دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔حصّہ پنجم )

0
172

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

نظم نگاری۔۱
اردو نظم کی طویل تاریخ اس صنف کے فکری اور دانش ورانہ تقاضوں کی طرف ہماری توجّہ مبذول کراتی ہے ۔ نظیر اکبر آبادی، حالی، اقبال اور جوش سب کی نظمیں کسی مرکزی فکر یا کسی مخصوص خیال کے دائرے میں محفوظ نظر آتی ہیں۔ ہر چند حلقۂ اربابِ ذوق کے شعرا نے بالعموم اور بعض ترقی پسند شعرا نے بالخصوص پُرانی نظموں سے علاحدہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔تب بھی نظم نگاری کے بڑے حصّے میں دانش ورانہ توجّہ اور فکر و فلسفہ کی افتاد ہمیشہ شامل رہی ہے۔اس لیے فکر وخیال پر ارتکاز اور منطقی انجام کے طوٗلِ بیان کو نظم گوئی کا شناخت نامہ سمجھا گیا۔ اس کے باوجود اختر الایمان نے کسی مختصر خیال یا کسی ایک لمحے کی کیفیت کو پیشِ نظر رکھ کر مختصر نظموں کی گنجایشیں پیدا کیں مگر اُن کا حقیقی شاعرانہ زور اُن کی کم مختصر یا طویل نظموں میں سامنے آیا۔ اکثر نظم گو شعر اکسی بات کے فطری خاتمے کی پیش کش تک بہت سارے مصرعے خرچ کر چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے بڑے نظم نگار مختصر اور مختصر تر نظموں کو زیادہ آزماتے ہوئے نظرنہیں آتے ۔اقبال کے آخری دَور کی نظمیں بھی ان کے شاعرانہ اوصاف کے مقابلے تبلیغی عناصر کے سبب پہچانی گئیں۔
اردو کے جدید شعرا میں شہریار اور منیر نیازی کی رفتہ رفتہ یہ پہچان قایم ہوئی کہ وہ اپنی بات محض چند مصرعوں میں مکمّل طَور پر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شہریار نے یوں بھی ابتدائی دَور سے ہی بہت سارے شعرا کی طرح خود کو مفکّر اور فلسفی بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یوں بھی جدید شعرا ترقی پسندوں کے بعد وارد ہوئے تھے اور ان کے آزمائے ہوئے راستوں سے الگ ہونا چاہتے تھے؛ اس لیے کسی مرکزی فکر کے تابع ہو کر وہ کیوں کر سرگرمِ تخلیق ہوتے؟ شہریار تو اپنی نصف صدی سے زیادہ عرصے تک پھیلی شاعری میں کبھی کسی فکروفلسفہ کا دعوا کرتے نہیں پائے گئے۔ اپنے بارے میں لکھتے ہوئے اور اپنے تصوّرات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ہمیشہ گریز کا راستہ چُنتے ہیں۔ بہ درجۂ مجبوری کبھی اپنے مجموعے پر لکھنے کا انھیں موقع بھی ملا تو کبھی دو صفحات سے زیادہ کا غذ کا زیاں نہیں کیا۔ اس بیان میں بھی اظہارِ تشکّر اور تکلّفات کا عمل دخل زیادہ رہتا تھا۔ اس سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ شاعر اپنے قارئین کو غیرضروری طَور پر اپنے خیالات کے دباو میں نہیں رکھنا چاہتا اور انھیں آزادانہ طور پر اپنی راے قایم کرنے کے لیے مواقع دیتا ہے۔ شہریار بھلے جاگیر دارانہ قبیلے سے آتے تھے مگر انھیں جو زندگی ملی، وہ جمہوری تقاضوں سے لیس ملی تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو جمہوری آئینے میں تیّار کیا اور اسی وجہ سے ہمیشہ ایسی کوشش کی کہ اپنی شاعری کے موضوعات و مفاہیم کے بارے میں خود زیادہ گفتگو نہ کریں۔ کسی نظم نگار میں اگر ایسی بات ہوگی تو وہ کیسے اپنے افکار و نظریات کی تبلیغ کرنا پسند کرے گا۔
شہریار کی نظمیں نوّے فی صدی مختصر ترین ہیں اور ان میں سے اکثر و بیش تر پانچ ،چھے اور سات آٹھ مصرعوں پر مشتمل ہیں۔ہر نظم میں اگرچہ کوئی نہ کوئی خیال ضرور پیشِ نظر ہے مگر یہ کہنا واقعتا مشکل ہے کہ شاعر کسی سلسلۂ خیال کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ان نظموں کو پیش کر رہا ہے۔ اس طرح سے موضوعاتی اعتبار سے شہریار کی نظمیں اس صنف کی آزمائی ہوئی زمین سے بالکل مختلف ہیں۔ شاعر کے ذہن میں کوئی انوکھا سا خیال یا کوئی ایک کیفیت مچلتی ہے اور چند چھوٹے بڑے مصرعے وجود میں آ جاتے ہیں۔ شہریار نے نظمِ معرّا، آزاد نظم اور مٹّھی بھر نثری نظمیں شایع کی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظمِ معرّا اور آزاد نظموں میں شاعر کو زیادہ سہولت حاصل ہے۔ اُسے اپنے خیال یا کیفیت کی پیش کش کے لیے یہی دونوں ہیئتیں زیادہ پسندیدہ ہیں اور دَورِ اوّل سے لے کر آخری زمانے تک شہریار کی نظم گوئی کا سلسلہ انھی دونوں ہیئتوں میں قایم رہتاہے۔
