اس نے کہا تھا”نئی صدی کا ایک اہم ناول.از:مقصود دانش

0
301

(آخری قسط)
اس ناول کو زمان و مکاں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ناول میں متعدد امرد پرست شاعر و ادیب کا حوالہ موجود ہے۔ موضوع کی نسبت سے تویہ عام بات ہے کہ اس تعلق سے بیانیہ کا سرا دیومالائی عہد سے جا ملے، تاہم صوفی سنت بھی موضوع کے اسکرین پر جھلملانے لگیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ناول نگار لمحاتی حظ اٹھانے کے بجائے قاری کو دنیا میں موجود ایک مخصوص تہذیب و ثقافت سے روبرو کروانے پر آمادہ ہے۔ ناول نگاری محض دلچسپ اور اشتعال انگیز واقعات کو مرتب کرنا نہیں بلکہ وقوع پذیر سانحات کی تہہ میں پوشیدہ معنویت تک رسائی تخلیق کا اصل جوہر ہے،اسی رسائی کو دلکش پیرایۂ بیان میں پیش کرنا فنکاری ہے۔

کسی بھی فن پارے میں موجود جنسی بیانات کو اس وقت تک فحش نہیں کہا جا سکتا جب تک قاری کو احساس تلذذ نہ ہو۔دنیا میں بے شما ر مجسمے ایسے بھی تراشے گئے ہیں جن کے تمام اعضا عریاں وعیاں ہیں،اور وہ قابل احترام بھی ہیں۔ مصوری کے بھی کچھ نمونے اسی تقدس کے حامل ہیں۔ ناول اورافسانوں میں موجود جنسی اظہاریہ کو اس تناظر میں نہیں پرکھا جا سکتا۔ جنسی ترغیب پر مبنی اظہار یہ کو فحش اور عریانیت کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ ناول میں متعدد مقامات پر ’عمل‘ کو اشاروں ،کنایوں میں تخلیقی لذت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ڈی ایچ لارنس کی نقالی کرنے والے ہمارے جدید ناول نگار اس ہنر سے عبرت لے سکتے ہیں۔قدیم عہد میں ایک دور ایسا بھی گذرا ہے جب ایک مخصوص معا شرے میں عورت مرد مادرزاد رہنے لگے تو سب کے سب جنسی خواہش سے آزاد ہو گئے، تب ازسرنو جنس کو بیدار کرنے کی غرض سے اشتعال انگیز اعضا کو چھپانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس نفسیاتی علم سے ناول نگار واقف نظر آتا ہے۔“(پہلی قسط بھی پڑھیں!اس نے کہا تھا”نئی صدی کا ایک اہم ناول.از:مقصود دانش)

اردو میں افلاطونی نظریۂ اخلاق سے متعلق ناول کی بھرمارہے۔ ترقی پسندی کے زمانے میں حقیقت نگاری پر بھی سینکڑوں ناول منظر عام پر آچکے ہیں۔ایک قلیل مدت تک سارتر کے اثرات بھی اردو فکشن میں غالب رہے،لیکن ارسطو کا نظریہ’کتھارسس‘منظم صورت میں فکشن میں مرکزی کردار ادا نہیں کر سکا۔ شیکسپیئر نے اس نظریے کو کثیر الجہت بنا دیا، اسے ٹریجڈی کنگ بھی کہا جاتا ہے۔اردو میں اس رویہ کی ہلکی پھلکی رم جھم دیکھی گئی لیکن المیہ کو کلیدی حیثیت نہیں دی گئی، جب کہ زیر مطالعہ ناول کی بنیاد ہی المیہ پر رکھا گیا ہے ۔ناول کاراوی اپنی آخری عمر میں شکست ذات کا شکار نظر آتا ہے۔وہ ’گے‘والی زندگی گذار لینے کے بعد جائے اماں کا متلاشی ہے،مگر پیچھے کنواںسامنے کھائی والا معاملہ در پیش ہے،چونکہ وہ انسانی نفسیات کا ماہر بھی ہے،لہٰذا اپنی اور دوسروں کی روداد زیست بھی رقم کرتا ہے۔ اس کی تحریر وں میں وہ دنیا آباد ہے جس سے عام آدمی کا کوئی تعلق نہیں ۔ ناول نگار نے بڑی ہنر مند ی سے تمام کرداروں کے ساتھ ہونے والے المیوں کو فنکارانہ درک کے ساتھ پیش کیا ہے۔

