نظم “پھر “ڈیلٹا”سے ناک میں دم کر دیا گیا ” از: خالد عرفان (نیویارک)

1
105

“کوڈ”سے شہریوں پہ ستم کردیاگیا
پھر “ڈیلٹا”سے ناک میں دم کر دیا گیا

کاغذ کو باتھ روم کی زینت بنا دیا
غائب معاشرے سے قلم کر دیا گیا

پڑھنے گیا تھا میں بھی دبئی کا مشاعرہ
پھر یہ ہوا، روپے کو درہم کر دیا گیا

میں بے مثال ، صیغۂ واحد تھا ایک دن
ایک اہلیہ سے جوڑ کے “ہم” کر دیا گیا

جھوٹی جو کھا رہے ہیں مسلمان آج کل
اس چیز کو ” خدا کی قسم” کر دیا گیا

روزانہ ” زوم” پر وہ سناتے ہیں شاعری
شام سخن کو شام الم کر دیا گیا

خاوند جھاڑ پھونک سے مٹھی میں آۓ گا
تعویذ لے لیے گئے، دَم کر دیا گیا

حالانکہ زچگی میں کوئی مسئلہ نہ تھا
از راہِ شغل ، چاک شکم کر دیا گیا

پیسہ تھا جن کے پاس ، سیاست میں آگئے
اور مفلسوں کو اہلِ قلم کر دیا گیا

(یہ بھی پڑھیں!نظم “نہیں ہو جیب میں پیسہ تو قربانی نہ کرنا” از: خالد عرفان (نیو یارک)

Previous articleایک شیدائے قرآن کی رحلت(حامد عبد الرحمن الکاف) از: ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
Next articleعلامہ اقبال اور حب الوطنی از: ڈاکٹر احمد علی جوہر

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here