افسانہ” دستار۔۔۔ ایک شناخت”از: ملکیت سنگھ مچھانا ۔تجزیہ نگار: نثار انجم

5
254

”کیا کہا ؟؟؟….. جوُڑا کٹوا نا چاہتا ہے….!!! مطلب کہ تو اپنی شناخت گنوانا چاہتا ہے ؟ “
” کیا کروں پاپا جی….. میری جماعت میں میَں ہی ایک پٹکے والا سِکھ سردار بچا ہوں۔۔۔ “
” تو اس میں کیا حرج ہے ؟ “
” بس پاپا جی مجھے….. مجھے شرم سی آتی ہے “
” ارے بیٹا… یہ دو لت ِ خداداد توہماری قوم کی شناخت ہے “
یہ کہتے ہوئے میں نے اپنے پندرہ سالا بیٹے اجیت سنگھ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
بیٹا کئی روز سے اسکول جانے کو آنا کانی کر رہا تھا۔ آج جب میں نے اس کو اپنے رو بہ رو کھڑا کرکے اس کا سبب جاننا چاہا تو اس نے مندرجہ بالا وجہ بیان کرتے ہوئے اپنا جوُڑا (سر کے بال) کٹوانے کی ضد کی۔
” اب واقعی تیرے پٹکا (سر ڈھنکنے کا بڑا سا رومال) باندھنے کے دن نہیں رہے اس لیے بیٹا اب تو دستار سجا کے اسکول جایا کر “
” کیا !!! ۔۔۔ دستار ؟؟؟۔۔۔ “
” جی ہاں۔۔۔ پر تو گھبرا نا۔۔۔ بیٹھ اس کُرسی پر “ میں نے دیکھا کہ وہ میری تنبیہ سُن کر کچھ زیادہ ہی ہڑبڑا گیا تھا۔ میرے کہنے پر وہ میرے سامنے کُرسی پر بیٹھ گیا۔
گرمی کا موسم الوداعی لے رہا تھا اور موسم سرما کو خیر مقدم کہا جا رہا تھا۔برسات کی اُمس سے نجات مل گئی تھی۔اس لحاظ سے آنے والے دنوں میں زندگی کے مزید خوشگوار و خوش آئند ہونے کی توقع دکھائی دے رہی تھی۔ گرمی اور برسات میں بجلی بھی آنکھ مچولی کھیلتی ہے اور اس کے بِل بھی بڑے بڑے آتے ہیں….. لگتا تھا اب ان دونوں کی وجہ سے بھی طبیعت میں کچھ ٹھہراؤ آئے گا۔
بیٹے نے آٹھویں تک کی تعلیم ہمارے گاؤں کے مِڈل اسکول سے حاصل کر لی تھی۔تقریباََ پانچ ماہ قبل، آٹھویں کا نتیجہ جاری ہونے کے بعد اس نے نزد کے شہر کے ایک سرکاری سینیئر سکنڈری اسکول میں نوی جماعت میں داخلہ لے لیا تھا۔ اس جماعت میں جوُڑے والا وہ اکیلا ہی بچا تھا۔۔۔ حالانکہ وہاں سِکھوں کے کئی بچے پڑھتے تھے لیکن مغربی روایت و ثقافت کے زیر اثر انھوں نے اپنے سِر کے بال کٹوا رکھے تھے۔ بلکہ کئیوں نے تو سر پر ایسے گھنگرالے بال بنا رکھے تھے جس سے وہ عجیب و غریب نمونے نظر آتے تھے جن کی میرا بیٹا بھی کورانہ تقلید کرنا چاہتا تھا۔۔۔
” پہلے تو مجھے یہ بتا کہ تیرے کو دستار کا مطلب معلوم ہے ؟ “ میں نے سوال کیا۔
” نہیں تو “ اس نے نفی میں سر ہلا یا۔
” دستار بیٹا فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے….. ’دست ِ یار‘ مطلب اس اللہ، واہے گرو کا ہاتھ….. یعنی کہ
