اردو خاکہ ” کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ” ایک مطالعہ از:ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

0
80

ایم آئی ٹی بی ایڈ کالج، پٹنہ

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔

پروفیسر ابنِ کنول نے اپنے استاد پروفیسر قمر رئیس کی شباہت و وجاہت اور ان کے حسن وجمال کو ” حسن یوسف ” سے تشبیہ دیا ہے، البتہ اس یوسف سے نہیں جس کی خوبصورتی کے حوالے سے مشہور ہے کہ اللہ نے چاند کی نصف خوبصورتی انہیں عطا کی تھی اور باقی نصف کو پوری دنیا کے انسانوں میں تقسیم کردیا۔ اس یوسف سے نہیں جس پر نوعمر وکم سن ہونے کے بعد بھی بادشاہ مصر کی ادھیڑ عمر بیگم زلیخا فدا ہوگئ تھیں اور اپنی ناپاک خواہش کی تکمیل کے لیے فلمی وڈرامائی انداز اختیار کیا تھا۔ دروازہ خود بند کیا تھا۔ بدکاری کا آفر بھی خود ہی کیا تھا، ۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کوئی عام لڑکا نہیں، یہ تو مسقبل میں پیغمبر خدا ہونے والا ہے۔ ایسا لڑکا جو منصب نبوت پر فائز ہونے والا ہو وہ کیسے کسی حسینہ کی پرفریب محبت کا اسیر ہوکر معصیت الہی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ ابنِ کنول نے قمر رئیس کو اس یوسف سے تشبیہ دی ہے جو بھارتی فلموں میں لیجنڈ اداکار و شہنشاہ جذبات کے آداب و القاب اور دلیپ کمار کے نام سے مشہور تھا، جس نے بالی ووڈ پر کئی دہائیوں تک حکمرانی و بادشاہت کی، جو کروڑوں نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن تھا، جس کے حسن وجمال پر ایک نہایت کم سن ، نوخیز ، شوخ ، چنچل و چلبلی 12سالہ سائرہ بانو فریفتہ ہوگئی تھیں جبکہ یوسف (دلیپ کمار) اس وقت اپنی عمر کی 34 ویں بہاریں دیکھ رہا تھا۔ دل بھی عجیب ہوتا ہے، کب کس پر لٹو ہوجائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ کبھی نو عمر لڑکے پر معمر خاتون جان نچھاور کرنے لگتی ہے اور کبھی بزرگ شخص پر نوخیز و دوشیزہ جان قربان کرنے لگتی ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ باپ کی عمر کا شخص بیٹی کی عمر کی لڑکی پر مرنے مٹنے لگتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے شیفتگی وفریفتگی اور پیار و محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اس طرح کے واقعات سے تاریخ انسانی بھری پڑی ہے۔ بہر حال ! پروفیسر ابنِ کنول پروفیسر قمر رئیس کو دلیپ کمار جیسی خوبصورت و پرکشش شخصیت کا مالک بتاتے ہوئے رقمطراز ہیں :
” قمر صاحب کی شخصیت بہت پرکشش تھی۔ دلیپ کمار کی طرح خوبصورت پٹھان تھے۔ دراز قد، نکھرتا رنگ، چمکدار مسکراتی آنکھیں، پیشانی پر لہراتے سیاہ بال جنہیں تھوڑی تھوڑی دیر میں انگلیوں سے اوپر کرتے، خاموش رہتے تو صوفیانہ استغراق، بولتے تو بلبل کی سی چہچہاہٹ۔ ” (ص:41)

اردو زبان وادب کی قدیم تاریخ ہے کہ معاصرین کے درمیان کسی نہ کسی بات کو لے کر چشمک کی دیواریں اٹھی رہتی ہیں، بلکہ تلوار کھچی رہتی ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کی گردن زدنی کے لیے شمشیر بکف ہوتا ہے ۔ انشا و مصحفی اور انیس ودبیر کی چشمک جگ ظاہر ہے۔ اسی طرح پروفیسر قمر رئیس اور پروفیسر گوپی چند نارنگ کے درمیان معرکہ آرائی سے دنیا واقف ہے۔ پروفیسر ابن کنول نے ان دونوں کے درمیان ہمہ وقت جنگ چھڑی رہنے کے باوجود ان کے تعلقات کو ہند و پاک جیسے تعلقات سے تشبیہ دی ہے اور خود کو قمری کیمپ کا سپاہی قرار دیا ہے، رقمطراز ہیں :۔
” اس زمانے میں اردو کی دو معروف شخصیات پر دہلی کی ادبی سرگرمیوں کا انحصار تھا۔ ایک پروفیسر قمر رئیس اور دوسرے پروفیسر گوپی چند نارنگ۔ دونوں اپنے زمانے کے انشا و مصحفی یا انیس ودبیر تھے۔ اس زمانے کے بزرگ اور نوجوان ادیب و شاعر انیسیوں اور دبیر یوں کی طرح تقسیم تھے۔ ہم قمری گروہ کے سپاہیوں میں شمار ہوتے تھے ۔ علی گڑھ میں قاضی عبد الستار کے آدمی کہلاتے تھے، یہاں ان کے دوست قمر رئیس کے کہلائے گئے۔ قمر صاحب اور نارنگ صاحب کے پاس عہدے بھی تھے، قلم بھی اور قلمکار بھی تھے۔ نظر یاتی اختلافات تھے۔ خوب مورچہ بندی ہوتی تھی۔، کبھی کبھی مصلحتاً Ceasefire کی بھی نوبت آجاتی تھی لیکن وہ ہند وپاک جیسے ہی تعلقات تھے۔ Ceasefire کی خلاف ورزی اپنی جگہ تھی۔ “(ص: 48-47)

