نظم “نہیں ہو جیب میں پیسہ تو قربانی نہ کرنا” از: خالد عرفان (نیو یارک)

2
551

نظم ملاحظہ ہو

یہ بھی پڑھیں!نظم”بے چارہ” ایک مشہور شاعرہ کے شوہر کی فریاد از : خالد عرفان(نیویارک)

Previous articleحضرت مولانامحمد ولی رحمانی‌: میری نظر میں از: قمر اعظم صدیقی
Next articleاسوۂ ابراہیمی اور شیوۂ آزری از: محمد ابوبکر عابدی، قاسمی ندوی

2 COMMENTS

  1. خالد عرفان کی یہ نظم موجودہ حالات کی اچھی ترجمان ہے۔
    لوگ اپنی حیثیت سے اوپر کی چیزیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہاں انہیں ناکامیاں ہاتھ لگتی ہیں۔
    ریاکاری، دکھاوا آج کے دور میں ناسور ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے نام پر کریڈٹ کا خواہاں نہیں بلکہ پیاسا نظر آتا ہے۔
    ایسے وقت میں یہ نظم ایک تازیانہ کا کام کرتی ہوئ نظر آتی ہے۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here