اسٹورمرحوم کی یادمیں از: امتیاز وحید شعبۂ اردو، کلکتہ یونیورسٹی

0
64

فلاح کے تعلیمی و تربیتی نظام میں اس کی تشکیلی اکائیوں کا بڑا دخل ہے۔یہ اکائیاں دراصل اس کے تکوینی عناصر ہیں، جن کے امتزاج سے کسی مثالی نظام کا تصورکیاجاسکتا ہے۔نظام اجتماعی فکر و عمل کا زائدہ ہوتا ہے۔اس میں فرداور قافلہ کی تخصیص روا نہیں رکھی جاتی بلکہ اس کی شریانوں میں مشترکہ خون دوڑتا ہے۔ فلاح کو اس اعتبار سے امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ اس کے نظام میں بقدرِ ظرف سبھوں کی حصے داری ہے؛انتظامیہ، ہمدردگان، تدریسی و غیر تدریسی عملہ یہاں تک کہ طلبہ اور ایک ادنیٰ خادم بھی۔فلاح کے موجودہ نظام نے نصف صدی کے اپنے مختصر سفر میں خود کو لمحہ لمحہ سمیٹا ہے۔ غیر منطقی،فرسودہ اور پامال راہوں سے گریز کیا ہے ؛اچھی ، قابل عمل اور نتیجہ خیز قدروں سے اپنے نظام کو متمول بنایا ہے ۔ اس نرم طبیعت، مزاج اور رویہ کی بدولت فلاح کوکشادہ دلی، روشن فکری اور تعمیر پسندی کی دولت ہاتھ آئی ہے،جس کے فیوض و برکات سے نظامِ فلاح اور اس کے فیض یافتگان طلبہ و طالبات دونوںبہرور ہیں۔
اسٹور کی حیثیت نظامِ فلاح کی قدروں میں شامل ہونے والی ایک خیرِصغیرکی ہے۔ گوکہ فلاح کے دیگرپہلو کی طرح اس کا کوئی تحریکی اور فکری پس منظر نہیں تھا اور اس کا وجود طلبہ کی روز مرہ کی ضروریات سے مستعار تھا تاہم تربیت اور خدمت خلق کے نقطۂ نظر سے اس کی اہمیت مسلم تھی۔ ہمارے قیام فلاح کی پوری مدت (۱۹۸۶۔۱۹۹۱)میں اسٹور کے لیے حسن البنا منزل کی سیڑھی کے نیچے ایک مختصر ترین جگہ مختص تھی۔اس کی شناخت اس سے بھی قائم تھی کہ کمرہ نمبردس اس کے پڑوس میں آباد تھا، جس کے اصلاحی کارنامے آج بھی دل پر نقش ہیں۔ نازشِ طفلاں مولانا فاروق عالم ندوی اور مولانا ساغر بدایونی فلاحی صاحبان دامت برکاتہم اس کارگہ اصلاح و تعزیرات کے داروغہ تھے اوراسٹور کے پڑوس کوبچوں میں آفاقی بنا ہوئے تھے۔اسٹور میں ضروریات کی تقریباً سبھی چیزیں بہ آسانی دستیاب تھیں۔ حسبِ ضرورت طلبہ اسٹور سے سودا سلف خریدتے تھے۔ نان کھٹائی، چاکلیٹ ، بسکٹ، صابن، تیل، قلم کاپیاں اور چھوٹی بڑی روزمرہ کی دیگراشیاء۔اسٹور کے قیام کا مقصد دراصل طلبہ کو بازار سے دور ایک خاص دائرہ میں رکھ کر ان کی تربیت مقصود تھی۔ بیرونی طلبہ کے تئیں مقامی لوگوں کا رویہ بڑا محبت آمیز تھا۔انھیں فخر ہوتا تھا کہ دور دراز سے طلبہ ان کے گائوں میں تعلیم کی غرض سے آتے ہیںاور اسی محبت کے سبب عرف عام میں طلبہ کا بازار میں دکھائی دینا نہ صرف معیوب سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے فلاح کے ناموس سے جوڑ کربھی دیکھا جاتا تھا۔