نصرت کی فرقت مدتوں رُلائے گی۔۔ از:حقانی القاسمی

0
248

نصرت ظہیر کی رحلت کی خبر سے مجھے حیرت نہیں ہوئی کہ چند دنوں قبل ہی انھوں نے ٹیلی فون پر کہا تھا کہ حقانی میں آخری سانسیں گن رہا ہوں۔ اب شاید زیادہ دن نہ رہ پاؤں۔ ان کی آواز لرز رہی تھی۔ میں نے کہا کہ ایسی بات نہ کیجیے اللہ آپ کا سایہ دراز کرے۔ مگر ان کی مرگ آمیز آواز سے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب یہ سازِ حیات جلد ہی خاموش ہوا چاہتا ہے۔ ان کی آواز میں اتنی بیچارگی میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ تبھی سے مجھے یہ خدشہ لاحق تھا کہ پتہ نہیں کب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرجائے اور وہی ہوا کہ چند دنوں کے بعد ہی جب میں اپنے گھر کی چار منزلہ سیڑھیاں چڑھ کر گھر میں قدم رکھ ہی رہا تھا کہ سہارا سے ضمیر ہاشمی صاحب کا فون آیا کہ کیا نصرت ظہیر کے انتقال کی خبر صحیح ہے۔ مجھے اس وقت تک کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ ابھی دریافت کرکے آپ کو بتاتا ہوں۔ میں نے براہِ راست نصرت ظہیر کے نمبر پر ہی ٹیلی فون کیا اور ان کی وفات کے بارے میں دریافت کیا تو ان کے کسی عزیز نے بتایا کہ ہاں کچھ گھنٹے قبل ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں نے سوچا کہ کرونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان سے ملاقات تو نہیں ہوسکی کم ازکم ان کی تجہیز و تکفین میں ہی شریک ہوجاؤ ںگا تو میں نے پوچھا کہ ان کی تدفین کب اور کہاں ہوگی؟ تو ان کا جواب تھا کہ سہارنپور میں ہوگی۔ وہ بہت دنوں سے دہلی چھوڑ کر سہارنپور آگئے تھے۔ مجھے بہت صدمہ ہوا کہ جس شخص سے عید بقرعید جیسی خوشیوں کے موقعے پر ملنے جایا کرتا تھا آج ان کی مٹی بھی مجھے نصیب نہیں ہوپارہی ہے۔ یہ کیسی محرومی ہے۔ میرے ذہن کی اسکرین پر ماضی کی بہت ساری تصویریں، حکایتیں سب گھومنے لگیں اور وہ سب پرانی باتیں اور سلسلے یاد آنے لگے۔ ان سے ملاقاتیں تو بہت رہیں، خاص طور پر ادبی تقریبات میں ملنے جلنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مگر ان کے ساتھ مجھے سہارا میں کام کرنے کا موقع ملا، جہاں وہ عالمی سہارا میگزین کے انچارج تھے۔ انھوں نے اس رسالے کو نیا منہج عطا کیا، نئی صورت اور شکل عطا کی۔ وہ ہمہ وقت اسی رسالے میں کھوئے رہتے تھے اور ہمیشہ کچھ نیا سوچتے تھے۔ انھوں نے بہت کم عرصے میں ’عالمی سہارا‘ کو نیا طور و طرز عطا کیا لیکن شاید عالمی سہارا کی قسمت میں ان کی زیادہ رفاقت منظور نہیں تھی اسی لیے وہ بہت مختصر عرصے میں ہی وہاں سے استعفیٰ دے کر قومی اردو کونسل آگئے جہاں ’اردو دنیا‘ اور ’بچوں کی دنیا‘ کے اعزازی مدیر کی حیثیت سے کام کرنے لگے اور ان دونوں رسالوں کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔ یہ انہی کی محنت تھی کہ ان دونوں رسالوں کا سرکولیشن بھی بڑھا اور مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔

نصرت ظہیر اور میری عمر میں ایک لمبا فاصلہ تھا لیکن وہ ان کا بڑکپن تھا کہ اردو الفاظ کے بہت سے معانی مجھ سے ہی دریافت کرتے تھے اور مجھے ’یا شیخ‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ انھیں مجھ سے بڑی محبت تھی اسی لیے ہمیشہ ان کا رویہ مشفقانہ رہا۔ جب میں نے سہارا چھوڑ دیا تو انھیں بڑا رنج ہوا اور وہ ہمیشہ میرے بارے میں فکرمند رہے۔ کہیں بھی کوئی دشواری پیش آتی تھی تو مجھ سے ہی رجوع کرتے تھے۔ کسی کے سوانحی کوائف، کسی کی وفات و پیدائش کے بارے میں مجھ سے ہی اکثر پوچھا کرتے تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ جب سہارا میں تھے تو انھوں نے یہ اعلان کردیا کہ حقانی کو اردو بالکل نہیں آتی او رپھر دیر تک مسکراتے رہتے۔ میں چونکہ ان کی شوخی سے واقف تھا اس لیے میں بھی قہقہے لگاتا رہتا تھا۔ وہ اکثر ایسے شگوفے وہ چھوڑا کرتے تھے اور مزے لیا کرتے تھے۔ دراصل ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حقانی کو بول چال والی اردو نہیں آتی۔ اس کی اردو مفرس اور معرب ہوتی ہے۔ اردو ڈائریکوریٹ پٹنہ کی طرف سے منعقدہ ’جشن اردو‘ میں بھی ان کے ساتھ شرکت کا موقعہ ملا ۔ وہ اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں میرا بھی قیام تھا۔ ان کے ساتھ معروف مزاح نگار اسد رضا بھی تھے۔ جب میں نے ان کے کمرے پر دستک دی تو دونوں میں نوک جھونک جاری تھی۔ پھر شام کو میرے کمرے میں تشریف لائے۔ بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس کے بعد ہم لوگ جب ٹہلنے کے لیے باہر نکلے تو نصرت ظہیر کہنے لگے کہ یار! دلی میں تو بہت بہاری نظر آتے ہیں مگر مجھے بہار میں کوئی بہاری نہیں ملا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اوراس طرح کے بہت سارے فقرے وہ چھوڑتے رہے اور مجھے چھیڑتے رہے۔

نصرت ظہیرکی وفات میرے لیے ایک ذاتی صدمے کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ ہر معاملے میں وہ میرا حد سے زیادہ خیال رکھتے تھے اور میرے بارے میں فکرمند رہتے تھے۔ ان کا جانا یقینا بہت بڑا سانحہ ہے اور اس کی وجہ سے اردو زبان و ادب کو جو خسارہ ہوا ہے وہ کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی وفات نے مجھے اندر سے توڑ دیا ہے کیونکہ میں اکثر ان سے ملنے جایا کرتا تھا اور ان سے بہت سی باتیں بھی معلوم ہوجایا کرتی تھیں۔ ان کے مشورے میرے لیے بہت مفید ہوا کرتے تھے مگر کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملاقات کی ساری سبیلیں مسدود ہوگئیں۔ میں چاہتے ہوئے بھی ان سے مل نہیں سکا اور وہ ملے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی تحریروں سے ان کی زندگی میں جو رشتہ قائم تھا ان کی وفات کے بعد بھی قائم ہے۔ میں نے ان کی زندگی میں بھی ان پر مضمون لکھا تھا اور اس مضمون کے لکھوانے میں ان کی ذاتی خواہش بھی شامل تھی۔ میرا مضمون انھیں بہت پسند آیا تھا۔ اکثر کہتے تھے کہ تم نئے نئے نکتے نکال لاتے ہو۔ انھوں نے اپنے کئی کالموں میں بھی میرا ذکر کیا ہے۔ وہ حقانی کے بجائے حقے سے حُقانی لکھا کرتے تھے اور اس پر پیش لگانا نہیں بھولتے تھے ۔ یہ ان کی محبت تھی کہ ہمیشہ انھوں نے اپنی باتوں اور یادوں میں شامل رکھا اور جب ’ادب ساز‘ جیسا وقیع ادبی رسالہ نکالا تو اس میں میری تحریریں بھی شامل کیں اور میری کتابوں پر تبصرے بھی لکھے۔ میں ان کی محبت کا مقروض ہوں۔ ان کی وفات کے بعد ان کا یہ قرض اور بڑھ گیا ہے۔
بہت پہلے میں نے ان کی زندگی میں جو تحریر لکھی تھی آج جی چاہتا ہے کہ وہ تحریر قارئین سے شیئر کروں کیونکہ اس وقت میں اتنا غم زدہ اور ملول ہوں کہ اپنی اس تحریر میں کوئی اضافہ نہیں کرپاؤں گا۔میں نے لکھا تھا کہ
تحریر سے جو تصویر بنتی ہے
وہ نقش بر آب نہیں نقش کالحجر ہو جاتی ہے ۔
