افسانہ ’’چھڑی ‘‘ از : ڈاکٹر اختر آزاد

0
158

ابھی ابھی پوسٹ مین پرنسپل چیمبر سے باہر نکلا تھا۔
تھوڑی دیر بعد بریک ہو گئی ۔ سارے ٹیچر اسٹاف روم میں جمع ہو گئے ۔ سب کو چائے کا انتظار تھاکہ تبھی چپراسی اندر آیا اور بولا ۔’’پرنسپل سر نے کہا ہے کہ آج آپ سب چائے اُن کے ساتھ چیمبر میں پیئیں ۔ شاید کوئی میٹنگ ویٹنگ ہو ۔‘‘
سارا اسٹاف جب کرسیوں پربیٹھ گیا اور چائے کی چُسکیاں لینے لگا تب پرنسپل صاحب نے آنکھوں سے گولڈن فریم کے چشمے کو الگ کیا ۔ ایک دو بار ہاتھوں سے اُسے گھمایا۔پھرسامنے رکھے ہوئے اُس لیٹر کو جس کے لئے آناََ فاناََ میں یہ میٹنگ بلائی گئی تھی ، اُسے سینئر موسٹ ٹیچر ،پی جی ٹی فزکس ،کے کے یادوکی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا دیا ۔

’’ایجوکیشن منسٹر کی طرف سے یہ لیٹر آیا ہے ۔اِسے اچھّی طرح پہلے آپ پڑ ھ لیں اس کے بعد سب سے سائن کر وا لیں ۔‘‘
کچھ دیر اِدھراُدھرکی باتوں کے بعدوہ دھیرے سے مسکرا ئے اورپھرکے کے یادوسے پوچھا ’’ ہاںتو آپ نے لیٹر پڑھ لیا ۔؟ ‘‘
’’ جی جی سر ‘‘
پھر ایک ساتھ دونوں کی نظریں ڈاکٹرصدّیقی ، پی جی ٹی میتھ کی طرف اُٹھ گئیں ۔ اُس وقت ڈاکٹر صدّیقی پرنسپل کی طرف دیکھ رہے تھے اور عادت کے مطابق چھڑی کو آہستہ آہستہ گھُماتے بھی جا رہے تھے ۔ اُنہیں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اُن کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ چہرے پر تیکھی مسکراہٹ کیوں ہے ؟
’’ کیا بات ہے سر ؟ ‘‘ ڈاکٹر صدّیقی نے مسکرانے کی کوشش کی ۔

اِس سے پہلے کہ پرنسپل صاحب کچھ کہتے ،سینئر موسٹ نے اپنی بات شروع کر دی ۔
’’ سر اِس سے ہم جیسے ٹیچروں کا کیا لینا دینا ؟ آپ صرف ڈاکٹر صدّیقی کو یہ لیٹر پڑھوا دیتے ۔ بس میٹنگ ہو جاتی ۔ بعد میں سبھی سائن کر لیتے ۔۔۔۔۔۔‘‘ پھر ڈاکٹر صدّیقی کو چھیڑنے کے انداز میں ’’ ڈاکٹر صاحب آپ کی چھڑی گرنے والی ہے ۔ ذرا زور سے پکڑ کر رکھئے۔ورنہ ـ ۔۔۔۔۔؟ ‘‘ کے کے یادو کے چہرے پر ایک بار پھر تیکھی مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔ وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے پرنسپل صاحب سے بولے ۔ ’’ سوری سر ہم لوگوں میں اس طرح کا مذاق چلتا رہتا ہے ۔آپ برُا نہ مانیں ۔ میٹنگ شروع کریں۔‘‘
’’پرِیہ گُروجنو !‘‘

’’ نیو ایجوکیشن سسٹم کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پرایجوکیشن منسٹر نے تمام اسکولوں کو یہ لیٹر سرکولیٹ کیا ہے کہ ہم اسکول میں کسی بھی بچّے کو کسی بھی وجہ سے کسی بھی طرح کا پنشمنٹ نہیں دے سکتے ۔ اگر دیتے ہیںتو غلط کرتے ہیں ۔ اِس غلطی کے نتیجے میں ہمیں سزا بھی ہو سکتی ہے ۔ ‘‘ تھوڑا رک کر ۔ ’’ آپ سب ہائلی کوالیفائیڈ ہیں ۔ زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس میری آپ سبھوں سے اتنی گزارش ہے کہ اس لیٹر کوٹھیک سے پڑھ لیں اور اس پر عمل کریں ۔ ‘‘
’’ سر ہم لوگ تو عمل کرتے ہی ہیں ، لیکن بے چا رے صدّیقی صاحب ،جن کا پہلا پیار چھڑی ہے ۔ کیا وہ اپنی اس جان کو خود سے الگ کر پائیں گے ؟‘‘ محمّد علی کوثر ، ٹی جی ٹی اُردو نے شگوفہ چھوڑا ۔