“The hand of God ”
”اچھا جی !!! “ وہ متحیر ہو کر بولا۔
” ہمارے سِکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی دستار سجاتے تھے۔پھر ان کے بعد آنے والے ان کے جانشین سبھی گرو صاحبان نے بھی اس مقدس قدر و روایت کو قائم رکھا “
”جی پاپا جی“ بیٹا قدرے نارمل ہو کر ہنکارا بھرنے لگا۔
” دسویں گرو جی کا نام تو تجھے معلوم ہی ہوگا ؟ “
” ہاں جی بالکل….. سر ی گرو گوبِند سنگھ جی “ اس نے پُر اعتماد جواب دیا۔دسویں گرو جی کا نام لیتے وقت اس کا نور ِ بصارت پوری طرح چمک اٹھا تھا۔
” اُنھوں نے تو امرِت (آب ِ حیات) پِلا کر سِکھ قوم کا چہرہ مہرہ ہی بدل دیا تھا“
” جی ؟؟ “
” انھوں نے سِکھوں کو اپنے تن بدن سے بال اتارنے کی مناہی کر دی اور سر کے بالوں کی حفاظت کے لیے دستار سجاناواجب و لازم ٹھہرایا ہے “
” اپنی اسی ندرت شکل و صورت کے سبب سِکھ قوم پوری دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔۔۔ جیسا کہ گرو جی چاہتے تھے اور ایک تو ہے جو جُوڑا کٹوانے پہ تُلا ہوا ہے “ میرا آخری جملہ سُن کر اس نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور وہ اپنا دایاں پیر زمین پر رگڑنے لگا۔
” پگڑی باندھنے کا رواج زیادہ تر ہندوستان میں ہی ہے “ میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
” اور محض سِکھ ہی نہیں بلکہ دوسری اقوام اور مذاہب کے لوگ بھی پگڑی باندھنے ہیں۔۔۔یہاں تک کہ دستار کے مختلف رنگوں سے سیاسی پارٹیوں کے اراکین کی بھی شناخت ہو جاتی ہے ۔۔۔ “
” مثلاََ ؟ “
” مثلاََ جیسے مسلمان بھائی سبزہ رنگ کی پگڑی باندھتے ہیں۔۔۔ سِکھ قوم کے لوگ نارنجی اور نیلے سیاہی رنگ کی دستار سجاتے ہیں۔۔۔ اور ہندو مذہب کے لوگ اور بالخصوص سادھو سنت بھگوا رنگ کی پگڑی اور انگوچھے زیب تن کرتے ہیں۔۔۔ “
” اور سیاسی پارٹی کی دستار کے حساب سے کیا شناخت اُبھرتی ہے ؟ “ بیٹااب اس گفتگو میں گہری دلچسپی دکھا رہا تھا۔
” سفید و براق رنگ کی دستار کانگرس کے کارکن پہنتے ہیں “
” کامریڈ لال سُرخ کی پگڑی باندھتے ہیں “
” بھاجپا والے ؟؟ “
” بھاجپا والے وہی سادھو سنتوں والا رنگ یعنی بھگوا رنگ استعمال کرتے ہیں “
” اور پاپا آپ پارٹی کی دستار کا رنگ بھی بتا ہی دو “
” یہ نئی پارٹی اپنے آپ کو بھگت سنگھ کا جاں نشین مانتی ہے اس لیے اس کے کارکن بسنتی رنگ کی پگڑیاں سجانے میں فخر محسوس کرتے ہیں“
” پاپا جی میں دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ گُلابی رنگ بھی پسند کرتے ہیں !!! ۔۔۔“
