نظم “ظفرکمالی” پر تنقیدی نظر از : عبدالوہاب قاسمی

2
114

ڈاکٹر ظفرکمالی کی ظریفانہ شاعری میں خود کلامی اور سرگوشی کا تناظر بہت معنیٰ خیز ہے۔ جن نظموں میں ایسے تناظر ملتے ہیں ان کے بغور مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ وہ طبیعت کی شوخی یا ظریفانہ خوش مزاجی کے زیرِ اثر نہیں بلکہ حد درجہ حسّاسیت اور سوزِ دل سے مضطرب ہوکر ایسی نظمیں لکھتے ہیں۔زمانے کے بدلتے انداز اور انسانی کرداروں کے ظاہری وباطنی تضادات کے مشاہدے وہ جس انداز سے کرتے ہیں وہ دوسروں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔وہ اپنے ارتکاز و انہماک اور کشادہ نظری سے کسی بھی معاملے کے پہلو در پہلو تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ظاہر ہے ایسی باریک بینی سے چیزوں کو نظروں میں اتارنے والا شاعر اگر ظرافت نگار ہو تو اس کے یہاں سیدھے سادے اسلوب میں بھی ظرافت کے نئے ذائقے اور زاویے نظر آئیں گے ۔اس حوالے سے ’’دربیانِ خود‘‘ ،’’ضمیر کی لوری‘‘ اور ’’ظفرکمالی ‘‘ کے عنوان سے ان کی نظمیں بطورِ خاص ہماری توجہ کی مستحق ہیں ۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ نظمیں ایک دوسرے سے اسلوبیاتی سطح پر مختلف ضرور ہیں لیکن معنوی اعتبار سے باہم مربوط ہیں۔ شاعر کے فکری ابعاد کی صحیح تفہیم کا انحصار اس بات پر ہے کہ پیشِ نظر نظم کے ساتھ ساتھ مذکورہ دونوں نظموں پر بھی ہماری نظر ہو۔

اردوشاعری کا ایک حصہ خود کلامی کے اسلوب میں بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ یہ تھوڑا ہی سہی مگر ایسی شاعری زندہ رہتی ہے اور برسوں تک قاری کے ذہن و دل پر اپنا سحر قائم رکھتی ہے۔ میر تقی میرؔ اور اختر الایمان کے یہاں اغلب حصہ اسی اسلوب میں سامنے آتا ہے جب کہ غالب اور اقبال کے یادگارِ زمانہ اشعار بھی اسی آہنگ میں ملتے ہیں۔اس حوالے سے ظفرکمالی کی ان نظموں پر روایت کا گہرا نقش دکھائی دیتا ہے۔
اچھی شاعری کا یہ اہم وصف ہے کہ اس میں انفس کی کربناکیوں کے سلسلے آفاق سے جڑ ے ہوتے ہیں یعنی ذات میں کائنات سمٹ آتی ہے۔ ظفرکمالی کی ان نظموں میں یہ خوبی بطورِ خاص محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آپ بیتی ، جگ بیتی بن گئی ہے۔ ظاہر ہے آپ بیتی کے پردے میں جگ بیتی کو آئینہ کرنا ذہنی پختگی اور بصیرت افروزی کے بغیر ممکن نہیں۔جگ بیتی کے مظاہر تینوں نظموں کے اپنے اپنے پس منظر میں ڈرامائی سین لیے سامنے آتے ہیںجن میں شاعر نے اردگرد کے ماحول ، فضا، کردار، رویے اور المیے کی ایسی نقش گری کی ہے کہ قاری لمحہ بہ لمحہ حیرتوں، افسردگیوں ، آہوں ، آنسوئوں اور تلخیوں کی عجیب و غریب کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔

