اردو خاکہ “کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی” ایک مطالعہ( آخری قسط) از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

0
97

ایم آئی ٹی بی ایڈ کالج، پٹنہ

پروفیسر ابنِ کنول عصمت آپا کا خاکہ لکھیں اور عینی آپا کو نسیا منسیا کردیں یہ نا انصافی وہ نہیں کر سکتے ہیں، آخر منصف مزاج جو ٹھہرے ! شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرتے ہوئے 2008 سے 2015 کے دوران میں نے جو مشاہدہ کیا تھا اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ استاد محترم فرمان ربانی ” اعدلوا هو اقرب للتقوى ” کے پاسدار وعلمبردار ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں بھی انصاف کو ملحوظ رکھنے کی سعی مسعود کی ہے۔ عصمت آپا کے ساتھ ساتھ عینی آپا کا بھی خاکہ لکھا ہے اور بہت عمدہ لکھا ہے۔ اس کا آغاز بایں سطور کیا ہے :

” جب سے ادبی ہوش سنبھالا، یہی سنا کہ ” آگ کا دریا ” کی مصنفہ کی تپش بہت تیز ہے۔ ان سے ملتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں اور بات کرتے ہوئے ہکلاتے ہیں۔ کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ اردو کی ادیبہ ہیں لیکن انگریزی بولتی ہیں۔ انگریزی میں سوچتی ہیں اور انگریزی میں لکھتی بھی ہیں۔ ان کا رویہ بھی انگریزی حکام کا سا ہوتا ہے۔ جس طرح انگریز ہندوستانیوں سے ملتے تھے یا بات کرتے تھے قرة العين بھی اسی طرح پیش آتی ہیں۔ ان کی شخصیت بھی ان کے اسلوب کی طرح پرشکوہ ہے۔ کچھ وہ اپنے رویے سے مرعوب کر دیتی ہیں اور کچھ لوگ ان کی تحریروں سے مرعوب ہوکر ان کے سامنے زبان نہیں کھول پاتے ہیں۔ “(ص:108)

فاضل خاکہ نگار نے اس خاکہ میں عینی آپا کی اردو زبان وادب کے علاوہ انگریزی میں مہارت تامہ، انگریزی سے جنون کی حد تک شغف، دوسروں پر ان کا رعب و دبدبہ اور ان کے جاہ و جلال، انٹرویوروں پر ان کا خوف، ان کی عظیم المرتبت شخصیت، فکشن نگاری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کی انفرادیت کے حوالے سے سیر حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ بہت ہی شگفتہ و شائستہ لب و لہجے میں انہیں کبر و غرور سے دور ایک ” سچی فنکار ” قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں :
” عینی آپا وہ نہیں تھیں جو لوگ سوچتے تھے۔ وہ ایک سچی فنکار تھیں۔ ” شیشے کے گھر “میں بیٹھ کر ” دلربا ” انداز میں “چاۓ کے باغ ” سے لا ہوئی چاۓ پیش کرتے اور ” پت جھڑ کی آواز ” کو نظر انداز کرتے ہوئے” ستاروں سے آگے” ، ” روشنی کی رفتار” دیکھ کر یہ کہتی ہوئے رخصت ہو گئیں ” اگلے جنم موہے بیٹا نہ کچیو “، عینی آپا مغرور نہیں تھیں۔ جبکہ انکے پاس وہ سب کچھ تھا جو کسی کے اندر غرور پیدا کر سکتا ہے۔ (ص:109)
عینی آپا کا یہ خاکہ بہت دلچسپ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ قارئین کو اس کی قرأت کے وقت بڑا لطف آتا ہے۔

