افسانہ ‘‘بے ربط سانسوں کا سلسلہ‘‘ از : ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی

0
71

ہولڈنگ نمبر گ1/Âگلی نمبر 23،کیلابگان،جگتدل،شمالی ۲۴پرگنہ،مغربی بنگال،پن کوڈ:743125

عاشورہ کی صبح ہے۔!افق پر دھیرے دھیرے سپیدی پھیل رہی ہے۔سبز، سرخ ،سیاہ اور سفید نشان ہوا میں لہرارہے ہیں۔ریت کے ٹیلے سے مرثیئے کی آواز آرہی ہے۔

’’اپنی گردن میری گردن سے ہٹا لو امّاں‘‘
پرندے گھونسلے سے نکل کر مشرق کی طرف جارہے ہیں۔ان کے معصوم بچے گھونسلے میں اپنے والدین کی واپسی کے منتظر ہیںکہ وہ آج رزق نہیں زندگی کی تلاش میں جارہے ہیں۔ !کھیت میں بہت دور دور تک بجوکا کہیں نظر نہیں آیا۔نشان کے مستول پر لہراتے چاند، تارہ اور پنجے کا نشان۔۔۔!

اب صبح کی سپیدی میں چمک آگئی ہے۔تاحد نظر ریت اور ریت کے ٹیلے۔!آدم نہ آدم زاد ۔!
خیمے نصب کرنے کا حکم ملا۔
بیبیاں ایک جگہ سر نیہوڑائے بیٹھ گئیں۔معصوم بچے ریت پر دوڑ رہے ہیں۔تھوڑی دور ایک ندی سوئی ہے۔ندی کا پانی صاف و سفاف ہے۔سورج کی کرنیں اپنی تمازت کے ساتھ نمودار ہوئی ہیں۔پرندے نشان کے مستول پر منہ آمنے سامنے کرکے بیٹھ گئے ہیں۔جیسے کسی سنجیدہ موضوع پر گفتگو ہورہی ہے ۔اتنے میں ایک آہٹ سنائی دی۔۔۔۔نگاہ اوپر اٹھی۔۔۔۔۔!
ریت کے بگولے۔۔۔۔!!

بگولے قریب آتے گئے۔۔۔۔۔پھر کارواں گذر گیا۔۔۔۔!
چھوڑگئے قدموں کے نشان۔۔۔۔!!
ریت کے بگولے سے ندی کا سفاف پانی گھولاہوگیا۔سر نیہوڑاے بیبیاں ایک دوسرے سے کہہ رہی ہیں۔
’’کھیت میں جب ایک فصل کھڑی ہوتی ہے۔اس وقت کھیت میں چھوٹے چھوٹے جنگلی پودے اُگ آتے ہیں۔ان کو weeds کہا جاتا ہے۔جو کھیت کی زرخیزی کو چوس کراپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔جس کے باعث مٹی کی زرخیزی کم ہونے لگتی ہے اور کھیت میں کھڑی فصل متاثر ہونے لگتی ہے۔اس لیے فجی سائڈ کا جھڑکائوکیاجاتا ہے جس سے صرف غیرضروری پودے ہی مرتے ہیں۔اصل فصل متاثر نہیں ہوتی ہے۔!‘‘ادھر اسپتال کے برآمدے میںدونوں محوے گفتگو ہیں۔

’’دیکھو۔۔۔اب ہماری ایک الگ دنیا ہے۔اس کے دستور ابھی مرتب نہیں ہوئے ہیں پر مرتب توکرناہوگاکہ سب ہمارے اپنے بے گانے ہوگئے ہیں۔ سورۃ القیامت کا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے ہے۔سب نفسی نفسی کے عالم میں ہیں۔سورج سوانیزے پر آگیا ہے۔ہسپتال میںبیڈ اور آکسیجن سلینڈر ختم ہوگئے ہیں۔میڈیشن کورنر پر پاراسیٹامول کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔‘‘
اس نفسانفسی کی حالت میں امام کا وعظ یاد آیا ۔

’’ایک دن دجال آئے گا۔سب کو ایک ایک کرکے اپنی گٹھری میں رکھ کر بانسری بجاتے ہوئے پہاڑ کی اس جانب چلاجائے گا۔جو گٹھری سے باہرہوں گے وہ پیچھے پیچھے اس بانسری والے کے ساتھ ہولیں گے۔‘‘ریت پردوڑتے ایک ہوش مند بچے نے کہا۔
’’دجال آگیا ہے۔سب کو پکڑپکڑ کے اپنی گٹھری میں رکھ رہا ہے۔!‘‘دوسرے نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اے خداہر فیصلہ تیرا مجھے منظور ہے
سامنے بندہ تیرا مجبور ہے
تنویر بابو کو بارہ گھنٹے کے بعد آکسیجن سلینڈر اور بیڈ ملنے کا امکان روشن ہوا ہے کہ مختصرتعداد میں بیرونی امداد آگئی ہے۔ہسپتال میں ایک انار سو بیمار والی کیفیت ہے۔سب کواپنی پڑی ہے۔کوئی کسی کا پرسان حال نہیں۔اپنے منہ موڑ لیے ہیں۔مہربند لاش کا کوئی وارث نہیں ہے۔ تنویربابو کو بیڈ اور آکسیجن کے انتظار میںبرگد کے نیچے سوے بارہ گھنٹے ہونے کو آئے ہیں۔ خون میں آکسیجن لیبل ۴۶ سے نیچے چلاگیا ہے۔بے ربط سانسوں کاسلسلہ ۔۔۔۔۔اکھڑتی سانسیں۔۔۔۔اور ڈوبتی امیدیں۔۔۔۔۔!اتنے میں نرس نے آواز لگائی۔
’’ تنویربابو۔۔۔۔بیڈ نمبر سات پر چلے جائو۔آکسیجن سلینڈر ابھی تھوڑی دیر کے اندر بیڈ پر پہنچ جائے گا۔‘‘ تنویربابودیوار پکڑ کرکانپتے قدموں سے نرس کے پاس آئے اورڈوبتی ابھرتی سانسوں کے ساتھ کہا۔

’’ میڈم۔! آپ تو جانتی ہیں کہ میں نوے سال کا ہوں۔ اپنے حصے کی زندگی جی لیا ہوں۔۔۔کچھ خواہشیں ادھوری ضرور رہ گئی ہیںلیکن سامنے والے اٹھارہ برس کی جوانی کو ابھی بہت بہاریں دیکھنی ہیں۔آکسیجن لیبل گرے تو گرے انسانیت کا لیبل نہ گرے۔میں باہر برآمدے میں جارہا ہوں۔گھبرانا مت میں اپنی منزل پر آج شام تک پہنچ جائوں گا۔ایساکروپاراسیٹا مول کی چند گولیاں اور ایک بوتل پانی دے دو۔سفر میں کام آئے گا۔۔۔!! ‘‘اس کے جانے کے بعدنرس کے ذہن میں بار بار اس جملے کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔
’’ میرے حصے کا بیڈ اور آکسیجن سلینڈر اس کو دے دو۔!‘‘
اس نے پلٹ کرپیچھے کی طرف کھڑی سے باہردیکھا۔
سرخ ،سیاہ اور سفید نشان باہم ہوا میں لہرارہے ہیں اوررشتوں کے ملبے پر سے مرثیئے کی آواز بدستورآرہی ہے۔!!

Previous articleآئینے میں ہے آئینہ ساز از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
Next articleمرزا غالب ؔ کا ایک نادر خط ،الہ آباد میوزیم میں محفوظ از: پروفیسر صالحہ رشید

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here