ان نظموں کے مطالعے سے شاعر کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کا خاص پیمانہ بھی ہاتھ آتا ہے۔ اس کے باطن میں جو ہلچل ، بے چینی، بے اطمینانی اور اضطراب ہے وہ خارجی مظاہر کی مرہونِ منت ہے۔ ظفر کمالی کی شخصیت کے اردگرد اصول و ضوابط، روشن اقدار، انسانیت نوازی، زندہ ضمیری اور روایات کی پاسداری کے ایسے ہالے ہیں جن کی آج ہماری نظروں میں کوئی خاص وقعت نہیں۔ ہم انھیں پامال کرکے دانش مند بنتے ہیں اور وہ قیمت چکاکر انھیں زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے اصولوں کی باربار قیمت چکانے والا انسان اندر سے کس قدر ٹوٹا ہوا ہوتا ہے اس کا ادراک سب کے بس کا روگ نہیں۔ ظفرکمالی کے تئیں شدّت کے ساتھ اس بات کا احساس ان نظموں کے گہرے مطالعے سے ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کے آشوب کو پوری دانشمندی کے ساتھ یہاں جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور چھوٹے ،بڑے، دیدہ اور نادیدہ ہر پہلو پربصیرت افروزی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہر طرف چھائی ہوئی تشویش و تردّد کی فضا، بدعہدیوں، نفرتوں، پیچیدگیوں اور خیروشر کی معرکہ آرائیوںکے بیچ انھوں نے جو شعری رویہ اپنایا ہے وہ طنز و تڑپ اور چبھن سے بھرپور ہے۔ زندگی کی تلخیوں اور اداسیوں سے مدافعت کے طورپر دیکھیں تو ظفرکمالی نے یہاں الگ ہی طوراختیار کیا ہے۔ انھوں نے آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ کے ذریعے اپنے باشعور اورحسّاس ہونے کی سچی تصویریں پیش کی ہیں۔ جب زندگی کے ہر شعبے میں آپادھاپی، تصادم اورکشاکش کا دور دورہ ہو اور ہر سطح پر منفی قوتیں مثبت رویوں پر حکمران ہوں تو سچا ظرافت نگار آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر ہنسی سجالیتا ہے۔ ظفر کمالی نے یہ کام بڑی بصیرت مندی سے انجام دیا ہے۔ جب لوگ اندھے اور بہرے ہوتے گئے تو انھوں نے زوال پذیر ماحول کے ڈھیر پرکھڑے ہوکر ہنسنا شروع کردیا۔ تینوں نظموں میں اشک آلود تبسم کی کیفیت مشترک ہے۔ کبھی شاعر کا باطن لہو لہو ہے اور کبھی خارجی کائنات زخمی زخمی ہے۔ ’’دربیانِ خود‘‘ میں حزنیہ کیفیت کے ساتھ باطن کا قصہ نظم ہوا ہے۔ یہاں دماغ کی جگہ دل کی دنیا مرتعش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں جو گہری افسردگی ہے وہ اثر کرکے رہتی ہے اور شاعر نے دل شکن حالات کی عکاسی اور روح کی کربناکی کو جذبے کی جس شدّت کے ساتھ پیش کیا ہے اس میں وہ پوری طرح کامیاب ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
اقربا ہوں کہ ہوں بہن بھائی
کوئی اس کا نہیں تھا شیدائی

سب کو شکوہ اسی کی ذات سے تھا
جو گلہ تھا اسی کی بات سے تھا

ظاہر ہے اس طرح کے اشعار اسی وقت کہے جاتے ہیں جب آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگے اور دل حالات کی ستم زدگی کا محور بن جائے۔ خونی رشتے کی اس کیفیت میں دیگر پس منظر کو سمجھا جاسکتا ہے۔’’ضمیر کی لوری‘‘ کالہجہ ناصحانہ ہے جس میںشاعربے ضمیری کے ماحول میں اپنے ضمیر کو سلانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔تاکہ آزارِ جاںکی کیفیت میں وہ مبتلا نہ ہو۔یہ نظم خارجی تناظر کے ساتھ ضمیر میں برپا ہونے والی مسلسل جنگ کا عنوان ہے ۔نظم ’’ظفرکمالی‘‘ کا تیور مختلف ہے۔ یہ واحد متکلم کے صیغے میں طنزیہ فضا لیے ہوئے ہے۔ تینوں نظموں میں لہجے کی سرگوشی اور خودکلامی یکساں ہے۔ یہ منظوم رودادِ بیان اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ یہ شاعر کی باطنی کیفیت اور فکروشعور کا نگار خانہ ہیںجن میں شاعر اپنی ذات اور ضمیر سے ایک قلندر کی طرح جنگ لڑرہا ہے۔علامہ اقبال نے کہا تھا ؎
مردِ مومن زندہ و با خود بجنگ
بر خود افتد ہمچو بر آہو پلنگ
شاعر کی یہی مجادلانہ اور محاربانہ کیفیت ان نظموںمیںروح بن کر دوڑ رہی ہے۔ نظم ’’ظفرکمالی‘‘ کے فکری ابعاد کو سمجھنے کے لیے ان دونوں نظموںکو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
نظم ’’ظفرکمالی ‘‘ کے فکری ابعاد کو سمجھنے کے لیے نظم ’’دربیانِ خود‘‘ اور ’’ضمیر کی لوری‘‘ سے کچھ مثالیں پیش ہیں ؎
اس نے بیچا نہیں جو اپنا ضمیر
اس سے خوش رہتے کیسے شاہ و وزیر

خاکساری دکھاکے خاک ہوا
کس طرح مفت میں ہلاک ہوا

جانتا تھا وہ سب فراز و نشیب
پھر بھی کھاتا تھا ہر قدم پہ فریب

جان کر سب وہ رہتا تھا انجان
دل میں تھا کُلُّ مَنْ علیہا فان

(دربیانِ خود)

کیا تجھ کو معلوم نہیں ہے سارا دیس ہے سوتا
کیا جگنے سے بن جائے گا تو گاندھی کا پوتا

(ضمیر کی لوری)