اس کتاب میں معاصر اردو ڈراما کی تنقید کے نئے امام، معروف ناقد و محقق، ڈراما نگار، نکڑ ناٹکوں اور تھیٹروں کے بڑے اداکار و ہدایت کار پروفیسر محمد کاظم ، شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی، دہلی کے استاد کا خاکہ بھی شامل ہے۔ پروفیسر ابنِ کنول اور پروفیسر محمد کاظم میں بہت گہری دوستی ہے جس کا بنفس نفیس میں شاہد ہوں۔ دراں حالاںکہ دونوں کی عمر میں تفاوت کی دیوار کھڑی ہے۔ دراصل جب آدمی ایک درسگاہ یا عمل گاہ میں ہوتا ہے تو سینئرٹی و جونیئرٹی یا عمر کی دیواریں از خود منہدم ہوجاتی ہیں، خاص کر ہم مزاجوں اور ہم خیالوں کے درمیان کی دیواریں۔ وہاں اکثر کلیگ ہم پیالہ و ہم نوالہ ہو جاتے ہیں اور وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر بن جاتے ہیں :
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
مذکورہ بالا شعر عام طور پر مساجد کے نمازیوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے، مگر میں نے پروفیسر ابنِ کنول اور پروفیسر محمد کاظم کے درمیان جس طرح بےتکلفی کا مشاہدہ کیا ہے اس سے مجھے لگتا ہے کہ یہ شعر ان دونوں مشاہیر زبان و ادب پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ بہر حال! اس کتاب میں پروفیسر ابنِ کنول نے بہت خوبصورتی سے پروفیسر محمد کاظم کا خاکہ کھینچا ہے اور ان سے اپنے گہرے مراسم کا بڑی اپنائیت کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ اس کی سطر سطر ہی نہیں لفظ لفظ بھی پروفیسر ابن کنول کی پروفیسر محمد کاظم سے بےپناہ محبت کی چیخ چیخ کر شہادت دیتا ہے۔ فاضل خاکہ نگار نے اس کا آغاز بھی دیگر خاکوں کی طرح اپنے مخصوص اساطیری و داستانوی پیرایۂ اسلوب میں کیا ہے، ملاخطہ فرمائیں :
” ہیلو – ہیلو، جی السلام علیکم” ، ” کہاں ہو بھئی؟ ” ، “جی کلکتہ میں” ، ” کب گئے؟ ” ، ” آج صبح آیا، کل ان شاءاللہ واپس آجاؤنگا۔ “، ” ہیلو – ہیلو”، ”جی السلام علیکم۔ “ ، ”کہاں ہو بھئی؟ “ ، ” احمدآباد میں، رات آیا تھا۔” کبھی کلکتہ، کبھی احمدآباد، کبھی جبل پور، کبھی پونا، کبھی ممبئی، کبھی بنگلہ دیش، کبھی مصر، کبھی ترکی، کبھی تاشقند، کبھی ماریشس… یہ آدمی ہے یا جن؟ ارے یہ جن نہیں ، اداکار ہے۔ باداب ، با ملاحظہ، ہوشیار۔ اسٹیج پر سناٹا تھا، اچانک اندھیرے کو چیرتا ہوا روشنی کی زد میں ایک شخص چلاتا ہوا اسٹیج پر آیا۔ ” یہ دنیا منچ ہے۔ ہم سب اداکار ہیں۔ اچھے اور برے، سب مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ اپنی اچھائیوں کے ساتھ ، اپنی برائیوں کے ساتھ۔ ہاہاہاہا۔ وہ شخص بار بار یہ بات دہراتا ہوا اسٹیج سے غائب ہو جاتا ہے۔ اسٹیج پر روشنی ہو جاتی ہے۔ میں اس شخص کو تلاش کرتا ہوں۔ نظر نہیں آتا ۔ پھر دیکھتا ہوں کہ ایک بھیڑ اسے گھیرے ہوۓ چلا رہی ہے، اس سے مدد مانگ رہی ہے۔ میں نے غور سے دیکھا، یہ کون ہے۔ یہ تو کاظم ہے- ڈاکٹر محمد کاظم۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبئہ اردو میں استاد۔ واقعی یہ استاد ہے۔ ہر جگہ استادی دکھاتا ہے۔ ہر فن میں استاد ہے۔ ” (ص: 202-201)
ابنِ کنول نے اس ڈرامہ میں بھی اپنے فنی کمالات کا خوب خوب مظاہرہ کیا ہے۔ پروفیسر محمد کاظم کی اداکاری، ہدایت کاری، استادی، خوش مزاجی، سلیقگی، شائستگی، سنجیدگی، بے پناہ صلاحیت ، قابلیت ، فعالیت ، ادبیت، محنت، مشقت اور ان کے فکرو فن وغیرہ پر بڑی شگفتگی مزاجی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ان کے کلکتہ سے دہلی تک کا سفر اور دہلی میں جے این یو سے ایم اے، ایم فل و پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرنے، مشہور ادبی رسالہ “آجکل ” اور دہلی یونیورسٹی میں ملازمت کرنے، ان کے اخلاق کی وجہ سے یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ اور کلرک سے لے کر، طلباء، ریسرچ اسکالرز، پروفیسران و دیگر اعلیٰ عہدیداران تک کے انہیں سلامی ٹھوکنے اور اور بے پناہ اہمیت و عزت بخشنے کی صراحت نہایت پر لطف انداز میں کی ہے۔ انکے کھانے پینے اور سیر و تفریح کے شوق وذوق کے حوالے سے بھی کئی انکشافات کئے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ کی حسن تربیت، بہترین و لذیذ نوع بنوع پکوان میں مہارت، گھر کی صفائی و ستھرائی کا مکمل خیال رکھنے اور ان کے حسن ذوق کی خوب خوب مدح سرائی کی ہے۔ اس خاکہ کے ضمن میں شعبئہ اردو دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان کی معرکہ آرائی اور ایک دوسرے کی غیبت کرنے کا بہت ہی بےباکانہ انداز میں بھانڈا پھوڑ بھی کیا ہے۔ نیز شعبئہ اردو کے ایک اور نہایت فعال و سرگرم اور طلباء میں بےحد مقبول استاد ڈاکٹر امتیاز احمد کی سرگرمیوں، کھانے پینے میں ان کے اعلی ذوق اور عمدہ کھانے کا نظم ونسق اور بندوبست کرنے میں ان کی مہارت کا تذکرہ بھی بہت مزے لے لے کر کیا ہے۔ اس طرح یہ خاکہ بھی دیگر خاکوں کی طرح بہت پر لطف ہے، البتہ اس کا عنوان “مشکل کشا: محمد کاظم ” شرعی میزان پر فٹ نہیں ہے۔ اکابرین و محققین علماء کے نزدیک ” مشکل کشا ” کا استعمال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے لیے ہی کرسکتے ہیں، غیر اللہ کو ” مشکل کشا” کہنا شرک ہے جو کبیرہ، بلکہ قرآن و احادیث کی روشنی میں ناقابل معافی گناہ ہے، الا یہ کہ اس سے توبہ کر لیا جائے۔