فلاح سے محبت رکھنے والے بڑے بزرگوں کی نگاہ اگر کہیں بازار میں فلاح کے طلبہ پر پڑجاتی تو اس کی اطلاع فلاح میں تعینات نگراں کو فوراً ہوجاتی تھی۔بازار جانا کوئی جرم نہیں تھا لیکن اس کے لیے متعلقہ نگراں سے باقاعدہ اجازت مطلوب تھی۔ بصورت دیگر بازار سے لوٹتے ہی طلبہ کی تواضع کے لیے باب الداخلہ کے آس پاس ہی متعلقہ نگراں منتظر رہتے تھے۔فلاح کی تربیت کا یہ دو طرفہ امتحان تھا کہ طلبہ نظم و ضبط کے کتنے پابند ہیں اور نگرانی کا نظام کتناچاق و چوبند ہے۔ہمارے عہد میں فلاح کے تربیتی نظام کے یہ دونوں پہلو روشن تھے۔ بلکہ نگرانی کے نقطۂ نظر سے اسے عہدِ زریں کہنا زیادہ مناسب ہے۔اس وقت شعبۂ نگرانی کی زمامِ کار میرے مربی استاد گرامی مولانا عمران احمد فلاحی کے ہاتھوں میںتھی۔
اسٹور کی یادوںکے بیچ نظامِ نگرانی کا ذکرِ خیر برسبیل تذکرہ نہیں بلکہ نظامِ فلاح کا ہر پہلو اپنے دوسرے پہلو سے اس قدر مربوط ہے کہ اس سے متعلقہ پہلو کاذکر از خود در آتا ہے۔ فلاح کا نظام دراصل مجموعۂ اقدار کا نام ہے ۔ایک قدر دوسری قدرکامحرک ہے اور تتمہ بھی۔بادی النظر میں ’اسٹور‘بیع و شریٰ، اشیائے ضروریات، اسٹور انچارج، خریدار طلبہ اور چند متعلقہ سرگرمیوں کی آماجگاہ تھااوربس ! لیکن بہ نظر غائر دیکھا جائے تو اسٹور کے گرد فلاح کے تربیتی اور رفاہی مقاصدکارفرما تھے۔ اندرونِ کیمپس طلبہ کی ضروریات کی تکمیل اس کا پہلا ہدف تھا۔ بازار کے بالمقابل طلبہ کو ارزاں اور واجب قیمت پر اشیاء کی فراہمی اس پر مستزاد۔منافع کی رقم سے ضرورت مند طلبہ کی خاموش ا مداد اس کا حاصل تھا۔ ان اہداف کے بین السطور بیع و شریٰ کے اسلامی منشا کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور اپنے تربیتی اور رفاہی تناظر میں تو یہ سراپا’’ کشجرۃ طیبۃ‘‘ تھا۔اسٹور ہمیں ایام طفولیت ہی سے اس کا عادی بنارہا تھا اور ہم طلبہ غیر شعوری طور پر اس پاک اسلامی منشا کے عملی مظاہرنہ صرف دیکھ اور سمجھ رہے تھے بلکہ عملاً اس کا حصہ بھی تھے۔ عصر کی نماز کے بعد طلبہ آتے اور اسٹورسے اپنی ضروریات کی چیزیں خریدتے تھے۔
مولانا شبیراحمد فلاحی صاحب سے مروی ہے کہ جناب حبیب جمالی فلاحی اور جناب ابوالمکارم فلاحی صاحبان پر مبنی فلاح کے پہلے قافلے (بیچ) میں شامل جناب عبدالوحید فلاحی اسٹور کے موسس اور محرک ہیں۔ان کا تعلق خوشحال فیملی سے تھا۔ وہ طبعاً طلق الدین تھے اوربڑی خاموشی سے بعض ضرورت مند طلبہ کی امداد بھی کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ضرورت مندوں کی امداد کی بات چلی تو طے پایا کہ کچھ ایسا کریں کہ دوچار پیسے کی آمدنی ہو اور اس سے ضرورت مندوں کی حاجت روائی بھی ممکن ہوسکے۔