ان مثالوں میں شاعر کا جو ذہنی و فکری رویّہ سامنے آرہا ہے طنزیہ لہجے میں اس کا عروج نظم ’’ظفرکمالی‘‘ میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔نظم ’’ظفرکمالی ‘‘میں’’کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ‘‘ والی کیفیت ہے۔ شاعر خود پر ملامت کے پردے میں حالیہ ادب کے اس تناظر پر حملہ آور ہے جس میں ادبی اقدار کی پامالی عروج پر ہے۔ وہ ادب میں غیر اخلاقی اور بے ضمیری کے اس ماحول کا حصہ نہیں بننا چاہتا جس میں ادب کے بغیر ادیب کو سب کچھ میسّر ہوجاتا ہے۔
اس نظم میں شاعر نے اپنی بصیرت افروزی سے ادبی کائنات کی کجیوں کے نئے نئے اجزا تلاش کیے ہیں۔ یہ کام انھوں نے نظم کے مختلف پیکروں کے ذریعے انجام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر ان کے یہاں خاصا مواد ملتا ہے جس کی نشاندہی نظم’’ادب اور سی۔ بی۔ آئی‘‘ کے تجزیے میں کی گئی ہے۔ان نظموں کو ایک ساتھ پڑھیے تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے انسانی نفس اور ذہن کے میلانات، رجحانات اور ظاہر و باطنی محرکات کو اپنی گرفت میں لے کر ان کے درمیان ایک تخلیقی ربط پیدا کیا ہے۔ اس رویے نے ان کی ظرافت نگاری میں اصولی تصوّرات اور طرزِ احساس کو زندہ کردیا ہے جو نظم ’’ظفرکمالی‘‘ میں بھی بے مثال ہے۔اس کا آہنگ ایسا ہے کہ اس میں بولنے والی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ اپنے آپ سے شاعر کا اندازِ تخاطب بہت والہانہ ہے۔ لفظوں کے ساتھ ساتھ لہجے میں جو گداختگی اور سوز ہے اس نے طنز کو ہمہ گیر بنادیا ہے۔ تنہائی کا کرب، ذات کی تلاش اور خارجی دنیا کا انتشار یہاں اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ قاری دم سادھ لیتا ہے۔
اس نظم کو پڑھتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ظفر کمالی نے اپنی سرگذشت میں دنیا اور اس کے مکروہ کرداروں کی جو روداد بیان کی ہے اس میں وہ کہاں کھڑے ہیں۔ دراصل یہ نظم ان کے ادبی باطن کو اجاگر کرتی ہے۔ جس صورتِ حال کا وہ مشاہدہ کررہے ہیں ، جو ان کے دل میں ہے اور اس کے جو اثرات ان کی ذات پر پڑے ہیںیہ تمام چیزیں اس نظم میں نمایاں طورپر موجود ہیں۔ ظاہر ہے وہ بھی معاصر اد ب کا خود کو ایک حصہ تصورکرتے ہیں۔ اگر وہ اس سے مطمئن ہوتے تو شکوہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شکوہ ان کی ناآسودگی کااظہار بن گیا ہے۔ معاصر ادب میں خود کی ترقی اور خود کو نمایاں کرنے کے لیے لوگ جو کچھ کررہے ہیں اس کو طنز کے پردے میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس زاویے سے دیکھیں تو یہاں ظفرکمالی محض ایک کردار کے طورپر سامنے آتے ہیں ۔ یہیں سے نظم قاری کو دوسطحوں پر لے جاتی ہے۔ ایک یہ کہ ظفرکمالی نے اس کو بیان کیا تو وہ خود اس میں کہاں تک موجود ہیںاور ان کے دل کا کوئی دردبول رہا ہے کہ نہیں۔ پھر ان کی شخصیت کو جدا کرکے صورتِ حال پر غور کیجیے کہ وہ صورتِ حال ہے کہ نہیں۔ دونوں سطحوں پر نظم کا تناظر قاری کو متحیر کرتا ہے۔
نظم کی ابتدا بہت معنیٰ خیز ہے۔ آگے جن باتوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی جارہی ہے انھیں بطورِ خاص نمایاں کرنے کے لیے ایسی تمہیدناگزیر تھی۔ شروع سے ہی شاعر نے فرد کی تنہائی اور داخلی سطح پر بے اطمینانی کے اظہار کے لیے مؤثر اسلوب اختیار کیا تاکہ دل چسپی کی فضا پوری نظم پر حاوی رہے۔ شروع کے تین اشعار ملاحظہ ہوں ؎
ہمیشہ رہتے ہو تنہائی کی فضا میں گم
ظفرؔکمالی! عجوبہ سے کم نہیں ہو تم