پروفیسر ابنِ کنول افسانہ نگار اور خاکہ نگار کے ساتھ ساتھ نقاد بھی ہیں اور نقاد بھی کوئی ” لکیر کا فقیر ” نہیں اور نا ہی وہ ” من ترا حاجی بگویم تو میرا حاجی بگو” کا قائل ہیں، وہ تو “جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا ” پر ہمہ وقت کاربند رہتے ہیں، اس سے ایک اینچ آگے بڑھتے ہیں اور نا ہی پیچھے ہٹتے ہیں۔ استاد قمر رئیس سے حددرجہ عقیدت و محبت کے باوجود ان کی لامذہبیت و دین بیزاری سے نقاب کشائی بڑی بے باکی سے کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں:
صوم وصلوة سے وہ دور تھے۔۔۔۔۔ سناہے قمر صاحب نوجوانی میں ایسے نہیں تھے یعنی جب شاہجہاں پور میں تھے تو نماز بھی پڑھتے تھے اور کبھی کبھی اذان بھی دیتے تھے لیکن جب جوان ہوکر لکھنؤ آئے تو پڑھے لکھوں کی صحبت میں بگڑ گئے۔ “(ص:42-41)
اس کتاب میں ایک خاکہ ” گوپی چند نارنگ ” کے عنوان سے ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے پروفیسر گوپی چند نارنگ سے اپنے تعلقات، ان کی نیرنگی شخصیت وعظمت، علمیت و قابلیت، فضائل وکمالات اور گراں قدر ادبی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں بھی دہلی اور علی گڑھ میں اردو ادباء، بالخصوص پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر نارنگ اور پروفیسر عنوان چشتی کے درمیان مخاصمت اور ان کی گروہ بندیوں کا جم کر بھانڈا پھوڑا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
” جب اسکول سے نکل کر علی گڑھ کے شعبہ اردو میں آئے تو اردو اور اردو والوں کی سیاست کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی اور 1978 میں دہلی آکر تو اردو کا پارلیمنٹ ہی دیکھ لیا۔ یہاں تو آزادانہ حکومتیں قائم تھیں۔ کہیں پانی پت کا میدان تھا، کہیں پلاسی کی جنگ تھی، کہیں بکسر کی لڑائی۔ “(ص:69)