اسی وقت جناب عبدالوحید فلاحی نے بتایا کہ ان کے پاس دس روپے ہیں۔ اس وقت کسی طالب علم کے پاس دس روپے ہونا بڑی بات تھی۔لہٰذا ہم دونوں جناب مرحوم خلیل صاحب کے چچا زاد بھائی جناب عبدالرشید صاحب کی دکان پر حاضر ہوئے اور مدعا بیان کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے ۔ کم قیمت پر سامان دیا ۔یہ نوٹ بک (کاپی) پر مشتمل تھا۔پھر اس میں بسکٹ شریف کی شمولیت بھی ہوئی اور رفتہ رفتہ دیگر اشیا کا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حسن البنا منزل کے برآمدے میں ٹین کے ڈبوں میں یہ چیزیں فروخت کے لیے سجادی جاتی تھیں۔پھر رام پور سے جناب مشرف حسین فلاحی تشریف لائے اور ان کی معیت میں دیگر رام پوری طلبہ نے فلاح میں داخلہ لیا تو اسٹور کو مزید ترقی ہوئی، وہ طلبہ بزنس فیملی سے تعلق رکھتے تھے ۔ مولانا شبیراحمد فلاحی صاحب کے بموجب اس وقت بلریا گنج میں شکر نہیں ملتی تھی۔گڑ کی روایت تھی۔ مہمانوں کو بھی پانی کے ساتھ گڑ پیش کیا جاتا تھا۔ بسکٹ کے انواع و اقسام مفقود تھے لہٰذا اسٹور کا یہ ہدف بھی ٹھہرا کہ طلبہ کی ضروریات کی تمام چیزیں، جو انھیں بازار میں بھی نہیں ملتی تھیں، فراہم کردی جائیں۔
مولانا شبیر احمد فلاحی صاحب کا دل فلاح کے ابتدائی ماہ و سال اور اس کے تدریجی ارتقا کی دستاویز ہے۔میں حسبِ ضرورت اس کے اوراق پلٹتا ہوں اوربہ آسانی مطلوبہ چیزیں برآمد کرلیتا ہوں۔بربط کا ایک تار چھیڑتے ہی فون پر ان کی کپکپاتی آواز کانوں میں رس کھولنے لگتی ہے۔ فلاح کے ذکرسے ان کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اورماضی کی یادیں دست بستہ ان کے حضور کھڑی ہوجاتی ہیں۔ درجہ پنجم، اعلیٰ یا انتظامیہ سبھی امور کی ڈھیر ساری باتیں۔سیانوں کی سیانیاں بھی انھیں خوب ازبر ہیں اور اساتذہ کی شفقتیں بھی۔اسٹور کے تعلق سے انھوں نے جو خاکہ جناب عبدالوحید صاحب سے شیئرکیا تھا، وہ دراصل مولانا مفتی عبدالروئوف قاسمی کی تحریک سے ان کے دل پر نقش ہوگیا تھا۔ یہ درجہ پنجم کی بات ہے۔ انھوں نے بتایا کہ:
’’عرفِ عام میں’ مفتی صاحب‘ کے نام سے معروف مولانا عبدالروئوف قاسمی صاحب نے ہم بچوں کو خیر اور فلاح کے کام پر ابھارتے ہوئے ایک ’’امدادِ باہمی فنڈ‘‘قائم کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا اور کہا کہ اس کے تحت ہم چھوٹی موٹی بزنس کریں گے اور دوسروں کی مدد کریں گے۔ عملی صورت کے طور پر مفتی صاحب نے ہمیں مدرسے کے احاطے میںبکھری ہڈیوں اور شیشے کے بوتل اکٹھا کرنے کی ترغیب دی۔ ہم نے ایسا کیا بھی۔ان کا خیال تھا کہ جب یہ وافرمقدار میں جمع ہوجائیں گے ،تو انھیں فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پھر باقاعدہ بزنس ہوگی اور منافع سے بچوں کی امداد کی جائے گی‘‘۔