تمھارے دل کی تمنّا ہے نیک نام بنو
ادب کی بزم میں عالی صفت امام بنو

تمھیں بھی اہلِ زمانہ سلام کرتے رہیں
جھکیں ادب سے ، سدا احترام کرتے رہیں

مذکورہ اشعار میں مرکزی کردار کاجو نقشہ مرتب ہورہا ہے اس کا پس منظر دردو اضطراب سے معمور ہے۔ اس کی آنکھوں میں کیسے کیسے نظارے، رویے اور مشاہدات محفوظ ہیں اس کا اندازہ لفظ ’’عجوبہ‘‘ سے کیاجاسکتا ہے۔ یہ ایک لفظ ہی نہیں بلکہ مرکزی کردار کا معنیٰ خیز پیکر ہے۔ یہاں شاعر نے اس کی نیک تمنائوں کی پیش کش میں جس بے چارگی کو اجاگر کیا ہے ،آگے چل کر وہ اس کی بے چارگی کے بجاے ادب کی معاصر صورتِ حال اور گھناونے پہلوئوں کی زیادہ عکاس ہے۔ ورنہ تنہائی کی فضا میں گم رہنے والا عجوبہ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ گویا موجودہ عہد کے وسیع پس منظر کو یہاں قید کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو پوری نظم میں دھیرے دھیرے سامنے آتا ہے۔ اس تمہید کے ذریعے شاعر نے اپنے اضطراب، اپنی برہمی، اپنے ملال اور اپنی افسردگی کو ایک طرح کی حکمتِ عملی سے پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمہید کے بعد دواشعار اس طرح پیش کیے گئے ہیں کہ ان میں ایک محیط گریۂ دل اور ایک آشناے خندہ لب کی کیفیت سمٹ آئی ہے ؎
مگر جو اس کا طریقہ ہے وہ تو آتا نہیں
جو عہدِ نو کا سلیقہ ہے تم کو بھاتا نہیں

تمھیں زمانے کے اطوار کی خبر ہی نہیں
یقین مانو تم اس دور کے بشر ہی نہیں
مذکورہ اشعار میں اپنے عہد کی حقیقت کا ایک ایسا ہمہ گیر تصور ہے جس میں شاعر کے گہرے اخلاقی ملال کو محسوس کیاجاسکتا ہے۔ نفی کے پردے میں زمانے کے اثباتی رویے خوب خوب اجاگر ہوئے ہیں جن سے ادب میں نیک نام بننے کے موجود ہ طریقۂ کار پر بھر پور ضرب لگتی ہے۔ شاعر نے ہنسی ہنسی میں اجتماعی زوال ،ادب اور ادیب کے گم ہوتے تشخص کا جو قصہ اس مصرع ’’یقین مانو تم اس دور کے بشر ہی نہیں‘‘ میں سنایا ہے وہ قاری کے نظامِ احساس کو مرتعش کرتا ہے۔ ظفرکمالی جس دور میں اپنے بشر ہونے کی نفی کررہے ہیں اگر اس سوال پر غور کیا جائے کہ آخر وہ ایسا کیوں کررہے ہیں توپوری نظم ایک بھر پور جواب بن کر سامنے آتی ہے۔ یہیں سے نظم دوقطبین کا بیانیہ بن جاتی ہے۔ ایک طرف ظفرکمالی ہیں اور دوسری طرف معاصر ادیبوں کے مکروہ رویے ہیں۔ شاعر نے کمالِ ہنرمندی سے دونوں پہلوئوں کو اس طرح ہم آمیز کردیا ہے کہ بیک وقت دونوں تصویریں ابھرتی چلی جاتی ہیں جن میں دوسری تصویر کا رنگ بہت شوخ نظرآتا ہے۔
ادب میں آج نام و نمود ، شہرت طلبی اور مقام و مرتبے کی حصولیابی کی تکلیف دہ فضا ابھررہی ہے۔ لوگ ادب کے وسیع تر مقاصد کو بھلا کر ذاتی منفعت کے حصار میں اس طرح قید ہوتے جارہے ہیں کہ اخلاقی و تہذیبی زوال اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے۔ انسانی زندگی کا حسن جن اقدار وروایات کا مرہونِ منت ہے وہ ہمیں اب راس نہیں آتا۔معمولی فائدے کے لیے ہم غیر معمولی خسارے کو جس بے دردی سے برداشت کرتے ہیں وہ ہماری نفسیاتی ہزیمت کا آئینہ دار ہے۔ یہ عمومی صورتِ حال جب معاشرے کے اہم اور خاص لوگوں کی سرشت بننے لگتی ہے تو شاعر کی شاعرانہ لَے بھی بدلنے لگتی ہے، کبھی وہ کردار میں پرورش پارہے زہریلے عناصر کو پے در پے ضربوں سے ختم کرنے کی تگ و دو کرتا ہے اورکبھی اپنے تکلیف دہ احساس و اضطراب کو اپنے ہی آنسو میںجذب کرنے لگتا ہے۔ ظفرکمالی کی اس نظم کے پس منظر میں آج کے ادیبوں کے تئیں ان کی انسانی دردمندی اورگہرے ملال کی کیفیت دورتک چلی گئی ہے۔ جس میں ڈوب کر انھوں نے اپنے تصورکے سامنے اپناہی کردار منتخب کرلیا کہ زمانہ نازک ہے کہیں آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔یہ چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
جو بے وفا ہیں انھیں سے نباہ کرتے ہو
کہاں ہے عقل کہ خود کو تباہ کرتے ہو

