اسکول و کالج میں پڑھنےوالےبچوں کی دینی تربیت عصرحاضرکی سب سےاہم ضرورت

0
43

اس گہری کھائی کو پاٹنے والا کلکتہ کا مردِ آہن، رخ میرا بنگال کی جانب
قیام الدین قاسمی سیتامڑھی

کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں، اور نوجوانوں کی نوے سے پچانوے فیصد تعداد اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے لہذا ان کی دینی و فکری تربیت وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان کی دینی تعلیم و تربیت کے انتظام کے لیے مسلم ارباب حل و عقد اپنے اسکول و کالجز قائم کرتے لیکن کئی بار ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے ہیں کہ ہر علاقے میں اسکول قائم کرسکیں اس کے بعد ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ یہ کہ ان کے خالی اوقات اور پارٹ ٹائم کو کام میں لاکر ملت کی تعمیر میں کام آنے والا فرد بنایا جائے، ان نوجوانوں میں ایک بڑی تعداد مسلم بہنوں کی ہے جو کہ نہ صرف قوم کا ایک عظیم سرمایہ بل کہ قوم کی نسلوں کی محافظ بھی ہوتی ہیں، لہذا ان کی تربیت نوجوان لڑکوں سے زیادہ ضروری اور وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے، اور سب سے اہم تقاضے کو پورا کرنے والا سب زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور اس قیمتی مرد آہن کا نام ہے مولانا اشرف علی قاسمی سیتامڑھی مقیم مومن پورہ کلکتہ ویسٹ بنگال۔
مولانا کے ادارے کا نام ہے معہد سمیہ للبنات (کوبی کھیت مومن پورہ کلکتہ) جسے انہوں نے 2010 میں قائم کیا تھا، تقریباً چار کمروں پر مشتمل یہ ان کا اپنا فلیٹ ہے جہاں ہر عمر کی بچیوں کے لیے ان کی سہولت کے مطابق ہفت روزہ، پندرہ روزہ سمر کیمپ، دو ماہی، سہ ماہی ششماہی سے لے کر سال، دو سال اور پانچ سال پر مشتمل کورسز کروائے جاتے ہیں، اسکول و کالج میں پڑھ رہی بہنوں کو دینی تعلیم و عقائد سے آراستہ کیا جاتا ہے اور انہیں اسلامی اخلاقیات و اقدار و اعمال کی عملی مشق کروائی جاتی ہے، صبح آٹھ نو بجے پہلی کلاس شروع ہوتی ہے اور شام آٹھ نو بجے تک دس سے زائد معلمات مختلف شفٹس میں تدریس کا فریضہ انجام دیتی ہیں، اور الحمدللہ اس ادارے نے اتنے کم عرصے میں اتنی ترقی کی ہے کہ یہاں کی کئی فارغات اپنے علاقوں یا شادی کے بعد سسرال میں اس طرح کے کورسز کی داغ بیل ڈال کر نئی نسل کو دینی تربیت سے بہرہ ور کررہی ہیں، یقیناً مولانا کا یہ کام لائق تقلید ہے، اللہ سرزمینِ ہند و بیرون ہند میں ان جیسے سینکڑوں علماء کو یہ کام کرنے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ امت کا مستقبل تاب ناک ہوسکے۔
کسی مقصد سے ہم تینوں اساتذۂ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر ( فوٹو میں دائیں سے: حافظ و ڈاکٹر حفظ الرحمٰن صاحب، مولانا اشرف علی قاسمی صاحب، مولانا نور الدین ندوی اور بندہ) کا کلکتہ جانا ہوا، کلکتہ روانہ ہونے سے پہلے خبر کیا تو مولانا نے رہنمائی بھی کی، اور پرتپاک استقبال کے ساتھ ساتھ شاندار ضیافت بھی کی، رات کو تقریباً ایک بجے بائک کے ذریعے کلکتہ کے اہم مقامات کی سیر بھی کرائی اور دن میں بھی شاپنگ وغیرہ میں ہمارا ساتھ دیا، حالاں کہ مولانا سے میری بالمشافہ ملاقات کبھی نہیں رہی (سوائے ایک بار امارت میں علیک سلیک کے) بس وہ میرے مضامین کے قاری ہیں اور مشن تقویتِ امت کی سرگرمیوں کو دیکھ کر ان کے دل میں بندے کی تئیں محبت کا جذبہ پیدا ہوا، ایک مرتبہ فون پر رابطہ کرکے ہمارے کاموں کو خوب سراہا اور ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا، لیکن جب اس بار کے سفر میں ہم نے مولانا کی محنت و لگن اور ان کی جد جہد کا مشاہدہ کیا تو پتہ چلا کہ مولانا ہم سے کہیں زیادہ سرگرم عمل ہیں، مولانا صرف درس و تدریس تک محدود نہیں بلکہ کلکتہ کے مسلمانوں کے درمیان رفاہی اور سیاسی کاموں میں بھی شریک رہتے ہیں ، اور کئی سارے خیر کے کاموں میں بذات خود بھی حصہ لیتے ہیں اور دیگر تنظیموں اور تحریکوں کے ساتھ معاونت اور کولیبوریشن کے ذریعے بھی ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنی شرکت درج کرواتے ہیں۔
مولانا ایک لمبے عرصے تک اسی علاقے کی ایک بڑی مسجد کے امام بھی رہ چکے ہیں، ان سے ملاقات و تفصیلی گفتگو کے بعد ان کی ایک بہترین خوبی ہمیں یہ محسوس ہوئی کہ اتنے سارے تعلقات اور کاموں کی باوجود ان کے اندر رتی بھر ایٹیٹیوڈ نظر انہیں آیا، اخلاص، نرم گوئی اور خوش اخلاقی کا ایک عظیم پیکر محسوس ہوئے، اتنے بڑے فلیٹ کو قوم کی بیٹیاں سنوارنے کی خاطر وقف کرکے چھ اولادوں اور بیوی کے ساتھ ایک روم پر مشتمل فلیٹ میں قیام پر اکتفا کرنا کم از کم مجھ جیسے کم ظرف کے بس کا روگ تو نہیں، سب سے بڑے فرزند عزیزم زید سلمہ ابھی بی اے ایل ایل بی کررہے ہیں، دعا کریں کہ اللہ مولانا کی خدمات جلیلہ کو قبول و مقبول فرمائے اور ان کی نسلوں کو اور ہمیں بھی اپنے دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔
اخیر میں ان تمام لوگوں سے جو اپنے مکان میں یا کرائے پر ادارہ کھولنے، چلانے اور استقامت کے ساتھ لگے رہنے کی استطاعت رکھتے ہیں، عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ دین کے مختلف جہات اور ملت کی مختلف خدمات میں سے اس جہت و خدمت کو اپنی سب سے پہلی ترجیح بنائیں کیوں کہ مسلم دشمن طاقتوں کا سب سے پہلا نشانہ ہماری بہن بیٹیاں ہیں، اور وہ پہلا نشانہ اس وجہ سے ہیں کہ ان کی آبادی و بربادی صرف ان کی نہیں بل کہ ان کی کوکھ سے پیدا ہونے والی پوری نسل کی آبادی یا بربادی کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔

qiyam308@gmail.com
7070552322

Previous articleموجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں
Next articleشدید گرم موسم میں عام انتخابات کی تاریخ کون متعیّن کرتا ہے؟