اردو کے اداروں کا قومی سطح پر بہ تدریج زوال: تحریک کار خوابِ غفلت میں

0
67

عرض داشت

متعدد ریاستی اکادمیاں اور قومی اردو کونسل کے کام کاج میں آئی سست روی پر چہ می گوئیاں سننے کو ملتی ہیں مگر ماحول بدلتا ہوا کبھی نظر نہیں آتا۔

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

بات تو کئی برس پہلے سے چل رہی ہے مگر گذشتہ دو ہفتے میں رہ رہ کر یہ خبر اخباروں میں یا سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگی ہے کہ اردو کے حوالے سے ہندوپاک میں سب سے بڑے بجٹ کے حامل ادارے قومی اردو کونسل کو بند کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ حالاںکہ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گورننگ کونسل اور مجلسِ عاملہ کی عدم تشکیل کے سبب ایسا فیصلہ لینا پڑا ہے کہ آیندہ مالی سال میں گرانٹ ان ایڈ سے تعلق رکھنے والی تمام اسکیموں کے دروازے عوام کے لیے بند کیے جارہے ہیں۔ معلوم ہو کہ قومی اردو کونسل کی طرف سے یہ نوٹس جاری کی گئی کہ رواں مالی سال کے لیے کتابوں کی تھوک خرید ، مسودات کی اشاعت، سے می نار کے انعقاد کرنے کے لیے مالی تعاون، پروجیکٹ اور دیگر امور کے تعلق سے کسی بھی درخواست کو قومی اردو کونسل قبول نہیں کرے گی۔ اس کا یہ مطلب ضرور ہوا کہ عوام سے متعلق تمام امور معرض التواع میں رہیںگے اور آیندہ سال کے لیے قومی اردو کونسل اپنے ملازمین کی تنخواہ دینے کے علاوہ کسی کام کو کرنے کی اہل نہیں ہوگی۔

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر نے ادارے کے بند کیے جانے کے سلسلے سے جو تردید کی اس میں واضح طور پر ایک رواں مالی سال کے بارے میں کہا گیا ہے مگر ۲۲-۲۰۲۱ اور ۲۳-۲۰۲۲ کے دورانیے میں بھی قومی اردو کونسل ٹھپ بیٹھی رہی ہے اور نہ اس کی کوئی قومی سطح پر سرگرمی ہے اور نہ اس کی معاونت سے انفرادی یا اجتماعی ادبی اور علمی کام اس دوران کیے جانے کی کوئی خبر ہے۔ اس طرح گذشتہ دو ڈھائی برسوں اور آنے والے ایک برس میں قومی اردو کونسل پورے طور پر تعطل کا شکار رہے گی ، اس میں کسی کو کوئی تردد نہیں ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ بالعموم کونسل کے ڈائرکٹر کا تقرر تین برسوں کے لیے ہوتا ہے، موجودہ ڈائرکٹر کی میعاد مکمل ہونے سے پہلے ہی اگلے تین برسوں کے لیے ان کی نامعلوم انتظامی اور ادبی و علمی خدمات کے اعتراف کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے دوبارہ سرفرازی عطا کردی۔ پورا ملک یہ بات جانتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس کی مرکز میں اور ہندستان کی آدھی سے زیادہ ریاستوں میں حکومت مضبوطی کے ساتھ چل رہی ہے، اس کے ایجنڈا میں کہیں سے بھی اردو کی ترقی اور اردو بولنے والوں کی ترقی موضوعِ بحث نہیں ہے۔ اس لیے ابتدا سے ہی ایسے شبہات رہے کہ ایسے اداروں کی کارکردگی پہ حرف آئے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیسے ہی مرکز میں حکومت قائم ہوئی تھی تو ایسے شبہات ہر سنجیدہ اردو والے کے ذہن میں آنے لگے تھے۔ خواجہ محمد اکرام الدین کے بعد پروفیسر ارتضیٰ کریم اسی دوران آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی روایتی سفارشات کے راستے سے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر بنائے گئے ۔ شاید اس زمانے میں بھی قومی اردو کونسل کے کام کاج کو محدود تر کرنے کی داخلی مہم چلتی ہوگی مگر ارتضیٰ کریم کی ڈائرکٹر شپ کے زمانے میں کہیں سے اس بات کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کونسل سے کتابوں کی اشاعت ، کونسل کے مالی تعاون سے کتابوں کی تھوک خرید، ملک بھر میں سے می ناروں کے انعقاد کے لیے مالی معاونت، مسودات کی اشاعت میں مالی تعاون اور مختلف طرح کے پروجیکٹس کے کام حسبِ دستور چلتے رہے۔ کمپیوٹر کے نئے نئے سنٹرس اور دیگر توسیعی کام بھی اس دوران ہوتے رہے۔ غالباً ۱۷-۲۰۱۶ میں کونسل کے بجٹ میں آٹھ دس کروڑ کا اضافہ بھی ہوا۔ ہر سال عالمی کانفرنسوں کا انعقاد بھی ہوتا رہا اور متعدد صوبائی اکادمیوں سے اشتراک کرکے بھی قومی اردو کونسل نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