خود اپنے عیبوں کو بھی ڈھانپنا نہیں آیا
ہوا کے رخ کو تمھیں بھانپنا نہیں آیا

کسی کی پیٹھ میں گھونپا نہ آج تک خنجر
چلا سکے نہ عزیزوں پہ تم کبھی پتھّر

تعصّبات کا پیالہ نہیں پیا تم نے
کسی کی قبر نہ کھودی تو کیا کیا تم نے

زمیں پہ رہ کے نہ تم بن سکے زمین کے سانپ
مزے میں کتنے ہیں دیکھو تو آستین کے سانپ
ان اشعار میں ظفرؔ کمالی کے متوازی صورتِ حال کی عکاسی فسوں خیز ہے۔ شاعر نے ادبی دنیا میں ہونے والی احسان فراموشی، دھوکا دہی، بے وفائی اور چالاکی جیسے پہلوئوں کو نشانے پر لیا ہے جن کے بہت سے گھناونے واقعات زمانے نے دیکھے ہیں ۔ مطلب براری کے بعد ایسے نگاہیں پھیر لی جاتی ہیں گویا’’ یوں جارہے ہیں جیسے ہمیں جانتے نہیں‘‘ والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔انھیں واقعات کو ظفرکمالی نے لفظوں کے ذریعے شاعرانہ زبان دے دی ہے۔
نظم کے اگلے حصے میں ظفرکمالی نے ادیبوں میں خود کو نمایاں کرنے کی غیر معمولی ہوس کو طنز سے گھائل کیا ہے۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے کاموں سے پہچانا جاتا ہے۔ ماضی کی جن شخصیات کو آج بھی ہم نے اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھا ہے وہ ان کے انھیںکارناموں کی وجہ سے ہے جو انھوں نے انجام دیے ہیں۔ آج کے ادیبوں کے پاس کام کے نام پر کچھ نہیں مگر ادب کی دنیا میں چھائے رہنے کی تمنا لامتناہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حصے میں جس قدر اشعار کہے گئے ہیں ان میں لطیف طنز سے خوب کام لیاگیا ہے۔یہ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں ؎
اچھالتے ہی نہیں ہو کہیں جب اپنا نام
ملے گا تم کو بھلا کس طرح کوئی انعام

نہ ہار پھول کا ہوتا ہے انتظام کبھی
نہ اپنے جشن کا کرتے ہو اہتمام کبھی

کہاں تمھاری طرح زیر بن کے رہتے ہیں
ادب کے چوہے یہاں شیر بن کے رہتے ہیں

جَہالتوں کا سمندر اچھالنے والے
بنے ہوئے ہیں ادارے سنبھالنے والے

رعونتیں بھی نہیں رکھتے خاکساری میں
محبتیں بھی نہیں ہیں ستم شعاری میں

لگا بجھا کے حریفوں کو رام کرتے نہیں
جو کام کرتے ہیں سب تم وہ کام کرتے نہیں
اس قسم کے اشعار سے شاعر کی باطنی کیفیت کو محسوس کیاجاسکتا ہے۔ ادبی دنیا کے نئے حقائق یہاں بولتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہاں ایک طرف بے چارگی ہے تودوسری طرف جانب لطیف طنز کی فضا بھی پوری آب و تاب کے ساتھ ابھررہی ہے۔ انعام کے لیے نام اچھالنا، اپنا جشن کرانا، ادب کے چوہوں کا شیر بن کے رہنا اور اجہلوں کا ادارے سنبھالنا جیسے خیالات محض خیالی ہوں تو ان کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے اس لیے نظر اٹھاکر چاروں طرف دیکھیے تو اندازہ ہوگا کہ یہ خیالات حقیقت کی زمین سے اگ رہے ہیں۔ یہاں حالات کا تجزیہ تفکر آمیز انداز لیے ہوئے ہے۔ ان اشعار میں فکر ی معروضیت کی سب سے بڑی کلید شاعر نے مشاہدے کی گہرائی سے حاصل کی ہے۔ پانچویں شعر کی معنویت کوبطورِ خاص محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خاکساری میں جب رعونتیں شامل ہوجاتی ہیں تو اس میں خود بخود طنز ومزاح کا پہلو ابھر آتا ہے کیونکہ ایسی خاکساری بذاتِ خود مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔
نظم میں شاعر نے ادیبوں کی بے سمتی او ر بوالعجبی کے الگ الگ مناظر کے پردے میں اپنے دل کی جو حکایات سنائی ہیں ان میں سوز وساز اور نالۂ پردرد کی تڑپ موجود ہے۔ نظم کے ہرمنظر میں یہ پہلو مختلف کیفیات و جذبات کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہ مناظر بھی ملاحظہ کیجیے ؎
غرض نہیں ہے تمھیں بزم کی صدارت سے
گریز کرتے ہو کیوں علم کی تجارت سے

