دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔حصّہ ششم )آخری قسط

0
69

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

نظم نگاری۔۲
شہریار چند لفظوں یا گِنے چُنے مصرعوںسے کس انداز سے اپنی بات مکمّل کرلیتے ہیں، اس حقیقت پر غور کرتے ہوئے ایک عجیب احساس ہوتا ہے۔ کسی بھی شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ ممکن حد تک ایجاز کو اپنائے۔ کم سے کم لفظوں میں اپنی بات کو مکمّل کر دے۔ یہ آسان نہیں اور شاعر کے لیے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ اچھی بھلی نظم کہیں کوئی لطیفہ نہ بن جائے۔ اخترالایمان جیسے بڑے شاعر کی بعض مختصر نظمیں اُن کی بڑی نظموں کی طرح تاثّر قایم رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ ہر چند شہریار کی بہت ساری نظموں پر اپنے بزرگ شعرا بالخصوص اختر الایمان کے محدود اثرات موجود ہیں مگر چھوٹی نظموں میں شہریار نے اپنا ہنر کچھ اس انداز سے ظاہر کیا ہے جیسے وہ جدید شعرا کے درمیان اس باب میں سب سے بڑے فن کار ہیں۔ ان کی چند مختصر نظمیں ملاحظہ ہوں:
مائل بہ کرم ہیں راتیں
آنکھوں سے کہو اب مانگیں
خوابوں کے سوا جو چاہیں
[ایک نظم]
حروف تتلیوں کے رنگ بن گئے
خموشیوں کو طوٗل دیں گے، فاصلے بڑھائیں گے
ہم ایک دوسرے سے اور دوٗر ہوتے جائیں گے
کہاں ہو تم!
تمھاری ہر دعا قبول ہو گئی
[کہاں ہو تم]
نہ جانے کیا ہُوا دیوا ر و دَر کو
مَیں کِن آنکھوں سے دیکھوں اپنے گھر کو
کہیں بھی دھند تاریکی نہیں ہے
ہر اِک کمرے میں اِتنی روشنی ہے
کہ کچھ بھی دیکھنا ممکن نہیں ہے
[اِتنی روشنی]

