افسانہ ’’میری سائکل مت خریدیے پاپا‘‘ از : ڈاکٹر اختر آزاد

0
131

اپنے چودہ سالہ لاڈلا کے منہ سے ایسی بات سُن کر میں کچھ دیر کے لئے حیران رہ گیا تھا ۔ وہ سائکل کے لئے دو تین برسوں سے ضد کر رہا تھا۔میں ٹالتا رہا کہ اس مہینے نہیں اس مہینے لا دوں گا۔ لیکن ٹالتے ٹالتے وہ مہینہ آ ہی گیا جس کا لاڈلا کو انتظار تھا ۔ ایسا نہیں تھا کہ اس مہینے مجھے تنخواہ زیادہ ملی تھی یا کوئی لاٹری لگی تھی بلکہ میرا بیٹا ضد کرتے کرتے اتنا ضدّی ہو گیا کہ ایک دن اس نے ضدنہ کرنے کی ٹھان لی اور کھیلنا کودنا چھوڑ کر خود کو کتاب کے حوالے کر دیا۔ کتاب سے ایسی دوستی میں نے کبھی نہیںدیکھی تھی۔لیکن اب اسکول جانے سے پہلے وہ کتاب کھول کر گھنٹوں بیٹھا رہتا ۔دیر رات سوتا ۔ ایک دو ہفتہ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔لیکن جب بیگم نے بتایا کہ ادھر لاڈلا کا رویہ بدلا بدلا سا ہے۔ پہلے کی طرح نہ ہی بہنوں سے بات کرتا ہے اور نہ ہی بھوک لگنے پر کھانا ہی مانگتا ہے۔اگر اسی طرح رہا تواندیشہ ہے کہ کہیں اس کی طبیعت خراب نہ ہو جائے۔تب بھی میں بیگم کے برعکس سوچ رہا تھا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہے کہ قلیل آمدنی میں گھر کا خرچ بمشکل چلتا ہے۔ اوپر سے تین تین بہنیں ۔اس باعث وہ ضد چھوڑ کر پڑھنے لکھنے اور اونچا عہدہ پانے کی تگ و دو میں ابھی سے لگ گیا ہے۔اسیی اور اس سے ملتی جلتی تھیوری مجھے اندر ہی اندر گُد گُدا رہی تھی۔لیکن جیسے ہی بیگم نے لاڈلے کے بدلے رویے سے روشناس کرایا میری ساری خوش فہم تھیوری فیل ہوتی ہوئی نظر آنے لگی۔ایک بے چینی میرے اندر سر اُٹھانے لگی اور میں لاڈلا کے مستقبل کو لے کر سوچ میں پڑ گیا کہ ایک ہی بیٹا ہے۔

ایک دن بیگم نے رازدارانہ انداز میں سمجھایا۔۔۔۔۔۔’’میں تو کہتی ہوں جی کہ لاڈلا کو کسی طرح سے سائکل خرید کر دے دیجئے۔‘‘
’’اچھّا دیکھتا ہوں ۔‘‘
’’نہیں ! یہ دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔سوچنے اور سمجھنے کا وقت ہے۔ ‘‘
’’میں سمجھ رہا ہوں بیگم صاحبہ۔‘‘
’’نہیں آپ ، نہیں سمجھ رہے ہیں ۔بچّے کی ضد ہے۔ کہیں کوئی اُلٹا سیدھا قدم اُٹھا لیا تولینے کے دینے پڑ جائیں گے۔‘‘
’’بات تو صد فی صد صحیح ہے۔ لیکن کیا کروں؟ بیٹے کا شوق کیسے پورا کر وں ۔ جتنے میں سائکل آئے گی اتنے میں توبڑی کے جہیز کا کوئی سامان آجائے گا ۔بیٹی ایک ہوتی تو کوئی بات نہیں ۔ تین تین ہے۔تیسری کا تو چلو ابھی نہیں سوچنا ۔لیکن چار پانچ سال میں اس کے بھی ہاتھ پاؤں لمبے ہو جائیں گے اور دونوں کا تو جس طرح بھی ہوسال دو سال میں کر ہی دینا ۔ جوان بیٹیوں کو زیادہ دن تک گھر میں بٹھا کر بھی نہیں رکھنا ہے۔‘‘