مفتی صاحب کا یہ تجارتی خاکہ حقیقت کی زمین پر تو نہ اتر سکا البتہ یہ خیال مولانا شبیر احمد صاحب کے لاشعور میں کہیں محفوظ ہوگیا۔ جناب عبدالوحید فلاحی صاحب سے اس پہلو پرگفت و شنیدسے مفتی صاحب کا وہ بزنس پلان مولانا شبیر احمد صاحب کے شعور میں درآیا اور اسٹور کی جانب انجانے قدم بڑھنے لگے اوراس طرح اسٹور جناب عبدالوحید فلاحی اورمولانا شبیر احمد صاحبان کی کوششوں سے جمعیۃ الطلبہ کے نظام کا حصہ بن گیا۔
مولانا عبدالرحمٰن خالدفلاحی صاحب ‘ مولانا نسیم غازی فلاحی صاحب کو اسٹور کا محرک و بنیادگزار بتاتے ہیں۔مکرمی غازی صاحب طالب علم کی حیثیت سے مودودی ہاسٹل کے کمرہ نمبر ایک میں مقیم تھے کہ معاً انھیں اس کا خیال گزرا اور وہ اس راہ پر چل پڑے۔کچھ سامان بازار سے لائے اور طلبہ کو قیمتاً دنیا شروع کیا اور بعد کو یہی اسٹور کا پیش خیمہ بنا۔مولانا غازی صاحب سے بھی گفتگو ہوئی تو خالد صاحب کے خیال کی تائید ہوئی لیکن چونکہ زمانی اعتبار سے مولانا شبیراحمد فلاحی اور پہلے بیچ کے فارغ جناب عبدالوحید فلاحی صاحبان ‘ غازی صاحب سے مقدم ہیں اس لیے مولانا شبیراحمد فلاحی کے خیال سے اتفاق کرنا زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ جناب عبدالوحید فلاحی اسٹور کے بانی اور محرک ہیں۔البتہ اسٹور کے سلسلے میں محترم غازی صاحب کی ذاتی کوشش، متجسس اور خیر کی متلاشی ان کی طبیعت کے ہم سبھی معترف ہیں۔ سکریٹی شپ کی اپنی دو میقات میں ان کی ذاتی کوششوں سے اسٹور کو غیرمعمولی فائدہ پہنچا۔
یہ مرحوم مولانا عبدالحسیب اصلاحی صاحب کی صدارت کا زمانہ تھا۔اسٹوربزنس اور کارکردگی میں اضافہ کے ساتھ ہی تحسین اور قدرکی نگاہیں اٹھنا شروع ہوئیں ۔ انتظامیہ متوجہ ہوئی اور اسے فی الفور قبولیت بخشی گئی۔ مہتمم جامعہ نے اس کے لیے حسن البنا منزل میں سیڑھی کے نیچے کی جگہ الاٹ کی۔ابتداً اسٹور کے لیے خریداری مقامی بازار سے شروع ہوئی لیکن رفتہ رفتہ جب اس کے خدوخال زیادہ نمایاں ہونے لگے، دائرۂ کار میں وسعت آئی، اجناس میں اضافہ ہوا، معیار اور انواع و اقسام میں بھی التفات و اعتنا نے قدم جمائے تو طے پایا کہ اب سامان کی تھوک خریداری شہر سے کی جائے لہٰذاشہر اعظم گڑھ سے خریداری شروع ہوئی ۔خریداری کے لیے ایک دن متعین تھا۔اس دن اسٹور بند رہتا بقیہ ایام میں حسبِ معمول اس کے فیوض و برکات جاری رہتے تھے۔ اسے جمعیۃ الطلبہ کے قلمدان میں شامل کیا گیا اور آمدنی کا ذریعہ بنایاگیا۔ اس طرح جمعیت میں ’وزارتِ اسٹور‘ کا اضافہ ہو گیا۔ جمعیت کے عام انتخاب میں دیگر وزارتوں کے ساتھ اسٹور منسٹری کا انتخاب بھی عمل میں آنا شروع ہوا۔منتخب وزیر کے لیے’’اسٹور انچارج‘ ‘کی اصطلاح رائج تھی۔ عالی مقام اسٹورانچارچ کا ایک معاون بھی ہوتا تھا،جس کا انتخاب وہ بذاتِ خود اپنی مرضی سے کرنے کا مجاز تھا۔ قلمدان سنبھالتے ہی وہ اپنے معاون کے ساتھ اسٹور کا چراغ روشن کرتا اور پروانے منڈلانے لگتے تھے۔اسٹور انچارج صرفہ،آمد، بچت اور منافع کے حساب کتاب کے لیے جمعیۃ الطلبہ کے سکریٹری کو جوابدہ تھا۔
اسٹور اپنے روزِقیام سے ہی صالح اور رفاہی مقصد کا علم بردار رہاہے۔منافع کی آمدنی سے ضرورت مند طلبہ کی خاموش امداد کی جاتی تھی ۔ ایک دفعہ تو اسٹور نے عارضۂ قلب جیسے مہلک مرض میں مبتلا ایک طالب علم کے علاج و معالجہ کے مصارف بھی اپنے سر لیے اور سرخروئی حاصل کی۔یہ طلبہ کی صلاحیت کو پروان چڑھانے کا بھی وسیلہ تھا۔ اپنی سرگرمیوں کی بدولت وہ میرے عہد میں بھی مرجع خلائق بنارہا لیکن غالباً اس وقت تک اس سے اس کی افادی روح غائب ہوچکی تھی۔ اس کا وژن نہ صرف بدل گیاتھا بلکہ وہ کسی بنیا کے ادنیٰ درجہ کی گومتی بن کر رہ گیا تھا۔ اس میں بچوں کی ضروریات کی کماحقہ تکمیل کی صلاحیت بھی مفقود ہوتی جارہی تھی۔مقصد کے عدمِ استحضارنے اسٹور کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کردیاتھا۔نوبت بہ ایں جا رسید کہ جمعیت کی دیگر شعبہ جاتی سرگرمیوں کے علی الرغم اسٹور ایک عام اور غیر متحرک وزارت شمار کیا جانے لگا۔عا لمیت کے آخری برسوں میں ہم اسے جاںکنی کے عالم میں نیم مردہ چھوڑ کر آئے تھے۔دراصل اس وقت اسے کسی عبدالوحید فلاحی، شبیراحمد فلاحی یا نسیم غازی فلاحی کی ضرورت تھی ،جو اس کی سوکھتی اور بے جان رگوں میں پانی ڈالتے اور اس کا کھویا ہوا وقاراسے واپس دلاتے ۔اسٹورتو خیر ایک مختصر اکائی ہے لیکن اس کی ناکامی سے ہمارے اجتماعی رویے کی غمازی ہوتی ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ ہم میں موروثی اثاثے کو سجونے، سنوارنے کا یارا نہیں رہا۔قدروں اورروشن روایتوں کا ایک سلسلہ ہے، جو ہمارے ہاتھوں سے پھسلتاجارہا ہے۔وقف بورڈاملاک ہوں، مساجد یا قبرستان ہوں‘ حوادث کی زد میں ہیں۔ یہ خیال پریشان کن ہے کہ ماضی میں فلاح نے اپنی جن چھوٹی اکائیوں کو ستون بناکر عظمت کا سفرطے کیا اور اس پر ایک بلند و بانگ نظام کی بنا ڈالی ،وہ اکائیاں اپنے ہفت افادی پہلوئوں کے باوجود فلاح کے موجودہ سسٹم سے غائب ہیں یا بے اثر ہوکر رہ گئی ہیں۔نظام کے اعوان و انصار اذہان کے لیے اس کی صحت مندی میں شامل قدروں کی بحالی، کمزور کڑیوں کااستحکام، نظم و ضبط کی خامیوں کا تدارک غورطلب امور ہیں۔