ناول میں مذکر آوازوں کی گونج ہے،نسائی آوازوں کا دھیماپن محسوس کیا جا سکتا ہے۔ تانیثی جذبوں سے معمور’ رخسار اور ریکھا‘ (ناول میں شامل دو لیسبین کردار) متحرک نہ ہو تیں تو بیانیہ کے مجموعی تاثر کو صدمہ پہونچ سکتا تھا۔رخسار اور ریکھاتعلیم یافتہ،باشعور کردار ہیں۔ دونوں عاشق معشوق کا کردار نبھاتے ہوئے بچے کی بھی خواہش مند ہیں اور ان میں ایک نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی جیسی طبی سہولت سے اپنی خواہش کی تکمیل بھی کی۔ ان کو ایک بیٹا مل جاتا ہے،انھوں نے ایک بچی گود بھی لے لیا ہے۔اس پس منظر میں ان کے ’عشق‘کی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا مکان ایک گھر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایسی خواتین کا گھر سنسار کے تئیں نرم رویہ کچھ اَٹ پٹا سالگتا ہے۔ مخالف جنس میں ان کی دلچسپی نہیں،لیکن بچے کے لیے مخالف جنس کی مدد کے بغیر جیسے وہ دونوں ادھوری ہیں۔جب کہ عام معاشرت سے کٹی ہوئی ایسی خواتین کا سنساری مزاج نہیں ہوتا،اگر قدرت نے ا نھیں بانجھ یا مخنث نہیں بنایا ہے تویہ عاشقی معشوقی کا کھیل محض کھیل ہے۔اس طرح کھیل کھیلنے والوں میں مذکر بھی شامل ہیں۔معاشرہ ایسے اوبالی،اور بے ڈھنگے مزاج رکھنے والے افراد کے ساتھ ہمدردی کیوں رکھے؟اس اہم سوال کا جواب ناول میں موجود نہیں،لیکن ناول نگار نے رخسار اور ریکھا کو بڑی خوبصورتی سے پورٹریٹ کیا ہے ،بعض اوقات ان کے کئی ذاتی اور قانونی تقاضوں کو لبیک کہنے کو جی چاہتا ہے،اور ایسا چاہنا ان کی طرفداری نہیں بلکہ ان کی ملازمتی زندگی میں در آئی قانونی اڑچنیں واقعی نرم آثاری کا تقاضہ کرتی ہیں۔مثلاً:

’’یہ بالکل ناانصافی ہے،باقی سب کو فیملی لیوو (family leave) مل سکتی ہے تو مجھے کیوں نہیں؟ ہمیشہ ہم سے دوسرے درجے کا برتاؤ کیوں کیا جاتا ہے؟ ایک تو عورت ہونے کے ناطے ویسے ہی بھید بھاؤ،اوپر سے جب پتہ چلتا ہے کہ میں ان کے طے کیے گیے رشتوں کے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتی ہوں تو اور بھی قہر ٹوٹ پڑتا ہے۔ ہم پورے ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ملتا جو کسی بھی عام شادی شدہ جوڑے کو حاصل ہے،میری بیمہ کمپنی کیوں تمھاری بیماری کا خرچ نہیں دے سکتی؟‘‘( ص 100 )

ناول کے بیانیہ میں دریا سی روانی ہے لیکن ایک دو مقامات پر روانی کے ساتھ چٹکی بھر ریت بھی شامل ہوگئی ہے، مثلاً:

“کچھ ایسے ہی Hypothesis Repressive (استحصالی تصورات) کی بات میشل فوکو بھی تو کرتے ہیں (sexuality1978 History of )،جب اقتدار اور سیکشوئیلٹی روبرو ہوتے ہیں۔ایک پدری سماج کے اوتارمیں۔فوکوکایہ کہناہے کہ کس طرح اقتدارنہ صرف کسی استحصال کاایک ذریعہ ہے بلکہ قانوناًکنٹرول کرنے اورپابندی لگانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اقتدار میں اعلیٰ مقام بنائے رکھنے کی جدو جہد میں جس طرح سیکسویلیٹی اور دیگر جنسی تعلقات سے متعلق سماجی سر گرمیوں پر کنٹرول اور پابندی کا استعمال ہوتا ہے، وہRepressive Hypothesisکا ہی ایک حصہ ہے۔:با الفاظ دیگر کہا جائے تو تھامس کہن ( Thomas Kuhn ) کا تصور (The Structure of Scientific Revolution,1962) اس عمل کو آسان لفظوں میں ظاہر کرتاہے۔‘‘ (202)

ہم جنسی کے تعلق سے مختلف زبانوں میں لکھے گیے لٹریچر کا اندراج تخلیقی بہاؤ کو متاثر کرتاہے۔ مذکورہ معلومات ناول کے معنوی وسعت میں اضافہ ضرور کرتی ہیں لیکن تخلیقی ارتقا کو ایک ہلکا سا ضرب لگاتی ہیں۔اسی طرح کی صدمہ زا فضا معروف ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘(شمس الرحمن فاروقی) میں بھی موجود ہے۔بیانیہ کا تخلیقی بہاؤ اپنی رفتار میں ایک جملہ کا کنکر برداشت نہیں کر سکتا۔اشعرنجمی کے ناول کی فکری ومعنوی یکسوئی قاری کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے ۔مذکورہ اقتباس کے علاوہ جسم کے مخصوص حصوں کا ایک دو مقام پر ظاہر ہونے سے بیانیہ کے ارتقا میں کوئی خاص مدد ملتی دکھائی نہیں دیتی۔

ناول کے بیشتر مقامات پر جنسی عمل اثر آفرین کنایوں میں روشن کیے گیے ہیں جن سے تخلیقی لذت کا احساس ہوتا ہے۔میں قطعی دقیانوسی نہیں۔زولا نے اپنے تخلیقی بیانیہ میں زنا کے مجرم کے اعضائے مخصوص کاٹ کر ،جلا کر ایک پیڑ سے لٹکا دیا ہے،جسے عبرت کا استعارہ تصور کیا جا سکتا ہے۔عسکری صاحب نےایک چھوٹی سی نظم کا حوالہ دیتے ہوئے فکری ارتقا کی وضاحت کی کہ اس تناظر میں ان کے مدلل خیال کی تردید نہیں کی جا سکتی،جو جنگ کے پس منظر میں کہی گئی ڈے لوئیس کی مختصر نظم کے حوالے سے پیش گیا ہے:

’’ یہ ایک بہت چھوٹی نظم ہے جس میں توپوں کو عضوتناسل سے تشبیہ دی ہے،وہ دنیا کے رحم میں بربادی کا بیج بونے کے لیے تنی کھڑی ہیں،غالبا شاعر کی ذہنی گندگی ،مگر کیا دنیا میں کوئی دوسری تشبیہ رہ ہی نہیں گئی تھی؟لیکن غور کیجیے کہ جو زوراس تشبیہ سے پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور سے ممکن نہیں تھا،محض تناؤ کا زور نہیں بلکہ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جو چیزیں انسان کے لیے رحمت ہو سکتی تھیں وہ لعنت بنی ہوئی ہیں۔ عضو تناسل افزائش اور برکت کا نشان ہے لیکن یہاں بربادی کی علامت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔‘‘ (’اثبات‘،شمارہ 12-13 صفحہ 27)

عسکری صاحب ز ولا کے شاہکار’جر مینل‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید اپنے خیال کو مستحکم کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’مزدوروں نے بغاوت کی ہے اور وہ ہر چیز برباد کرتے پھر رہے ہیں،اسی جوش میں وہ سوداگر کو جوان کی لڑکیوں کو خراب کیا کرتاتھا،مار ڈالتے ہیں اور اس کے عضو مخصوص کو کاٹ کر ایک سلاخ میں پرو لیتے ہیں۔مزدورں کی یہ حرکت ایک مشتعل گروہ کے جنون کا آخری درجہ ہے اور نفسیات کے مالک کی طرح زولا اسے دکھانے میں نہیں جھجکا ہے۔‘‘ (’اثبات‘،شمارہ 12-13 صفحہ 26)