’’ہاں جی تم ٹھیک کہتے ہو۔پڑوس کی ببلی کو ہی دیکھ لیجئے۔ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے تھوڑے گال کیا پچک گئے، رشتے تک آنا بند ہوگئے۔پھراپنے للو میاں کی بیٹی ماں باپ کی ناک کٹا کر آخر بھاگ ہی گئی نا ۔ اس لئے میں تو کہتی ہوں کہ جیسے ہی کوئی مناسب رشتہ آتا ہے ، دونوں کے ہاتھ پیلے کر دوجی۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لاڈلا کی ماں ! ابھی جو حالت ہے اس میں تو صرف ایک کی ہی شادی کسی طرح کھینچ تان کر کے کی جا سکتی ہے ، وہ بھی اگر لڑکے کی طرف سے فرمائش نہیں آئی تو ۔وقت ضرورت کوئی دینے والا بھی نہیں ۔جو کرنا ہے مجھے ہی کرنا ہے۔اور پھر تم تو جانتی ہو کہ میری تنخواہ کتنی ہی ۔ چودہ پندرہ ہزار میں کیا ہونے والاہے۔لگ بھگ پانچ ہزار تو کھانے پینے میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ تین ہزار اس دو کمرے والے گھر کا کرایہ دیتا ہوں اور بچے پیسوں میں زندگی کی دوسری ضروریات فون اور بجلی کا بل ، تمہاری دواؤں کے ساتھ بچوں کی فیس اور اس میں سے کچھ بچا کر امی ابوّکوہزار دو ہزار ہر ماہ بھیجنے بھی پڑتے ہیں ۔آخر میں کسی طرح لائف انسورنس کا پریمیم بھرتا ہوں کہ کبھی مجھے کچھ ہو گیا توتمہیں در در بھٹکنا نہ پڑے۔بچّوں کی دال روٹی چلتی رہے۔ یوں سمجھو کہ ایک کلکُلیٹیڈ زندگی گزارتا ہوں ۔اب تم ہی بتاؤکہ میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔ ؟کیسے کروں ۔۔۔۔۔۔؟‘‘

’’جیسے بھی ہویہ تو آپ کو ہی کرنا ہے۔ ‘‘چہرے پر تشویس کی لکیریں صاف جھلک رہی تھیں ۔’’پھردو مہینے کے بعد ریحانہ کا ریجلٹ بھی آ رہاہے۔ کہہ رہی تھی کہ میں اور پڑھوں گی ۔ اپنے پیروں پر کھڑی ہوں گی۔‘‘
’’بی ایڈ میں ایڈمیشن فری میں نہیں ہوتے۔لاکھوں لگیں گے۔سرکاری کالجیز کا انٹرنس نکال بھی لیتی ہے تو سالانہ کم سے کم چالس پچاس ہزار تو لگیں گے ہی ۔ اتنے پیسوں کا جگاڑ کہاں سے ہو گا؟ ہو بھی گیا تو لوٹانا مشکل ہو جائے گا ۔ اور اگر اس بیچ شادی پکی ہو گئی تو پھر کوئی دینے والابھی نہیںہو گا۔بیٹی سے کہو کہ چُپ چاپ ایم اے کر لے اردو میں ۔ سیٹ خالی جاتی ہے۔ ‘‘
’’لیکن وہ تو بی ایڈ کر کے نوکری کرنا چاہتی ہے ۔گھر کی حالت سدھارنا چاہتی ہے ۔‘‘
گھر کی حالت ! ارے ایڈمیشن کے بعد میں قرض میںاتنا ڈوب جاؤں گا کہ اس سے اُبرنے میں سالوں لگ جائیں گے۔‘‘ پھر وہ کچھ سوچتے ہوئے۔’’ ارے لاڈلا کی ماں تم بھی کتنی معصوم ہو کہ اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس کی عمر شادی کی ہو گئی ہے ۔ مان بھی لو کہ اس کو کسی طرح سے مین ے بی ایڈ کروا دیاتو کیا اس کے کمانے تک میں اس کا انتظار کروں گا ۔شادی کے بعد اگروہ پیسے مائیکے میں دینا بھی چاہے گی تو سسرال والے سینے پر بیٹھ جائیں گے۔ اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ ان جھنجھٹوںمیں مت پھنسو۔لڑکا فائنل ہوتے ہی شادی کر دو۔ ورنہ قرض کے دلدل سے کبھی نکل نہیں پائیں گے۔‘‘