خالص کاروباری نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو فلاح کے پاس طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد ہے ۔ان کی آئے دن کی ضروریات ہیں۔اسٹیشنری، کتب ، کاپی، ریڈی میڈ فاسٹ فوڈ سے لے کر چھوٹی بڑی بہت سی ضروریات کی تکمیل کے لیے جدید تقاضوں سے لیس ایک بڑا اسٹور مطلوب ہے۔ اسے کثیرآمدنی کے حصول کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے ۔ خوشی ہوئی کہ فلاح نے باب الداخلہ پر اس کا نظم کررکھاہے۔خوشی یقیناً دوچند ہوجاتی اگر یہ فلاح کے براہ راست نظام کے تحت جاری رہتا اور اس کا فیض کلیتاً فلاح کو پہنچتا لیکن مقام تاسف ہے کہ خلاف توقع اسے ٹھیکہ (Contract) پر دے دیا گیا ہے۔ اسٹورتودراصل جمعیت کی ملکیت تھی؛اس کے فوائد سے جمعیت کو مالی فائدہ ہوتا اور ماضی کی طرح اس کا فیض حاجت مندوں تک پہنچتا لیکن مولانا شبیر احمد فلاحی صاحب کے بقول’’اسٹور تاجرانہ ذہنیت کی نذر ہوگیا اور اس کی افادی اور فیض رساں ذہنیت فوت ہوگئی‘‘۔مجھے نہیں معلوم کہ مولانا کا یہ قدرے تلخ و ترش تبصرہ فلاح کے موجودہ نظام میں کس حدتک لائق اعتنا خیال کیا جائے گا۔ جبکہ ماضی کی طرح فلاح کی ضرورتیں محدود نہیں رہیں؛طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہواہے اور پھر بڑھتی ضرورتوں نے وسائل میں تبدیلی کی ناگزیت کا احساس بھی پیدا کیا ہے؛ان تمام پہلوئوں کے مد نظر ماضی کے اسٹور پر اصرارِ بے جا تو نہیں تاہم اسٹور کے اساسی اور افادی کردار کے کھودینے کا شکوہ ضرورکیا جائے گا اور یہی اس شکستہ بستہ کھردری تحریر کا مدعا بھی ہے۔
معلوم نہیں کہ اب فلاح کے بچوں کا بازار میں اہلے گہلے ٹہلنا، سامان خریدنے کے لیے بازار کا رخ کرنااب بھی معیوب سمجھاجاتاہے یا نہیں؟ماضی کی طرح کیا اب وہاں کے مقامی بزرگ فلاح کے بچوں کو دیکھ کر ٹوکتے بھی ہیں یا نہیں؟ کیا انھیں بچوں کا بازار میں گھومنا پھرنا اب برا نہیں لگتا؟مقامی لوگوں کو فلاح سے جو انسیت، ہمدردی اور محبت تھی ، کیا اب نہیں رہی یا اس کے معانی و مفاہیم بدل گئے؟ پھر کیا ان بچوں سے بازار سے سامان کی واجب قیمت ہی وصول کیا جاتی ہے؟ہمارے عہد کا اسٹور ان جملہ نقاطِ نظر پر ہمارے تذبذب کو تحفظ فراہم کرتا تھا۔اسٹور میں اپنائیت کا احساس گزرتا تھا، کیوں کہ وہ اپنا تھا۔جمعیۃ الطلبہ کے وجود کا حصہ تھا۔