دونوں مثالوں سے ظاہر ہوتاہے کہ فن منطقی اظہاریہ کا بھی متقاضی ہوتا ہے،ناول کا دلکش اظہاریہ یقیناًمنطقیت سے آزاد نہیں،لیکن کہیں کہیں ناول نگار کے شعوری دخل کا احساس ہوتا ہے، مثلاً:

’’پیشاب کرنے کے بعد اس نے فلش کیا ،کموڈ کی دیوار کے کسی کونے میں چھپا ہوا ایک کنڈوم فلش کی دھار سے گھبرا کر باہر نکل آیا اور بھنور کی طرح پا نی کے بیچ چکر کاٹنے لگا۔‘‘ ص :11)

’’وہ لڑکا اپنے عضو تناسل کو ایستادہ نہیں کر پا رہا تھا،میں نے اس سے گندی اور فحش با تیں کیں اور اس کے عضو تناسل کو پکڑ کر بے شرمی سے اس کی پینٹ سے باہر نکالا،لیکن اس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا،میں نے اسے تسلی دی کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،وہ مجھے اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک میں نے اسے ثابت نہیں کر دیا اور اپنے عضو تناسل کو رگڑ اور مسل کر تسکین حاصل نہیں کر لی۔‘‘( ص: 159)

کرداروں نے بھلے ہی تسکین حاصل کر لی ہو لیکن فکشن کا سنجیدہ قاری تذبذب کا شکار ہو گیا کہ ناول نگار تو بیانیہ کے میٹھے آبشار تلے قاری کو غسل کروا رہا تھا،دو چار سطروں کے کھارے پانی کی ضرورت کیوں آن پڑی؟

لیکن اشعر نجمی نے بیسیوں مقامات پر اپنے قلم کو نہ صرف قابو میں رکھا ہے بلکہ ایمائیت کے دامن کو وسیع کیا ہے۔بعض مواقع پر حیرت ہوتی ہے کہ بات تو ایک مخصوص دسترخوان کی چل رہی تھی لیکن جملوں کی معنوی تہہ داری نے ملک کی مقتدرہ جماعت کے نظریات کو بے نقاب کر دیا،مثلاً:

’’ میں اس شخص کو قطعی نہیں چوم سکتا جو مردہ جانوروں کو کھاتا ہو،یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی،اس میں کسی کی توہین کا پہلو یا عزت نفس کو مجروح کرنے کا ارادہ شامل نہیں تھا ،بات صرف میری پسند ا ور ناپسند کی تھی اور اسے مجھے ہی طے کرنا تھا،مجھے کیا کھانا ہے،کیا پہننا ہے،اس کا فیصلہ کوئی دوسرا کیسے کر سکتا ہے‘‘۔ ( ص- 170)

ناول فکری و معنوی طور پر ا تنی وسعت رکھتا ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کو ایک مختصر مضمون میں سمیٹنا مشکل ہے۔اردو میں کم ناول ایسے لکھے گئے جن میں جزیات نگاری اور منظر نگاری لب کشا ہوں۔زیر مطالعہ ناول کا ہر منظر گویا باشعور حسینہ ہو جس کے ساتھ ہمکلامی ایک جہان نو دریافت کرنے کے مترادف ہے۔

ایک منظر سے آپ بھی لطف اندوز ہوں:
’’دراصل یہ ساری زمین وقف کی ہے،سارے گھر بھی اسی کے ہیں،ان کا مالک متولی ہے،ان گھروں کے بارے میں کوئی فیصلہ وہی لے سکتا ہے۔‘‘
’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’جو ابھی آپ نے بولا۔‘‘
’’ تم اتنا ہی سمجھ لو کہ وقف کا مطلب ٹرسٹ ہے اور متولی کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ تم نے باہر دیوارپر زرد رنگ دیکھا ہوگا؟اسی نے کروایا ہے،گائے اسی نے بندھوائی ہے،دروازے پر دودھ کی بالٹی پکڑے کوئی آدمی ملا تھا؟ اسی کا ہے،اس کی شاخیں کٹوانے کے لیے تمھیں اسی سے بات کرنی ہوگی ۔‘‘ ( ص 53)