ریحانہ سے چھوٹی فرزانہ نے ابھی ابھی پلس ٹو پاس کیا تھا ۔ترانہ پلس ون میں تھی۔لاڈلا نے ابھی میٹرک میں قدم رکھاتھا۔بڑی منّتوں اور مرادوں کے بعد اس نے کائنات کا حصّہ بننے کی منظوری دی تھی۔اس خوشی میں محلے میں لڈو بانٹی گئی تھی۔لڈو کی مناسبت سے رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے اس کا نام لڈو رکھ دیا تاکہ اس کی مٹھاس باقی رہے۔یہی لڈو آہستہ آہستہ سب کا ایسا لاڈلا بنا کہ اسکوم میں بھی اس کا یہی نام لکھوایا گیا ۔ لاڈلا کریم ۔ کریم پہلے ریحانہ ، فرزانہ اور ترانہ کا نام لے کراپنی بیگم کو بلاتے تھے۔لیکن لاڈلا کے عالمِ وجود میں آنے کے بعد بیگم لاڈلا کی ممی اور خود لاڈلا کے پاپا بن گئے تھے۔
تین بہنوں کا یہ لاڈلا بڑے نازوں سے پل رہا تھا ۔ہر خواہش اس کی منٹوں میں پوری ہو رہی تھی۔ادھر اس نے کہا نہیں کہ ادھر سامان حاضر۔لیکن عمر کے ساتھ خواہشات بڑھنے لگیں تو والدین کے لئے پریشانی میں اضافہ ہونے لگا۔پریشانی بھرے لمحات میں بھی وہ دوسری ضروریات میں کٹوتی کرکے کوشش کرتے کہ لاڈلا کو کسی طرح کی کمی نہ ہو۔
حالات جب انسان کے موافق نہ ہوںاور وہ اس کے باوجود اپنی محنت اور جدوجہد سے اسے اپنے موافق بنا لیتا ہے تو اسے بے حد خوشی ملتی ہے۔ تقویت کا احساس ہوتا ۔خود پر اعتماد بھی بڑھتا جاتا ہے کہ ناسازگار ماحول میں بھی وہ گل وبوٹے کھلا نے کا ہُنر رکھتا تھا۔لیکن ریگ زار کو گلستاں وہ تب تک بناتے رہے جب تک ریحانہ بڑی نہیں ہوئی تھی ۔ ریحانہ کے نقش قدم پر چل کر فرزانہ نے جیسے جیسے عمر کا رنگین دوپٹہ سنبھالنا سیکھا ویسے ویسے کریم حسن کے چہرے پر فکر مندی کے سائے گہرانے لگے تھے۔
ریحانہ کے رشتے کی بات دو تین جگہ چل رہی تھی۔جس میں زیادہ تر عرب میں کام کرنے والے تھے۔ ایسے بر سر روزگار نوجوان ایک دو مہینہ کی چھُٹی لے کر جب گھر آتے ہیں تو ایک ہفتہ میں شادی کرنے کا دباو لڑکی والوں پر خود بخود پڑ جاتا ۔ان باتوں کے مد نظر انہوں نے بھی جہیز میں دینے کے لئے کئی چیزیں دھیرے دھیرے بنا لی تھیں۔ابھی بہت کچھ بننا باقی تھا ۔ ایسے میں ضدی گھوڑے کے منہ میں لگام لگانا ضروری تھا۔ اپنی طرف سے بھر پور سعی کی۔ لیکن ناکام رہے۔وہ برسوں سے پرانی سائکل سے کام چلا رہے تھے۔ بچّوں کے لئے ڈیزائن کی ہوئی اسپورٹس سائکل چار پانچ ہزار سے کم میں آنے والی نہیں تھی ۔وہ بیگم کو لے کر ایک دن دکان گئے ۔قیمت سُنی تو حواس باختہ رہ گئے۔ بیگم کوکسی طرح منا یا کہ لاڈلا ضد کرتا ہے تو کرتا رہے۔ ایک دن تھک ہار کر وہ ضد کرناچھوڑ دے گا ۔بس وہ سامنے طرف داری نہ کرے۔

لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے ۔ اس سے بھی بیٹے کا دُکھ دیکھا نہیںگیا ۔ ایک دن بولی۔
’’سُنئے جی ! آج جب میں لاڈلاکو بلانے میدان گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ اُس کی عمر کے بچّے ایک طرف کرکٹ کھیل رہی ہیں اور دوسری طرفسائکل چلا رہے ہیں اور اپنا لاڈلا میدان کے ایک کونے میں کھڑا ان سب کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ میں تو کہتی ہیں کہ شادی بیاہ ہوتا رہے گا۔ پہلے آپ سائکل کا انتظام کسی طرح سے کر دیں ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے بیگم کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے تھے۔اس وقت اس نمی کو انہوں نے بھی اپنی آنکھوں میں محسوس کیا ۔وہ انہیں کچھ دیر تک بھیگی نظروں سے دیکھتے رہے۔ پھرروہانسہ ہو گئے۔
’’ لیکن پیسے کا انتظام کرنے میں کچھ تووقت تو لگے گا۔‘‘
’’کتنا ۔۔۔۔۔؟‘‘بیگم کی آواز اب پوری طرح سے بھیگ چکی تھی ۔ اس لئے وہ آگے کچھ کہہ نہیں پائی ، لیکن جس طرح سے وہ اُسے دیکھ رہی تھی اس سے یہی لگ رہا تھاکہ وہا آج سب کچھ جان لینا چاہتی تھی۔دن تاریخ طے کروا لینا چاہتی ہے۔‘‘
’’بیس پچیس دن مان کر چلو ۔ تب تک تنخواہ بھی مل جائے گی ۔ ملا جلا کر کے سائکل خرید لیں گے۔‘‘ایک مجبور باپ خود کو کئی طرح کی ذمہ داریوں میں پھنسا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
’’یہ تو بہت لمبا ہو گیا۔‘‘ بیگم نے کچھ رُک کر آنکھوں کے کنارے کو صاف کیا اور کہا۔’’لاڈلا کا انٹرسٹ کرکٹ میں بھی ہے۔جب تب سائکل کی خریداری نہیں ہوتی تب تک کے لئے بیٹ بال سے کام چلا دیجئے۔‘‘
’’بات تو تمہاری درست ہے بیگم۔ لیکن اس میں بھی ہزار روپئے لگ جائیں گے۔اتنے میں تو مہینہ ڈیڑھ مہینہ کی سبزی آ جائے گی۔‘‘
’’سبزی دیکھو گے تو وہ سائکل کی ضد کرتا رہے گا ۔کیا پتا بیٹ بال پا کراس کا ذہن سائکل کی طرف سے ہٹ جائے ۔‘‘
انہیں بیگم کی بات پسند آئی ۔وہ دوسرے ہی دن بیٹ بال لے آئے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کچھ دن تک اس نے سائکل کی ضد نہیں کی ۔لیکن اس کی جگہ ایک دوسری مصیبت سر پر آن کھڑی ہوئی ۔ہر آٹھ دس دن کے اندر اس کی گیند پھٹ جاتی ،گم ہو جاتی اور وہ دوسری گیند لانے کی ضد کرنے لگتا ۔ایک دن ایک لڑکے نے گیند سامنے کی پانچ منزلہ عمارت کی دوسری منزل کے زینے میں لگے امپورٹیٹ شیشے پر دے مار ی ۔ گیندتو گئی ہی گئی ، گھر والے نے انہیں بھی کافی کھری کھوٹی سُنائی۔اس دن انہوں نے لاڈلا کو بہت ڈانٹاتھا۔ روتے روتے وہ گھر گیا۔ماں نے چپ کرانے کی کوشش کی ۔ کچھ بعد کے لئے وہ چُپ بھی ہو گیا ۔لیکن پھر سے نئی گیند کے لئے اپنی ماں سے ضد کرنے لگا ۔