اس کتاب میں محمد عتیق صدیقی، محمد زماں آزردہ، ایڈووکیٹ اے رحمان، پروفیسر علی احمد فاطمی، پیغام آفاقی، اسلم حنیف، جلال انجم، فاروق بخشی، شمس تبریز، پروفیسر خواجہ محمد اکرم الدین، عظیم صدیقی، نعیم انیس اور محمد شریف کے بھی خاکے شامل ہیں۔ سب پر علیحدہ گفتگو طوالت اور قارئین کی اکتاہٹ کا باعث ہوگی، چنانچہ گفتگو کو مزید طول دئیے بغیر حاصل مطالعہ کے طور پر عرض کروں کہ کتاب میں شامل سبھی خاکوں کی قرأت کے دوران فاضل خاکہ نگار پروفیسر ابنِ کنول کی تخلیقی بصیرت، معاشرتی بصارت اور عصری حسیت کے فنکارانہ مظاہرہ کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ خاکہ نگار نفسیات انسانی کا نباض ہے اور فلسفہ زیست سے بخوبی آگاہ بھی۔ ہر خاکہ اپنے آغاز سے اختتام تک سحر انگیز ہے۔ مسجع، مقفٰی اور پرشکوہ عبارت سے مزین ہے۔ زبان میں لطافت، سلاست، شائستگی، شگفتگی اور سنجیدگی کا دریا متموج ہے۔ تاریخ، تنقید ، تحقیق اور لطف و مزاح کا خوبصورت امتزاج ہے۔ بامحاورہ زبان، نپے تلے جملے، ضرب الامثال کا جابجا استعمال ہے۔ ہر جملہ قارئین کو آ گے کے جملوں اور ہر سطر آ گے کی سطور کی قرأت پر مجبور کرتی ہے۔ سطر سطر ہی نہیں، بلکہ لفظ لفط میں خاکہ نگار کی دلی کیفیات، محسوسات اور ذہنی محرکات کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ ابنِ کنول چونکہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں۔ عہد طالب علمی سے ہی ان کا رشتہ داستانوں سے بڑا گہرا، مضبوط اور مستحکم رہا ہے، اس لیے افسانوں کے علاوہ ان کی دیگر تحریروں میں بھی داستانوی اسلوب کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ مسجع و مقفیٰ الفاظ سے لیس عبارتوں سے وہ ایک خاص قسم کی فضا قائم کرکے اپنی تحریروں کو استعاراتی و طلسماتی بنانے کا بخوبی فن وہنر جانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تحریروں کا جادو قارئین کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ پروفیسر ابنِ کنول نے اس کتاب کی تصنیف کرکے اردو خاکوں کو نہ صرف اس کی متاعِ گم شدہ لوٹا دیا ہے بلکہ اس فن کو عروج وارتقاء بھی عطا کیا ہے۔(یہ بھی پڑھیں!اردو خاکہ ” کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ” ایک مطالعہ(دوسری قسط) از:ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

Previous articleامت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال از: شمشیر عالم مظاہری ۔ دربھنگوی
Next article23تا 25اگست 19مراکز پر مانو کے انٹرنس ٹیسٹ کا ہوگا انعقاد!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here