اسلامی سال کی ابتدا اور یوم عاشورہ کی فضیلت از: رازداںشاہد

1
180

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلامی چار حرام مہینوں میں سے ایک ہے جن کا تقدس اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں قائم کیا ہے۔ دینا میں مہینوں کا حساب قمری یا شمسی سسٹم سے لیا جاتا ہے دنیا میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے اپنے کیلنڈر بنائے ہوئے ہیںجو کچھ قمری ہیں توکچھ شمسی اور کچھ دونوں کا ملغوبہ ہیں جن پر وہ عمل کرتے ہیں۔اسلامی کیلنڈر کے حساب سورج کے غروب ہونے پر دوسرا دن شروع ہوتا ہے جبکہ انگریزی کیلنڈر میں رات بارہ بجے دن ختم ہوتاہے اور اس کے بعد دوسرا دن شروع ہوتاہے اس وقت دنیا میں مہینے اور دنوں کے لیے انگریزی شمسی سسٹم کا کیلنڈر رائج ہے اسلام دین فطرت ہے لہٰذا اس کے دن مہینے اور سال بھی فطری ہیں ہجری کیلنڈر رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے منسوب ہے جب رسول اللہﷺ نے صحابہ ؓ کے ساتھ ہجرت کی تو ہجری سال اس عظیم ہجرت کے ساتھ منسوب کر دیا گیا تاکہ رہتی دنیا میں یادگار رہے ۔اسلامی سال محرم سے شروع ہوتا ہے اور ذلحجہ پر ختم ہوتا ہے۔ ماہ محرم کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ سن ہجری(اسلامی سال) کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد سرور کائناتﷺ کے واقعہ ہجرت پر ہے؛ لیکن اس کا تقرر اور آغاز واستعمال 17 ہجری میں عہد فاروقی سے ہوا۔ یمن کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس سیدنا عمر فاروقؓ کے احکامات آتے تھے جن پر تاریخ کا اندراج نہیں ہوتا تھا چنانچہ 17 ہجری میں ابو موسیٰؓ کے توجہ دلانے پرسیدنا عمرفاروقؓ نے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا۔ اس میں مشورہ دینے والے صحابہء کرام ؓ کی طرف سے چار قسم کی رائے سامنے آئی:اکابر صحابہؓ کی ایک جماعت کی یہ رائے تھی کہ آپ ﷺکی ولادت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔ دوسری جماعت کی یہ رائے ہوئی کہ نبوت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔ تیسری جماعت کی رائے ہوئی کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔چوتھی جماعت کی یہ رائے ہوئی کہ آپﷺکے وصال سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے۔ان چاروں قسم کی رائیں سامنے آنے کے بعد ان پر باضابطہ بحث ہوئی۔ پھر حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ولادت یا نبوت سے اسلامی سال کی ابتدا کرنے میں اختلاف سامنے آ سکتا ہے اور وصال سے شروع کرنا اس لئے مناسب نہیں ہے کہ وصال کا سال اسلام اور مسلمانوں کے غم اور صدمہ کا سال ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہو گا کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے اس میں چار خوبیاں ہیں:حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت نے حق و باطل کے درمیان واضح امتیاز پیدا کر دیا۔ یہی وہ سال ہے جس میں اسلام کو عزت اور قوت ملی۔ یہی وہ سال ہے جس میں نبی کریم ﷺاور مسلمان امن و سکون کے ساتھ بغیر خوف و خطر کے اللہ کی عبادت کرنے لگے۔۔ اسی سال مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی۔ان تمام خوبیوں کی بناء پر تمام صحابہ کرامؓ کا اتفاق اور اجماع اس بات پر ہوا کہ ہجرت کے سال ہی سے اسلامی سال کی ابتدا ہوئی۔طے یہ پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتداء محرم سے کی جائے؛کیونکہ ذوالحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا۔مسلمانوں کا سن ہجری اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ دوسرے مذاہب میں جو سن رائج ہیں وہ یا تو کسی شخصیت کے یوم ولادت کی یاد دلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ مسرت وشادمانی سے وابستہ ہیں۔ نسل انسانی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔جیسا کہ سن عیسوی کی ابتداء سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہے۔ یہودی سن حضرت سلیمان علیہ السلام کی فلسطین پر تخت نشینی کے ایک پر شکوہ واقعہ سے وابستہ ہے،روی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو ظاہر کرتا ہے۔ بکرمی سن راجہ بکر ماجیت کی پیدائش کی یاد دلاتا ہے؛لیکن اسلامی سن ہجری عہد نبوی کے ایسے عظیم الشان واقعہ کی یادگار ہے جس میں ایک سبق ہے کہ اگر مسلمان پر اعلائے کلمہ الحق کے لئے مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑ یں، سب لوگ دشمن ہوجائیں، اعزہ واقربا بھی اس کو ختم کرنے پر تل جائیں اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دئیے جائیں، تمام سربر آوردہ لوگ اسے قتل کرنے کا عزم کر لیں، اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے اس کی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کی جائے تو اس وقت مسلمان کیا کریںاسلام یہ نہیں کہتا کہ کفر وباطل سے مصالحت کر لی جائے یا حق کی تبلیغ میں مداہنت اور رواداری سے کام لیا جائے اور اپنے عقیدے اور نظرئیے میں نرمی پیدا کر کے ان کے اندر گھل مل جائے تاکہ مخالفت کا زور کم ہو جائے۔ نہیں!بلکہ اسلام ایسی بستی اور شہر پر حجت تمام کر کے ہجرت کا حکم دیتا ہے۔اسی واقعہ ہجرت پر سن ہجری کی بنیاد ہے ۔