گُلابی رنگ بیٹا مسرت و فرحت کی علامت ہوتا ہے اس لیے بیاہ شادی کے موقع پر لڑکا اور لڑکی یعنی دونوں طرف کے رشتے دار اسی رنگ کی پگڑیاں باندھتے ہیں۔۔۔ اور جو پگڑی دولھا راجہ پہنتا ہے اسے بھلا کیا کہتے ہیں؟ “
”کیا کہتے ہیں ؟ ”
” اسے بیٹا چیرا کہتے ہیں“
اسی اثنا میں زیر لب مسکراتے ہوئے اس کی ماں دو پیالے چائے کے رکھ گئی اور ساتھ میں کچھ بِسکُٹ بھی۔ دراصل بیٹا مجھ سے آنکھ چراتا تھا اور کئی دنوں سے جوڑا کٹوانے کے لیے اپنی ماں کی رضامندی حاصل کرنے کے واسطے ان پر زور ڈال رہا تھا اور وہ بار ہا یہ سب میرے گوش گزار کر رہی تھیں۔
”پھر تو سیاہ رنگ کا بھی کہیں نہ کہیں استعمال ضرور ہوتا ہوگا “ بیٹے نے گرم گرم چائے کا پیالہ منہ کو لگاتے ہوئے پوچھا جیسا کہ اس کی عادت ہے گرم گرم چائے کی چسکیاں لینے کی۔۔۔
”ہوتا ہے لیکن بہت کم۔۔۔نہ کے برابر۔۔۔ کچھ لوگ اس رنگ کی دستار شوقیہ طور پر باندھتے ہیں۔۔۔ ویسے سیاہ رنگ ماتم کی علامت ہے “
” اچھا جی!!!۔۔۔ مجھے تو اس کا علم ہی نہیں تھا “ بیٹے نے حیرانی جتائی۔
” اور سُن۔۔۔ عربی مدارس میں تعلیم سے فارغ ہونے پر طلبہ کے سر پر جو پگڑی باندھی جاتی ہے اسے کیا کہتے ہیں…؟ ” اونہہ… ہوں…. یہ بھی آپ ہی بتا دیں تو اچھا ہے ….. “
”اسے دستار ِ فضیلت کہتے ہیں۔۔۔ یہ تکمیل تعلیم کی سند گردانی جاتی ہے“
”کیا کہنے!!!۔۔۔ بہت خوب۔۔۔“ بیٹے کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
” ویسے دُنیا دستار کو سِکھ مذہب ہی سے جوڑ کر دیکھتی ہے “
” وہ کیوں “
” وہ اس لیے کہ باقی اقوام اور مذاہب کے لوگ دستار کو گاہے بگاہے، کسی بیاہ شادی یا پھر کسی میلے تہوار پر ہی پہنتے ہیں جب کہ سِکھ اسے ہر وقت سجا کر چلتے ہیں۔۔۔ ایک طرح سے یہ سِکھ مذہب کا طرہ ء افتخار بھی ہے جسے باقی لوگ بہت ادب و احترام سے دیکھتے ہیں “
” دوسرے رنگوں کی دستار سجانے کی کیا مناہی ہے پاپا؟ “ بیٹے نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
”نہیں بیٹا۔۔۔کسی رنگ کی کسی کو مناہی نہیں ہے۔۔۔ یہی تو جمہوریت ہے کہ یہاں کسی بھی قوم اور مذہب کے لوگ کچھ بھی زیب تن کر لیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔۔۔ “
” مثلاََ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کالجوں کے طلباء گونا گوں رنگوں کی دستار سجاتے ہیں۔۔۔ “
” جی بہت خوب “ محو ِ گفتگو بیٹا اس مذاکرے سے مطمئن تھا۔ اب اس کے چہرے کی آب و تاب دیکھنے لائق تھی۔ لگتا تھا کہ کاکل پیچاں سنوارنے کا تصور اس کے ذہن سے نو دو گریاہ ہو گیا تھا۔ خیر…..