مانا ہیں شَل ہاتھ تمھارے
مانا ہیں پتوار پُرانے
ماناساحل دوٗر بہت ہے
مانا دریا ہے طوٗفانی
کشتی پار نہیں ہونے کی
آخر ی کوشش تو کرنی ہے
[آخری کوشش تو کرنی ہے]
لبوں پہ ریت، ہاتھوں میں گلاب
اور کانوں میں کسی ندی کی کانپتی صدا
یہ ساری اجنبی فضا
مرے بدن کے آس پاس آج کون ہے؟
[بدن کے آس پاس]
پھر ریت بھر ے دستانے پہنے بچّوںکا
اک لمبا جلوس نکلتے دیکھنے والے ہو
آنکھوں کو کالی لمبی رات سے دھوڈالو
تم خوش قسمت ہو، ایسے عذاب کی لذّت
پھر تم چکھّو گے
[عذاب کی لذّت]
یہ نظمیں خیال کی ایک مکمّل دنیا آباد کرتی ہیں۔ یہ کتنا مشکل کام ہے کہ کوئی شاعر پہلے سے یہ متعیّن کرلے کہ بیان اور خیال کو ایسے مرکز میں لاکر نظم کا قالب عطا کرنا ہے کہ حقیقی نظم کی تخلیق کے امکانا ت روشن ہو جائیں۔ اس بے حد مشکل راستے کو شہریار نے اپنے شعری سفر میں کچھ اس اہتمام سے اپنایا کہ ان کے ہر مجموعے میں دو تہائی ایسی کامیاب نظمیں ہیںجنھیں آپ مختصر تر اور مختصر ترین کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ شہریار کی شاعری کا سخت سے سخت انتخاب بھی اُن مختصر ترین نظموں سے علاحدگی اختیار کرکے تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔
شہریار کی نظم نگاری پر گفتگو اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ان کی اُن نظموں کا تذکرہ نہ ہو جن میں ایک عاشقانہ کیفیت موجودہے اور اس کے نہ جانے کتنے مدارج یہاں طرح طرح سے روشن ہوئے ہیں۔ شہریار کی ان نظموں میں زندگی کے جسمانی تقاضے اور انسان کی خواہشات کی بنتی سنورتی اور پامال ہوتی ہوئی صورت لفظوں کا قالب اختیار کرتی ہے۔ پیاس ، تمنّا ،حصول اور سیرابی کا یہ کھیل چلتا رہتا ہے۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر بالآخر کھونے اور بے آس ہو جانے کے لیے زندہ ہے۔ذیل میں شہریار کی ایسی چند نظموں کا مطالعہ کرکے ہم کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں:
میرا تو اِرادہ تھا
ہونٹ سیڑھیوں سے مَیں
آسمان تک جائوں
توٗنے اس جگہ مجھ کو
اتنی دیر تک رُوکا
یہ بھی بھول بیٹھا مَیں
میرا کیا اِرادہ تھا
اِس وجودِ خاکی میں
جسم کچھ زیادہ تھا
[میرا تو اِرادہ تھا]
شام ڈھلتے ہی مِری آنکھوں نے
اِک سمندر کے خدو خال گڑھے
رات کی کشتی اُتاری اس میں
اک کنارے پہ تجھے بٹھلایا
دوسرے پہ مجھے زنجیر کیا
باوجود اِس کے مِرے ہونٹوں نے
جسم پر تیرے بہت دیر تلک
حرفِ ناگفتنی تحریر کیا
[حرفِ ناگفتنی]
میں حصارِ آرزوٗ میں مطمئن تھا
تم نے یاد آکے
بدن کے بند کھولے
آئو میں تم پر ہَوسِ اَسرار کھولوں
لب ترازوٗ میں تمھیں تا دیر تَولوٗں
آخری سسکی تَلک مَیں چُپ رہوں اور کچھ نہ بولوں
بس اسی کام میں مَشّاق ہوں میں
[بدن کے بند]
تمھارے میرے درمیاں
ہَوس سِوا کوئی نہیں
تمھیں بھی اس کا علم ہے
خبر مجھے بھی اس کی ہے
کبھی تم اپنے جسم سے
الگ مجھے مِلو کہیں
کہ مَیں تو اپنے جسم سے
جُدا کبھی ہُوا نہیں
[ہَوس سِوا کوئی نہیں]
شب کی ساری صراحیاں خالی
ہو چکیں جب، تو صبح کا سوٗرج
میرے ہونٹوں کے پاس آیا، کہا
’’رات کو قطرہ قطرہ پینے سے
پیاس بجھتی نہیں ہے، بڑھتی ہے
ثبت کر ہونٹ میرے ہونٹوں پر
اور اِس پیاس سے رِہائی پا‘‘
[پیاس سے رِہائی]
لبوں پہ ریت، ہاتھوں میں گلاب
اور کانوں میں کسی ندی کی کانپتی صدا
یہ ساری اجنبی فضا
مرے بدن کے آس پاس آج کون ہے؟
[بدن کے آس پاس]
ترے ہونٹوں پہ میرے ہونٹ
ہاتھوں کے ترازو میں
بدن کو تولنا
اور گنبدوں میں دور تک بارود کی خوشبو
بہت دن بعد مجھ کو جاگنے میں لطف آیاہے
[جاگنے کا لطف]
شہریار کی نظم گوئی کامذکورہ مختصر جائزہ یہ ثبوت فراہم کرتا ہے کہ وہ نظم کے فن کے مختلف رنگوں اورآہنگوں کو اپنی نظم کا حصّہ بنا کر جدید عہد میں نظم گوئی کا ایک سنگِ میل قایم کرتے ہیں۔ ان کے ہم عصر وں میں غزل اور نظم دونوں صنفوں میں توازن قایم کرنے والے شعرا خال خال ہیں۔ وہ نظم گوئی کے وقت نظمیہ تقاضوں کو پورا کرتے ہیں مگر غزل گوئی کے مرحلے میں ایک بدلے ہوئے شخص کے بہ طور ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دونوں صنفوں میں شہریار کی حقیقی کامیابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے ادبی رویّوں اور تقاضوں کو خوب خوب سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنا انفرادی اسلوب تو قایم کیا ہی مگر اپنے زمانے کی ادبی فضا اور اس کے مخصوص محاورات سے بھی وہ بے خبر نہ تھے۔ اسی لیے جدید شاعری کے مضامین، مخصوص اسلوب اور شہریار کی انفرادی آوازوں میں ایک ایسی مطابقت پیدا ہو گئی جس سے اس عہد کی بے حد معتبر شاعری وجود میں آئی۔ اس شاعری میں فلم اور مشاعروں نے مقبولیت کے اضافی بیج ڈالے جس سے اپنے دوسرے ہم عصروں کے مقابلے میں شہریار کی شہرت اور عظمت میں چار چاند لگے۔ شہریار جیتے جی محترم قرار دیے گئے اور جدیدیت کے عَلَم بردار شعرا میں انھیں صفِ اوّل میں جگہ ملی۔

[نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، نئی دہلی کی جانب سے شائع شدہ شہریار کے انتخابِ کلام کا مقدّمہ]

Previous articleدھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔حصّہ پنجم )
Next articleمایوسی سے امید کی جانب کا سفرکیجئے!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here