اردو زبان وادب کا ابتدائی دور – ایک مطالعہ از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

0
212

ایم آئی ٹی بی ایڈ کالج، پٹنہ

” اردو زبان وادب کا ابتدائی دور ” پروفیسر توقیر عالم سابق پرو وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی، پٹنہ و سابق صدر شعبہ اردو بی آر اے بہار یونیورسٹی مظفر پور کے مضامین کا مجموعہ ہے جو کتاب کے قالب میں ڈھل کر 2014 میں منظر عام پر آیا تھا۔ 25/مئی 2021 کو انہوں اپنے ایک عزیز کے توسط سے مجھ تک یہ کتاب پہنچوائی تھی۔ آج میں نے فرصت کے لمحات نکال کر اس کی قرأت کی سعادت حاصل کی ہے۔ دوران مطالعہ مجھے اس کی اہمیت وافادیت کا بخوبی اندازہ ہوا ہے، چنانچہ اردو زبان وادب کے قارئین کے لیے استفادہ کے مقصد سے اپنے مطالعہ کا مستفاد حوالئہ قرطاس کررہا ہوں ۔

کتاب کا انتساب بایں سطور ہے :
” اپنے والد محمد مطیع الرحمن مرحوم اور اپنی والدہ امام باندی عرف تارا کے نام جن کی شفقتوں اور حوصلہ افزائیوں نے مجھے اس لائق بنایا ”
کتاب کے محتویات ومشمولات درج ذیل ہیں : اردو کی ابتدا ایک جائزہ، اردو زبان کی تاریخ اور شیرانی کے خیالات، اردو کے پہلے محسن حضرت امیر خسرو، معراج العاشقین کی ادبی اور تاریخی اہمیت، قطب مشتری کی ادبی اور لسانی اہمیت، قطب مشتری میں عصری نقوش کی جھلکیاں، قطب مشتری کا جائزہ ، سب رس کی ادبی اہمیت ، سب رس بحیثیت تمثیل ، سب رس کی رمز نگاری، دکن میں اردو مرثیہ نگاری، کلام فائز – غزل گوئی کی روشنی میں۔ یہ سبھی مضامین بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ فاضل مصنف نے ان میں اردو زبان وادب کے ابتدائی دور کے مختلف گوشوں کو بہت عالمانہ انداز میں واشگاف کیا ہے۔

کتاب میں معروف ادیب و استاد الاساتذہ پروفیسر نجم الہدیٰ، سابق صدر شعبہ اردو، بی آر اے، بہار یونیورسٹی، مظفر، بہار کا مقدمہ شامل ہے جس میں انہوں نے کتاب کا تعارف بڑی فراخدلی سے کیا ہے اور اس کو اردو زبان و ادب کی ابتداء کے مطالعے میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے ۔ وہ رقمطراز ہیں :
” جیساکہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کتاب میں وہی مباحث شامل کئے گئے ہیں جو اردو زبان وادب کی ابتداء کے مطالعے میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ (ص:5)
مقدمہ نویس پروفیسر نجم الہدیٰ نے اس کتاب کو اردو ایم اے کے طلباء اور طالبات کے لیے مفید نیز اہل علم کے لیے مطالعہ کا بہترین مواد بتایا ہے، وہ لکھتے ہیں:

توقیر عالم صاحب نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ان کا تعلق ایم اے اردو کے اس نصاب سے ہے جو ہندستان کی بہت ساری یونیورسٹیوں میں رائج ہے۔ اس جہت سے اس کا مطالعہ ایم اے اردو کا امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کے لیے مفید ہوگا۔ اس کے علاوہ ان میں سے بعض عنوانات مزید غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اور اہلِ علم کے لیے دلچسپ مطالعہ کا مواد فراہم کرتے ہیں، مثال کے طور پر ان کے مضامین “سب رس بحیثیت تمثیل “، ” سب رس کی رمز نگاری “، معراج العاشقین کی ادبی اور تاریخی اہمیت”، اردو کی ابتداء ایک جائزہ”، اور ” اردو زبان کی تاریخ اور شیرانی کے خیالات ” فکر انگیز ہیں اور ان سے بحث وتمحیص کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔” (ص:7-6)

پروفیسر توقیر عالم نے ” اردو کی ابتدا- ایک جائزہ” عنوان کے ضمن میں اردو زبان کی پیدائش سے متعلق معماران زبان اور ماہران لسانیات کے مختلف و متضاد اقوال وآرا کو قلمبند کیا ہے، مثلاً ” اردو کی پیدائش وادئ سندھ میں ہوئی” (سید سلیمان ندوی)، “اردو کی پیدائش پنجاب کی سرزمین میں ہوئی” (حافظ محمود شیرانی،ڈاکٹر محی الدین قادری زور) ، ” اردو کی ابتداء گنگ وجمن کے دوآبہ میں ہوئی “(ڈاکٹر عبد الحق،ڈاکٹر مسعود حسین خان) ، ” اردو کی ابتداء دکن میں ہوئی “(نصیرالدین ہاشمی) ” اردو پالی پراکرت سے نکلی ہے۔ اس کا علاقہ دہلی سے جنوب کی جانب جہاں پالی مروج تھی، بھوپال وغیرہ کو اردو کا مولد کہا جائے۔ “(ڈاکٹر شوکت سبزواری) ” اردو کی ابتدا بہار میں ہوئی “(اختر اورینوی اور دیگر اہلِ بہار)۔ مصنف نے ان سبھی اقوال و آرا کا عالمانہ جائزہ لیا ہے۔ رد وقدح اور جرح بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی اپنی رائے بھی پیش کی ہے۔ سید سلیمان ندوی کے قول کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد لکھا ہے :
لسانیات کے ماہرین نے اردو کی افزائش کا زمانہ بارہویں صدی عیسوی قرار دیا ہے۔ اگر مولانا کی بات صحیح ہوتی تو اردو کی پیدائش آٹھویں اور نویں صدی میں ہوتی”۔(ص:12)
اردو کے مولد کے سلسلے میں انہوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اردو کی پیدائش سے متعلق یہ نظریہ کہ اردو دلی اور نواح دلی میں پیدا ہوئی زیادہ قرین قیاس بنیادوں پر قائم ہے، مگر حتمی طور پر انہوں نے جو رائے قلمبند کی ہے وہ یہ ہے کہ :

” تحقیق کی دنیا بڑی وسیع ہے۔ اردو زبان کی پیدائش کے سلسلے میں بھی برابر تحقیقات ہو رہی ہیں۔ جدید تحقیق کی رو سے اردو کی پیدائش کا علاقہ کسی خاص خطے کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہندوستان میں عربی، فارسی اور ترکی زبانیں بولتے ہوئے مختلف راستوں سے داخل ہوئے تھے۔ چاہے وہ فاتح کی حیثیت سے آئے ہوں، چاہے مبلغ کی حیثیت سے، چاہے تاجر کی حیثیت سے آئے ہوں۔ یہ حضرات ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور مقامی باشندوں سے ربط و ضبط پیدا کیا۔ دو تہذیبوں کے اتحاد، اتصال اور انضمام کے نتیجے میں ایک تیسری زبان وجود میں آئی جس کو اردو کہتے ہیں۔۔۔۔ اس نظریے کے مطابق اردو زبان سارے ہندوستان میں بیک وقت پیدا ہو رہی تھی۔ اس کا مولد و مسکن سارا ہندوستان ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کہیں اس کو موافق آب وہوا ملی تو وہ بہت جلد پروان چڑھ گئی اور کہیں اس کے ارتقاء میں دیر ہو گئی ۔ ” (ص:17)
فاضل مصنف نے ” اردو کے پہلے محسن حضرت امیر خسرو ” میں اس بات پر کافی زور دیا ہے کہ اردو کے ابتدائی نقوش امیر خسرو سے وابستہ ہیں اور ان نقوش کو اجاگر کرنے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے نظمیں، دوہے، پہیلیاں، انمیلیاں اور کہہ مکرنیاں لکھیں۔ موسیقی میں بھی اپنے کمالات کا مظاہرہ کیا اور لسانی روایت کو آگے بڑھایا۔ وہی روایت آگے اپنی شکل بدلتی ہوئی ریختہ سے اردو بن گئی۔ انہوں نے شرحِ صدر کے ساتھ یہ بات تحریر کی ہے کہ امیر خسرو نے ننانوے کتابیں لکھی ہیں اور ان کے اشعار کی تعداد چار پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔

کتاب میں ایک مضمون بعنوان ” معراج العاشقین کی ادبی اور تاریخی اہمیت ” شامل ہے۔ اس میں پروفیسر توقیر عالم نے کتاب “معراج العاشقین” کو حضرت خواجہ گیسو دراز کی اہم تصنیف قرار دیا ہے اور انہیں حضرت شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور بعد میں خود مرشد بن جانے کی وضاحت کی ہے۔ بعض لوگ مذکورہ کتاب کو اردو نثر کی پہلی کتاب تسلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں توقیر عالم نے لکھا ہے کہ اردو نثر میں ” معراج العاشقین” سب سے پہلی کتاب ہے یا نہیں تحقیق طلب ہے۔ آگے انہوں نے اس کتاب کی تاریخی، ادبی، و لسانی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ انہوں نے” قطب مشتری ” کی ادبی اور لسانی اہمیت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ وہ رقمطراز ہیں :
” مثنوی قطب مشتری 1602ء میں تصنیف ہوئی۔ اردو کی قدیم تصانیف میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی ادبی اور لسانی دونوں حیثیتیں اہم ہوجاتی ہیں۔ لسانی حیثیت اس لیے اہم ہے کہ اس دور کی دکنی زبان کی خصوصیات کا اندازہ اس کتاب سے ہوتا ہے۔ ادبی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ قطب شاہی دور میں جو ادبی تصانیف ضبط تحریر میں آئیں اور محفوظ طور پر ہم تک پہنچیں وہ معدودے چند ہیں اور انہیں میں قطب مشتری بھی ہے۔ ” (ص: 48)
فاضل قلمکار نے مضمون ” قطب مشتری میں عصری نقوش کی جھلکیاں” میں بہت شدہ ومد کے ساتھ اس بات کو طشت ازبام کیا ہے کہ یہ ملا وجہی کی مشہور تصنیف ہے جسے انہوں نے 1609ء میں لکھی تھی۔ لسانی حیثیت سے اس میں تقریبا 150سال تک کی خصوصیات موجود ہیں۔ 2 ہزار اشعار پر مشتمل یہ مثنوی محض 12دنوں میں ہی قلمبند کی گئی تھی۔ ملا وجہی چونکہ قادرالکلام شاعر تھے مزید یہ کہ انہوں نے داد ودہش کے مقصد سے لکھی تھی، اس لیے اتنے کم دنوں میں یہ کارنامہ انجام دینے میں انہیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ یہ کتاب اپنے زمانے کی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہے۔ اس میں مختلف تصویریں ملتی ہیں جنہیں دیکھ کر سمجھا جاسکتا ہے کہ اس وقت کی معاشرت کیسی تھی، رہن سہن کیسا تھا۔ علم وہ ہنر کا کیا حال تھا۔ زندگی پرسکون تھی یا منتشر۔
پروفیسر توقیر عالم نے ملاوجہی کی شہرۂ آفاق نثری تصنیف ” سب رس” کی ادبی اہمیت پر بھی بالتفصیل روشنی ڈالی ہے اور اسے اردو کی قدیم نثری کتابوں میں امتیازی خصوصیت کی حامل بتایا ہے۔ ان کے بقول :
” سب رس کی ادبی اہمیت یہی کیا کم ہے کہ اس سے اردو میں تمثیل نگاری کی بنیاد پڑی، مگر اس سے قطع نظر بھی اس کی دوسری ادبی خصوصیات سے ہم انکار نہیں کرسکتے۔ ” سب رس ” اردو کی پہلی داستان ہے جس کی تخلیق کے بعد متعدد داستانیں اردو ادب میں بڑی گھن گرج کے ساتھ نمودار ہوئیں اور اردو افق پر چھاگئیں۔ اردو کی پہلی داستان ہوتے ہوئے بھی نقش اول ترقی یافتہ ہے۔ ” (ص:67)
پروفیسر موصوف نے دکن میں اردو مرثیہ نگاری کے حوالے سے بھی بہت اچھے و بلیغ انداز میں خامہ فرسائی کی ہے اور اس عہد کی مرثیہ نگاری کو سہولت کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک قطب شاہی عہد اور دوسرا عادل شاہی عہد۔ قطب شاہی عہد کے ممتاز شعراء محمد قلی قطب شاہ، سیوک، فائز، لطیف، کاظم، شاہی اور افضل کو قرار دیا ہے جبکہ عادل شاہی عہد کے مرثیہ گو شعراء میں عادل شاہ ثانی، نوالی بیجاپوری، مقیمی، نصرتی، ہاشمی بیجاپوری اور ملک خوشنود کو شمار کیا ہے۔ کتاب میں آخری مضمون” کلام فائز غزل گوئی کی روشنی میں ” ہے۔ اس میں انہوں نے بڑے ہی شد و مد کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ فائز کے اردو کلام میں غزل کے 176 اشعار اور مثنوی کی 367 بیتیں ہیں۔ دیوان فائز کے مرتب سید مسعود حسن رضوی ادیب کے مطابق ان میں 28 غزلیں مکمل ہیں اور ایک مخمس ترجیع بند ہے۔ انہوں نے اس میں یہ ثابت بھی کیا ہے کہ فائز کی غزلوں کا عام موضوع حسن اور عشق ہے، تصوف یا عشق حقیقی فائز کے یہاں نہیں ہے۔فائز کی بعض غزلیں اور ولی کی بعض غزلیں ایک ہی زمین میں ہیں۔ اربابِ زبان وادب کا خیال ہے کہ ایسی کل 19 غزلیں ہیں جو مشترک زمین میں کہی گئی ہیں۔ فائز دہلوی اردو غزل گوئی کے ابتدائی عہد میں اور خاص طور پر شمالی ہندوستان کے غزل گو شعراء کے اولین دور میں نمایاں اہمیت اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کہنا عین انصاف ہوگا کہ پروفیسر توقیر عالم کی یہ کتاب بھی ان کی دوسری کتابوں کی طرح بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اردو زبان وادب کے طالب علموں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ یقیناً بہت مفید، کارآمد و نافع ثابت ہوگا۔ نیز ناقدین و محققین کے لیے بھی سود مند ہوگا۔۔۔!!!

Previous articleشاہ طلحہ رضوی برقؔ کی نعت گوئی از: علیم صبا ؔنویدی
Next articleبیگ احساس آپ کا جانا رلاگیا سب کو از: مشتاق احمد نوری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here