ٹیچروں کے ہنسنے کی ملی جلی آواز چیمبر کے کونے کونے میں پھیل گئی۔
’’دیکھئے میرا کام تھا بتانا اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرے تو میں تو یہی سمجھوں گا کہ اُنہیں اپنی نوکری سے پیار نہیں ہے ۔‘‘
پرنسپل صاحب کے طنز بھرے جملے ڈاکٹر صدّیقی کے کانوں سے جیسے ہی ٹکرائے ، اُن کی آنکھوں کے سامنے بیمار بیوی اور دو جوان بیٹیوں کا خوبصورت چہرہ گھوم گیا ۔ وہ اندر ہی اند ر تھرّا کر رہ گئے ۔ چھڑی اُن کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ۔
’’ ڈاکٹر صاحب گری ہوئی چیز نہیں اُٹھاتے ‘‘ ایک نے کہا ۔

’’ ارے بھئی اُٹھانے دو ۔ کتنوں کا بھلا کیا ہے اِس چھڑی نے ‘‘ دوسر ے نے اپنے بغل والے کو کہنی ماری تو اُس نے بھی اِس موقعے کو اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیا ۔
’’ڈاکٹر صدیقی کی جگہ اگر ان کی یہ چھڑی کلاس میں پہنچ جائے تو بھی بچّے میتھ میں پاس ہو جائیں گے ۔‘‘
اتنے طنز بھرے تیروں کے بعد بھی جب ڈاکٹر صدّیقی کے ہاتھ زخمی نہیں ہوئے۔ اُنہوں نے جھُک کر چھڑی اُٹھا لی تو پرنسپل صاحب سے رہا نہیں گیا ۔

’’ ڈاکٹر صدّیقی ! زمانہ بدل گیا ہے ۔ شِکچھا کا اَستر بدل گیا ہے ۔ ہم چاہ کر بھی کسی کو پڑھا نہیں سکتے ۔جسے پڑھنا ہو گا وہ خود پڑھے گا۔ اور جس نے لاٹھی کے زور پر چھاتروں کوپڑھانے کی کوشش کی ، تو سمجھئے کہ اُس کے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے ۔ڈر چھڑی میں نہیں ، شکچھک کی آنکھوں میں ہونا چاہئے ایسے ہم سب جانتے ہیں کہ آپ ایک بہترین ٹیچر ہیں ۔ آپ سے پہلے اِس اسکول میںمیتھ کی حالت بہت اچھّی نہیں تھی ۔ آج آپ نے بچّوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ۔ آپ کے اندر میتھ کو لے کر جو دیوانگی ہے ، جو پاگل پن ہے، اس کا اعتراف تواِسٹوڈنٹس اورپیرینٹس بھی کرتے ہیں لیکن یہ سب اس وقت تک ہے جب تک سب ٹھیک ہے ۔ جس دن کوئی انہونی ہو گئی اس دن سب کچھ دھرا کا دھرا رہ جائے گا ۔ کیا ہوا تھا : نرسری میں پڑھانے والی اُس لیڈی ٹیچر کا ـ۔۔۔۔۔؟اس نے بس اتنا ہی تو کیا تھا کہ اے بی سی ڈی یاد نہیں کرنے والی لڑکی کو کلاس کے باہر برآمدے میں کان پکڑ کر کھڑا کروادیا تھا ۔ دھوپ بہانہ بنی اور وہ لڑکی مر گئی اس وقت نہ کسی ٹیچر نے اس کا ساتھ دیا ۔ نہ ہی منجمنٹ نے ۔ میڈیا نے تو اس معاملے کو ایسا اُچھالا کہ وہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھی ۔ بہترین ٹیچر تھی ۔ لیکن آ ج جیل میں ہے ‘‘چشمہ صاف کرتے ہوئے ایک نظر اُنہوں نے تمام ٹیچرس پر ڈالی ۔ پھر آگے کہا پِریہساتھیو! میں نہیں چاہوں گا کہ آپ میں سے کوئی جیل جائے اور اسکول بدنام ہو ۔‘‘
ڈاکٹر صدّیقی کے دماغ کی نسیں پوری طرح سے چھڑی کے چاروں طرف اُلجھی ہوئی تھیں بریک ختم ہوئی ۔ میٹنگ ختم ہوئی ۔ لیکن بات ختم نہیں ہوئی ۔ وہ لیزر پیریڈ انجوائے کرنے والے ٹیچروں کے ساتھ پاؤں پاؤں چلتی ہوئی اِسٹاف روم تک آ گئی ۔
