آخری سفر

0
187

صبح ہونے کو تھی، بساط شب الٹنے والی تھی، اور اپنے گاؤں کے

گھروں پر نیند کی خموشی چھائی ہوئی تھی اسی عالم میں اپنے گاؤں کی ایک مظلوم بیٹی اپنا دم توڑ رہی تھی ۔اس کے خیالات شاخ درشاخ ہوتے چلے جارہے تھے ۔اس کی آنکھوں میں کبھی زندگی کی جنگ جیت جانے کی چمک پیدا ہوتی اور کبھی زندگی ہار جانے کے خوف سے اندھیرا ۔اس نے کئی بار اپنی مٹھیوں کو بند کیا اور کھولا ۔اس نے اپنے جلتے اور جھلستے جسم کو دیکھا جس سے شعلے لہک رہے تھے ۔وہ بیٹی جل رہی تھی اور مر رہی تھی ۔اس نے ایک نظر اپنے سے دور ہوتے بچوں پر ڈالا اور خیالوں میں ڈوب گئی ۔ وہ ایک ایسے سفر پر جارہی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے۔وہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور اپنے معصوم معصوم بچوں کو “الوداع “کہنے والی ہے ۔اپنے بچوں پر نظر پڑتے ہی وہ بے قرار ہوگئی ۔اس کی مامتا جاگ اٹھی ۔ارمان مچلنے لگے اور وہ سوچنے لگی کہ ان معصوموں کی خاطر ہی اس نے کیا کیا ظلم نہ سہے، کتنی بار مری اور مرکر پھر جی گئی، کتنی کتنی اور کیسی کیسی پریشانیاں نہ جھیلی ۔اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے ۔اس نے سوچا اب صبح ہوتے ہی میرے مرنے کے چرچے ہر زبان پر ہونگے، گلی گلی میں اس کا شہرہ ہوگا ۔ مگر میرے مرنے کے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا۔آج کے بعد وہ کس کو ماں ماں کہ کر پکا ریں گے، ان کی ضد کون پوری کریگا، ان کی خبر گیری کون کریگا، کون انکو تسلیاں دیگا، لوریاں کون سناکر سلائے گا، ماں کی مامتا بے قرار ہوگئی وہ اپنے جلتے ہوئے جسم کے ساتھ بھی اپنے بچوں کو اپنی گود میں بٹھا لینے کو بے چین ہوگئی، ان کو چومنے اور بوسہ دینے کے لئے ترسنے اور مچلنے لگی کہ شاید آخری بار ان کو اپنے سے لگا کر اپنی زندگی کا سارا پیار ان پر نچھاور کردے ۔مگر اپنی حالت دیکھ کر اس بیچاری ماں کے کلیجہ میں دھکا لگا ۔کاش مرنے سے پہلے وہ ایسا کرسکتی ۔مگر قسمت کے نوشتہ کو بدلنا انسان کے بس کی بات نہیں ۔ یہ سب سوچتے سوچتے ہی اس کی حالت بگڑنی شروع ہوئی ۔اپنے لخت جگر بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا، آخری بار ان سے کچھ کہنا چاہا، مگر شدت نزع نے زبان اور ہاتھ کو سن کردیا۔دو چار آہیں بھری اور دم توڑ دیا ۔اور بچے بن ماں کے رہ گئے ۔

Previous articleمدرّس،تدریس اور تحقیق
Next articleنوجوانوں میں قرآن مجید سے کیسے دل چسپی پیدا کی جائے؟

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here