اگلے دن مجھے ایک ہفتے کی ٹریننگ کے لیے چنڈی گڑھ جانا پڑا۔ میں اتوار کو ہی گھر سے نکلا اور مجھے اگلے اتوار کو ہی لوٹنا تھا۔ٹریننگ کے بعد، اس دن جب میں گھر لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گھر کا صدر گیٹ کھلا ہوا تھا، گیٹ پر پھول غبارے لٹک رہے تھے اور اندر دھیمہ دھیمہ سنگیت بج رہا تھا۔کچھ لوگ اس پر تھرک رہے تھے۔۔۔ یہ نظارہ دیکھ کر ایک بار تو میں مبہوت ہی رہ گیا کہ کیا واقعی یہ میرا ہی گھر ہے !!!۔۔۔
مجھے دیکھتے ہی سارا گھر میری جانب لپکا۔۔۔ لگتا تھا وہ سب میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ شاید۔۔۔ شاید اس لیے کہ جب میں رستے میں تھا تو بیٹا بار بار فون کرکے میری لوکیشن پوچھ رہا تھا کہ پاپا جی آپ کب تک گھر پہنچ جاؤگے۔ وہ ہجوم مجھے جفی ڈال کر گھر کے اندر لے آیا۔ گھر میں انواع و اقسام کے پکوانوں کی خوشبوئیں آ رہی تھیں۔ان بہترین کھانوں کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا رہی تھیں اور منہ میں پانی آ رہا تھا۔ میرے اور بیوی کے سبھی بہن بھائی مع اہل و عیال تشریف فرماں تھے۔مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھاکہ آخر یہ اتنا بڑا مجمع ہے کس واسطے؟
” او بئی! کوئی مجھے بھی تو بتاؤ کہ یہ کس بات کی خوشی منائی جا رہی ہے ؟؟؟۔۔۔ “
” اواخر مجھے بھی تو پتہ چلے کہ ماجرا کیا ہے ؟؟؟۔۔۔ “
” اجی تنک ٹھہریے۔۔۔ ابھی پتہ چل جائے گا سردار صاحب۔ بس آپ بھنگڑا ڈالنے کے لیے تیار ہو جائیے۔۔۔ “ میرے سالہ صاحب نے ذرا اونچی آواز میں کہا تو وہاں یک دم خاموشی چھا گئی۔ اتنے میں میری سالہ ہار (سالے کی بیوی) ایک سوہے رنگ کی دستار لے آئی اور وہ میرے سالہ صاحب کو پکڑا دی۔
سالہ صاحب نے اس دستارکو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑکر اور اسے ذرا کھینچ کر اس کا جائزہ لیا، پھر بلند آواز میں نعرہ لگایا۔۔۔
”بولے سو نہال۔۔۔ ست سری اکال۔۔۔“ اور ا گلے ہی لمحہ وہ دستار اس نے میرے بیٹے کے سر پر باندھ دی۔۔۔
تب کہیں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ یہ دستار بندی کی رسم منعقد کی جا رہی ہے۔۔۔
فرط مسرت میں میَں نے اپنی باہیں پھیلا دیں….. بیٹا بھاگ کر میرے سینے سے چمٹ گیا….. ایسے میں اس کی ماں بھی ہم سے لپٹ گئیں…..
پھر ؟؟؟….. پھر کیا ….. !!!….. ڈھم ڈھما ڈھم…. ڈھم ڈھما……

ختم شد…..
________________________________

افسانہ :دستار ایک شناخت
افسانہ نگار :ملکیت سنگھ مچھانا
تبصرہ :نثارانجم
– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –
دنیا کی تمام قومیں آہستہ آہستہ اپنی ثقافتی پہچان کھوتی جارہی ہیں۔
ترقی کا مطلب destroy of basic identity نہیں ہونا چاہیے…… جب حساس لوگ اس پر غور کریں گے تو *دستار…. ایک شناخت* وجود میں آئے گا اور فکر کے در وا ہوں گے…..
