ظفرکمالی کی شانِ تحقیق [آخری قسط]از: صفدر امام قادری

0
241

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

اس مجموعے میں ڈرامے سے متعلّق تین مضامین ہیں جو آج سے تقریباً تیس برس قبل لکھے گئے ہیں ۔ اردو میں ڈرامہ یوں بھی ایک ایسی صنف کے طور پر پہچان رکھتا ہے جس پر شاعری اور افسانے ، ناول کی طرح سے نقّادوں نے کبھی توجہ نہیں کی۔ تحقیقی نہج سے گفتگو کی بات کریں تومعلوم ہو گا کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گننے لائق افراد موجود ہیں جنھوں نے صنفِ ڈراما کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہو۔ عبدالعلیم نامی ، عشرت رحمانی ، مسعود حسن رضوی ادیب ، اخلاق اثر ، ابراہیم یوسف وغیرہ کے بعد سارا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ظفر کمالی کے یہ تحقیقی مضامین اس بات کا بیّن ثبوت پیش کرتے ہیں کہ وہ اردو ڈرامے کے نہ صرف یہ کہ بے حد سنجیدہ طالب ِ علم ہیں بلکہ یہاں اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈرامے کی تاریخ سے ان کی بھر پور دلچسپی رہی ہے۔ ڈرامے کے معروف محققین نے اب تک جن حقائق کی پیش کش کی ہے، ظفر کمالی نہ صرف ان سے باخبر ہیں بلکہ وہ ذاتی طور پر نئے گوشوں کی بھی خبر رکھتے ہیں۔ انھی وجوہات سے ظفر کمالی کے یہ مضامین اردو تحقیق و تنقید یا ڈرامے کے طالب علم کے لیے ایک کارآمد دستاویز بھی ہیں۔

’ڈراما اور اسٹیج‘ عنوان سے ظفر کمالی کے مضمون کے حواشی کی تعداد ۴۱ ہے جس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ موضوع سے متعلّق ہر مواد پر ظفر کمالی کی نگاہ ہے۔ انھوں نے صنفِ ڈراما کے ازلی سوالوں سے بے حد عالمانہ انداز میں گفتگو کی ہے۔ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا کہ ہر طرح کے نقطہ ہاے نظر زیرِ بحث ہوں اور نتیجے تک پہنچنے سے پہلے تمام اندازِ فکر کا آزادانہ طور پر منصفانہ انداز میں جائزہ مکمل ہو جائے۔ اردو ہی نہیں، ہندی کے ڈرامہ نگاروں اور ڈرامے سے متعلّق نقادوں کے اقوال پر غور وفکر کرنے کے بعد ہی کسی نتیجے تک پہنچنے کی انھوں نے کوشش کی ہے۔ اس دوران ریڈیو ڈرامے کی ہئیت پر بھی گفتگو ہوتی ہے مگر حتمی طور پر ظفر کمالی نے ڈرامے اور اسٹیج کو لازم وملزوم ہی مانا ہے۔ ڈرامے کے فن کے سلسلے سے اردو میں جس قدر بھی کتابیں منظرِ عام پر آئی ہیں، ان میں ڈرامہ اور اسٹیج کے بارے میں اکثر آدھی ادھوری معلومات حاصل ہوتی ہیں مگر صنفی حد بندیوں کی وجہ سے ایسے نتائج کم میسر آتے ہیں جہاں علمی اور عملی دونوں پہلووں سے بھرپور گفتگو کی گئی ہو۔ ظفر کمالی نے معروضی توازن کے ساتھ ڈراما اور اسٹیج سے متعلّق علمی مواد کو جمع کر کے جو نتیجہ آج سے تین دہائی قبل کے مضمون میں اخذکیا تھا، وہی آج بھی حقیقت ہے۔
