اردو زبان محبتوں کی امین بھی اظہار کا وسیلہ بھی از : عارفہ مسعود عنبر

1
52

زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ انسانی زندگی کا پیمانہ بھی ہے ۔زبان,کو ہی اللہ رب العزت نے وہ ذریعہ بنایا ہے جو انسان کو زندگی میں اعلی مقام و درجات دلا سکتی ہے ۔

انسان اپنے دلکش لب و لہجہ اورخوبصورت الفاظ کے ذریعہ ہی کسی سے محبتوں کو حاصل کرکے دل پر حکومت کر سکتا ہے اور الفاظ کے ذریعے ہی کسی کی دل أزاری کرکے نفرتوں کا شکار بھی ہو سکتا ہے ۔۔کسی زبان کو قبول کرنے کے معنی اس کی روایتوں اور فکروں کو بھی قبول کرنأ ہے ،زبان کے ذریعہ صرف ہمارے خیالات کا لین دین ہی نہیں ہوتا بلکہ الگ الگ نظریات اور جذبات کو ظاہر کرنے میں بھی زبان بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔أج کے بدلتے ہوۓ زمانے نے انسانی زندگی کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے ۔نٸی نٸی ایجادات اور نئے تکانیک نے ہر زندگی کو متاثر کیا ہے ۔آج کے جدید دور میں خطوط کی جگہ موباٸل فون نے لے لی ہے ،کتابوں سے مطالعے کی جگہ گوگل اور ای بکس نے لے لی،دوست احباب سے ملاقات کی جگہ فیس بک ،واٹس ایپ،‌انسٹا گرام نے لے لی ہے ـ غرض یہ کہ انسانی زندگی کا معیار ہی بدل گیا ہے ۔۔گلوبلاٸزیشن کے اس زمانے میں جہاں بہت سارے فواٸد موجود ہیں وہیں ڈھیر سارے نقصانات بھی سامنے آۓہیں .ہمیں کہیں نہ کہیں اس جدید ٹیکنولوجی کا نقصان بھی بھگتنا پڑ رہأہے ۔

آج دنیا مییں 6800 زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن وہ اپنا وجود کھوتی جا رہی ہیں۔۔اورصرف چند زبانوں نے ہی اپنا قبضہ کر لیا ہے ۔۔گریرسن کے مطابق ہمارے ملک ہندستان میں بھی 544 بولیاں بولی جاتی ہیں شاید یہی وجہ ہے ہندستان کو بولیوں کا عجاٸب گھر کہا جاتا ہے لیکن کوٸ بھی زبان ایسی نہیں ہے جو تمام ہندوستان میں یکجا راٸج ہو ۔پنجابی ،گجراتی ،مراٹھی ،کنڑ،تمل، تلگو، ملیالم ،ہریانوی،بنگالی اور سنتھالی وغیرہ سیکڑوں ایسی زبانیں ہیں جو اپنے اپنے حلقے میں بولی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سب زبانیں صرف اپنے اپنے علاقے تک محدود ہیں، صرف اردو ایک ایسی زبان ہے جس نے تمام ہندوستان، ہندستانی معاشرے اور عوام کو متاثر کیا ہے ،ساٸنس کا ایک ضابطہ ہے وہی چیز باقی رہ سکتی ہے جو وقت اور حالات کے حساب سے مطابقت پیدا کر لے اور اردو زبان میں وہ صلاحیت موجود ہے جو بدلتے ہوۓ زمانے کے ساتھ أہستہ أہستہ خود کو بھی بدلتی رہتی ہے اردو نے اپنے دامن کو ہمیشہ وسیع رکھا ہے اور ہر زبان کے ألفاظ کو محبت کے ساتھ اپنے أنچل میں سمیٹ لیا ہے۔۔اردو کی شفقتوں اور محبتوں کا ایسا اثر ہوا کہ ریختہ کہی جانے والی زبان جس کا مطلب ”گرے پڑے“ کے ہیں یہ گری پڑی زبان بادشاہوں کے درباروں سے لیکر عوام کی گلیوں تک سب دلوں میں اپنی خاص جگہ بناتی چلی گٸ اور تب سے اب تک مسلسل ترقی کی منازل طۓ کر رہی ہے یہی وجہ ہے اردو کا ماضی بھی روشن رہا ہے اور مستقبل بھی محفوظ ہے ۔۔اردو زبان ہی وہ زبان ہے جس نے قلیل مدت میں ایسی ترقی کی جو نہ صرف ہمارے ملک ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی خاص اہمیت کی حامل ہے ۔۔مگر افسوس سیاست دان اس محبت والی اور شیریں زبان کو بھی سیاست کا مدہ بنا کر اردو کو طبقئہ خاص سے جوڑ کر اردو کے وجود کو نذر أتش کرکے اپنی روٹیاں سینکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ایسا ممکن نہیں تاریخ گواہ ہے اردو زبان وہ زبان ہے جسے ہر مذہب کے لوگوں نے اپنایا ہے ۔ہندو ،مسلم ،سکھ ،عیساٸ ہر مزہب کے لوگوں نے اس کے گیسو سنوارے ہیں اور اسے پروان چڑھانے میں اپنا حق ادإ کیا ہے ۔فراق، پریم چند، بیدی ،دیاشنکر نسیم ، چکبست ،اشوک ساحل،سیکڑوں ایسے نام ہیں جن کے بغیر اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی زبان کے سیاست دانوں سے راقم الحروف کی گزارش ہے کہ اردو کو طبقئہ خاص سے منسلک کرنے سے پہلے اردو ادب کی تاریخ سےان ناموں کو نکال کر الگ کر دیں یا پھر ان کے نام ہی بدل دیں ۔۔۔۔اردو دنیا کی وہ شاٸستہ اور شیریں زبان ہے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے ۔اردو نے ہندوستانی معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادإ کیا ہے ۔جنگِ أزادی کے دور میں بھی اردو نے ہندوستان کی دوسری زبانوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ چل کر اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کیا ہے ۔اردو اخبارات اور صحافت نے عوام کے دلوں میں ایسی بیداری اور جزبہ انقلاب پیدا کیا جس نے انگریزی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور أخر کار انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔۔۔ہندوستانی سنیما کے فروغ میں بھی اردو نے بہترین کردار ادا کیا ہے اردو نے ہندوستانی فلموں اس کے گیتوں اور مکالموں کو زندگی بخشی اور اسےاس لائق بنا دیا کہ أج ہندوستانی سینیما پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے ۔

ہندوستانی معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں اردو شاعروں اور ادیبوں کا تعاٶن بھی قابلِ تحسین ہے ۔اردو زبان ایک دوسرے سے میل جول کرنے کی خواہش ،بزرگوں کی عزت ،چاہے وہ کسی مزہب سے تعلق رکھتے ہوں ملک سے محبت اور اور اچھی زندگی بسر کرنے کا درس دیتی ہے ۔۔اردو نے ہندوستانی معاشرے کی تعمیر بہت خوبصورتی کے ساتھ کی ہے جس کی وجہ سے اردو نے اپنے وجود کو ہمیشہ منفرد رکھا ۔

Previous articleیوپی الیکشن: نہیں ہے کسی کو بھی سیاست کے معیار کو گرنے کی فکر !! از :جاوید اختر بھارتی
Next articleبہار یونیورسٹی کے زیر اہتمام امتحانات کا اعلان

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here