ساس اوربہوخاندان کےلئےرحمت_قسط نمبر(1)

0
192

محمدعلی جوہرسوپولوی

mdalij802@gmail.com

ومن ایته ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ………
’’اوراللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی قسم سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کے پاس چین سے رہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی رکھی…“
نکاح در حقیقت صرف دوشخصوں کا اجتماع اور ملاپ نہیں، بلکہ دو خاندانوں کا ایک ساتھ جڑ جانا ہے، اور بالکل اسی طرح معاملہ کرنا ہے، جیسے کہ: شادی سے پہلے ہر کوئی اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ کرتا تھا… داماد کا اپنی ساس کے ساتھ اور بہو کا اپنی ساس کے ساتھ، اس طریقہ سے ہر ایک آپس میں میل محبت سے رہیں اور ساس بہو تو خاندان کے لئے ایک بڑی رحمت ہیں، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ ساس بہو کو بیٹی اور بہو ،ساس کو ماں کا درجہ دے کیوں کہ یہ شادی اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے…یہ متمدن زندگی کی پہلی اینٹ ہے اور اس سے ایک نیا خاندان وجود میں آتا ہے… یہ تعلق جو زوجین کے درمیان پیدا ہوتا ہے اس کا دونوں خاندانوں کے افراد پر براہ راست اثر ہوتا ہے… اور اس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کے درمیان پیار، محبت، گرم جوشی اور قربت کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے… اس طرح یہ دونوں خاندان ایک ہی خاندان کی صورت اختیار کرجاتے ہیں……
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے’’مصاہرت‘‘ یعنی سسرال کے تعلق کی بنیاد پر آدمی کا اپنی ساس کو اللہ تعالیٰ نے محض عقد نکاح کے ساتھ ہی ماں کا درجہ دیا ہے، تاکہ گھر کے اس نوواردفرد کے دل سے ہر قسم کے شک و شبہ کو کھرچ ڈالا جائے… لیکن اسلام میں ساس کے اس عظیم مرتبے کے باوجود ہم دیکھتے ہیں ،کہ بعض گھرانوں میں ساس اور بہو کے اختلافات کی وجہ سے بہت سے مسائل پیش آتے رہتے ہیں……
بہو کو ساس سے شکایت اور ساس کو بہو سے شکایت رہتی ہے اور بیٹا دونوں کا مشق ستم بنتا ہے جیسے ہی رات کو سونے کے لئے بستر پر آیا شوہر کی ماں اور دیگر اہل خانہ کی دسیوں شکایتیں بیوی نے گنوادیں، اس کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ آخر ساس شوہر کی ماں ہے، ماں خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو… لیکن اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ ماں اپنے اس جگر گوشے کیلئے اپنے دل میں کیا احساسات رکھتی ہے، جس کا وجود ہی ماں کا مرہونِ منت ہے، جسے اس نے جنم دیا، اس کی تر بیت کی اور پال پوس کر جوان کیا… یقینا ہر ماں جانتی ہے کہ ایک دن اس کا بچہ یا بچی اس سے الگ ہو جائیں گے لیکن وہ اس کیلئے تیار نہیں ہوتی……
ماں سمجھتی ہے کہ ابھی اس کا بیٹا اتنا ذمہ دار نہیں ہے کہ اپنے معاملات خود چلا سکے… چناں چہ اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بیٹے کے لئے سب کچھ وہ خود ہی کرے، اور بسا اوقات جب وہ کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے ،تو ماں اسے روکتی ہے ، اور اس کام کے لئے خوددوڑتی ہے… اسی طرح وہ خود اپنے آپ کو بھی اس بات کا عادی نہیں بناپاتی کہ وہ بچے کی ذاتی زندگی سے بے دخل ہوجائے…
اس کی نظروں میں وہ ایسا بچہ ہوتا ہے، جو اس کی مدد کا محتاج ہے… ایک ماں کو جس بات کا سب سے زیادہ خدشہ ہوتا ہے،د وہ یہ کہ بیٹے یا بیٹی کی شادی کے بعد وہ اپنے اس مقام سے محروم ہوجائے گی جو اس کو پہلے سے حاصل تھا: یعنی بیٹا یا بیٹی پہلے صرف اس کے لئے تھے، لیکن اب ایک اور فرد بھی اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا……
اس کا یہ خوف بہت حد تک بجا ہے، کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ وہ اپنے مدمقابل کے ساتھ ٹکر نہیں لے سکتی……
بیٹے کی صورت میں اس کی مد مقابل، بیٹے کی نئی نویلی دلہن ہوتی ہے اور بیٹی کی صورت میں، بیٹی کا شوہر ہے… اگر چہ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ لڑکی اپنی مخصوص فطرت کی بنا پر شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی شوہر کے مقابلے میں اپنے والدین کے ساتھ تعلق کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے……
ہم ان جذبات واحساسات سے بھی چشم پوشی نہیں کر سکتے، جن سے ایک ماں کا دل ہر وقت لبریز ہوتا ہے… اس لئے بہو اور داماد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ساس کے ان جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں……
ایک بہو کو اپنے دل سے پوچھنا چاہئے کہ خود اس کے دل میں اپنی والدہ کے لئے کیا جذبات ہیں ، اور والدہ کی اس کے ساتھ کتنی محبت ہے؟ کیا یہ جذبات شادی کے بعد یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں؟
گھروں میں پیدا ہونے والے اکثر مسائل کا سبب یہ ہوتا ہے کہ بیٹی اپنی ماں کے ساتھ شادی سے پہلے جو تعلق رکھتی ہے، شادی کے بعد بھی اس کو برقرار رکھنا چاہتی ہے… وہ چاہتی ہے کہ روزانہ اپنی ماں کے پاس جایا کرے یا دن میں کئی کئی بار اس کے ساتھ ٹیلی فون یا موبائل پر بات کیا کرے.. وہ چاہتی ہے کہ اپنے نئے گھر کو بھی اسی انداز میں چلائے جس طرح کہ اس کی والدہ اپنے گھر کو چلایا کرتی تھی……
_______جاری______

Previous articleنظم ” ویر بچے ” از ڈاکٹرالتفاتؔ امجدی
Next articleمضامینِ اکبر الٰہ آبادی : از قطب الدین اشرف

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here