پاپا کو غصّہ آ گیا۔
’’کبھی گیند گم کرتا ہے تو کبھی پھڑوا کر آ جاتا ہے ۔ ٹھکیدار سے تھوڑی جان پہچان تھی اس لئے تھوڑا بہت گالی گلوج کرنے کے بعد صرف شیشہ لگانے کے لئے کہا ۔ کوئی دوسرا ہواتا توپہلے اسے دم بھر مارتا بھی اور چار آدمی کے سامنے مجھے ذلیل بھی کرتا ۔
اس دوران انہوں نے لاڈلے کو زور دار چپت لگا دی تھی۔وہ زور زور رونے لگا تھا ۔
’’مجھے گیند لا کر دیجئے۔ مجھے گیند لا کر دیجئے۔‘‘
’’ ایک مہینے میں چار پانچ بال ہو گئے ہیں ۔ ا ب گیند وند کچھ نہیں آئے گا ۔‘‘
باپ کا غصّہ دیکھ کروہ وہاں سے چُپ چاپ اپنے کمرے میںآ گیا اور کتاب نکال کر بیٹھ گیا ۔ کھانا کے لئے کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ماں نے منانے کی کوشش کی۔ سو روپیہ چُپ سے دینے لگی کہ جا کرخرید لے ۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔کتاب لے کر گھنٹوں اسی طرح بیٹھارہا۔
اس رات اسے بخار آ گیا ۔ رات بھر ماں اس کے سرہانے بیٹھی رہی۔باپ نے بھی پیشانی چھو کر کئی بار دیکھا تھا ۔ صبح سویرے دونوں مل کر پاس کے ایک ڈاکٹر کے پاس گئے ۔خیر بخار دوسرے دن اُتر گیا۔لیکن ماں نے آخر کا ر فیصلہ اس رات ہی کر لیا تھا کہ جس طرح سے بھی ہو سکے اسے سائکل خریدوا کر دوں گی۔
’’لاڈلا کے پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میں سمجھ رہا ہوں ، لیکن ان لوگوں کوریحانہ توو پسند آ گئی ہے نا۔ اور اس کا بیٹا عرب سے آنے والا بھی ہے۔ آتے ہی وہ لوگ دن تاریخ رکھیں گے۔پتا نہیں کیا مانگ بیٹھے۔ مجھے تو ابھی سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
ڈر تو مجھے بھی ہے ۔ ایک نہیں تین تین ہے۔لیکن بیٹا تو ایک ہے نا ۔ ‘‘
ٹھیک ہے، اگرکچھ پیسے تمہارے پاس ہیں تو نکالو۔‘‘
’’پیسے تو نہیں ہیں،لیکن میرے پاس چاندی کی کئی پرانی چیزیں ہیں۔بے کار رکھی ہوئی ہیں ۔آپ اسے بیچ کر۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ بیگم نے چہرہ دوسری طرف گھُما لیا۔

’’وہ زیورات منجھلی یا چھوٹی کے بھی تو کام آ سکتے ہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘آنکھیں سوال بن گئیں۔
’’یہی سوچ کرتو میںسہیج کر رکھی تھی۔لیکن کیا کریں غریبی ۔ زیور بچاتی ہوں تو سائکل سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔لیکن اس وقت مجھے بیٹے کا دکھ درد دیکھا نہیں جا رہا ہے۔ آپ فوراً سُنار کے پاس جائیں ۔‘‘