محمد حسن کے ڈرامے ’ضحّاک‘ کے مآخذکے سلسلے سے ظفر کمالی کا مضمون ان کے گہرے علم کا ثبوت ہے۔ ظفر کمالی نے یہاں اس امر پر خاص طور پر گفتگو کی ہے کہ محمد حسن نے ضحّاک‘ کا قصّہ کہاں سے مستعار لیا ۔ بعض نقاد اور محقّقوں نے محمد حسن پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے اختر شیرانی کے ترجمہ کردہ متن سے استفادہ کیا ہے مگر ظفر کمالی نے تفصیل میں جا کر اس الزام کو باطل قرار دیا ہے۔ اسی طرح مرزارجب علی بیگ سرور کی تصنیف’سرورِ سلطانی‘ سے بھی اس میں استفادے کی بات کی گئی ہے۔ ظفر کمالی نے تما م مآخذ اور قصّے کی مرحلہ وار جانچ پرکھ سے اکثر اعتراضات کے واضح جواب دیے ہیں اور یہ بتانے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ محمد حسن نے فردوسی کے شاہنامے کے قصّے کو تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ اپنے تخیل کا حصّہ بنایا اورپھر قصّے کو ایک نئے سیاسی تناظر میں ڈھال کر ایک ایسا نیا ڈرامہ تیار کر دیا جو ہمارے سیاسی سماجی ماحول سے پورے طور پر متعلّق ہے۔ ظفر کمالی نے مطابقت اوراختلافات کے سلسلے سے تفصیلی بحث کی ہے۔ وہاں اس بات کا ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ وہ بہ یک وقت دونوں متون پر قدرت رکھتے ہیں۔ ظفر کمالی نے محمد حسن کی طرف سے قصّے کے بنیادی دھارے میں تخلیقی آزادی حاصل کرنے کو بڑی اہمیت دی ہے جس سے ان امور پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ ایک مشہور قصّے کی بنیاد پر جب نیا تخلیقی نمونہ تیار کیا جاتا ہے تو نئے مصنّف یا نئے عہد کے لکھنے والے کو کیسی ادبی آزادیاں میسر آتی ہیں ۔
اردو ڈرامے کی تنقید و تحقیق کے سلسلے سے ظفر کمالی کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ اردو کے ابتدائی ڈراموں پر ان کی گہری نظر ہے۔ انیسویں صدی کے نصف دوم میں اردو ڈرامے کے آغاز وارتقا کی جو بحث اب تک سامنے آئی ہے، ظفر کمالی نے اس سلسلے میں بعض نئے مآخذ کی نشاندہی کی ہے۔ ’بزمِ فرخ ‘ناٹک معروف بہ فرّخ سبھا حافظ‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ۱۸۸۷ء میں شائع شدہ اس ڈرامے کا تعارف کراتے ہو ئے ظفر کمالی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ ڈراما ۱۸۸۳ء میں تصنیف ہوا اور اسی سال اسے اسٹیج کر دیا گیا۔ اس مضمون میں ظفر کمالی نے اس سلسلے کے دیگر ڈراموں سے بھی موازنہ کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اُس وقت اردو میں سبھاؤں کی جو روایت قائم ہوچکی تھی، اس ڈرامے میں اس روایت سے کہاں کہاں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ظفر کمالی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حافظ نے اس عہد کے اہم شعرا کے اشعار حسبِ ضرورت استعمال کر کے ڈرامے کی اثر آفرینی میں اضافہ کیا ہے۔ ڈرامے کے بعض محققین کے نتائج سے ظفر کمالی نے اختلافات بھی درج کیے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایسے محققین میں سے بعض نے اس ڈرامے کی پہلی اشاعت اپنی آنکھ سے دیکھی ہی نہیں جس کی وجہ سے بعض غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔

ابوالبرکات کربلائی کی کتاب ’’قطب مشتری کا تنقیدی مطالعہ‘‘ پر تبصرہ کتاب کے سب سے پُرانے مضامین میں سے ایک ہے۔ ہر چند اس کی اشاعت ۲۰۰۳ء میں ہوئی مگر اس کی تصنیف کا زمانہ ۱۹۹۰ء سے پہلے ہی کا ہے۔ یہ کتاب جناب کربلائی کی پہلی تصنیف ہے اور ہزار طرح کے اغلاط سے بھری ہوئی ہے، اس لیے اس پر جس قدر بھی سختی سے دادِ تحقیق دی جائے، وہ علمی اعتبار سے لازم ہے۔ ظفر کمالی نے بہت ہی ٹھنڈے دل سے مصنّف کی فروگذاشتوں پر انگلی رکھی ہے اور اس بات کو ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ اس کتاب کا ہر صفحہ لکھنے والے کی کم علمی، ناتجربہ کاری اور تحقیقی معاملات میں پاپیادگی کے ثبوت سے پامال ہے۔ متن کی خامیاں، عروضی نادانستگی میں مصرعوں کا ساقط الوزن ہونا، تحقیقی اعتبار سے اغلاط کا پلندہ ہونا، بعض مستند اور بعض نامستند کتابوں سے براہِ راست اور معمولی ہیر پھیر کے ساتھ نقل کرلینا جیسے اوصاف پکار پکار کر تحقیق اور فن تحقیق کا منہ چڑھاتے ہیں۔ ظفر کمالی نے ممکن حد تک تمام پہلوئوںسے اس بات کا جائزہ لیا ہے اور اچھی خاصی تعداد میں مثالوں کی پیش کش سے مصنّف کی بے اعتباری کو صد فی صد اُجاگر کرنے میں کامیابی پائی ہے:
’’ انھوں نے ایک ایسے کام کا بیڑا اٹھایا جو ان کے بس کا نہ تھا اس لیے انھوں نے ہر گام پر ٹھوکریں کھائیں ’قطب مشتری‘‘ پر ان سے قبل جو کچھ لکھا جاچکا تھا اس پر وہ کسی قسم کا اضافہ نہیں کرسکے۔ فکری اعتبار سے تہی دامن ہونے کے سبب وہ سرقے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قلت مطالعہ اور تحقیقی شعور کی کمی کی وجہ سے وہ کثرت سے تحقیقی غلطیاں کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فارسی کو اردو اور نثری کتابوں کو شعری تصانیف سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان بیانات کی روشنی میں یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب جس نیک مقصد کے تحت لکھی گئی تھی اس میں قطعی طور پر ناکام ہے۔ یہ اپنے قارئین کو فیضیاب کم گمراہ زیادہ کرتی ہے۔‘‘
ہمارے عہد کے جن دو محققین کو محمود شیرانی، قاضی عبدالودود اور امتیاز علی عرشی کی صف کا محقق تسلیم کیا جاتا ہے، ان میں رشید حسن خاں اور حنیف نقوی کی حیثیت پر شاید ہی کسی کو اتفاق نہ ہو۔ ظفر کمالی نے دونوں کی ایک ایک کتاب کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ رشید حسن خاںکی کتاب ’’ادبی تحقیق: مسائل اور تجزیہ ‘‘ کے پہلے حصّے میں شامل اصولِ تحقیق سے متعلّق مضامین کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح حنیف نقوی کی کتاب ’تحقیق و تدوین : مسائل و مباحث‘ میں ان مضامین پر ظفر کمالی نے زیادہ توجہ کی جہاں تحقیق و تدوین کے اصول پیش نظر ہیں۔ اس سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ ظفر کمالی کے یہاں علمی اور ادبی تحقیق میں اصولیات کی طرف زیادہ جھکاو ہے۔ حنیف نقوی پر لکھا گیا مضمون تو ان کی حیات ہی میں شائع ہوا۔ اپنے وقت کے بڑے مصنّفین بالخصوص محققین کی کتابوں کا جائزہ اس مقصد سے بھی لیا جانا ضروری ہے کیوں کہ اگر ان کے علمی نکتوں کی وضاحت در وضاحت سامنے نہ آئے تو وہاں پوشیدہ گہر ہاے آبدار کو کس طرح عام کیا جاسکتا ہے۔ یہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑے محققین کی زبان رفتہ رفتہ ٹیلی گرافک اور تکنیکی ہوتی جاتی ہے۔ قاضی عبدالودود کے یہاں یہ بات اس پائے تک پہنچ گئی کہ لوگوں نے اسے سادگی میں ’’ناخواندہ اسلوب‘‘ کہنا شروع کردیا۔ خود ظفر کمالی نے صفحہ باسٹھ پر حنیف نقوی صاحب کا ایک مختصر اقتباس پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے بعض مضامین میں ایک ناقابلِ فہم زبان میں وضع ہوتی چلی گئی مگر یہ بات ہر جگہ نہیں۔
گلستاں کے بابِ پنچم سے متعلّق پرو فیسر کبیر احمد جائسی کے ایک مضمون کو بنیاد بناکر ظفر کمالی نے بعض حقائق کی طرف ہماری توجہ مبذول کی ہے۔ ظفر کمالی کا کہنا ہے کہ کبیر احمد جائسی نے سعدی کے خیالات کو صحیح تناظر میں نہیں دیکھا اور بہ عجلت اپنے نتائج اخذ کرلیے جس سے سعدی کی بالکل الگ شبیہہ قائم ہوجاتی ہے۔ کبیر احمد جائسی کے غیر ضروری طور پر جارحانہ انداز اختیار کرنے اور حقائق کو مسخ کرکے نتائج اخذ کرنے کی ظفر کمالی باز پرس کرتے ہیں۔ انھوںنے کوشش کی ہے کہ ایک کھلی فضا میں اس موضوع پر گفتگو قائم کرکے سعدی کی صحیح اور معقول شخصیت کو پیش کریں۔ ظفر کمالی نے سعدی جیسی جہاں دیدہ شخصیت کی باتوں کی طرف توجہ کرنے والے اشخاص کی مخصوص ذہنی تربیت کی توقّع کی ہے اور اس بات کی وضاحت کرنے میں کامیابی پائی ہے کہ بڑے مصنّفین اور عظیم تحریروں کے مطالعے کے لیے بنے بنائے سانچے کافی نہیں ہوتے بلکہ ان کی تفہیم کے لیے ہمیں اپنے ذہنی سانچے کو وسعت اور ضرورت ہو تو نئی تربیت سے صیقل ہونا ہوگا۔ ظفر کمالی نے سعدی شناسی کے لیے سعدی کی ظریفانہ کیفیت کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظفر کمالی کا ان کے مخصوص لطیف انداز میںیہ بیان ذیل کے اقتباس میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
’’ان باتوں کی روشنی میں دیکھیں تو بابِ پنجم کی حکایت چھے میں آستین سے چراغ گل ہونے پر ایک دوست کا خفا ہونا اور اس خفگی کے جواب میں سعدیؔ کا قول محض ان کی فطری اور شائستہ ظرافت ہے اور اس ظریفانہ پیراے میں انھوں نے دوست کے سامنے خوش گوار دوستانہ بلکہ بے تکلفانہ فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکایت گیارہ میں بھی اس ظریفانہ پہلو کی کارفرمائی زیادہ شستگی کے ساتھ ہے۔ ظرافت طبیعت کی درّاکی اور ذہانت کی طالب ہوتی ہے۔جو لوگ باوضو ہوکر بابِ پنجم کو پڑھیں اور اس میں صرف خشک اخلاقی پہلو کی تلاش کریں گے اس میں قصور ان کی تلاش کا ہوگا نہ کہ شیخ سعدی کا۔ ‘‘
