاعت ومردانگی، ایثار وقربانی، انقلاب آفرینی،حق وباطل کی معرکہ آرائی،عصری حسیت اور بہت سے مضامین خلق کرتے ہیں۔
یہاں ان کے اردو اور فارسی کلام سے چند منتخب اشعار ملاحظہ ہوں:

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین ، ابتدا ہے اسماعیل

صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکئہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
بدلتےرہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

قافلئہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

اک فقر ہے شبیری اس فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی ، سرمایئہ شبیری

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہِ دلگیری

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
حّریت را زہر اندر کام ریخت

(جب خلافت نے قرآن پاک سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے حریت کے حلق کے اندر زہر انڈیل دیا)

خاست آں سر جلوۂ خیرالامم
چوں سحاب قبلہ باراں در قدم

(یہ حالت دیکھ کر بہترین امت کا وہ بہترین جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلہ کی جانب سے بارش سے بھرپور بادل)

بر زمینِ کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت

(یہ بادل کربلا کی زمین پر برسا، اس ویرانہ میں گلہائے لالہ اگائے اور آگے بڑھ گیا)

تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد

(اس نے قیامت تک کے لئے استبداد کی جڑ کاٹ دی، اس کی موج سے ایک نیا چمن پیدا ہوا)

بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است

(سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹے، اس لئے وہ لا الہ کی بنیاد بن گئے)

مدعایش سلطنت بودے اگر
خود نکردے باچنیں ساماں سفر

(اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے)

ماسوی اللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

(مسلماں غیراللہ کا بندہ نہیں وہ کسی فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا)

خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدار کرد

(سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون نے اس راز کی تفسیر پیش کر دی اور (اپنے عمل سے) ملت خوابیدہ کو بیدار کر دیا)

رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتشِ او شعلہ ہا اندوختیم

(ہم نے قرآن پاک کے رموز سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھے ہیں، ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں)

تارِ ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیرِ او ایماں ہنوز

(ہماری زندگی کا تار ابھی تک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے زخم سے لرزاں ہے انہوں نے میدان کربلا میں جو تکبیر بلند کی تھی وہ ہمارے ایمان کو زندہ کر رہی ہے)

حدیثِ عشق دوباب است کربلا و دمشق
یکے حسین رقم کرد و دیگری زینب

موسی وفرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آمد پدید

Previous articleمحرم الحرام ویوم عاشورا کی فضیلت و اہمیت از: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
Next articleامت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال از: شمشیر عالم مظاہری ۔ دربھنگوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here