’’اِس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ ہوم ورک نہیں بنائے ، ڈسپلین خراب کرے ، ٹیچر کو آنکھ دکھائے ، اسٹرائیک کرے ۔تب بھی کچھ نہیں کرنا ہے ۔‘‘ ایک ٹیچر جو پہلے مذاق کے موڈ میں تھا اب سریس نظر آنے لگا تھا ۔
’’ یار اب تو گارجین اور سر چڑھ جائیں گے ۔ اُس دن آپ نے دیکھا نہیں کہ وہ گارجین ایک نمبر بڑھوانے کے لئے کیسے اُلٹے سیدھے سوال کر رہا تھا ۔ ‘‘ ایک اور ٹیچر کے منہ کا ذائقہ اِسٹاف روم تک آتے آتے بدل گیا تھا ۔
ڈاکٹر صدّیقی یوں تو خاموش بیٹھے تھے ۔ لیکن مِس گیتانجلی ، ٹی جی ٹی سائنس نے بھانپ لیا تھا کہ ان کے دماغ کی ہانڈی میں جملے اُبال ماررہے ہیں ۔ اُنہوں نے فوراََ سوال کی ایک موٹی لکڑی بھٹّی میں ڈال دی ۔

’’آپ کو کیا لگتا ہے صدّیقی سر کہ آج کے ایجوکیشنسٹ پنشمنٹ کو لے کر جو اس طرح کی وکالت کر رہے ہیں ، وہ درست ہے ۔ یا پھر اس کے پیچھے بھی کچھ نہ کچھ راز ہے ۔۔۔۔۔؟ ‘‘ وہ بولتے بولتے رُک کر ڈاکٹر صدّیقی کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہے ۔
کچھ دیر تک ڈاکٹر صدیقی اسی طرح خاموش رہتے ہیں ۔پھر کہتے ہیں۔
’’ دیکھئے میڈم !‘‘ وہ چھڑی کو دھیرے دھیرے گھمانے لگتے ہیں۔ ’’ اصل میں آج ایجوکیشن ، ایجوکیشنسٹ کے پاس نہیں ، پیسہ والوں کے ہاتھ میں ہے ۔جو آج ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گئی ہے ۔ جہاں ڈگریاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں اگردکان دار اپنے گاہک کے ساتھ اچھّے سے پیش نہیں آئے تو دکان داری چوپٹ سمجھو ۔ تعلیم کے سوداگروں نے اپنی دکان کو چمکانے کے لئے اِدھر فیل پاس کے سِسٹم کو ہی ختم کر دیا ہے ۔ پرانے زمانے میں جب مٹھ اور گُروکُل سِسٹم ہوا کرتے تھے ۔اُس وقت گُروبھگوان کے بعد سب کچھ ہوتا تھا ۔ ششیہ ایک اشارے پر انگوٹھا قربان کر دیتا تھا ۔ لیکن آج ایسی بات نہیں ہے ۔ آ پ کسی بھی گارجین سے پوچھ لیجئے کہ آپ بچّے کو کیا بنانا چاہتے ہیں ۔ وہ آئی اے ایس، سائنٹسٹ ، ڈاکٹر ، انجینئر،وکیل یہاں تک کہ کلرک بنانے کی بات کریں گے ۔ لیکن کوئی ٹیچرکی بات نہیں کرے گا ۔ یہ وقت کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ آج بھی لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ نہیں کر پاتا ہے ، وہی ریجیکٹیڈ لاٹ آخر میں ٹیچر بن جاتا ہے ۔ یہی آج کی تعلیم کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔‘‘

ڈاکٹر صدّیقی اب بھی چھڑی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور اندر ہی اندر پریشان ہو رہے تھے کہ وہ چھڑی جو برسوں سے ان کی روح میں سمائی ہوئی ہے ۔ اُسے خود سے الگ کرنا پڑے گا ایجوکیشن منسڑسے نافرمانی کا مطلب اپنے آپ کونوکری سے دست بردار کرنا تھا ۔ اچانک ان کے اندر ایک طرح کی بے چینی شروع ہوگئی ۔ اس سے پہلے کہ کچھ اور مضطرب ہوتے ۔ مذاق کا نشانہ بنتے ۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے قدموں پر تھکے جسم کو سوار کئے الماری کے پاس پہنچ گئے ۔ کچھ دیر تک وہ چپ چاپ وہیں کھڑے رہے ۔سبھی خاموشی سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔ ان کے کرب کو محسوس کر رہے تھے پھر ڈاکٹر صدّیقی نے ناتواں ہاتھوں سے الماری کھولی ۔ کاپی اور فائلوں کی بھیڑ میں چھڑی کو چھپا کر اسٹاف روم سے باہر نکلے تو ایسا لگا جیسے اُن کی ریڑھ کی ہڈّی ہی نہ ہو ۔ جیسے اس کی جگہ چھڑی رہتی ہو ۔ اس چھڑی کو تو اُنہوں نے اپنے وجود سے نکال کر الماری میں رکھ دیا تھا ۔ اِس لئے اُس وقت ان کی کمر آگے سے فطری طور پر جھکی ہوئی معلوم ہورہی تھی ۔
ڈاکٹر صدّیقی کا تعلیمی ریکارڈ بہت شاندار تھا ۔ وہ پی ایچ ڈی اور نیٹ بھی تھے ۔ لیکن اِس خوف سے کہ اگر اُنہوں نے کالج کا رُخ کیا تو چھڑی کے ساتھ ان کی جو دیرینہ رفاقت ہے اُس کا قتل ہوجائے گا ۔ دوست احباب نے بھی کئی بار سمجھانے کی کوشش کی ۔
’’صدّیقی تم اپنے ٹیلنٹ کو دھوکہ دے رہے ہو۔ بس قدم بڑھانے کی دیر ہے ۔ پھر دیکھنا یونیورسٹی کیسے تمہیں ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے ۔ ‘‘
اور وہ ہمیشہ مسکرا کر دوستوں کی باتوں کا یوں جواب دیتے
’’ میں خوبصورت عمارت نہیں ، اس کی بنیاد بننا چاہتا ہوں تاکہ اندر سے مضبوطی دے سکوں ۔ ‘‘
ڈاکٹر صدّیقی کے ساتھ چھڑی کا رشتہ بہت پرانا تھا۔ان دنوں وہ پرائمری اسکول میں ہوا کرتے تھے ۔ دائود عالم ان کے کلاس ٹیچر تھے ۔ان کی چھڑی کا خوف لڑکوں میں کچھ ایسا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ سکتے تھے ، لیکن میتھ کا ہوم ورک وہ نیند کی حالت میں بھی کرنا نہیں بھولتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب صدّیقی نے اسکول جوائن کیا تو پہلے ہی دن اور وہ بھی پہلی ہی گھنٹی میں چھڑی دانستہ ان کے ہاتھوں میں آ گئی ۔ ایک لڑکے کو چھڑی کیا ماری کہ اس کی گونج پورے اسکول میں بیک وقت سُنی گئی ۔ پھر کیا تھا :دھاک جم گئی اور چھڑی ان کے ٹیچنگ اِسٹائل کا حصّہ بن گئی ۔

وہ چھڑی کے ساتھ گرین کلر کی ڈائری بھی رکھا کرتے تھے ۔جس کے اندر گرین کلر کا پین ہوا کرتا تھا ۔ جس میں روشنائی بھی گرین کلر کی ہوا کرتی تھی وہ جسے مارتے تھے جم کر مارتے تھے ۔ اور پھر اس کا نام اس میں درج کر لیتے تھے ۔ کلیگ کے پوچھنے پر وہ فخر سے کہتے ۔
’’جس کا نام اس گرین ڈائری میں ایک بارگرین روشنائی سے اِنٹر ہو گیاتو سمجھ لیجئے کہ اسی دن سے وہ گرین پین رکھنے کا اہل ہوگیا ۔‘‘
چھڑی اور ڈائری کو وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ چھٹّی کے دنوں میں گھر لے آتے ۔ ایک ایک صفحہ کو غور سے پڑھتے ۔کس کو کتنی چھڑی مار پڑی تھی اور کس لئے ۔۔۔۔۔ یہاںتک کہ وقت ، تاریخ ، کلاس اور گھنٹی کے ساتھ ساتھ فیملی بیک گرائونڈ بھی درج ہوتا جب وہ کسی کو مارتے تو ان کے چہرے پر نہ کسی طرح کا تنائو ہوتا اور نہ ہی غصّہ دیکھنے کو ملتا ۔ بلکہ ایک طرح کا سکون ہوتا ۔ اکثر کلیگ ان کی ا ن حرکتوں سے چڑھ جاتے ۔ اُوٹ پٹانگ باتیں کرتے ۔