تلاش رہتی ہے تم کو نہ ڈھول تاشوں کی
ادب میں آج جو ہوتے ہیں ان تماشوں کی

کسی پہ دھونس جمانا بھی تم کو آیا نہیں
خود اپنا لکھ کے قصیدہ کبھی سنایا نہیں

ہر ایک گام پہ کرتے ہو جس اصول کی بات
اسی کو لوگ یہاں کہتے ہیں فضول کی بات
مذکورہ اشعار سادگی میں پرکاری کا بہترین نمونہ ہیں۔ بڑے بڑے حقائق کو اس طرح پیش کیاگیا ہے کہ ا س کی تفہیم آسان ہوگئی ہے۔ ایسالگتا ہے کہ ہم شعر نہیں پڑھ رہے ہیں بلکہ حقائق کے مختلف مناظر کو دیکھ رہے ہیں۔ طنز وتعریض ادبیت کے پیکر میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ بزم کی صدارت میں علم کی تجارت کو دیکھ لینا شاعر کی قوتِ مشاہدہ کی دلیل ہے۔ یہ محض ایک خیال اور مشاہدہ نہیں بلکہ ایک حساس روح کے ردِّ عمل کی مرقع نگاری ہے۔ادبی کائنات میں رونما ہونے والے اخلاقی ضعف اور اقدار سے تہی دامنی کے اجتماعی حصار کو توڑ نے کی عمدہ کوشش تیسرے شعر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ خود اپنا قصیدہ لکھ کر سنانے والوں کے لیے یہ تازیانہ ہے۔ کیونکہ دنیا جانتی ہے اپنی تعریف آپ کرنے میں کس قدرمضحکہ خیزی ہے۔ بسا اوقات یہ نشانِ عبرت بن جاتی ہے۔ آخر ی شعر کا پس منظر بہت مایوس کن ہے۔ شاعر نے اصول کی باتوں کو فضول کی باتیں کہہ کر انسانی زندگی کا عجیب و غریب منظر نامہ مرتب کیا ہے۔ محض ایک لفظ ’’فضول‘‘ نے موجودہ صورتِ حال کی قلعی کھول دی ہے۔ہم کس دور میں جی رہے ہیں اور ہماری فکری حسّیات کس قدر متغیر ہوچکی ہے کہ اصولِ زندگی کے سنہرے باب کو اب ہم فضولیات متصور کررہے ہیں۔اسی پس منظر میں ان کی غزل کے یہ دواشعار بھی ملاحظہ کریں ؎
اصولوں کی نگہبانی مری قسمت میں لکھّی ہے
ابھی کتنی پشیمانی مری قسمت میں لکھّی ہے

سفینے مصلحت کے جا لگے کب کے کناروں سے
مگر دریا کی طغیانی مری قسمت میں لکھّی ہے
نظم میں جن فضولیات کی بات کی جارہی ہے اس کے تناظر کی حزنیہ تفسیر یہاں موجود ہے۔پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں بات گہری مزید گہری ہوتی چلی گئی ہے۔ شاعر کی نگاہوں میں لوگوں کی کیسی کیسی اداکاریاں محفوظ ہیں ان کا اندازہ اس مصرعے میں ’’کتنی پشیمانی‘‘ کے بین السطور سے ہوتا ہے ۔ گویا اصولوں کی نگہبانی کرنے والا پشیمان ہے۔ بات یہیں تک رہتی تو غم کچھ کم ہوتا لیکن لفظ ’’کتنی‘‘ نے غم کا سلسلہ در سلسلہ قائم کردیا ہے کہ جب بھی اصولوں کی پاسداری کی جائے گی تو کرنے والا پشیمان ہوگا۔ نظم میں ظفر کمالی نے اس پشیمانی کے کئی جلوے دکھائے ہیں۔ جو باتیں یہاں غزلیہ آہنگ میں کہی گئی ہیں وہی نظم میں ڈرامائی انداز میں بیان ہوئی ہیں۔
یہ نظم اپنے اگلے حصے میں آج کے ادیبوں کی باطنی کش مکش او ر تضاد کو بڑے پس منظر کے ساتھ اجاگر کرتی ہے۔ اپنے اثرورسوخ کے دائرے کووسیع کرنے کے لیے آج کے ادیبوں کے پاس کیسے کیسے ہتھکنڈے ہیں ان پر شاعر کی بڑی گہری نگاہ ہے۔ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ زینہ بہ زینہ ترقی کے منازل طے کرنے والوں کی نفسیاتی سرجری کے کچھ نمونے ملاحظہ کریں ؎
کسی کے سامنے تیور نہ باغیانہ ہوئے
تعلّقات ہوئے جس سے دوستانہ ہوئے