دوسرے دن گھر میں جشن کا ماحول تھا ۔ماں پرانے زیورات بیچ کر جہاں خوش تھی ، وہیں باپ کو برسوں بعد سرخرو ہونے کا موقع مل رہاتھا۔بہنیں بھی اترا رہی تھیں کہ اسے آنگن میں پیڈل مارنے کا موقع مل جائے گا۔ ابھی سائکل خریدی بھی نہیں گئی تھی ۔ لیکنلاڈلا پھولے نہیں سما رہا تھا۔ وہ کئی بارکمرے کو اس کونے کی صفائی کر چکا تھا ۔ بار بار اس جگہ کو آتے جاتے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہاں چمچماتی سائکل کھڑی ہو ۔اور اس سے پوچھ رہی ہو کہ مجھ پر بیٹھو گے نہیں ۔ کتنا انتظارکروایا تم نے مجھے اپنے گھر لانے میں ۔
ابھی بازار جانے کی تیاری ہو ہی رہی تھی کہ باہر موٹر سائکل رکنے اور ہارن بجنے کی آوازسُنائی دی۔ کھڑکی سے جھانک کر لاڈلا نے باہر دیکھا۔اس کا ہم جماعت ذیشان جو اس کے دوستوں میں تھا ، گیٹ کے سامنے نظر آیا۔لاڈلا تیزی سے باہر نکلا۔
’’یار یہ نئی موٹر سائکل کس کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘لاڈلا نے پہنچتے ہی پوچھا ۔
’’پاپا کی ہے۔۔۔۔۔۔۔ادھر سے چلاتے ہوئے جا رہا تھا تو سوچا تمہیں دکھا دوں ۔کل ہی خریدی ہے۔سنڈے سنڈے میرے پاس رہے گی ۔ ہفتہ دوہفتہ میں ہاتھ صاف ہو جائے گا۔پھریار مٹر گشتی کرنے نکلیں گے اور اس کے گھر کی طرف بھی چلیں گے۔سمجھے نا۔۔۔۔۔۔۔‘‘
لاڈلا کے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی تیر گئی تھی ۔لال کالے رنگ کے امتزاج نے لاڈلا کی آنکھوں میںایک چمک پیدا کر دی تھی ۔ وہ مسکراا رہا تھا اور ہر زاویے سے موٹر سائکل کودیکھ بھی رہا تھا۔آخر اس سے رہا نہیں گیا۔ سیٹ پر بیٹھ کردونوں ہاتھوں سے ہینڈل پکڑا اور چلانے کے انداز میں آئینے میںایک بار خود کو دیکھا ۔اس وقت وہ کچھ دیر کے لئے ایک الگ ہی دنیا میں کھو سا گیا تھا۔
ذیشان گاڑی اسٹارٹ کرکے جانے لگا تو وہ اسے اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک موٹر سائکل دو ڈھائی سو میٹرآگے جا کربائیں طرف مڑ نہ گئی ۔ پھروہ دھیمے دھیمے قدموںکے ساتھ گھر کی طرف بڑھا۔اس وقت وہ بھول گیا تھا کہ اسے سائئکل کی خریداری کے لئے بازار جانا ہے۔گھر میں داخل ہوتے ہی جب اس نے عید والے کپڑے میںاپنے پاپا کودیکھا تو اُسے یکایک یاد آیا کہ یہ کپڑے تواس کے پاپا کسی خاص موقعے پر پہنا کرتے ہیں۔ابھی وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اُنہوں نے کہا ۔
’’چل! جلدی تیار ہوجا لاڈلا۔‘‘
تب تک لاڈلا کو سب کچھ یاد آ گیا ۔’’ وہ کپڑا پہنتے پہنتے بولا۔’’ بہت انتظار کروایا پاپاا آپ نے۔ میں جب سکس میں تھا تب سے ضد کر رہا تھا ۔ اب تو میں ٹینتھ میں آ گیا ہوں ۔ سوچئے کتنے سال ہو گئے۔۔۔۔؟‘‘
ماں بیچ میں ہی بول پڑی۔’’ارے یہ سب چھوڑ بیٹا ۔ سمجھو آج ہی وہ مہورت والادن ہے ۔‘‘
’’ہاں بس ایسا ہی سمجھو۔۔۔۔۔۔‘‘ پاپا نے فاتحانہ مسکراہٹ بکھیری۔