محرم کی دسویں تاریخ کو عاشورہ کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں ’’دسواں دن ‘‘یہ دن اللہ تعالی کی خصوصی رحمت اور برکت کا حامل ہے یومِ عاشورہ کا دوسرا نام ’’یومِ زینت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس دن کا نام ’’یوم عاشورہــ‘‘ اس لئے رکھا گیا کہ اس تاریخ کو بہت سے اہم واقعات پیش آئے تو کئی دسویں تاریخیں جمع ہونے کی بناء پر اس کا نام ’’یوم عاشورہ‘‘ ہوگیا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عاشورہ کے دن کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں نبی کریم ﷺکے نواسے حضرت حسین ؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا،دس محرم الحرام 61ہجری کو جنت کے نوجوانوں کے سردار اور حضرت ﷺ کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو میدانِ کربلا میں شہید کیا گیا۔ اس ماہ کے آتے ہی اس واقعہ کی یاد تازہ ہو کر ہر مسلمان کی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اور یہ مہینہ اس واقعہ سے ہی شہرت پا گیا ہے۔اس شہادت کے پیش آنے کی وجہ سے عاشورہ کا دن مقدس اور حرمت و الا بن گیا ہے، یہ بات صحیح نہیں ہے خود حضورﷺ کے عہد مبارک میں عاشورہ کا دن مقدس سمجھا جاتا تھا ۔اور آپ نے اس بارے میںاحکام بیان فرماے تھے ،قران کریم نے اس حرمت کا اعلان فرمایا ہے ۔ لہذا یہ بات درست نہیں کہ عاشوراہ کی حرمت اس واقعہ کی وجہ سے ہے۔ بلکہ یہ تو حضرت حسین ؓکی فضیلت کی دلیل ہے کہ اللہ نے آپ کی شہادت کا مرتبہ اس دن عطا فرمایا جو پہلے سے ہی مقدس و محترم چلا آ رہا ہے ۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عاشورہ کی تاریخ میں امت کو یہ سبق دیا اور مستقبل میں آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ اللہ کا مخلص اور پکا بندہ وہ ہے جو چڑھتے سورج کا پجاری نہ بنے۔ جو نفاق اور دو رخا پن سے پاک ہو۔ دنیا اور متاع دنیا کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت و اہمیت نہ ہو جو خدا کی مرضی کے سامنے کسی کی مرضی پر راضی نہ ہو۔ جو مداہنت چاپلوسی اور نفاق و منافقت سے پاک ہو۔ جس کا مطمح نظر صرف اور صرف اعلاء کلمت اللہ ہو۔اور جس کی سوچ یہ ہو کہ۔
توحید تو ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے

یومِ عاشورہ کی تاریخی اہمیت
یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور عظمت کا حامل دن ہے، تاریخ کے عظیم واقعات اس سے جڑے ہوئے ہیں؛ چناں چہ مورخین نے لکھا ہے کہ:یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیاگیا۔ اسی دن حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی توبہ قبول ہوئی۔اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی۔اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو،،خلیل اللہ‘‘ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی۔ اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی۔ اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔ اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اور اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلاکر آسمان پر اٹھایاگیا۔ اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی۔ اسی دن قریش خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو میدانِ کربلا میں شہید کیا۔اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ (نزہۃ المجالس ۱/۷۴۳، ۸۴۳، معارف القرآن پ ۱۱ آیت ۸۹۔ معارف الحدیث ۴/۸۶۱)

یومِ عاشورہ کی فضیلت
مذکورہ بالا واقعات سے تو یوم عاشورہ کی خصوصی اہمیت کا پتہ چلتا ہی ہے، نبی کریمﷺسے بھی اس دن کی متعدد فضیلتیں وارد ہیں؛حدیث مبار ’’جمع الفوائد‘‘ میں ارشاد نبوی منقول ہے تم عاشورا کا روزہ رکھو اور اس بارے میں یہود کی مخالفت اس طرح کرو کہ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھ لو’’جمع الفوائد‘‘ ہی میں ایک روایت منقول ہے کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو پھر جس کا جی چاہتا عاشوراء کا روزہ رکھتا اور جس کا جی چاہتا نہ رکھتا۔‘‘(یعنی مستحب ہوگیا)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایایعنی جس شخص نے عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پرخرچ میں فراخی کی تو اللہ تعالیٰ تمام سال اس کے رزق میں فراخی فرمادے گا۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور عاشورہ کے دن بیت اﷲکو غلاف پہنایا جاتا تھا۔جب رمضان فرض ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ (صحیح بخاری ص ۷۱۲)