شہریار کی نظموں میں آہنگ کے اعتبار سے بعض نظمیںنہایت ہی نغمہ ریز اور ترنّم سے بھر پور ہیں۔ یہ صرف نظمِ معرّا کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ ان کی آزاد نظمیں بھی خوب خوب رواں دواں ہیں۔ اس کے برعکس شہریار کے غزلیہ سرمایے میں موسیقیت کے لیے کبھی کوئی اضافی کوشش یا توجّہ دیکھنے کو نہیں ملتی۔ عین ممکن ہے کہ شہریار یہ بات سمجھتے ہوں کہ نظم میں شاعرانہ آہنگ نہ ہو تب خیال کاسلسلہ قایم رکھنے میں دشواریاں پیداہو سکتی ہیں۔ یہ مسئلہ غزل کی آزاد فضا میں کبھی مشکلات کا باعث نہیں ہوتا کیوں کہ وہاں اکثر شعر اپناآزادانہ وجود ثابت کرتے ہیں اور ہر شعر اپنی الگ کیفیت کے سبب ہماری توجّہ مبذول کراتا ہے۔شہریار کی معرّا نظموں میں تو اتنی رواں دواں کیفیت ملتی ہے جیسے محسوس ہوکہ یہ شاعر اپنے ترقی پسند سابقین یا بالخصوص فیض کی توسیع ہے مگر خیال کی سطح پر شہریار کی چند نظمیں بھی ایسی نہیں پیش کی جا سکتی ہیں جنھیں خالص ترقی پسندانہ ذہن کا زائیدہ قرار دیا جاسکے۔ ابتدائی دور میں شہریار کے یہاں مختصر تر نظموں کے ساتھ ذرا طویل نظمیں بھی نظر آتی تھیں مگر جیسے جیسے شعر گوئی کا سلسلہ آگے بڑھا، مختصر تر نظموں پر شہریار کااعتماد بھی بڑھا جس کے نتیجے میں یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ رفتہ رفتہ وہ نہایت مختصر نظموں کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اشارے کی زبان قایم کر رہا ہے۔ وہ جب چاہے، چند لفظوں سے اپنی بات اپنے قارئین تک پہنچا سکتا ہے۔ جب بیان میں ایسی قدرت آ جائے تو کسی بھی شاعر کو لفظوں کا بے جا اسراف کیوں کر کرنا چاہیے۔ اس لیے شہریار نے نہایت مختصر نظموں پر اپنی تخلیقی قوّت کا ارتکاز قایم کیا۔ اس سے اردو کی نئی شاعری میںان کا ایک خاص کردار اُبھر کر سامنے آیا۔
شہریار کی نظم گوئی کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کے کچھ کلیدی الفاظ ان کے اظہار کی سَمت متعیّن کرتے ہیں ۔ کئی نقّادوں نے ان کے سرمایۂ الفاظ پر بحث کرتے ہوئے اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ رات، خواب، آنکھ، نیند،سفر، شام، سایہ، پرچھائیں، سمندر، کشتی، تنہائی، دھواں، جسم، دھوپ جیسے الفاظ کے اِردگِرد شہریار کی تخلیقات لفظوں کے پیرہن حاصل کر تی ہیں۔ بہ یک نظر غور کریں تو جدید شاعری کے یہ پسندیدہ الفاظ ہیں۔ شہریار نے یوں بھی اپنی پوری شاعری میں لفظ و بیان کا کوئی گورکھ دھندا نہیں کیا۔ ایک محدود اور نہایت سادہ سرمایۂ الفاظ سے نصف صدی سے زیادہ زمانے تک وہ کام چلاتے رہے۔ ان کے اکثر و بیش تر ہم عصر ماسواے محمّد علوی فارسی تراکیب اور روشن لفظیاتی نظام کی طرف اپنا جھکاو رکھتے تھے۔ شہریار نے اپنے لیے یہ انوکھا نشانہ رکھا کہ وہ مُٹھّی بھر لفظوں اور بیس پچیس کلیدی الفاظ کے سہارے اپنے اظہار کی ساری دنیاپیش کر دیں گے۔ یہ ایک حیرت انگیز اعتماد تھا۔ بھلے اس کی ابتدائی تربیت خلیل الرّحمان اعظمی کے زیرِ سایہ ہوئی ہو مگر شہریار نے اُس اسلوب کو اور بھی سادہ اور عرفِ عام میں بے نمک بنایا۔ یہ بے ارادہ نہیں تھا۔ اُنھیں خیالات کی ترسیل اور مخصوص شعری کیفیت سے سروکار تھا۔ اگر کسی شاعر کو سادہ زبان اور بہ ظاہر اکہرے بیان میں اثرآفرینی کی دنیا میسّر آ جائے تو اُسے کیوں دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

