“اردو تیرے حال پہ رونا آیا” ایک حقیقت کا انکشاف از: کامران غنی صبا

0
85

نیچے ضلع اردو زبان سیل، پٹنہ کا اشتہار ہے. پروگرام اردو کا ہے. اردو ڈائریکٹوریٹ کی ماتحتی میں ہوتا ہے.

جی ہاں وہی اردو ڈائریکٹوریٹ جو “مونگ پھلی” والوں سے کتابیں لکھوانے کے لیے گرانٹ دیتی ہے. اردو میں اشتہار جاری کروانا اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے. اردو اخبار میں بھی اشتہار ہندی میں شائع ہوتا ہے. اخبار والوں کے پاس بھی اتنی وسعت نہیں ہے کہ اشتہار سے ملنے والی رقم کا پانچ دس فیصد حصہ مترجم کو دے کر اشتہار ترجمہ کروا لیں. ہاں فروغ اردو تحریک کے نام پر یومیہ ایک صفحہ چند مخصوص لوگوں کی قصیدہ خوانی ضرور شائع کروائی جاتی ہے. یہ لوگ اردو کا کتنا بھلا کر رہے ہیں کبھی ان کی ماتحتی میں کام کرنے والے ملازمین سے پوچھیے. اردو کا جو ادارہ اردو اخبارات کو اردو میں اشتہارات جاری نہ کر سکے اور اردو کے جو اخبارات اردو اشتہارات کا ترجمہ شائع نہ کر سکیں وہ اردو کے فروغ کی بات کس منھ سے کرتے ہیں؟

صرف ایک عدد تصویر کے لیے جو لوگ قصیدہ خوانی کرتے ہیں انہیں خود سے بھی سوال پوچھنا چاہیے کہ اردو کے نام پر شہرت و ناموری کی روٹی سینکنے والے لوگ اردو کے تئیں کتنے مخلص ہیں؟ اگر آپ بھی اس ڈر سے سچ بولنے اور لکھنے سے ڈرتے ہیں کہ اخبار والے آپ کی تحریروں کو شائع کرنا بند کر دیں گے تو پھر اردو سے جھوٹی محبت کا دعوٰی بھی بند کر دیجیے.
………………

کامران غنی صبا کی اس حقیقت کے انکشاف کا اثر! مختلف لوگوں کی رائے

“افسوس”!
(قاضی محمد مخدوم)

“ایسوں کے پاس دکھانے کو منھ ہی نہیں ہوتا تو فروغ کی بات آخر کس منھ سے کریں”؟
(توقیر بدر)

“اردو أبادی کے ساتھ یو بھونڈا مذاق اور کھلی دشمنی ہے۔کوئ بھی محب اردو بولے نہ بولے مگر برداشت تو نہیں کرسکتا۔فروغ اردو کے نام پر یہ اردو کے ساتھ ڈاکہ زنی ہے”
(فہیم جوگا پوری)

“اردو ڈائرکٹریٹ کو فوراً اس کی وضاحت پیش کرتے ہوئے اردو میں اشتہار جاری کرنا چاہیے۔
نیز آئندہ ایسا نہ ہو، اس کو یقینی بنانا چاہیے۔”
(خالد مبشر)

“اردوکےنام پرلاکھوں سرکارکاکھانےوالےلوگ اپنےبچوں کواورخوداردوسےدوررکھتےہیں”
“میرانظریہ ہےاورحقیقت بھی یہی ہےپرائیویٹ مدارس اردوکوپڑھاتےہیں اورزندہ بھی رکھےہوئےہیں۔اس لئےسرکارسےہرپرائیویٹ مدرسےکورقم ملنی چاہئیےجوکہ ان کاحق الخدمت ہوگی،مدارس کےعلاوہ کسی کوبھی یہ سرکارسےاردوکےنام پررقم لینادرست نہیں۔”
(مفتی عبد الباسط دربھنگوی)

“یقینا یہ لمحہ فکریہ ہے ۔۔۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔۔۔۔”
(انور آفاقی)

“اُردو کے ساتھ بھدا مذاق
قابلِ افسوس”
(ابرار صدیقی)

“کہاں ہیں وہ لوگ جو روزانہ ایک صفحہ اپنی تعریف میں قومی تنظیم کا برباد کر رہے ہیں اور وہ اندھے لوگ کہاں ہیں جو اپنی تصویر شائع کرانے کےلئے جھوٹی قصیدہ خوانی کرتے ہیں کہاں ہیں اردو کے وہ چند خادم جو بند کمرے میں میٹنگ کرکے اپنی تصویر شائع کراتے ہیں حرام خوری تو اردواخبار والوں میں بڑھی ہوئی ہے اگراردوکےیہ سچے خادم ہیں تو اس کا ترجمہ کرنے کے بعد شائع کرتے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس اشتہار میں جنسیت کی بھی غلطی پائی جارہی ہے ان اردوداں اور اردو پروفیسر سے بہتر ہیں مونگ پھلی بیچنے والے. کم از کم اس شخص کو مونگ پھلی کی بات کرنے سے قبل سوچنا چاہئے کہ امداد کسے دی جاتی ہے رمز عظیم آبادی رکشہ چلاتے تھے لیکن ان کے کتنے شاگرد ہیں ذرا اس پر بھی دھیان دینا چاہیے اس طرح کی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے آئندہ سال سے صدقہ زکوۃ بھی انہی پروفیسران کو دے دیا جائے گا جو کسی غریب کی صلاحیت کو نہیں دیکھتے اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں”
(چونچ گیاوی)

“بددیانتی کا ایک اور نمونہ”
(کلیم اللہ کلیم)

“اس سے زیادہ افسوس کیا کِیا جا سکتا ہے کہ اردو کے تعلق سے اردو کا اشتہار اردو زبان میں نہیں ہے.”
(شفیع احمد)

Previous articleاردو ٹی ای ٹی امید واروں کو ہندی ٹی ای ٹی امید واروں کی طرح گریس مارک دیا جائے! اردو ایکشن کمیٹی کا سرکار سے مطالبہ
Next articleشمیم فاروقی ایک تعارف از: انسان گروپ،بنگال

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here