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور حضور اکرم ﷺ بھی اس وقت یہ روزہ رکھتے تھے۔ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں بھی روزہ رکھا اور اس روزہ کا بھی حکم دیا۔ جب رمضان فرض ہوا تو عاشورہ (کے روزے کا حکم) چھوڑ دیا گیا، جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ (صحیح بخاری ص ۴۵۲، ص ۸۶۲)
حضرت رُبیع بنت مُعوِذ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے عاشورہ کی صبح انصار کے گاؤں میں اعلان کروایا کہ جس نے صبح کو کھاپی لیا ہو وہ بقیہ دن پورا کرے (یعنی رکا رہے)اور جس نے ابھی تک کھایا پیا نہیں ہے وہ روزہ رکھے۔ فرماتی ہیں کہ وہ بھی یہ روزہ رکھتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتی تھیں اور ان کے لئے اون کا کھلونا بناتی تھیں۔جب کو ئی بچہ کھانے کیلئے روتا تویہ کھلونا اس کو دے دیتیںجب تک کہ افطار کا وقت ہوتا۔ (صحیح بخاری ج۱ ص ۳۶۲، صحیح مسلم ج ۱ ص ۰۶۳)
حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے عاشورہ کے دن ایک آدمی کو بھیجا جو لوگوں میں یہ اعلان کررہا تھا کہ جس نے کھالیاوہ پورا کرے یا فرمایا بقیہ دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے نہیں کھایا وہ نہ کھائے (یعنی روزہ رکھے)۔ (بخاری ج ۱ ص ۷۵۲)
حضرت عبد اﷲبن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے یہودیوں نے کہا یہ اچھا دن ہے، اس دن ا ﷲتعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو غلبہ اور کامیابی عطافرمائی، ہم اس دن کی تعظیم کے لئے روزہ رکھتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں، پھر آپ ﷺ نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ج۱ ص ۸۶۲)
حضرت ابو موسی ٰاشعری ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ یہودی عاشورہ کی تعظیم کررہے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں، اس کو عید بنارہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہم اس روزہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ج۱ ص ۸۶۲، ۲۶۵)
حضرت عبداﷲبن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو کسی دن کے روزہ کا اہتمام اور قصد کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے عاشورہ کا روزہ اور رمضان کے مہینے کا۔ (بخاری ج۱ ص ۸۶۲) یعنی ان روزوں کا آپ ﷺبہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔
حضرت معاویہؓ حج کے لئے تشریف لائے تو حضور اکرم ﷺ کے منبر پر عاشورہ کے دن (کھڑے ہوکر) فرمایا: اے اہل مدینہ کہاں ہیں تمہارے علماء، میں نے حضور اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اﷲتعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض نہیں کیا ہے، میں روزے سے ہوں، جو چاہے روزہ رکھے جوچاہے روزہ نہ رکھے۔ (صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۶۲)
رسول اﷲ ﷺنے ارشاد فرمایا: مجھے اﷲتعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کے دن کا روزہ رکھے گا تو اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ کا کفارہ ہوجائیگا۔ (صحیح مسلم) حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عاشورہ کے روزے کے بارے میں مجھے اﷲ تعالیٰ سے امید ہے کہ سال گزشتہ کے گناہ معاف فرمادیں گے۔ (ترمذی ج ۱ ص ۱۵۱) ان احادیث میں گناہ سے صغائر گناہ مراد ہے، کبائر گناہ کے لئے توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
حضرت عبداﷲبن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو اس کا حکم دیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہودوانصاریٰ اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ اگر آئندہ سال زندہ رہا تو ان شاء اﷲ نویں کو (بھی) روزہ رکھوں گا لیکن آئندہ سال آپ ﷺ کا وصال ہوگیا۔ (مسلم ج۱ ص ۹۵۳)

د کھ تو اس بات کا ہے کہ ہم نے یومِ عاشورہ کے حقیقی پیغام کوبھول گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے ایسے رسوم و رواج کو ایجاد کیا جو امت محمدیہ کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ان احادیث شریف سے ظاہر ہے کہ یوم عاشوراء بہت ہی عظمت وتقدس کا حامل ہے؛ لہٰذا ہمیں اس دن کی برکات سے بھرپور فیض اٹھانا چاہیے۔(یہ بھی پڑھیں!فضا ئلِ حضرت امام حسینؓ اور واقعہ کربلا از: رازدان شاہدؔ)

آبگلہ، گیا ،بہار۔

Previous articleصحابۂ کرامؓ اور اہل بیت اطہار کا باہمی تعلق (پہلی قسط) از:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
Next articleمحرم الحرام اور ہجری کیلنڈر: نئے اسلامی سال کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف کیوں؟

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here