میرا خیال ہے کہ عقل ایسی تمام چیزوں کو رد کرتی جارہی ہے جہاں ثقافتی تصادم میں ثقافت کے وہ تمام رنگ ہاۓ نشانیوں سے رنگ اتر رہا ہے…… اور ان پر ایک عقلی رنگ چڑ ھ رہا ہے….. تہذیب کی اس رنگا رنگی اور بو قلمونی میں ہی ایک ریاست کا حسن ہے۔
Follow one and respect all
کو نظریہ حیات مان کر یہ سفر وادئ سندھ کی تہزیب سے ہم مسلسل concise tools of mutual civilisation کی طرف رجوع کرتے چلے أرہے ہیں۔
دستار کسی ایک قوم کی ہی شناخت نہیں بلکہ دستار اپنے الگ الگ رنگوں کے ساتھ کہیں خاص موقعوں کے لۓ مخصوص کرلیا گیا ہے اور کہیں زندگی کا اٹوٹ حصہ بن ایک عقیدے کے طور پر باقی ہے یا اس کا اثر اجتما عی زندگی پر نہیں ہے۔
افسانہ نگار مغرب کی تیز أندھی اور تقلیدی ذہن کے تحت معدوم ہوتے ان ثقافتی شناخت کو نسل در نسل پرواں چڑھانے کاخوگر ہے جو اہستہ اہستہ نئ نسل بھولتی جارہی ہے۔چمکدار عقلی تہذیب کے زیر اثر اپنی کلچرل جڑوں کے تعلق سے احساس کمتری بڑھ رہی ہے۔ کیس کاٹنے کی اسی عقلی تہذیب کو اپنی جڑوں کی طرف مراجعت کرانے کے پیام کے ساتھ افسانے میں ایک فکر ہے جو ثقافتی بقا کے حوالے سے أیا ہے۔
دستار سکھ قوم کی پہچان اور فخر کی علامت کے علاوہ ان کی مقبولیت کی وجہ بھی ہے۔ جو اسے نئ نسل کی زندگی میں ایک نشانی کے طور پر باقی رہنا چاہیۓ۔اسی سوچ پر افسانے کا تھیم ہے۔
“کڑا اور کیس” والا وہ سکھ کہاں ہے جو اس کی اپنی ثقا فتی diginity اور شناخت ہے ۔ ایسی خاتون بھی تو اب خال خال ہیں جن کے نام کے ساتھ ’کور‘جیسا کلچرل پور ٹ فولیو لگا ہوا ہو۔
آج سکھ مذہب کو دنیا کے پانچویں بڑے مذہب کا درجہ حاصل ہے۔ دنیا بھر میں سکھ آبادی تقریباً 3 کروڑ کو پہنچنے والی ہے۔وفاداری اور قول و عہد کو اجاگر کرنے والا دستار اب ایک شناخت کی حیثیت سے مغرب کی تقلید میں گم ہوگیا ہے۔اسی دکھ کو ملکیت سنگھ کہانی میں پرو کر اس روایت کو باقی رکھنے کی ایک شدید خواہش کے ساتھ افسانے میں نظر اتے ہیں۔تہذیبوں کی خلیج میں دو نسل اس کی بازیافت کے لۓ آمنے سامنے ہیں۔نئ نسل اس کی اہمیت کو یا تو نہیں جانتی یا پھر تہذیبوں کی ہوڑ میں اپنی شناخت بھولتی جارہی ہے۔
یہ دراصل بھولے ہوۓ سبق کی یاد دہانی ہے ۔نئ نسل کی زندگیوں میں اس شناخت کو باقی رکھنے کی سعی جمیلہ ہے جو بڑی مشکلوں سے حاصل ہوئی ہے۔
سکھوں کے 10 گرو ہیں۔ان کے دور سے کیس کڑا اور دستار کی روایت چلی أرہی ہے ۔ پہلے گرو، ’بابا نانک صاحب‘ اور آخری گرو ’گوبند سنگھ ہیں۔
اب سکھوں کی مقدس کتاب ’گرو گرنتھ صاحب‘ کو سکھوں کے ’گرو‘ کا مقام حاصل ہے۔ سکھ اپنی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کے آگے ماتھا ٹیکتے ہیں۔