باپ بیٹا دونوں بازار نکلے۔ آج برسوں بعد پہلا موقع تھا جب لاڈلا کے ابو بغیر سائکل کے گھر سے نکلے تھے۔ آٹو رکشا یا بس میںبیٹھے ہوئے ایک زمانہ ہو گیا تھا ۔ ڈیوٹی کے لئے آٹو رکشا کا استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن بیٹیوں کی وجہ سے انہیںسات کیلو میٹر کا سفر پیڈل مارکر طے کرنا پڑتا تھا تاکہ پیسے بچا سکیں ۔
آٹو رکشا سے اُتر کر مین گول چکر کا چکر کاٹ کردونوںشہر کے سب سے بڑے سائکل اسٹور کی طرف بڑھ رہے تھے۔ چلتے چلتے باپ بیٹے سے کچھ کہناچاہے تھے لیکن بیٹا کبھی آگے ہو جا تاتوکبھی پیچھے پیچھے چلنے لگتا تھا ۔ باپ خریداری سے پہلے کے ان آخر ی لمحوں میںسب کچھ واضح کر دینا چاہتا تھا کہ اس کی جیب میں صرف چار ہزار روپئے ہیں ۔ فیشنیبل اسٹائلسٹ اسپورٹس سائکل پسندنہ کرے جو بجٹ سے باہر ہوں ۔
لاڈلا نے حامی بھرلی۔ لیکن سائکل اسٹور پہنچتے ہی وہ انہی سائکلوں کو گھوم گھوم کر دیکھ رہا تھا۔ باپ نے یاد دہانی کروائی تو وہ کچھ دیر ے لئے انڈر بجٹ سائکل کی طرف چلاگیا لیکن فوراً وہاں سے بھاگ کر وہ ان ہی سائکلوں کے بیچ پہنچ گیا جسے شجر ممنوعہ قرار دیا تھا۔ ایسے میں باپ کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔بیٹے کی حرکت پر وہ اندر سے برانگیختہ تھے ۔لیکن ڈانٹ کر لاڈلا کوناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ آخر تک کوشش کرتے رہے کہ بیٹا مان جائے۔دوسری طرف دکان دار کی تاجرانہ آنکھیں تاڑ گئی تھیں کہ باپ کی جیب میںکتنے پیسے ہیں ۔مہنگی سائکل فروخت ہونے کا مطلب زیادہ منافع تھا۔اس لئے انہوں نے نئی جنریشن کی خواہش کو بھانپتے ہوئے باپ کو کنونس کرنے کی کوشش میں جُٹ گیا۔
’’سر میں تو کہتا ہوں کہ بچّے کی پسند کا خیال رکھیں۔ چار ہزار بجٹ ہے آپ کا۔ دو تین ہزار کی تو بات ہے۔ کہیں سے ایرینج کر لیں ۔ ‘‘مسکراتے ہوئے اس طرح کہاجیسے کوئی معلّم اپنے شاگرد کو علم کے خزانے سے واقفیت کروا رہا ہو۔
’’ بہت مشکل سے اتنے پیسے جُٹا پایا ہوں ۔ ‘‘لاچاری کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اچھّا نہیں لگا تھا ۔
’’بھائی اگر ایسی ویسی کوئی مجبور ی ہے توکوئی بات نہیں ۔باقی پیسے دو تین قسط میں دے دیں۔ لیکن بچّے کو ناراض نہ کریں ۔اور اگراپنے پیارے بیٹے کے لئے یہ بھی نہیں کر سکتے تو میری طرف سے فری میں لے جائیں ۔ میں سمجھوں گا کہ میرا بیٹا چلا رہا ۔ ‘‘ دکان دار نے ایسا کہہ کراس بار باپ پر پوری طرح سے تاجرانہ دباؤ بنانے کی کوشش کی۔
’’اس طرح کی باتوں کے بعد ایک باپ سُبکی محسوس کر رہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کے جیتے جی رحم کاچکا لگا کر اس کے بیٹے کو فری میں سائکل چلانے کے لئے دے۔انہیں اپنی بے عزّتی سی محسوس ہوئی ۔عزّت بچانے کی خاطر انہوں نے پہلے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھرکہا۔