ابنِ کنول چونکہ ہمیشہ سے حلیم و بردبار اور دوراندیش ونکتہ رس رہے ہیں، اختلاف و انتشار سے اپنے دامن کو شروع سے محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے علی گڑھ میں مذکورہ تینوں شخصیات کی معرکہ آرائی سے بھی خود کو بچائے رکھا۔ وہ چونکہ طلباء کے بہت بہی خواہ ہیں اور اپنے شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں اور اساتذہ کے اختلافات کو طلباء کے لیے باعث خسارہ سمجھتے ہیں۔ اساتذہ کی گروہ بندی سے وہ کیسے نبردآزما ہوئے اور کیسے حکمت و مصلحت کے حصار میں خود کو محصور کیا اس کا بخوبی اندازہ ان کے اس قول لین سے لگایا جاسکتا ہے :
” ہمارے لیے بڑی مشکل تھی۔ ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر۔ ابا نے کہا تھا تینوں کا احترام کرنا، حالات کہہ رہے تھے کسی ایک کا ہو جاؤ۔ ہم ٹھہرے صلح کل پر چلنے والے آدمی۔ یعنی کل سے صلح رکھو۔ نظریہ اپنا رکھو ۔ نہ کا ہو سے بیر رکھو، نہ کا ہو سے دشمنی۔ اساتذہ کے اختلافات میں اکثر طلباء کا نقصان ہوتا ہے “۔ (ص:69)
فاضل خاکہ نگار نے معروف صوفی شاعر عنوان چشتی کا بھی خاکہ بڑی خوش اسلوبی سے تحریر کیا ہے۔ ان سے اپنے والد بزرگوار کے خوشگوار تعلقات، ان کے نام کے ساتھ “چشتی” لفظ کے لاحقہ کی وضاحت، ان سے اپنی پہلی ملاقات، بالمشافہہ ان سے علمی مذاکرہ اور ان کی حیات و خدمات وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ معروف افسانہ و ناول نگار حیات اللہ انصاری کا بھی خاکہ عالمانہ انداز میں لکھا ہے۔ ان کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے افسانہ ” آخری کوشش” اور ناول ” لہو کے پھول ” کی بڑی تعریف کی ہے۔ ان سے اپنی ملاقات کا یادگار واقعہ قلمبند کیا ہے۔ ان کی شباہت و وجاہت اور جسامت و قدامت کو لال بہادر شاستری سے تشبیہ دی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں 1985 میں ” ریسرچ سائٹیسٹ ” کی حیثیت سے اپنی تدریسی خدمات کے آغاز کا تذکرہ بڑی خوش اسلوبی سے کیا ہے۔ لفظ ” سائنٹیسٹ ” کی وضاحت بہت ہی مزاحیہ انداز میں کی ہے۔ قارئین اسے پڑھ کر لوٹ پوٹ تو ہوتے ہی ہیں، فرطِ مسرت سے جھوم بھی اٹھتے ہیں کہ اردو زبان و ادب کو پروفیسر ابنِ کنول کی شکل میں کنہیالال کپور اور پطرس بخاری کا بدل مل گیا۔ اس پر میں بھی مہر صداقت ثبت کرتا ہوں۔

پروفیسر ابنِ کنول نے معروف ادیبہ، ناول و افسانہ نگار عصمت چغتائی کا خاکہ بعنوان ” عصمت آپا ” لکھا ہے جو اس کتاب میں شامل ہے۔ اس کے آغاز میں انہوں نے کسی جواں سال قلمکار کی طرح نہایت پر جوش و پرمزاح انداز میں عصمت کی خاکہ کشی کی ہے۔ اس خاکے کا لفظ لفظ عصمت کی شخصیت، طبیعت، افتاد، مزاج اور خدمات کی صداقت کی شہادت دیتا ہے۔ ابنِ کنول نے اپنے افسانوی انداز کو اس خاکہ میں بھی مکمل طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ لگے ہاتھوں ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ لگا ئیں کہ اس کا آغاز کس طرح دلکش پیرائے میں کیا ہے :
” خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں ” ، صبر آجاتا اگر خاک میں پنہاں ہو جاتیں۔ ایسی خوبصورت خاتون کہ بڑھاپے میں بھی کوئی دیکھے تو دیکھتا رہے۔ درمیانہ قد، گورا رنگ، چنگیز خانی بدن، جو ہر طرح کے مقابلے کے لیے تیار، سفید روئی کے گالوں جیسے بال، انگریز لیڈی کی طرح۔ تبھی تو انہیں فلم “جنون ” میں انگریز عورت کی ماں کا کردار ملا۔ شیام بینیگل کی نظر تھی، جینیفر سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھیں۔ بالکل بوڑھی ڈول ( گڑیا) کی طرح۔ کاش خاک میں مل جاتیں۔ “(ص: 90)
عصمت کتنی بےباک تھیں، وہ عورتوں پر مردانہ طبقہ کے ظالمانہ رویے کی کتنی کٹر مخالف تھیں۔ عورتوں کے مسائل کو کتنی مضبوطی سے اٹھا تی تھیں، اردو زبان وادب میں ڈرامہ نگاری و افسانہ نگاری کو انہوں نے کیسے فروغ دیا ، ان سب پر خاکہ نگار نے مسحور کن گفتگو کی ہے۔ ساتھ ہی انہیں کرشن چندر، منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کا ہم پلہ فکشن نگار بھی قرار دیا ہے۔ علی گڑھ میں ان سے باربار اپنی ملاقات اور ان سے استفادہ کا اعتراف کیا ہے ۔ ان سے اپنے تعلقات کو علی گڑھ برادری کا حصہ بتایا ہے۔ ان کے انتقال کو ” اردو افسانوی ادب کا آخری ستون” گر جانے سے تعبیر کیا ہے۔ اس خاکہ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابنِ کنول نے خود کو عصمت آپا کی عقیدت و محبت کی زنجیر میں جکڑ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں کہیں قلم شرعی ناحیے سے لغزش کا شکار ہوگیا ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے:
” قبر کے اندر یہ فکشن نگار موجود ہے۔ جب دل چاہےگا دیکھ لیں گے۔ ایسی پیاری صورت کو مٹی نے بھی میلا نہ کیا ہوگا۔مستقل منکر نکیر سے حجت ہورہی ہوگی اور منکر نکیر تنگ آکر اور یہ کہہ کر چلے گئے ہوں گے کہ ان سے الجھنا اپنی مصیبت بلانا ہے کہ یہ چنگیز خان کے خاندان سے ہیں لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ان کا خوبصورت بدن تو نذر آتش ہوکر راکھ بن گیا اور ہوا میں اڑ گیا۔ آگ نے بھی پہلے چھونے سے انکار کیا ہوگا۔ عصمت آپا تو خود آگ تھیں۔ ان کے قلم سے تو آگ ٹپکتی تھی۔ “( ص:92-91)

