ارشاد گوہر اور ” سہہ رنگ” کی معنویت

1
315

عظیم انصاری

” سہہ رنگ” ارشاد گوہر کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو اپنے نام کی معنویت پر کھرا اترتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ اس مجموعے میں نظموں کے ساتھ ساتھ دوہے اور خمسے بھی ہیں ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ ایک خوش فکر شاعر ہیں اور ہندی ادب کا بھی اچھا شعور رکھتے ہیں ۔ ان کا یہ مجموعہ برسوں کی ریاضت کا نتیجہ ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے مشاہدات اور تجربات کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور ایک شاندار شعری مجموعہ لانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔

” سہہ رنگ ” میں 55 نظمیں ‘ 130 دوہے اور 40 خمسے ہیں ۔ ان کی نظموں کے موضوعات سلگتے مسائل’ سسکتے ہوئے ناگفتہ بہ حالات اور کسمساتی زندگی پر مبنی ہیں ۔ ارشاد گوہر ایک درد مند دل رکھتے ہیں ۔ اشتراکی نظریات کے حامی ہونے کی وجہ سے ان کی نظموں میں احساسات اور خیالات کے اظہار میں کافی شدت ہے ۔ مقصدِ زندگی’ جہاد’ خط ‘ احتجاج’ بلائے ناگہانی’ شرم ‘ دوہرا معیار’ آؤ ہم سب کام کریں ‘ پاداش’ ناصحِ دوراں ‘ نسخۂ امن ‘ بھرشٹاچار ‘ اک کھیت ہے اک کارخانہ ہے ‘ جاگو اور گراں مایہ پسینہ جیسی نظمیں ان کی حساس طبیعت اور فکری رجحان کے غماز ہیں ۔ متذکرہ نظموں کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانی زندگی کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور پیچیدہ مسائل کو اپنی شاعری کا وسیلۂ اظہار بناتے ہیں
قرب و جوار کے حالات کے ساتھ دنیا کے بدلتے مناظر پر بھی ان کی گہری نظر ہے ۔ ملاحظہ کریں نظم ” پولیس مین ”

شرافت لاکھ چیخے
آدمیت لاکھ سر پٹکے
نہیں سنتا کسی کی وہ
پولیس مینی پہ اپنی ناز ہے اس کو
ہے لاٹھی ہاتھ میں اس کے
وہ جب چاہے
جدھر چاہے
گھماتا ہے اسے وہ بے محابا
وہ ظلم و جبر سے
جبر و تشدد کا صفایا چاہتا تو ہے
مگر اس ناروا حرکت سے اپنی
بن گیا ہے خود
علامت ایک ظالم کی !

دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اردو کی شعری روایت میں بھی مستحکم ہے ۔ اس کی ابتدا ساتویں اور آٹھویں صدی میں ہوئی ۔ ہندی شعراء کی طرح اردو شعراء نے بھی اسے اپنایا اور آج بھی یہ روایت قائم ہے ۔ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی طرح مغربی بنگال بھی اس صنف کو فروغ دینے میں پیچھے نہیں ہے ۔ دوہا لکھنے والے شعراء میں بدنام نظر’ حلیم صابر’ شمیم انجم وارثی ‘ عاصم شہنواز شبلی’ ممتاز انور ‘ معراج احمد معراج ‘ نیر اعظمی ‘ وقیع منظر ‘ ایم نصراللہ نصر’ امان اللہ ساغر ‘ محمود راہی ‘ مسرت حسین عازم اور کوثر پروین وغیرہ خاص ہیں ۔ دوہا سے متعلق شمیم انجم وارثی کی کتاب ” پنگھٹ پنگھٹ پیاس ” سن 2010 میں آئی تھی ۔ اس کے بعد سن 2011 میں ایک اور کتاب ” مغربی بنگال میں دوہا غزل کا سفر ( انتخاب) ” منظرِ عام پر آئی ۔ ان تمام باتوں کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ صنف دوہا سے پیار کرنے والے شعراء کی تعداد بنگال میں آج بھی کم نہیں ہے ۔ انھیں شاعروں میں سے ایک ارشاد گوہر بھی ہیں ۔موصوف اردو کے ساتھ ہندی زبان پر بھی اچھی خاصی گرفت رکھتے ہیں ۔ ان کے دوہے کے موضوعات میں تنوع ہے ۔ مطالعہ ‘ مشاہدہ اور تجربہ کسی بھی شاعر کی فکری اڑان میں کافی معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ جس شاعر کا مطالعہ وسیع ہوگا اور مشاہدہ اور تجربہ میں گہرائی ہوگی وہ اپنی بات کہنے میں زیادہ کامیاب ہوگا ۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ دوہا فنی اعتبار سے غزل سے بہت قریب ہے ۔ مثال کے طور پر کسی غزل کے مطلع کو دوہا کے مقابل رکھ کر دیکھیں تو پتا چلے گا کہ دونوں میں سوائے تہذیبی وراثت اور عروج و بحر کے ‘ زیادہ فرق نہیں ہے ۔ ارشاد گوہر چونکہ غزل کے بھی اچھے شاعر ہیں اس لیے وہ دونوں کے درمیان جو باریکیاں ہیں اس سے کماحقہ واقف ہیں ‘ ساتھ ہی انھیں اپنے زمانے کے حالات اور زندگی کے پیچیدہ مسائل کا بھی ادراک ہے ۔ وہ معاشرتی مسائل کو سلیقے سے پیش کرنے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ روایت کی پاسداری کرتے ہوئے انھوں نے دل کو چھو لینے والے دوہے بھی کہے ہیں ۔ نمونے کے طور پر کچھ دوہے ملاحظہ کریں