’’ ڈاکٹرصاحب ! صرف آپ کی وجہ سے میرے سبجیکٹ کا ریزلٹ خراب ہوا ہے چھڑی نے بچّوں کے اندرایسی دہشت پیدا کر رکھی ہے کہ بچّے سوتے جاگتے صرف میتھ کی ہی بات کرتے ہیں ۔‘‘
کلیگ کی ایسی بچکانہ باتوں پرجب بھی ڈاکٹر صدیقی کو غصّہ آتا وہ میتھ کی نئی گلوبل بھاشا میں انہیں سمجھانے کی یوں کوشش کرتے ۔
’’ دیکھو بھئی ! آج دنیاایک بازار ہے اور بازار میتھ کی بیساکھی پر چلتی ہے ۔ ایک جاہل بھی سامان کی خریدوفرخت اور روپئے پیسے کے لین دین میں ہوشیاری دکھاتا ہے ایسے میں کل ان بچّوں کو صرف اپنے ملک کا حساب کتاب نہیں کرنا ہے ، بلکہ ساری دنیا کا حساب بھی رکھنا ہے ۔اس لئے وہ میتھ میں زیادہ وقت تو دیں گے ہی ۔‘‘
اپنے تیس سالہ سروس میں وہ پندرہ سال چھڑی کے ساتھ اسکول گئے ۔ لیکن آخری کے پندرہ سالوں میں ۔۔۔۔۔حالانکہ اس دوران بھی وہ ہر روز پریئر کے بعد رجسٹر یا فائل کے بہانے الماری کے اندر ہی چھڑی کو چھولیتے تھے ۔ ڈائری پرچُھپ چُھپا کر نظر ڈال لیا کرتے تھے ۔ جب تک ایسا نہیں کرتے انہیں سکون نہیں ملتا تھا ۔
سروس کے ابتدائی پندرہ سالوں میں ان کی جادوئی چھڑی کا ہی یہ کمال تھا کہ اُن کے زیادہ تر طلباء اونچے عہدوں پر فائز ہو گئے تھے ۔ ان میں سے جب بھی کوئی اسکول آتاتو اُن سے ضرور ملتا ان کی آنکھ کا آپریشن ہوا تھا ۔ آنکھوں پر سیاہ چشمہ چڑھا تھا ۔وہ گھر پر ہی تھے ۔ ایک لڑکا جس نے اسی سال آئی اے ایس کمپیٹ کیا تھا ۔ وہ ان سے ملنے کے لئے اسکول پہنچا ۔ وہاں سے وہ گھر آیا ۔ کال بیل کی گھنٹی بجتے ہی ڈاکٹر صدّیقی دیوار کے سہارے دروازے تک پہنچے ۔
’’کون ہوبھئی ؟‘‘
’’آنے والے نے پہلے پیر چُھوا ۔ پھر کہا ۔
’’ میں میں سر پرشوتّم ‘‘
’’کون پرُشوتّم ۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ دماغ پر زور ڈالتے ہوئے ۔ ’’ارے کہیں وہ تو نہیں جس کے فادر ا یئرفورس میں تھے اور دوسروں کے بہکانے پر مجھ پر کیس کرنے جارہے تھے ۔؟‘‘
’’ جی جی ہاں ‘‘ لڑکے نے جھینپتے ہوئے کہا ۔
’’ ارے تو بولو نہ کہ میں پرشوتّم اوستھی ہوں ۔‘‘
پھر وہ دروازے کی طرف مڑگئے آؤآؤ ذرا دیکھ کر آنا ۔ ‘‘انداز سے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے ۔ ’’ دیکھو سامنے کرسی ہوگی۔ اُس پر بیٹھ جاؤ ۔ ‘‘
کرسی پر بیٹھتے ہی پرُشوتّم اوستھی نے پہلے اپنے انگوٹھے کو دیکھا ۔ پھر کہا ۔
’’ سر مجھے اب بھی وہ مار یاد ہے ۔ میرا ٹوٹا ہوا انگوٹھا اکثر آپ کی چھڑی کی یاد دلاتا ہے ۔ کتنا مارا تھا آپ نے مجھے سر۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آج سوچتا ہوں کہ اگر اس دن آپ کی مار نہیں پڑی ہوتی تو میں خواب میں بھی آئی اے ایس نہیں کرسکتا تھا ۔ ‘‘
پرُشوتّم اوستھی جیسے ہی خاموش ہوئے ۔ صدّیقی جی بولے ۔
’’ دیکھو سامنے ٹیبل پر ڈائری ہو گی ۔‘‘
’’ جی جی سر ارے یہ تو وہی ڈائری ہے جسے آپ کلاس میں لے کر آتے تھے ۔ ‘‘ پُرشوتّم اوستھی نے اس گرین کلر کی ڈائری کو پہچان لیا تھا ۔
’’ اس کے پیج نمبر۱۷۷میں دیکھو کیا لکھا ہے ۔؟ ‘‘
’’ پُرشوتّم اوستھی ‘‘
’’ اس کے آگے دیکھو برائیکیٹ میں کچھ لکھا ہوا ہوگا ۔ ؟‘‘
’’ آئی اے ایس ۔ ‘‘