کوئی بھی شخص قبر میں مدفون اپنے مطلوب ومقصود کو جب جی چاہے دیکھ لے، ایسا تا صبح قیامت ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو قبرستانوں میں دن رات، بلکہ ہر پل مداحوں کا جم غفیر ہوتا اور انہیں قطار بند ہونا پڑتا ” پہلے میں دیکھوں گا تو پہلے میں دیکھوں گا ” کو لے کر اکثر لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوتے، گولیاں بھی بہت سارے لوگوں کے سینوں کو چھلنی کرتیں۔ پوری دنیا میں روزانہ لاکھوں لاشیں زمین دوز ہوتیں۔ اللہ کا نظام ہے، صورت خواہ جتنی بھی پیاری ہو قبر کی مٹی اسے نہ صرف چھوتی ہے، بلکہ اس کے جسم کو سڑا اور گلا بھی دیتی ہے اور پھر اسے اپنے اندر ضم کر لیتی ہے، اس کے جسم کے گوشت پوشت سب کچھ کو ملیامیٹ کر دیتی ہے۔ ہڈیاں بھی بہت دونوں تک محفوظ نہیں رہتیں۔ یہ بھی مسلم ہے کہ منکر و نکیر کے نزدیک کبھی کسی کی چلی ہے ، ناہی صبح قیامت تک چلے گی۔ قبر میں ہر کوئی منکر و نکیر( دو فرشتوں کے نام ) سے خوف کھاتا ہے اور اس سے پناہ طلب کرتا ہے وہ کسی سے خوف نہیں کھاتے اور نہ کسی سے تنگ آکر راہ فرار اختیار کرتے ہیں ۔ چاہے چنگیز خان کے خاندان کا کوئی ہو یا خود چنگیز خان ہی کیوں نہ ہو۔ عصمت چغتائی کو بھی منکر نکیر کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، اگرچہ انہیں نذر آتش کیا گیا تھا۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ کسی کو قبر میں دفن کیا جائے یا نذر آتش کیا جائے،سمندر برد کردیا جائے یا لاش کو چیل نوچ کھائے یا پھر شیر ودیگر موذی جانور چیر پھاڑ کھائے سب کو اللہ کے حکم سے منکر نکیر کا اور ان کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے اعمال کے مطابق اسے سزا و جزا دی جاتی ہے۔ اس سے کسی بھی مذہب یا دھرم کے لوگ نہیں بچ پاتے ہیں۔ خواہ اس کی آخری رسومات جس شکل میں بھی انجام دی جاتی ہو۔ موت اور قیامت کے درمیان ایسا ہر مرنے والے کے ساتھ ہوگا۔ قرآن کریم و احادیث میں اسی کو قبر یا عالم برزخ کہاگیا ہے۔ دوسری بات کہ عصمت چغتائی کی ذات اولو العزم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ ملقب بہ خلیل اللہ جیسی تو تھی نہیں کہ آگ نے بھی پہلے انہیں چھونے سے انکار کیا ہو گا اور ان کے لیے آسمان سے ندا آئی ہوگی کہ اے آگ عصمت کے لیے تو گل گلزار ہوجا۔ آگ کی خاصیت جلانے کی ہوتی ہے سو اس نے پہلی بار میں ہی عصمت کو جلاکر راکھ کردیا ہوگا۔ پھر انہیں منکر و نکیر کے روبرو بھی جوابدہ ہونا پڑا ہوگا۔ ویسے اللہ اگر قہار ہے تو وہ غفار اور غفور الرحیم بھی ہے، ہو نہو اس نے عصمت آپا کو معاف کر دیا ہو۔ اس ذات اقدس سے خیر کی امید رکھنی بھی چاہیے کہ اس کا قرآن میں فرمان ہے ” لاتقنطوا من رحمة الله ” ( سورۃ الزمر، آیت نمبر 53) کہ تم لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا۔(یہ بھی پڑھیں!اردو خاکہ “کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی” – ایک مطالعہ (قسط اول) از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی آئندہ

Previous articleسال نو کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next article“زندگی سانپ سیڑھی کا کھیل ہے، امکانات ہمیشہ بنے رہتے ہیں” خورشید احمد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here