مگر جیسے ہی جناب شاہد اختر کی نائب صدارت میں نئی کمیٹی کی تشکیل دی گئی اور موجودہ ڈائرکٹر کو انتظامی ہیڈ بنایا گیا، ایک حلقے میں نئے سرے سے چہ می گوئیاں شروع ہوگئیں۔ مجلس عاملہ اور گورننگ کونسل کے افراد پہلے ملک کے نامور ادبا و شعرا اور اساتذہ ہوا کرتے تھے، اس بار گلی محلے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن یا ان کے شناسا ممبر کے طور پر میدانِ عمل میں لادیے گئے۔ کسی قومی ادارے کو زمین پر لانے کی اس طرح منظم سازش کی جاتی ہے۔ پہلے اس کے سربراہوں میں معمولی لوگوں کو داخل کیا جاتا ہے۔ پہلے نائب صدر گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمان فاروقی ہوتے تھے مگر اب حکومت کے سستے کارندے تلاش کرلیے گئے ہیں۔ مل جل کر ایسا ماحول بنا کہ ادارے کی قومی اور عالمی شناخت اب زمین پر آرہے گذشتہ چار پانچ برسوں میں قومی اردو کونسل کی عوامی مقبولیت رفتہ رفتہ زمین تک پہنچی اور اب یہ باتیں کھل کر سامنے آنے لگی ہیں کہ آج نہیں تو کل اس ادارے کو اس کے حقیقی مقاصد سے دور لے جاکر ہی چھوڑا جائے گا اور اس کی عوامی قبولیت اور اردو دانوں کے بیچ شہرت و عظمت کی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی جائے گی۔ مقصد یہ ہے کہ جس کام کے لیے قومی اردو کونسل بنی تھی اس سے اسے الگ کردیا جائے۔ کچھ برسوں تک ملازمین کو تنخواہ ملتی رہے پھر انھیں حکومت کے دوسرے دفتروں میں ایڈجسٹ کرکے اردو کے اس بڑے ادارے کو سڑک پر لاکر چھوڑ دیا جائے۔
صرف قومی اردو کونسل اور اس کے اَسّی پچاسی کروڑ روپے کا معاملہ ہو تو یہ بڑی بات نہیں ہے۔ پورے ملک میں اور سیاسی فضا میں اردو کی مخالفت میں ایک عجیب و غریب ماحول ہے۔ بڑی مشقتوں کے بعد بہت سارے صوبوں میں اردو اکیڈمیاں بنی تھیں۔ کہیں لاکھ اور کہیں کچھ کروڑ کے بجٹ پر وہ اکیڈمیاں بنی ہوئی ہیں مگر بہت سوچ سمجھ کر ان میں سے اکثر اپنے مقصد سے دور ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایک زمانے میں دلی اور اتر پردیش اردو اکادمیاں سب سے فعال ادارے کے طور پر بڑے بجٹ میں کام کرنے کے لیے شہرت رکھتی تھیں۔ جب سے اروند کجریوال کی حکومت آئی، دلی اردو اکادمی اپنے شاندار ماضی سے دور ہوتی چلی گئی۔ شہپر رسول کے دور میں بھی کتابوں کی اشاعت اور سے می ناروں کا باضابطہ سلسلہ یا جو اعلانات ہوئے، ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ گذشتہ کئی برسوں سے تو ناخواندہ افراد کے چنگل میں دلی اردو اکادمی اس طرح پھنس گئی ہے کہ اس سے کوئی بڑے کام کی اب توقع نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح اترپردیش اردو اکادمی بھی کسی غیر اردو داں اور علمی و ادبی طور پر پیدل قسم کے فرد کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ کتابوں پہ انعامات اور ذاتی سفارش کی بنیاد پر کچھ ادیبوں شاعروں کو ایک بڑی رقم ضرور بانٹ دی جاتی ہے مگر اس کی تقریبات کی نوعیت عجیب و غریب ہوگئی ہے۔ اس کے سے می نار کے عنوانات دیکھ کر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جیسا کچھ حکومت سوچتی ہے، ویسا ہی وہاں کام ہورہا ہے۔ پانچ برس سے بہار اردو اکادمی کی تشکیل ہی نہیں ہوئی ہے۔ پہلے یہاں این ڈی اے کی حکومت تھی مگر اب دو برسوں سے تو سیکولر محاذ کی حکومت چل رہی ہے مگر اقلیتوں سے متعلق تمام ادارے ترتیب کے ساتھ بند کرنے کا سلسلہ قائم ہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی بند ہے، اقلیتی کمیشن مقفل ہے؛ یہ سب کہیں نہ کہیں اردو آبادی کے مسئلوں کے حل کے مسائل ہیں۔ گذشتہ دنوں مہاراشٹر اردو اکادمی سے انعامات اور ایک مشاعرے کا کارڈ اخباروں میں شائع ہوا، اردو میں ایک لفظ بھی لکھا ہوا نہیں تھا۔ کسی شخص کو یہ بات قابل اعتراض معلوم بھی نہیں ہوئی۔ چند ہزار روپے اردو والوں کو بانٹ کر یہ باور کرانے کی کوشش ہوئی کہ حکومت اردو کے معاملات سے بے خبر نہیں ہے۔ کرناٹک اور حیدرآباد یا آندھرا کی اردو اکادمیوں کے بارے میں بھی جب آپ توجہ دیںگے تو وہاں بھی زیادہ سے زیادہ تھوڑی بہت مقامی سرگرمیاں بچی ہوئی ہیں اور باقی سب کچھ اندھیرا ہے۔ اسے محض اتفاق اور کسی ایک حکومت یا ایک نقطۂ نظر کا زوال نہیں کہا جاسکتا۔ سچائی تو یہ ہے کہ اس مشکل گھڑی کو لانے میں ہر سیاسی جماعت اور بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی کے افراد کا ہاتھ ہے اور یہ سازش سلسلہ در سلسلہ ہمارے زمانے میں اپنی مکمل شکل میں سامنے آرہی ہے۔