ڈاکٹر صدّیقی کے ریٹائر منٹ کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا ، ویسے ویسے ان کے دل کی دھڑکنیں بڑھتی ہی جا رہی تھیں ۔ انہوں نے شروعات کے پندرہ سالوں میں ۳۶۵؍صفحات والی ڈائری میں ۱۷۷ ؍ لڑکوں کے نام لکھے تھے ۔ درس وتدریس کے اس سہانے سفر میں جب چھڑی اور ڈائری ان کے شانہ بہ شانہ چل رہی تھیں تو ہر وقت ان کے چہر ے پر ایک طرح کی طمانیت ہوتی ۔ وہ جب بھی چھڑی کو دیکھتے تو ایک مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل جاتی ۔ اور جب بھی ڈ ائری کھولتے تو انہیںروح افزا ٹھنڈک پہنچتی ۔ان کا سینہ فخر سے پھولنے لگتا کہ انہوں نے ملک کو ایسے لعل وگوہر دئے ہیں جن کے ارادوں کے پنکھوں پر بیٹھ کر ایک نہ ایک دن ملک آسمان کی ساری اونچائیاں چھو لے گا لیکن ۱۷۷؍صفحے کے بعد جیسے ہی وقت ان کے خلاف ہوا ۔ ان کا قلم رک گیا ۔ قلم کے اندر کی روشنائی سوکھ گئی ۔ اب نہ تو وہ کسی کو مارتے تھے اور نہ ہی کوئی اس ڈائری کا حصّہ بنتا تھا ۔ اکثر ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ۔ وہ کل اور آج کے طالب علموںکا موازنہ کرتے ۔ گارجین کا محاسبہ کرتے ۔۔۔۔۔ ۔اور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتے کہ آخر اس دنیا کا کیا ہو گا ۔ ؟
اِبتدائی زمانے میں انہیں اسکول کے ایک ایک بچّے کا نام ،کون کہا ں رہتا ہے ؟ فیملی میں کتنے ممبر ہیں؟ والدین کیا کرتے ہیں ؟
سوشل اِسٹیٹس کیا ہے ؟انہیں سب معلوم تھا ۔ لیکن پھر ایجوکیشن سسٹم میں تبدیلی کیا آئی ۔ نصاب کیا بدلے کہ وہ طالب علموں کے نام بھولنے لگے ۔ اُنسیت میں کمی آنے لگی وہ جب بھی پرانی باتوں کو یاد کرتے اکثر ان کی آنکھیں بھیگ جایا کرتیں ۔
ریٹائرمنٹ سے ایک سال قبل نئے فزیکل ٹیچر اور سینئراِسٹوڈنٹس کے درمیان ڈِسپلین کو لے کر کچھ کہا سُنی ہوگئی تھی۔ لڑکوں نے ہنگامہ کر دیا ۔ ایک نے پیچھے سے ان کے سرپر بیٹ سے وار کیا ۔ ان کی وہیں موت ہو گئی فزیکل ٹیچر ، دلیر سنگھ کاخون سے لت پت چہرہ آج بھی اُن کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے وہ لڑکا کچھ ہی دنوں کے بعد جیل سے چھوٹ گیا تھا ۔ ایک منسٹر کی شہ پر اس لڑکے نے بعد میں اسی اسکول سے پلس ٹو کا امتحان بھی دیا ۔
اِس حادثے کے بعد تو جیسے ڈاکٹر صدّیقی پر سانپ سونگھ گیا تھا ۔ اب وہ چپ چاپ ڈرے سہمے سے کلاس روم میں اِن کرتے تھے ۔ پڑھاتے اب بھی محنت سے تھے ۔ لیکن اب وہ پہلے والی بات نہیں تھی ۔ پہلے گھنٹی لگنے کے بعد جب تک سوال حل نہیں ہو جاتا تھا وہ نکلتے نہیں تھے ۔ لیکن اب اُنہیں پہلے سے ہی گھنٹی کا انتظار رہتا ۔ اور کبھی کبھی تو پانچ دس منٹ قبل ہی و ہ بچّوں سے نظریں بچا کر کلاس روم سے نکل جایا کرتے ۔
ڈر جب سے ان کی شریانوں میں پیوست ہوا تھا ۔ وہ چاہنے لگے تھے کہ جلد سے جلد ریٹائرمنٹ کاوقت قریب آجائے تاکہ وہ اس نوبل پروفیشن سے عزّت کے ساتھ سبکدوش ہو سکیں ۔
پھر وہ دن آہی گیا