ظفر کمالی نے رشید حسن خاں اور حنیف نقوی کی تحریروں سے ان حصّوں کو خاص طور سے پیش نظر رکھا ہے جن پر غور کرکے موجودہ عہد میں تحقیق کے معیار کو زوال سے بچایا جاسکتا ہے۔ ہماری دانش گاہوں میں ہورہے تحقیقی کاموں میں کس انداز سے مداخلت کی جائے اوراس صورت ِ حال میں اصلاح کی گنجائش پیدا ہو، اس سلسلے سے ظفر کمالی نے حنیف نقوی کے بیان سے ضروری اجزا منتخب کرکے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ رشید حسن خاں بھی بار بار ادبی تحقیق کے معیار کو قائم رکھنے اور بلندی سے گرنے نہیں دینے جیسے امور پر بحث کرتے رہے ہیں۔ ان دنوں مضامین کے جائزے میں ظفر کمالی نے ان تمام پہلوئوں کو اپنے متن یا اقتباس کی شکل میں کچھ اس طرح سے سجا دیا ہے جس سے اگر موجودہ عہد کے نئے محققین کچھ سیکھ لیں اور یہاں پیش کردہ آدابِ تحقیق کو اپنی زندگی کا حصّہ بنالیں تو حالات میں اصلاح کی گنجائش نکل آئے گی۔ ظفر کمالی کے یہ دونوں تبصرے تحقیق کے اصولی اور عملی پہلوئوں کی پرت در پرت کو اس طرح سے کھولتے جاتے ہیں کہ اگر یہاں موجود تجویزات نئے ریسرچ اسکالر یا پُرانے تحقیق کار اپنی گانٹھ میں باندھ کر رکھ لیں تو ان کے کاموں کی بے اعتباری سے انھیں نجات مل جائے اور تحقیق پیشگی کو پھر سے وقار حاصل ہوسکے۔ انھیں لفظ بہ لفظ سینے میں اتارا جائے تو ممکن ہے کہ ہماری یونی ورسٹیوں کے شعبہ ہاے اردو کی علمی بے بضاعتی پر قدغن لگے اور اصلاح کی کوئی صورت سامنے آئے۔
’’مدرّس، تدریس اور تحقیق‘‘ عنوان سے شامل مضمون کو اس کتاب کی روح قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہندستان کے آئین پر گفتگو کرتے ہوئے جب Preamble (تمہید) کا ذکر ہوتا ہے تو یہ بات سب مانتے ہیں کہ یہ ہندستان کے آئین کی وہ روح ہے جو اس کی رگ و پَے میں پیوست ہے۔ ظفر کمالی کا یہ مضمون مختلف درسی کتب کے مشتملات کا جائزہ ہے، اس اعتبار سے اسے تبصرے کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے۔ ظفر کمالی درس و تدریس کے میدان میں اپنی عمر کی تقریباً تین دہائیاں صرف کرچکے ہیں ۔ فارسی کے فرائضِ منصبی کے ساتھ اردو سے ان کا بنیادی رشتہ ہے۔ انھوںنے درسی کتابوں کا اس دوران جو بالاستیعاب مطالعہ کیا اور یونی ورسٹیوں کے اساتذۂ کرام کی جن نام نہاد علمی کارگزاریوں سے ان کا معاملہ ہوا؛ یہ مضمون اس تجربے کے نچوڑ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ گیان چند جین پر لکھتے ہوئے ظفر کمالی نے بار بار جس اخلاقیاتِ تحقیق کی بات اُٹھائی اور رشید حسن خاں اور حنیف نقوی کی کتابوں کے تبصرے میں مزید دلیلوں سے محققین کو متنبہ کیا ؛ اسی طرح اس مضمون میں اخلاقیاتِ تدریس کو بنیاد بنا کر اساتذۂ کرام کی بے توقیری کے اسباب تلاش کیے گئے ہیں۔ جب درسی کتابیں، درسی کتابیں ترتیب دینے والے اساتذہ کھلے بندوں جہالت کا کاروبار پھیلارہے ہوں اور سلسلہ چھوٹے شہر سے لے کر دہلی اور علی گڑھ تک قائم ہوجاتا ہو تو آخر جاے پناہ کہاں ملے گی؟ ظفر کمالی نے اپنے اس مضمون میں ایک سچے مدرّس اور محقق کی آہیں اور کراہیں جمع کرکے مستقبل کے خطرات سے ہمیں آگاہ کیا ہے۔