’’لاڈلاتمہیں جوپسند ہے وہ انہیں بتا دو ۔ ‘‘
اسکے بعد کریم حسن بیس اکیس سال پہلے کی دُنیا میں پہنچ گئے۔ شادی کے موقعے پر سسر صاحب انہیں سائکل پسند کروانے لائے تھے۔ اور اسی طرح ان سے کہا تھا ۔ اب بھی وہی سائکل زندگی کی لائف لائن بنی ہوئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ زنگ نے بسیرا قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔ رنگت اُڑ سی گئی ہے۔ مہینہ دو مہینہ میں سائکل مستری کے پاس وہ ضرور جاتی ہے۔ کئی بار انہوں نے سوچا کہ اس کھٹارا کو بیچ کر نئی سائکل خرید لیں گے ۔ لیکن بال بچّوں کی ذمہ داری نے انہیں اس طرف سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا ۔
کچھ ہی دیر میں وہ سائکل جو لاڈلا کی آنکھوں کا مرکز تھی دکان کے بیچ و بیچ چار بائی چھ کے ریڈ کارپیٹ پرسج دھج کر کھڑی تھی۔
چار ہزار دے کر بقایہ رقم کی تین قسطیں ہزار روپئے ماہانہ طے کر کے کاونٹر سے رسید لے کر جیسے ہی مڑے ان کی آنکھیں حیرت زدہرہ گئیں کہ وہ لاڈلا جو بہت دیر سے اپنی پسندیدہ سائکل پر ٹکٹکی لگائے ہوئے تھا ،اچانک کہاں غائب ہو گیا۔
لاڈلا دکان کے باہر ایک طرف کھڑا ہو کرسڑک پر آتی جاتی ہوئی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔جہاں ہر بائک سوار اُسے ذیشان نظر آ رہا تھا۔سائکل سوار دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔خود کو پانے اور کھونے کا کرب بھی عجیب ہوتا ہے۔ہم ہوتے بھی ہیں اور نہیں بھی ہوتے ہیں ۔
کریم حسن بیٹے کو ڈھونڈتے ہوئے باہرنکلے۔لاڈلا سڑک کی طرف دیکھے جا رہا اور مسکرائے جا رہا تھا۔یہ دیکھ کر انہیں راحت کا احساس ہوا کہ سائکل کے لئے اُتاولا ہونے والا لاڈلا سائکل پا کر آج کتنا پُر سکون نظر آرہا ہے۔اس کے کندھے پر انہوں نے ہولے سے ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے کہا ۔
’’لاڈلا! سائکل لو اور چلو۔‘‘
اچانک خیالوں کی دنیا سے وہ باہر نکلا۔
سائکل کی طرف بڑھا، رُکا ، پیچھے مُڑا، پھرتیزی سے اُن سے آ کرلپٹ گیااور رونے لگا۔
’’میری سائکل مت خریدئے پاپا۔میںآپ کی کھٹارا چلا لوں گا۔آپ اپنے لئے موٹر سائکل لے لیجئے۔‘‘
(غیر مطبوعہ)

٭٭٭
کائنات وِلا
بہائنڈ عائشہ مرلن ، نزد لکش
دارا سنگھ روڈ، پارڈیہہ ،
مانگو، جمشید پور۔۸۳۱۰۲۰

Previous articleڈاکٹر ریحان غنی: اردو صحافت کا مردِ قلندر از: انوار الحسن وسطوی
Next articleدین فطرت اور اس کی تفہیم و تشریح از: محمد ابوبکر قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here