شہریار کی ابتدائی نظموں میں ’موت‘ اور ’آدرش‘ کا مطالعہ کیجیے تو اس بات پر یقین کرنے کو جی ہی نہیں چاہتا کہ کسی شاعر کی یہ بالکل ہی ابتدائی نظمیں ہیں۔ دونوں نظمیں بیان ، پیش کش اور معنوی نظام کی وجہ سے اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ شہریار اگرچہ فلسفیانہ تصوّر کے اعلانیہ طَور پر قائل نہیں مگر یہ نظمیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ شاعر زندگی اور کاینات کی حقیقت پر غور کرتا ہے اور اُسے انوکھے خیال اپنی قید میں لیتے رہتے ہیں۔ ’موت‘ کا آخری مصرع :’ ابھی نہیں، ابھی کم بخت دِل دھڑکتاہے‘ پڑھتے ہوئے’ کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر‘ جیسا آہنگ قایم ہوتاہے۔ اسی طرح ’آدرش‘ نظم کے انجام پر شاعر یوں گویا ہوتا ہے:’بوجھو تو پاگل کا سپنا، سمجھو تو سنسار‘۔’اسمِ اعظم‘ میں چار مصرعوں کی ایک نظم ’آشوبِ آگہی‘ موجود ہے۔ کہنے کو چار مصرعوں کا وجود ہی کیا اور وہ بھی بیس پچیس برس کے کسی نوجوان نے جب اسے قلم بند کیا ہو مگر نپا تُلا اظہار، بیان پر قدرت، جذبوں کی ڈور کو سنبھالے رکھنا اور زندگی کے کھیل تماشے یا ہار جیت میں اُلجھ جانا؛ یہ سارا بیان ’آشوبِ آگہی‘ میں سمٹ آیا ہے۔ اس نظم کے عنوان نے اس کی معنوی دنیا کووسیع کر دیا ہے ۔ ہمیں یہاںکبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کسی مبتدی کا کلام ہے:
اک گھنیرے شجر کے سائے میں
دو گھڑی بیٹھ کر یہ بھول گئے
قرض ہاے جنوں چکانے ہیں
ہم کو سورج کے ناز اٹھانے ہیں
[آشوبِ آگہی]
’ساتواں در‘ مجموعے میں شہریار کی چند ایسی نظمیں شامل ہوئی ہیں جنھیں جدیدیت کے عہدِ شباب کا نمایندہ کلام کہا جا سکتاہے۔’زوال کی حد‘ ، ’عہدِ حاضر کی دل رُبا مخلوق‘ اور ’خطرے کا سائرن‘ نظموں کو جدید شاعری کا نمایندہ اسلوب قرار دیا جا سکتاہے۔شہریار کی یہ تینوں نظمیں نظمِ معرّا کی صورت میں ہی سامنے آتی ہیں۔ پہلی دو نظمیں ذرا طویل ہیں۔ ’خطرے کا سائرن‘ کو بھی مختصر تر نظموں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ذہنی بکھراو، غیریقینی صورتِ حال اور تیزی سے بدل رہی زندگی کے اقدار میں اندر اور باہر سے کس طرح کی ٹوٹ پھوٗٹ ہے؛ اسے شہریار کی نظموں کے اسلوبِ بیان نے اور بھی واضح کردیا ہے۔ ان نظموں سے چند مصرعے ملاحظہ کریں:
لایعنی ہیں مرگ و زیست
بے معنی ہیں سب الفاظ
بے حِس ہے مخلوقِ خدا
ہر انساں اک سایہ ہے
شادی غم، اک دھوکا ہے
دل، آنکھیں، لب، ہاتھ، دماغ
ایک وبا کی زد میں ہیں
اپنے زوال کی حد میں ہیں
[زوال کی حد]
زرد بلبوں کے بازوئوں میں اسیر
سخت، بے جان، لمبی کالی سڑک
اپنی بے نور دھندلی آنکھوں سے
پڑھ رہی ہے نوشتۂ تقدیر
[عہدِ حاضر کی دل رُبا مخلوق]