۔شناختی بحران کے شکار اور نۓ ماحول میں اجنبیت محسوس کرنے والے کو بڑی محبت اور مشفقانہ انداز میں یہ بتایا جاتاہے کہ کیس بال نہ کاٹے جائیں اس لۓ کہ تمام گرو بھی بال نہیں کاٹتے تھے۔ سکھوں کی یہ مذہبی علامت اور شناخت ہے۔تمام لوگوں نے اپنی شناخت کو مغرب کے عقلی رنگ سے رنگ لیا ہے ۔
یہی تو وہ قوم ہے جو اپنی شناخت کے ساتھ پہچانی جاتی ہے۔
اپنی زندگی کے اندر پا نچ علامتوں کو شناختی طور پر اختیار کرنا ایک مقدس اور لا زمی فریضہ ہے ۔ ککار کیس لمبے بال رکھنا , کنگھا کرنا ,کڑا پہننا ,کرپان رکھنا پگڑی صافہ اور کچھا باندھنا۔
سکھوں کے دسویں گرو،نے پانچ ککار *پانچ کاف* کو سکھوں کو اپنی زندگی کا لازمی اختیاری عمل بناۓ رکھنے پر زور دیا ہے۔لیکن یہ سب رنگ زندگی سے اتر رہا ہے۔
سر پر نارنگی رنگ کا صافہ پہنے مرد، عورتیں اور بچے اور گرنتھ صاحب کے آگے ماتھا ٹیکتے اکثر سکھ اپنے عمومی شنا خت. والے حلیے میں کہاں نظر آرہے ہیں ، ایسا کیوں؟
سکھوں کے 5 لازمی امور کی پابندی کرنا ضروری تھا جو تہذیبی اور ثقافتی تصادم تقلید میں یہ شناخت گم ہوتی جا رہی ہے۔ خواتین کے کے نام کے ساتھ کور لفظ کا جُڑ جا نا ایک اعزاز کی بات ہے۔یہ اعزاز اس مخصوص قوم کی زندگی میں ان کی عظمت کی چھاتیوں پر کہاں ہیں ؟۔
10ویں گرو، گرو گوبند سنگھ کے فرمان کی موقعہ موقعہ سے یاد دہانی کرانے والے وہ گارجین کہاں ہیں؟۔نئی نسل ایک خاص ماحول میں چمکدار اور مغربی تہذیب کے فریب میں گر فتا ر اپنی ثقافتی شنا خت کو اپنانے میں شناختی بحران کا شکار ہے۔

کیس یعنی بال نہیں ترشوانا اور ان کو دستار یا پگڑی میں باندھے رکھنے میں نئ نسل اجنبیت کی شکا رہے۔
اس کو اپنانے میں ایک بوجھ خیال کرتی ہے…. Why استفہام کرنے کے بجائے It is necessary to existence اگر سمجھ جائے تو ان کے لیے اور پھر ان کے بعد کی نسل کے survival کے لیے بہتر ہے
ملکیت سنگھ مچھانا جی کے لیے ڈھیروں مبارک باد پیش ہے

لکڑی کا کنگھے سے دن میں 2 مرتبہ بالوں میں کنگھا کرنا کی یاد دہانی والی نسل بھی تو اسی مغر بیت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔

اسٹیل کا کڑا، کچھا ,کرپان چھوٹی تلوار کہاں ہے؟
اڑتے پنجاب میں تو
مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہے ۔قانونی اختیار ہے جبر بھی نہیں پھر ہمارے یہ بچے اپنا کیس کٹوانے کے لۓ کیوں logic پیش کررہے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں!احمد رشید کاافسانہ : “کھوکھلی کگر”ایک تجزیہ از:نثارانجم)

Previous articleپشاور ایکسپریس از: کرشن چندر
Next articleمحرم الحرام ویوم عاشورا کی فضیلت و اہمیت از: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

5 COMMENTS

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here