ناول سے متعلق خالد جاوید نے بھی ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے،ہر چند اس تحریر کا ذکر ضروری نہیں تھا۔لیکن اس تحریر سے نہ صرف ناول نگار بلکہ قاری بھی الجھن کا شکار ہوجائے گا۔ اس تحریر سے احساس ہوتا ہے کہ ناول نگار نے تخلیقی عمل کے بجائے فریم ورک کیا ہے۔ خالد جاوید نے اپنے مضمون میں میلان کنڈیرا کو’ ناول کے فن کا دیوتا‘ میں شمار کرلیا ہے۔ انھوں نے ناول کی موضوعی اور فنی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بجائے میلان کنڈیرا اور درجنوں مغربی ادبا و شعرا اور مفکرین کے حوالوں کے بوجھ سے ناول کی صحتمند وجود کو دبا دیا ہے۔ پہلے ان کے دو اقتباسات ملاحظہ کریں:

’’اشعر نجمی کے ناول ’ اس نے کہا تھا‘ کو پڑھتے وقت مجھے بار بار شہر آفاق چیک ناول نگار میلان کنڈیرا کی یاد آتی رہی۔ اس لیے نہیں کہ اس ناول کی مطابقت میلان کنڈیرا کے کسی ناول سے ہے بلکہ اس لیے کہ میلان کنڈیرا کے ناول پر لکھی اپنی تحریروں میں ناول کی فنی خوبیوں پر جو گفتگو کی ہے اس کا عکس اشعر نجمی کے ناول میں حیرت انگیز طور پر نظر آتا ہے۔‘‘

’’اشعر نجمی کا یہ ناول کس Kitsch کے عنصر سے یکسر پاک ہے۔ سستے قسم کی جذباتیت سے اسے دور کا بھی علاقہ نہیں اور جہاں تک لوگوں کو خوش کرنے کا سوال ہے تو اس امر پر مجھے ہنسی آتی ہے کہ اشعر نجمی نے تو شاید یہ ناول لکھا ہی ہے لوگوں کو ناراض کرنے کے لیے اور انھیں ڈسٹرب کرنے کے لیے۔‘‘

’یہ ناول لکھا ہی ہے لوگوں کو ناراض کرنے کے لیے اور انھیں ڈسٹرب کرنے کے لیے،‘اس بیان نے ناول نگار کو آسمان سے زمین پر پھینک دیا ،جینوئین فنکار کی اتنی پست سوچ نہیں ہو تی ۔ اس طرح کی سوچ ادب میں اسٹنٹ باز رکھتے ہیں جب کہ اشعر صاحب نے وضو کرکے قلم پکڑا ہے۔ ناول میں عریاں مناظر دکھانے کے بہت سارے مقامات تھے، لیکن ’لذتیت‘ کا ہلکا سا پرتو بھی نہیں،ایک دلفریب فن پارے سے متعلق اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ رائے ناول نگار اور قاری دونوں کو صدمہ پہونچانے کا مترادف ہے۔

موصوف کی تحریر ناول کی موضوعی اور فنی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے بجائے میلان کنڈیرا کے علاوہ چند مغربی ادیبوں اور فکشن نگاروں کے ناموں کی کھتونی نظر آتی ہے۔اس طرح کا غلامانہ ذہن تو مشرقی ادب کی اہمیت کوفراموش کر دے گا۔ کیا ہمارے یہاں ایک بھی ادیب، فنکار، ناقد ایسا نہیں ملا جس کا حوالہ مضمون میں دیا جاتا؟ کنڈیرا بڑے ناول نگار اور فکشن کے ناقد ہو سکتے ہیں،لیکن کوئی بھی اہم فنکار کسی فریم کا اسیر نہیں ہوتا،خودناول نگار کا ذہین تقلیدی ہونے کے بجائے تخلیقی ہے مثلاً:
’’وہ کہتے ہیں، دوسروں کے بنائے ہوئے قاعدے پر چلنا ریپ سے زیادہ تکلیف دہ اور اس سے بڑا جرم ہے۔‘‘ (صفحہ:158)