پہلے انجمن ترقی اردو ہند اردو کے تعلق سے عوامی تحریکوں کا ایک مرکزی منچ ہوا کرتی تھی۔ سوا سو سال پیچھے سے اس کی ایک کھلی تاریخ اور طویل خدمتوں کا سلسلہ ہے۔ صوبائی کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ ضلعی کمیٹیاں بھی تھیں اور اسی کی طاقت تھی کہ لاکھوں افراد کے دستخط کے ساتھ ہندستان کے صدر کو اردو کی ہمہ جہت ترقی کے لیے میمورینڈم پیش کرنے میں کامیابی ملی اور جس کے نتائج کے تحت گجرال کمیٹی کے ساتھ ساتھ اردو اکیڈمیوں کا ایک جال بچھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس بڑی تنظیم کی صوبائی سطح پر اور ملک گیر سطح پر وہ مقبول حیثیت ختم ہوگئی جس کے سبب پورے ملک میں پھیلے ہوئے اردو کے تحریک کاروں کا کوئی سننے والا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہمارے لوگ اپنی شکایتیں رکھ سکیں۔ اس لیے اردو کے ادارے سرکاری اور غیر سرکاری امداد سے قائم شدہ تنظیمیں ایک ایک کرکے ختم ہوتی جارہی ہیں اور اردو اساتذہ، تحریک کار اور ادبا و شعرا شترمرغ کی طرح ریت میں سر گاڑے اس بات کے انتظار میں ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا طوفان چلا جائے تو پھر اپنے آپ صورت حال بدل جائے گی مگر یہ غفلت ہے اگر اجتماعی بیداری نہیں آئی تو حالات اس سے بھی بدتر ہوں گے۔

[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]
safdarimamquadri@gmail.com


SAFDAR IMAM QUADRI
Head, Deptt. of Urdu
College of Commerce, Arts & Science
Patna – 800020 (Bihar)

Previous articleممتاز عالم دین : سانحہ رحلت کا ان کی کس قدر غمناک!
Next articleشہرۂ آفاق مُحدّثِین کا فقہی رجحان اور مسلکی مزاج

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here