اردو شاعری میں سہرا لکھنے کی روایت از:: عشرت معین سیما

1
344

پہلے زمانے میں شادی کے وقت دولہا کی سہرا بندی پہ دولہا کے دوستوں کی جانب سے سہرا پڑھنا ایک خوبصورت روایت تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دولہا نے شادی پر سہرا باندھنا ترک کیا اور ادھر دولہا کے دوستوں نے سہرا لکھنا اور پیش کرنا۔
اگر اردو شعر و ادب میں سہرا نگاری کی روایت کا جائزہ لیا جائے تو مرزا غالب اور استاد ذوق کے مابین ایک حریفانہ کشاکش کے سیاق میں سہرے کی ادبی معنویت خاصی دلچسپ ہے۔ یہ دونوں اساتذۂ سخن سہرانویسی کے لیے جس دلچسپی سے متحرک نظر آتے ہیں وہ ہی ادبی حریفانہ چشمک اس نظم کی صنف کے مقبول ہونے کا ایک اہم محرک بھی مانی جاتی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ خاص الخاص اس روایتی صنف نظم کو کئی شعراء نے سنجیدہ موضوع سخن کا درجہ نہیں دیا اور سہرا نگاری کو صرف وقتی مسرت اور خوشی کے معینہ وقت میں ہی استعمال کیا۔ جب کہ اس خوبصورت اور لمحہ انسباط کی عکاس اس شعری روایت کو زمانی حدود سے آگے بڑھا کر مذید نکھارا جاسکتا تھا اور ایک مستحکم شعری روایت کے طور پر اردو زبان و ادب کی ثقافت کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔

سہرے کی ادبی روایت کو کئی شاعروں اور فنکاروں نے موسیقی کے ساتھ پیش کرکے بصری ادب جیسے فلم یا ڈراموں کا بھی حصہ بنایا ہے اور مذہبی سطح پر بھی حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی کے حوالے سے رقم کیا اور پیش کیا ہے جو نہایت مقبول بھی ہوئے ہیں۔
سہرے کی ادبی حیثیت اُس کی تاریخ اور ادب میں اس حیثیت کے برتاؤ کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس ضمن میں اگر معروف شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کا ذکر اس صنف سخن کے حوالے سے کیا جائے تو انہوں نے اپنے دیوان میں سہرے کو سب سے آخر میں جگہ دے کر اس کی حیثیت اپنی شاعری میں ثانوی کردی ہے۔جب کہ اُن ہی کے ہم عصر شاعر شیخ ابراہیم ذوق جو کہ اردو شاعری میں معتبر استاد کا درجہ رکھتے ہیں انہوں نے اسے قدرے اہم صنف شاعری بنا کر پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ اکبر الہ آبادی اور ناسخ کے یہاں بھی سہرا لکھنے کی روایت قدرے توانا نظر آتی ہے۔ بعد ازاں جزوی طور پر سہرا رقم کرنے اور دیوان میں شامل کرنے کی روایت جمیل مظہری اور اُن کے شاگرد پروفیسر کلیم عاجز، مظہر امام، ظفرکمالی، منظر شہاب کے یہاں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ان سے قبل شاد عارفی، مولانا عبدالعلیم عاصی وغیرہ کے مجموعۂ کلام میں سہرے کو شامل کلام کیا گیا ہے۔لیکن اس کے بعد اردو زبان کے کئی نامور شعراء نے اپنی شاعری کے موضوعات ہی نہیں بلکہ طرز سخن میں بھی روایت سے انحراف کیا اور سہرے جیسی اہم صنف نظم کو متروک کرتے چلے گئے آج کے شعراء اور خاص طور پر اردو کی نئی بستی میں عہد حاضر کے شعراء نے سہرا پیش کرنے کی خوبصورت روایت کو کم سے کم تر کردیا ہے۔ اس حوالے سے اس کا سبب شاید یہ ہی ہو کہ اب بر صغیر پاک و ہند میں شادی کی رسومات اور تقریبات کا انداز بدل گیا ہے۔ پہلے زمانے میں شادی کے موقع پر دولہا گھر پہ اپنے بزرگوں اور دوستوں کے ہاتھوں تیار ہوا کرتا تھا۔ شادی کا لباس زیب تن کرنے، سرمہ و عطر لگانے کے بعد بہنیں اور بھابھیاں سہرے گاتی تھیں اورخاندان کے بزرگ دولہا کی سہرا بندی کی رسم کرتے تھے۔ دولہا گھوڑی پہ سوار جب دلہن کے گھر بارات لے کر جاتا اور نکاح کے بعد دولہا کے دوست یا بھائی چھوہارے و سکے اچھالتے تو ایک خوشی و انسباط کا ماحول گرمجوشی اختیار کر لیتا ایسے میں دولہا کے دوست یا بھائی سہرا پڑھتے اور شادی کی تقریب کے ماحول کو خوشی کے آنسوؤں اور مسکراہٹوں سے بھر دیتے۔ کبھی کبھی کوئی منچلے دوست اسی سہرے میں شرارتاً دولہا اور دلہن کے ملاپ کے حوالے سے کچھ ایسی شگفتہ بیانیاں کر جاتے کہ کنواروں کے دل دھڑکنے لگتے اور شادی شدہ شرما کر اور مسکرا کر رہ جاتے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شادی کی تقریبات کی ہئیت بدلتی گئی اور سہرا لکھنے اور پڑھنے کا رواج بھی متروک ہوتا گیا۔
آج اگرکوئی شاعر اپنے کسی عزیز کی شادی پر سہرا لکھتا بھی ہے تو اسے شادی پر یا مشاعروں میں پڑھنے یا اپنے شعری مجموعے میں شائع ہونے کے لیے شامل نہیں کرتا۔ البتہ فرمائش اور تحفہ کے طور پر سہرا کسی سنہرے یا رنگین فریم میں لگوا کر عروسی جوڑے کو بطور تحفہ دے دیا جاتا ہے ۔بہت زیادہ ہوا تو خوبصورت کاغذ پر چھپوا کر شادی کی تقریب میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ جس کو بعد میں مہمان کسی ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اکثر اوقات یہ سہرا شادی ہال کی صفائی میں کوڑے کرکٹ میں اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے۔
اس افسوسناک صورتحال نے بھی شاید سہرا لکھنے اور تقسیم کرنے کے عمل کو لگام دے دی ہے۔ لیکن اس صنف سخن سے یہ بے اعتناعی شعراء کی جانب سے بھی دیکھی گئی ہے کہ وہ اپنی اس تخلیق پر محنت نہیں کرتے اور جدت کا کوئی پہلو تلاش کرنے میں کوشاں نہیں دکھائی دیتے ہیں۔
بیشتر شعرا ء نے سہرے کی معروف ردیف “ سہرا” سے آگے نئی زمین تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اسی ردیف پر مذید طبع آزمائی نے اس صنف نظم کو جدت سے ہمکنار نہیں کیا بلکہ شعری سفر میں محدود کردیا ہے۔
اس حوالے سے شمالی امریکہ میں مقیم شاعر زمان خان دل نے “ سہرے کے پھول” نامی شعری مجموعے میں بیشتر خوبصورت سہرے لکھے ہیں ۔ اس کے علاوہ ارشد مینا نگری کو بھی “ سہرائی “ شاعر کا خطاب ان کی اس صنف نظم پر بہترین طبع آزمائی کرنے کے لیے ملا ہے۔ ان دونوں شعراء نے اردو نظم میں سہرا نویسی کی روایت کو برقرار ہی نہیں رکھا بلکہ اسے دوام دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ ادب میں سہرے کو اردو شاعری کے دائرۂ اعتبار میں لانے کے لیے اُن کی اس کوشش کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ارشد مینا نگری نے سہرے کی اس صنف نظم کو متعدد شعری اصناف جیسے غزل، نظم، گیت ، قطعات، ثلاثی، سانیٹ، رباعی، دوہے اورہائیکو میں برتا ہے اور کلاسیکی شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھنے والوں کو سہرے کی شاعری کے میدان میں وسعت اور اس کی کشادہ دامانی کی طرف متوجہ کرکے اسے مذید تقویت دینے اور شعری میدان میں طبع آزمائی کرنے کی دعوت دی ہے۔پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی نے اپنے ایک مضمون میں صنفِ سہرے پر ارشد مینا نگری کے حوالے سے یہ بات بطورِ خاص تحریر کی ہے کہ اس صنف سے ان کا تعلق کسی ہیجانی یا غیر ارادی طورپر نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔  انھوں نے ’سہرا‘ کو بطورِ صنف قبول کیا ہے اور اس میں فکر و احساس اور تجربے کی لطافت اور نفاست سے گل بوٹے کھلائے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مینا نگری نے سہرے اپنے خوبصورت افکار سے مزین کیے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی معنویت ، جدت ، روایت اور خیال کی ندرت میں نہایت پر کشش ہیں ۔انہوں نےارشد مینا نگری کے سہرے میں شادی کی پر مسرت تقریب کے تہذیبی پس منظرمیں’’فطرت کی چہکار‘‘کی جانب اشارہ کیا ہے اور حاصل کلام کےطورپر’’سہرے کو تہذیب اور تہذیب کو سہرا بنانے کے ہنر‘‘ کا نکتہ بیان کیا ہے۔
روایتی شاعری کی مد میں ضروری ہے کہ نظم کی ہر صنف پر توجہ دی جائے اور جہاں جہاں تاریخی و ثقافتی سطح پر ہمارا ادبی ، شعری اور علمی خزانہ محفوظ ہے اس کو ادبی ذوق رکھنے والوں کی نظر کے سامنے لایا جائے۔ شاعری میں بھی دیگر علوم کی طرح سہرا بھی ایک موضوعاتی صنف ہے جس میں شعری اکتسابی عمل نہایت آسان ہے ۔ اس ضمن میں سہرا لکھنے کی مشق شاعر کو ہی نہیں بلکہ اردو شاعری کو بھی اپنی روایات کے ساتھ امتیاز دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ شاعر اسے با آسانی مختلف شعری اصناف میں لکھ سکتا ہے۔ چنانچہ شعراء کو اس ادبی رعایت سے خوب فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس صنف پر طبع آزمائی کرنی چاہیے ۔ اس کے علاوہ سہرا لکھنے اور پیش کرنے پر تنقید و تعریض کا مرحلہ بھی اس کی مقبولیت کو بڑھا کر روایات کو زندہ رکھ سکتا ہے اور اردو شعری خزانے کو بھی وسعت دے سکتا ہے۔

Previous articleپریاگ راج (الہ آباد )۔اسمٰعیل گنج قبرستان میں شجر کاری پروگرام
Next articleظفرکمالی کی شانِ تحقیق [آخری قسط]از: صفدر امام قادری

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here