خالدجاوید کی تحریر پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاری’ ایل جی بی ٹی کیو‘ کے عنوان سے کوئی طویل مضمون پڑھ رہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے زیر نظر ناول کو’اردو کا پہلا پوسٹ ماڈرن ناول‘ کہا ہے۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پھر گزشتہ چالیس سالوں میں گوپی چند نارنگ کے ادبی وتحریکی کارگزاریاں کس کھاتے میں جائیں گی؟ انھوں نے صلاح الدین پرویز کا ناول’ دی وار جرنل‘ کو پہلا ما بعد جدید ناول قرار دیا ہے۔ پہلے اور دوسرے کے جھگڑے میں پڑنا غیر سود مند ہوگا۔ پہلے ہم یہ تو طے کرلیں کہ مشرقی ادب میں ما بعد جدید تھیوری کا وجود ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ ما بعد جدید تھیوری لایعنیت کو فروغ دینے پر اصرار کرتی ہے جب کہ مشرقی ذہن انضباط اور تنظیم کی طرف مائل رہا ہے۔ رولاں با رت اور دریدا کے لسانی نظریات کم سے کم مشرقی مزاج ومنہاج سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے فی الحال نظر نہیں آتے۔شعور،لاشعور اور تحت الشعور میں آباد جہان کا اخراج ممکن نہیں ہے جب کہ ان کا خیال ہے کہ الفاظ کے مروج معنیٰ منہا کرکے متن میں شامل الفاظ کے نئے معنی تلاشے جائیں۔ سیمیول بیکٹ نے ابسرڈ پلے لکھ کر ایک نیا ڈسکورس ضرور قائم کیا،لیکن اردو میں وہاب اشرفی اور دیگر ناقدین نے جن اطلاقی نمونوں کی نشاندہی کی ہے ، مرکز گریز نہیں بلکہ تنظیم ہی اس کی اصل بنیاد ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ تھیوری کو سامنے رکھ کر کوئی تخلیق وجود میں نہیں آتی بلکہ تخلیقات کی موجودگی میں ہی تھیوریاں بنتی اور بگڑتی ہیں۔لہٰذا اشعر نجمی کو ما بعد جدید ناول نگار نہیں کہا جا سکتا کہ انھوں نے بھی انضباط و تنظیم کے تحت ہی ناول تخلیق کیا ہے۔

فن پارے کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ وہ کسی گوتر ،نسل اور ذات کا پر چارک نہیں ہوتا، صدیوں قبل وجود میں آئے تخلیقی فن پارے اپنے ہونے کا اعتراف کسی مخصوص گوتر سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں کراتے بلکہ علوئے افکاراورطرز پیشکش کی انفرادیت کی بنا پر حدود وقت سے آگے نکل جاتے ہیں۔جیسے ہی قاری پر یہ راز کھلتا ہے کہ فنکار کی پیشانی پر کسی نظریہ کا لیبل چسپاں ہے ،فنکار کی ساری کا وشیں غرقاب ہو جاتی ہیں کہ اب قاری کو لبھانے لائق کو ئی شے باقی رہی نہیں،کیونکہ عمدہ فنکار ی کچھ دکھانے اور کچھ چھپانے پر اصرار کر تی ہے۔ بیچارے اشعر نجمی نے تو مذکورہ خیال کا بڑی سنجیدگی سے پاس رکھا تھا اور خالد جاوید کے لاکھ اصرار کے باوجود یہ ماننے میں تامل ہے کیوں کہ بے نسل،بے گوتر،بے ذات یہ ناول کسی طرح پوسٹ موڈرنزم کے احاطے میں نہیں آتا۔

Previous articleزندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر از:خورشید عالم داؤد قاسمی
Next articleصحافی کی محنت، ایمانداری اور خلوص اس کی کامیابی کی کلید ہے: پروفیسر آفتاب احمد آفاقی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here