اس مضمون میں پیش کردہ مثالوں پر توجہ دیجیے تو بار بار ظریفانہ کیفیت کا گمان گزرتا ہے۔ ہماری کتابیں تیار کرنے والے افراد درست متن کا انتخاب نہیں کرسکتے، املا اور تلفظ کے مسائل سے وہ آگاہ نہیں، لفظوں کے معنی درست نہیں پیش کرسکتے، قطعہ اور رباعی کے امتیاز سے نابلد ہیں ، تذکیر اور تانیث کے مسائل سے بے خبر ہیں، تحقیقی اعتبار سے بے بہرہ ہیں اور غلط اطلاعات کتابوں میں ڈال دیتے ہیں۔ ایک دوسری کتاب سے نقل کرنے کا رواج ایسا ہے کہ پہلے کی غلطی دوسرے بھی اپنے سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں۔ ایسے ماحول اور ہوس کارانہ فضا میں اردو کی تعلیم و تدریس اور تحقیق کے معاملات کا کیا ہوگا؟ اساتذہ اور ماہرین کو اپنے حال پر چھوڑیے، ان طلبہ کا کیا ہوگا جنھوںنے اپنے مستقبل کے سیکڑوں خواب دیکھے ہیں اور جن کے سامنے ہم نے اندھیرا قائم کررکھا ہے۔ ظفر کمالی نے سچ مچ اس مضمون میں میر انیس کے لفظوں میں مختصر پڑھ کر رُلا دینے کا کام کیا ہے۔ چند جملے ملاحظہ فرمائیںجن سے ظفر کمالی کی مرض کی تشخیص اور اُس پر سوز و ساز و درد و داغ وجستجو و آرزو کی کیفیت سامنے آتی ہے:
’’کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اگر ضمیر کی آواز پر توجہ دیں،اعزاز و اکرام کی بھاگ دوڑ اور مختلف منفعت بخش کمیٹیوں میں شمولیت کا چکر چھوڑ کر اپنے پیشے کے تئیں ایماندا رہوجائیں تو یہ ہاری ہوئی بازی بھی جیتی جا سکتی ہے۔زمانہ زندہ قوموں سے ہر لمحۂ گریزاںکا جواب طلب کرتا ہے۔آخر ہم درس و تدریس اور تحقیق و تنقید کے سلگتے ہوئے سوالوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے تماشائی بن کر کب تک دیکھتے رہیں گے؟اگر سید محمد ہاشم یہ سمجھتے ہیں کہ ’’فرہنگِ مصطلحاتِ ٹھگی‘‘رشید حسن خاں نے لکھی ہے ۱؎تو طلبہ کو کون بتائے گا کہ یہ کتاب خاں صاحب نے لکھی نہیں بلکہ ترتیب دی ہے۔کتاب کے مصنف تو علی اکبر الہ آبادی ہیں۔اگر نامی انصاری اپنی کتاب ’’آزادی کے بعد اردو نثر میں طنز و مزاح‘‘میں یہ لکھتے ہیں کہ ’’نگارستانِ فارس‘‘ محمد حسین آزاد کا سفرنامہ ہے ۲؎ تو یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ریسرچ اسکالرز کو آگاہ کرے کہ یہ سفرنامہ نہیں بلکہ فارسی شعرا کا تذکرہ ہے۔اگر مالک رام ’’تذکرۂ ماہ و سال ‘‘ میں یہ لکھیں کہ پرویز شاہدی۳۱؍ستمبر کو پیدا ہوئے تھے ۳؎تو اس کی نشاندہی کون کرے گا کہ ستمبر کے مہینے میں صرف تیس دن ہوتے ہیں لہٰذا ۳۱؍ستمبر کو کسی کے پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ ‘‘
ظفر کمالی نے اپنے مذکورہ مضمون کی پیش بندی میں اپنے معاشرے کے زوال پر تاثرات پیش کرتے ہوئے گذشتہ دور اور عصرِ حاضر کا موازنہ کیا ہے۔ صارفیت اور مادیت نے اس زوال کے احوال کو اس منزل تک پہنچا دیا ہے جہاں سے َلوٹنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ تحقیق کا کام یوں بھی مشکل ترعلاقہ ہے اور عمومی فائدے سے خالی ہے۔ ڈگریاں تو تقسیم ہورہی ہیں مگر قاضی عبدالودود اور رشید حسن خاں جیسے نئے چہرے سامنے نہیں آرہے۔ مقالۂ امتحانیہ سے بڑھ کر تحقیق کا کام براے نام ہورہا ہے۔ مالی فائدہ پہنچانے والے پروجیکٹ دھڑادھڑ مکمل ہورہے ہیں مگر حقیقی معنوں میں جسے تحقیق کہتے ہیں، اس کے چار صفحات بھی سامنے نہیں آرہے ہیں۔ یونی ورسٹیوں میں نوکریاںچل رہی ہیں ، ریسرچ اسکالرس مقالے پیش کررہے ہیں اور ان کے اساتذہ ترقیاں پارہے ہیں۔ پورے ملک میں دل لگا کر دو درجن لوگوں کو اپنی زبان میں ڈھونڈ پانا مشکل ہے جن کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ وہ تحقیقی کاموں میں اب بھی مشغول ہیں اور سال دو سال میں کوئی ایک بھرپور علمی کام مکمل کرکے عوام کے سامنے ہیش کردے ہیں۔ ایسے حالات میں ظفر کمالی کے نئے پرانے تحقیقی تبصرے اعلا تحقیق لے معیار کے طور پر پیش کیے جائیں گے۔ جب سب اساتذہ مال و زر کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور علمی کاموں کے نام پر کاروبارِ دنیا میں مشغول تھے، اس وقت چند لوگ جنھیں خدا نے دنیا کے کاموں کو چھوڑ کر کوچۂ تحقیق میں سرگرداں رہنے اور فنا فی العلم ہو جانے کی توفیق بخشی تھی، ہمارے عہد میں ظفر کمالی ایسے ہی مٹھی بھر لوگوں میں شامل ہیں۔ قاضی عبدالودود کے مضامین جب بکھرے ہوئے تھے اور ان کی حصولیابی بہت مشکل تھی اور اس وقت کلیم الدین احمد نے ان کے مضامین کی پہلی جلد شائع کی تو لوگوں نے محض تین مضامین کے باوجود’’ مقالاتِ قاضی عبدالودود‘‘ کو آنکھوں سے لگایا تھا۔ ’’اردو تحقیق: مسائل اور تجزیہ‘‘ بھی رشید حسن خاں کے تھوڑے سے مضامین کا مجموعہ ہے مگر جسے اردو میں تحقیق کی خارزار وادیوں سے گزرنا ہے، اسے رہنما کے طور پر ان کتابوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
ظفر کمالی کی کتاب ’’تحقیقی تبصرے‘‘ حقیقت میں ایسے بنیادی مضامین کا مجموعہ ہے جس کے صفحات پر اصولِ تحقیق کی شاداب فصلیں لہلہا رہی ہیں۔ تحقیقی مبادیات اور اخلاقیات کے پہلوسے اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تب اسے متفرق مضامین یا کبھی کبھار کے لکھے تبصروںکے طور پر دیکھنے کی مجبوری نہیں ہوگی۔ ظفر کمالی کی عمر کی اب چھے دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں ، خدا کرے اپنی شاعری، ظرافت اور بہت سارے کاموں سے وقت نکال کر تحقیق کی بے اعتباری کو اپنی مستقل علمی تصانیف سے ختم کریں اور یونی ورسٹیوں کے نام ور اساتذہ کی بے علمی اور کوتاہی کو معیار بننے سے بچالیں۔ قاضی عبدالودود، رشید حسن خاں اور حنیف نقوی پھر سے نہیں آئیں گے ۔ ظفر احمد صدیقی ، شمس بدایونی، ظفر کمالی، عبدالرشید، شہاب الدین ثاقب، جمشید قمر جیسے محققین کو خود سے بڑھ کر اپنے بزرگوں کی جگہ لینی ہے۔ خدا کرے کہ ان کی مداخلت اور سرزنش سے اردو تحقیق کا بھٹکا ہوا قافلہ صحیح راستے پر آجائے۔ آمین۔(2017)

Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321

Previous articleاردو شاعری میں سہرا لکھنے کی روایت از:: عشرت معین سیما
Next articleسیاسی اور معیشی ابتری کے بھنور میں ڈوٗبتا ملک : حکومتیں اپنے تماشوں میں مصروف از:صفدر امام قادری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here