کبھی پڑاو بھی ڈالا نہ راجدھانی میں
تمھارا ذکر ہو کیسے کسی کہانی میں

بھڑاس دل کی کسی پر نکالتے ہی نہیں
شریف لوگوں کی پگڑی اچھالتے ہی نہیں

مقدّمے میں کسی کو وکیل کرتے نہیں
کسی کو بزمِ ادب میں ذلیل کرتے نہیں

جوسینیر ہیں نہیں کرتے ان کو ’’تم‘‘ سے خطاب
کہے گا کون تمھیں خوف سے حضور جناب

کبھی نہ کھینچ سکے اپنے دوستوں کی ٹانگ
انا کے بام پہ چڑھ کر نہ دے سکے تم بانگ

کبھی زمانے کے استاد تم بنے ہی نہیں
جہاں ضروری تھا تننا وہاں تنے ہی نہیں

مَلا کسی کو کہاں جاکے تم نے روغنِ قاز
جہانِ علم میں کیسے تمھارا ہو اعزاز
ان اشعار کے لہجے میں جو ترنگ اور توانائی ہے انھیں محسوس کیاجاسکتا ہے۔ زیریں سطح پر یہاں جس دانش ورانہ ظرافت سے کام لیا گیا ہے وہ قابلِ داد ہے۔ غلط رویوں پر جب دیدہ دلیری کی فضا چھانے لگتی ہے تو لہجے کی فطری جھنکار کو دبایا نہیں جاسکتا۔ مذمت کے اس تیکھے انداز میں لطفِ بیان کے اضافی ذائقے قاری کو محظوظ کرتے ہیں۔ ہر شعر دومتضاد تصویروں کا آئینہ ہے۔ جس میں ادبی بے راہ روی کے گہرے نقش ابھارے گئے ہیں۔ تعلّقات کو باغیانہ رکھنا، راجدھانی میں پڑاو ڈالنا، شرفا کی پگڑیاں اچھالنا،انھیں بزمِ ادب میں ذلیل کرنا ، اپنے بڑوں کو ’’تم ‘‘ سے خطاب کرنا، انا کے بام پر چڑھ کر اذان دینا اور تنی ہوئی چال اورادا ئیںدکھانا، یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جنھیںمختلف زاویوں سے آزماکر آج کے ادیب خود کو بڑا اور نمایاں کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں ۔ ان ہتھکنڈوں میں انسانی جذبات کی ابتری اور انتشار کا بیان وسیع تناظر میں ہوا ہے۔ ان اشعار میں ظفر کمالی ایک ’’مضطرب ادیب ‘‘ بن کر اس طرح سامنے آتے ہیںگویا ان کی ذات میں غم کے سایے دو ر تک پھیل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کڑوی سے کڑوی باتیں بھی گوارا ہوجاتی ہیں۔
یہ نظم تمہید کی طرح اختتام میں بھی مرکزی کردار سے ناصحانہ انداز میں مخاطب ہوتی ہے۔ مختلف مناظر کو آئینہ کرنے کے بعد اس حصے میں طنز کی شدّت کو مزید گہرا، لطیف اور اثر انگیز بنادیا گیا ہے۔ یہاں شاعر نے زمانے کی اصلاح کے بجاے خود کی اصلاح کے تئیں جس ڈرامائی صورتِ حال کومنعکس کیا ہے وہ افسردگی سے مملو ہے۔ یہ چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
تمھارے واسطے جتنی ہیں کام کی باتیں
انھیں سمجھتے رہے تم حرام کی باتیں

تقاضہ وقت کا ہے کرلو اپنی خود اصلاح
نہیں ہے اس کے سوا اور کوئی راہِ فلاح

رواں فریب کا دریا ہے اس میں بہنا ہے
مگرمچھوں میں مگرمچھ ہی بن کے رہنا ہے

بٹے جو کھیر تو آگے تمھاری تھالی ہو
کمال اپنا دکھائو اگر کمالی ہو
ان اشعار میں زندگی کا جو سوز ہے وہ طنز اور احتجاج کے ساتھ دل گرفتہ اور جاں گزیدہ ہے۔ یہ ظرافت کی وہ سرحد ہے جہاں حق و صداقت کی آواز دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بلند ہوتی ہے مگر اسے بھی دنیا روایتی قہقہوں کی نذرکردیتی ہے۔چارہ گری کے عدمِ تیقّن میں شاعر کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ یاتو آنکھیں بندکرلے یا بے ضمیر بن جائے یا اس طر ف چل پڑے جس طرف کی ہوا ہویا پھر فریب کے رواں دریا میں مگر مچھ بن کر جینے کو اپنا شعار بنالے۔ پہلے شعر میں شاعر اپنے آپ سے جس طرح مخاطب ہے اس کے لب و لہجے اور الفاظ سے ابھرنے والی فضا کو غور سے ملاحظہ کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ جس شخص نے ادبی کائنات کی کجیوں کے اتنے رنگ دیکھے ہیں وہ اپنے آپ کو اس ماحول کا ایک فرد تصور کرتے ہوئے کتنی صبرآزما منزلوں سے دوچار ہوا ہوگا۔ کشفِ ذات سے لے کر اظہارِ کائنات تک کی تمام باتیں یہاں بغیر کسی پیچیدگی کے بیان ہوئی ہیں اس لیے حقائق پوری طرح نظروں کے سامنے ہیں۔