تمام شہر آگ کی لپیٹ میں ہے، بھاگیے
حضور کب سے میٹھی نیند سو رہے ہیں، جاگیے
سماں ہے روزِ حشر کا، نگاہ تو اٹھائیے
لگی ہوئی ہے آنکھ پر جو دوربیں، ہٹائیے
تمام اہلِ شہر، شہر چھوڑ کر چلے گئے
جھکے ہوئے ہیں سر عظیم بلڈنگوں کے دیکھیے
اب اور کچھ نہ دیکھیے، اب اور کچھ نہ سوچیے
تمام شہر آگ کی لپیٹ میں ہے، بھاگیے
[خطرے کا سائرن]
جدیدیت نے جس سماجی بحران سے ہمیں آگاہ کیا تھا اور اس صورتِ حال کے لیے جو سب سے موزوں اسلوب ہو سکتا تھا، شہریار نے اپنی مذکورہ نظموں میںاتنی پختگی اور تکمیلیت کے ساتھ پیش کر دیا ہے جیسے انھیں غیب سے کچھ اشارے مل رہے ہوں اور اس کی روشنی میں اپنے زمانے کاوہ تجزیہ کر رہے ہوں۔شہریار اگر موضوع اور اسلوب کی سطح پر جدید ادب کے تقاضوں سے خود کو پورے طور پر ہم آہنگ نہ کر پاتے تو ایسی نظمیں یا تو بہت سَر سَری انداز میں پیش ہوتیں یا مبلّغانہ رُخ اختیار کر لیتیں۔ حالاں کہ اس وقت وہ ایک نئے شاعر تھے اور بہ مشکل دس برس کی مشقِ سخن تھی مگر انھوں نے جدیدیت کے اس اسلوب کو پورے طور پر انگیز کر لیا تھا۔ آج یہ بات کہنا مشکل نہیں کہ جدید شاعری کا جو نظمیہ سرمایہ سامنے آیا اور اس میں جو سب سے نمایندہ اور اپنے عہد کے مزاج و اسلوب سے مطابقت رکھنے والی نظمیں تخلیق ہوئیں، ان میں ’زوال کی حد‘ اور ’عہدِ حاضر کی دل رُبا مخلوق‘ یا ’خطرے کاسائرن‘ جیسی نظموں کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔
[نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، نئی دہلی کی جانب سے شائع شدہ شہریار کے انتخابِ کلام کا مقدّمہ]

Previous articleدھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ چہارم )
Next articleدھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔حصّہ ششم )آخری قسط

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here