1. گر کی باتیں کہہ گیا’ شاعر ایک ودوان !
مسلم میری آنکھ ہیں’ ہندو میری جان !!

2. بارش تو یکساں ہوئی’ کیا آنگن کیا کھیت !
دریا بھی آیا امڈ’ پھر بھی پیاسی ریت !!

3. ہوتا ہے اپمان کیا ؟ کیا شئے ہے سمان ؟
جو جیسا دیکھے جسے ‘ ویسی ہے پہچان !!

4. گھر کی چوکھٹ میں نہاں ‘ دکھ سکھ درد و چین !
ورشاتے ہیں آئے دن ‘ روتے ہنستے نین

5. اس کو ہم کیسے کہیں ‘ مانوتا کا دوت!
ناچ ہنسا کا سدا’ جس کے سر پہ بھوت

6. موسم آکر چلے گئے’ تم نہ آئے میت!
کیسا یہ سدبھاؤ ہے ‘ کیسی ہے یہ پریت ؟

7. ننگے بھوکوں کے لیے کیا کعبہ؟ کیا دیر ؟
جو چمکادے پیار سے چوموں اس کا پیر

ارشاد گوہر نے زیرِ نظر کتاب میں نظموں اور دوہوں کے ساتھ 40 خمسے بھی کہے ہیں اور بہت خوب کہے ہیں ۔ یہ خمسے ہندی صنفِ سخن کے پانچ بھجی فارم میں ہیں ۔ اس صنف میں بھی ارشاد گوہر کی فکری اڑان دیکھنے کے لائق ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو شاعری کی مختلف اصناف پر وہ اچھی گرفت رکھتے ہیں ۔ ‘ پہنچے گا آزار’ کیجئے اس کو ترک ‘ دونوں ہیں مسرور’ یہ بھی رکھو دھیان ‘ کیجئے ایسے کام ‘ اپنا نصب العین’ اتنا یاد رکھو’ لاجواب خمسے ہیں ۔ بلاشبہ اس صنف کے ساتھ بھی ارشاد گوہر نے انصاف کیا ہے ۔ نمونے کے طور پر ایک خمسہ ملاحظہ کریں

سوچیں اپنی خیر

ظالم کی بن آئی ہے
قسمت میں کٹھنائی ہے
سوچیں اپنی خیر
سب کی حالت جلد ہی
کردے گا یہ غیر !

مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ارشاد گوہر کی نظمیں اگر متاثر کن ہیں تو دوہے اور خمسے بھی دمدار ہیں ۔ وہ حکومتِ مغربی بنگال میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہتے ہوئے بھی اپنی نگارشات سے ہمیں محظوظ کرتے رہیں اور اب سبکدوشی کے بعد ادبی طور پر کافی سرگرم ہیں جس کا ثبوت ان کا یہ پہلا شعری مجموعہ ” سہہ رنگ” ہے ۔

یقین کامل ہے کہ اس شعری مجموعے کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوگی ۔ اس کتاب کی اشاعت پر میں انھیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہی ان کی دوسری کتابیں منظرِ عام پر آئیں گی ۔

Previous articleشرد پوار کا سنسنی خیز انکشاف!
Next articleفکر وعملی ارتداد کا سد باب اور دینی بیداری

1 COMMENT

  1. بہت عمدہ اور بہترین تنصیف بہت بہت مبارک باد جناب ارشاد گوہر صاحب??????

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here