لیکن ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل پلس ٹو کے اسٹوڈنٹس نے ایک ہنگامی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ہر حال میں صدّیقی سر کا فیئرویل کرنا ہے ۔ پرنسپل صاحب نے پہلے انکار کیا۔پھر کچھ سوچ کر بولے۔ ’’سر سے بات کر لو۔اگر وہ تیّار ہو گئے تو ٹھیک ہے ۔‘‘ ڈاکٹر صدّیقی کسی بھی قیمت پر ہاں کرنے والے نہیں تھے ۔لیکن جب دو چار اِن ڈسپلین لڑکے بھی رکویسٹ کرنے لگے تو انکار کرنے کی ہمّت نہیں ہوئی ۔
پرنسپل نے فیئرویل کے سلسلے میں ایک میٹنگ بلائی۔
’’ نہیں سر ہم سب بچّوں کے ساتھ مل کر فیئر ویل نہیں کریں گے ۔ دس پندرہ سالوں میں کتنے ٹیچرس ریٹائرڈ ہوئے ۔ بچّوں کا پارٹی سیپیشن کبھی نہیں رہا ویسے پہلے کی بات کچھ اور تھی ۔ وہ سب کرنا چاہتے ہیں تو کریں ۔ ڈاکٹر صدّیقی جا نا چاہتے ہیں تو جائیں ۔ لیکن ہم سب اسٹاف روم میں ہی فیئر ویل دیں گی ۔ اس کے بعد سب ایک ساتھ لنچ لیں گے اور اسکول کی گاڑی سے ان کو چھوڑنے ان کے گھر تک جائیں گے ۔‘‘ اِسٹاف سکریٹری اکھلیش کمار پی جی ٹی انگریزی نے یہ بات کہی تو کئی ٹیچروں کے ساتھ سینئر موسٹ ٹیچر کے کے یادو نے بھی اس متفقّہ فیصلے پر ’ہاں ‘ کی مہر لگا دی ۔
فیئر ویل سے قبل کی رات ڈاکٹر صدّیقی عجب کشمکش میں مبتلاتھے ۔ وہ کبھی چھڑی کو ہاتھ میں لیتے ، اُسے گھماتے کبھی اپنے سینے سے لگا کر پھپھک پڑتے ڈائری کے ایک ایک صفحہ کو اُلٹتے ۔ طالب علموں کے نام پڑھتے ۔اُن کے مستقبل کے بارے میں کیا لکھا تھا اور وہ کیا بن پائے۔ اس کا محاسبہ کرتے ہرصفحہ کے الٹتے ہی ان کی آنکھوں کے کینوس پر ایک تصویر اُبھر تی ۔جس کاعکس ڈائری میں نظر آتا ۔وہ ہاتھ بڑھا کر اُسے چھونے کی کوشش کرتے ۔پھر ایک الگ ہی دنیا میں ڈوبتے چلے جاتے ۔ اِس طرح ایک ایک کر کے وہ ۱۷۷؍ صفحات تک پہنچ گئے ۔ پُرشوتّم اوستھی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔ اس سے ملے د س سال ہوگئے تھے ۔ اس کے بعد کوئی ملنے نہیں آیا ۔ کیو ںملنے نہیں آیا ۔؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جوا ب وقت کے پیمبر کے پاس بھی نہیں تھا اس کے بعد کا صفحہ خالی تھا ۔ اس کے بعد پوری ڈائری خالی تھی۔ وہ خالی صفحے کو اُلٹتے جا رہے تھے ۔اور آنکھیں تھیں کہ رُکنے کا نام نہیںلے رہی تھیں ۔ بھیگتی ہی جارہی تھیں ۔ اُ نہیں لگ رہا تھا کہ یہ تو اُن کی ہی غلطی ہے۔ جب ڈائری ان کے پاس تھی ۔ قلم اُن کے ساتھ تھا ۔ پھر ۳۶۵؍صفحات کی ڈائری کو بھرنے میں تیس سال کے شب وروز کم کیسے پڑگئے ؟ ۱۸۸؍ صفحات خالی کیسے رہ گئے ؟ اُنہیں لگا کہ یہ خالی صفحات اُن کا مذاق اُڑا رہے ہیں ۔ ڈر پوک ، بُزدل کہ کر اُن کا منہ چڑھا رہے ہیں ۔
’’ نہیں میں بُزدل نہیں ہوں۔ ‘‘ غُصّے میں اُنہوں نے چھڑی سے ڈائری پر ایک زوردار وار کیا ۔ قلم سہم کر نیچے گر گیا۔ ڈائری کا ایک ورق بھی پھٹ گیا ۔ اُس وقت وہ بچّے کی طرح پھپھک پھپھک کر رونے لگے تھے ۔ پھر انہوں نے پھٹے ورق کو بڑے پیار سے اسی جگہ گوند سے چپکایا ۔ قلم کے ایک ایک پُرزے کو گرم پانی سے صاف کیا ۔ ہری روشنائی بھری ۔ اسے ڈائری میں اسی جگہ رکھا ۔ اور پھر سینے سے لگا کر اپنی آنکھیں بندکر لیں ۔