اس نظم کو احتجاج او ر بغاوت کی نئی آواز و اسلوب میں پیش کیاگیا ہے۔ پوری نظم خود احتسابی کی رَو میں آگے بڑھتی ہے۔ کہیں طنز ہے تو کہیں استعجاب، کہیںبے بسی ہے تو کہیں بے زاری، اس احتساب میں شاعر نے ادبی کائنات کی جن جن خامیوں کو اجاگر کیا ہے وہ کسی کی دل آزاری کے بجاے سچائی کا آئینہ بن گئی ہیں۔ شاعرنے اب تک اس حوالے سے جتنی نظمیں کہی ہیں ان میں یہ بہت مختلف ہے۔ یہاں طویل ادبی تجربے کے بطن سے جو شعری کائنات سجی ہے اس کے طنزیہ اسلوب کی گہرائی میں سالکانہ نظر کی کارفرمائی ملتی ہے۔
ظفر کمالی نے اس نظم میں کٹیلی ہجو اور لطیف طنز کے ساتھ ساتھ اپنے دل کے زخموںکو اس طرح متشکل کیا کہ یہ نظم کب حزنیہ بن جاتی ہے اور کب تیکھی مذّمت میں تبدیل ہوکر مخلصانہ گوشمالی کرنے لگتی ہے احساس ہی نہیں ہوتا۔ ایک طرف شاعر کے باطن کا اضطراب ابھرتا ہے تو دوسری طرف موجودہ صورتِ حال کی ابتری کے مجسّمے نظروں میں گھومنے لگتے ہیں۔ اس نظم کو یقینا اپنے زمانے کے ادیبوں کے مضحکہ خیز پہلوئوں کے نگار خانے کے طورپر یاد کیاجائے گا۔
اس نظم کے بین السطور سے ظفرکمالی کا جوشعری و ادبی کردار ابھرتا ہے وہ بھی لائقِ توجہ ہے۔ وہ ادب کے ان خدمت گاروں میں شامل ہیں جو ادب کے اصول ونظریات کوکبھی نظرانداز نہیں کرتے اور ہمیشہ ادب کے اعلا اقدار کی پاسداری کرتے ہیں۔ کھرے کھوٹے کردار ہردور میں پائے جاتے ہیں لیکن سچّا اور معیاری ادب جن کرداروں کے سہارے سلسلہ در سلسلہ اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا ہے ان کی قلت ہردورمیں رہی ہے۔ظفرکمالی کے تئیں یہ بات کہتے ہوئے ذرا بھی تامّل نہیں کہ ان کا شمار ایسے ہی کرداروں میں ہوتا ہے۔ یہ نظم نہ صرف تاریخی نقطۂ نظر سے موجودہ صورتِ حال کی عکاس ہے بلکہ مثبت اور خوش آیند کل کی امیدوں ،آرزوئوں اور تمنائوں کے امکانات سے لبریز بھی ہے۔ ( پوری نظم یہاں ملاحظہ فرمائیں !نظم “ظفر ؔکمالی” از ظفر ؔکمالی)



Previous articleشاخِ زیتون پر کلہاڑا نہ چلائیں!حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ہمارے سروں کے تاج ہیں از: سید فضیل احمد ناصری
Next articleعین المعارف( دیوان آسی) مبصر: امتیاز سرمد

2 COMMENTS

  1. تحریر کیا ہے ،آئینہ ہے ،لفظ لفظ سے حقیقت عیاں ہے ،مضمون پڑھتے ہوئے کئی بار چاہا کہ اب چھوڑ دیتا ہوں ،مگر ہر بار یہی سوچ کر کہ بس اب بس اب ،اتنی طویل تحریر اپنی چابک دستی سے محترم عبد الوہاب صاحب نے پڑھوا لیا ۔ خدا ان کو خوش رکھے ،ان کا ظاہرو باطن اس میں جھلکتا ہے ۔ انہوں نے ظفر کمالی صاحب کی نظموں پر محبت اور دل سے لکھا ہے ،اب تبصرے روا روی میں ہوتے ہیں ،مگر مبارک باد پیش کروں عبد الوہاب قاسمی صاحب کو کہ انہوں نے ا س لت سے خود کو الگ رکھا اور حق محبت اداکیا ۔اللہ سے دعا ہے کہ ان کا قلم ایک نہ تھکنے والا مسافر ثابت ہو اور میل کا پتھر بن کر راہ رو کی رہنمائی کرتا رہے ۔

    • آپ کی نوازشوں کا بہت بہت شکریہ
      آپ نے معنی خیز اجمال میں بہت کچھ لکھ دیا جس کے ہم مستحق نہیں۔ یہ بس ایک طالب علم کی ریاضتی کوشش ہے۔مزید دعاؤں کی درخواست ہے۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here