اسٹور کے جائے وقوع ’حسن البنا منزل‘ کی بات آئی تو مولانا مرحوم عبدالحسیب اصلاحی صاحب کا بھی ذکر خیر نکل آیا کہ اس عمارت کا نام صحیح معنوں میں’’ مولانا عبدالحسیب منزل‘‘ ہونا چاہئے کیوں کہ اس کی تعمیر محض مولانا مرحوم کی کدو وکاوش کا نتیجہ ہے ۔فنڈ کی فراہمی سے لے کر عمارت کی تعمیرتک۔ مولانا شبیراصلاحی مرحوم اور مولانا صغیر احسن اصلاحی مرحوم جیسے ہمارے مثالی اساتذہ کی خدمات بھی پیش نظر رہے، یہ فلاح میں بنیاد کے پتھر ہیں۔ممکن ہے آنے والی نسلیں ان کے نام اور کارنامے یاد نہ رکھ پائیں۔کہیں مرحوم حکیم محمد ایوب صاحب جیسی نابغہ روزگارہستی اور محسن ہمارے حافظے سے پھسل نہ جائے۔ لہٰذا فلاح کے بام و در میںان کے زندہ رہنے کا سامان بھی کیا جائے۔ حوصلہ اس لیے قائم ہے کہ فلاح کی تازہ دم منتخب ٹیم پرانی قدروں کی فیض یافتہ بھی ہے اور امین بھی۔ انھیں فلاحی اقدار و ثمرات کا بخوبی اندازہ ہے ۔لہٰذا امید کی نظریں ان پر ٹکی ہیں۔ ٹیم اسپرٹ اور نظام کی صحت مندی کو اللہ قائم رکھے۔قدروں کی بازیافت کا عمل بس شروع ہواچاہتا ہے ۔
وزارتِ اسٹور کے صاحبانِ باکمال اور وزرائے عظام کو بھی یاد کرتے چلیں کہ فلاح اور جمعیۃ الطلبہ سے اخذ و استفادہ کے نتیجے میں ان میں خدمت خلق اور ایثار کا وہ جذبہ پیدا ہوا کہ جسے جس پہلو پر جہاں کھڑا کیا گیااس نے خود کو وہیں کھپادیااور ثابت قدمی دکھائی۔ ان کاروانِ باصفا کے پاکیزہ جذبے سے نسل نو کوباخبر کرناآسان نہیں۔ اسٹورانچارج کی پوری فہرست تو نہیں مل پائی البتہ چند مبارک اسماء جوحیات نو کی پرانی فائلوں اورمختلف ذرائع سے ہم تک پہنچ سکے، حسبِ ذیل ہیں:
عبدالعزیز،بمبئی(۱۹۸۲)،انیس احمد (۱۹۸۵)، فیاض احمد مدراسی (۱۹۸۶)،رضوان الحق(۱۹۸۷)، عبدالشکور (۱۹۸۸)، شمس نوید بدایونی(۱۹۸۹)،منظر عالم، چمپارن (۱۹۹۰)، سید اسعد علی ،جے پوری (۱۹۹۱)،عبدالقادر، کانپور (۱۹۹۲)، ۱۹۹۳، ۱۹۹۶ کے جمعیۃ الطلبہ کے انتخاب کی رپورٹ مرتبہ مولانا اسمٰعیل میں معتمد برائے اسٹور کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ مدثر حسین، اڑیسہ (۱۹۹۴) ، محمد بابر، دربھنگہ (۱۹۹۵)، دانش ریاض (۱۹۹۸ )، فاروق اعظم (۱۹۹۹)۔
فلاح کی سرشت میں داخل تحریکیت بے بضاعتی کانام نہیں بلکہ ٹوٹتی بکھرتی کڑیوں کی تنظیم نو کا نام ہے۔ اسٹور کی فیض بخش روح کی بازیافت اس تحریکیت کا اولین فریضہ ہے۔ زندہ نظام سے اس کی توقع بے جا بھی نہیں‘۔

Previous articleآسمانِ صحافت کا درخشاں و تابندہ ستارہ : راشد احمد از قلم مظفر نازنین ، کولکاتا
Next articleافسانہ”جنون ” از محمد اسماعیل علیم

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here