لیکن نیند آج ان کی آنکھوں میں کہاں تھی ؟ وہ ساری رات اندھیرے میں کبھی چھڑی کو اور کبھی ڈائری کو اپنے تیس سالہ سفر کی رودادسناتے سناتے وہ رو پڑتے ۔بیوی نے انہیں بہت سمجھایا ۔ بیٹیاں بیاہی جاچکی تھیں ۔رہتیں تو وہ بھی ماں کے ساتھ ساری رات جاگتیں ۔
اِسٹاف روم میں ایک خاموش ہنگامہ تھا ۔ فیئرویل کی تیّاریاں چل رہی تھیں ۔ کہیں میٹھائی رکھی ہوئی تھی ۔ کہیں تحائف سجائے گئے تھے ۔ٹرے میں پھولوںکی مالا رکھی تھی ۔ ٹیبل پر وہائٹ کلاتھ بچھا تھا ۔ چپراسی کپ اور طشتری دھونے میں مشغول تھا پرنسپل صاحب ، سینئر موسٹ ٹیچر اور اِسٹاف سکریٹری سے تیّاریوں کے متعلّق فیڈ بیک لے چکے تھے اور مطمئین تھے ۔ دوسری طرف پلس ٹو کے لڑکے کلاس روم کو سجانے میں لگے ہوئے تھے ۔
آج ڈاکٹر صدّیقی اپنے پسندیدہ لباس سفید کُرتا پائجامہ میں اسکول پہنچے تھے ۔سب سے مل رہے تھے اور ایک آخری بار اسکول کے درودیوار اور وہاں کے مناظر کو آنکھوں میں سمیٹ رہے تھے ۔ آج انہیں اس بات کی بے انتہا خوشی تھی کہ مخدوش حالات میں بھی انہوں نے ہمّت اور حوصلے سے کام لیا ۔ جس کی وجہ سے آج وہ عزّت کے ساتھ سبکدوش ہورہے ہیں ۔
’’ عزّت ؟‘‘ کسی نے اندر ہی اندر طنزیہ سرگوشی کی ۔ ’’ جسے تم عزّت سمجھ رہے ہو وہ دراصل تمہاری بُزدلی ہے ڈاکٹر صدّیقی ۔ ‘‘ اسے اپنا ہمزاد سامنے نظرآیا ۔
نہیں میں بُزد ل نہیں ہوں۔‘‘ وہ چیخ رہے تھے ۔ لیکن ان کی آواز حلق میں ہی اٹک کر رہ جارہی تھی ۔ وہ پسینے میں بھیگنے لگے تھے ۔ پھر وہ تیزی سے الماری کے پاس پہنچے ۔ دروازہ کھولا ۔ چھڑی اور ڈائری کو دیر تک ہاتھوں میں لے کر دیکھتے رہے ۔ وہ اب بھی چیخ رہے تھے ۔ لیکن اس چیخ میں آواز کہاں تھی ۔؟ اسٹاف روم میں موجود کلیگ نے اسے ریٹائرمنٹ کے غم سے جوڑ کر دیکھا ۔ اس لئے کسی نے ان سے کچھ نہیں کہا پھر وہ کچھ دیر بعد سیدھے وہاں پہنچ گئے جہاں پلس ٹو کے طالب علم فیئر ویل کی تیّاریوں میں مصروف تھے ۔ اچانک انہیں کلاس کے اندر آتے دیکھ کر سبھی لڑکے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ لیکن یہ کیا ؟ کلاس روم میں داخل ہوتے ہی انہوں نے وہاں موجود طالب علموں کو اندھادھند مارنا شروع کر دیا تھا کسی کی انگلیاں پھٹ گئی تھیں ۔ کسی کا انگوٹھا ٹوٹ گیا تھا ۔ کوئی لنگڑا رہا تھا ۔ اور کوئی خون سے لت پت تھا ۔ چیخنے چلّانے کی آوازسُن کر پرنسپل ، اسٹاف اور سینکڑوں بچّے وہاں جمع ہو گئے ۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک ڈاکٹر صدّیقی کو ریٹائرمنٹ کے دن آخر ایسا کیا ہو گیاکہ وہ پاگلوں کی طرح بچّوں پر چھڑی سے ٹوٹ پڑے تھے۔

لیکن گرین ڈائری کو سب کچھ معلوم تھا ۔
قلم بھی مسکرا رہا تھا ۔
اس لئے پولس جیپ میں بیٹھتے وقت میڈیا کے کیمرے میں اُن کاچہرہ پُرسکون نظر آرہا تھا۔

Previous article“معاشرے کی عکاس ذاکر فیضی کی کہانیاں “از: عارفہ مسعود عنبر مرادآباد
Next articleسابق امراء شریعت میں انتخابی طریقۂ کار از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here