علی گڑھ کے زمانہ طالب علمی سے ہی قومی آواز کے ضمیمہ کے وسیلے سے نصرت ظہیر کی تحریروں سے اتنی ملاقاتیں رہی ہیں کہ اگر ان سے شخصی ملاقات نہ بھی ہوتی تو ان کی شخصیت سے مکمل شناسائی پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی تحر یر ہی ان کی شخصیت کا آئینہ ہے ۔علی گڑھ کا ہر اتوار ان کی تحریروں کے انتظار میں گزرتا تھا ۔ جب کبھی ان کی تحریر نہیں ہوتی تھی تو اس کی کمی شمشاد مارکیٹ کی شام بھی پوری نہیں کر پاتی تھی ۔ ایسی کئی شامیں نصرت ظہیر کی تحریروں کے بغیر کاٹی ہیں اور یہ اتنی اذیت ناک ثابت ہوئی ہیں کئی راتوں کی نیندیں آنکھوں سے روٹھ گئیں ۔
علی گڑھ کے درو بام سے رشتہ ٹوٹا تو دلی کے ویرانے میں تھکی تھکی سانسوں کو اتنی تھوڑی سی جگہ ملی کہ صبحیں اور شامیں بھی گھٹن محسوس کرنے لگیں ۔دل کی وحشت کسی ایک مسافت پہ ٹھہرنے نہیں دیتی تھی ۔ وحشت کے ایسے ہی عالم میں قدم ان منزلوں کی طرف بڑھتے تھے جنہیں میں علی گڑھ میں خواب کی صورت دیکھا کرتا تھا ۔ اخبارات کے دفاتر ‘ مدیروں سے ملاقاتیں ۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا اور پھر ایک موہوم سی منزل مل ہی گئی۔ ساوتھ ایوینو میں اخبار نو کا دفتر ۔۔۔اسی دفتر میں مودود صدیقی صاحب اکثر نصرت ظہیر صاحب کا بڑی محبت سے بلا ناغہ ہر روز ذکر کرتے تھے اور میں بہت انہماک سے ان کی باتیں سنتا رہتا تھا ۔ پھر ایک دن دیکھا کہ نصرت ظہیر صاحب مودود صدیقی سے محو گفتگو ہیں ۔ میں اس وقت صحافت میں نو وارد تھا اس لئے نصرت ظہیر صاحب سے اپنے دلی جذبات بیان کرنے کی جرات نہ کر سکا ۔ اس وقت صحافت میں نصرت ظہیر کا نقارہ یا طوطی بولتا تھا ۔ ان سے ملاقات کی کئی سبیلیں تو نکلیں مگر ملاقات نہ ہو سکی اور پھر قسمت نے یاوری کی ۔ رسالہ استعارہ میں شریک مدیر کی حیثیت سے میرا نام چھپنے لگا اور میں اچانک ان لوگوں کی آنکھوں اور ذہنوں میں روشن ہو گیا جن کی آنکھوں میں برسوں سے اوجھل تھا ۔ استعارہ کا پہلا شمارہ شائع ہوا تو اس پر نصرت ظہیر نے اپنے مخصوص انداز میں ایک کالم لکھا اور میرا ً بھی ذکر خیر نمبر دو کے مدیر کی حیثیت سے کیا ۔ اس سے قطع نظر کہ نمبر دو سے ان کی مراد کیا تھی مجھے ان کا تبصرہ بے حد پسند آیا ۔ یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب تحریر میں نصرت ظہیر جوان تھے اور جنگ جاری تھی ۔ اور یہ جنگ چھٹ بھیوں سے نہیں بڑے لوگوں سے تھی ۔ نصرت ظہیر چو مکھی لڑ رہے تھے اور مخالفین بھی انہیں داد شجاعت دے رہے تھے ۔ یہ واقعتا انہی کا دل گردہ تھا کہ انہوں نے شکست اور ہزیمت قبول نہیں کی ۔ مجھے ان کے یہ تیور اچھے لگتے تھے ۔ استعارہ میں ہی ان سے بھرپور ملاقات ہوئی اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔
دلی آنے کے بعد نصرت ظہیر سے کئی کھٹھی میٹھی ملاقاتیں رہیں مگر ان کی تحریر اور شخصیت میں کوئی دوئی نظر نہیں آئی ۔ جبکہ بیشتر لکھنے والوں کی تحریریں ان کی شخصیت سے میل نہیں کھاتیں ۔نصرت ظہیر کا ایک ہی چہرہ ہے ۔ وہ بارہ چہروں والے نہیں ہیں ۔
یہی وہ خوبی ہے جس نے نصرت ظہیر سے مجھے اور قریب کر دیا ۔ میں نے ہمیشہ ان کی تحریر میں ان کی شخصیت اور شخصیت میں ان کی تحریر کو دیکھا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ جہاں ان کی تحریروں سے بہت سے لوگ بر افروختہ ہوئے مجھے اپنی سطح پر برافروختگی کی کوئی وجہ نظر نہیں آئی ۔ کیونکہ شخصیت میں شفافیت ہو تو ناراضگی اپنا جواز خود کھو بیٹھتی ہے ۔
نصرت ظہیر میں وہ سائکوفنسی کبھی نظر نہیں آئی جو آج کے بیشتر ادیبوں کے ذہنی وجود کا حصہ بن چکی ہے ۔ ان کے یہاں محبت اور نفرت کے دوہرے مفاہیم یا معیار نہیں ہیں ۔ ان کاوجود منافقت کی کـثافت سے آلودہ نہیں ہے ۔ وہ محبت میں آگ کادریا بھی پار کر سکتے ہیں اور نفرت میں آرپار کی جنگ بھی لڑ سکتے ہیں ۔ ان کی کئی ادبی معرکہ آرائیاں بہت مشہور ہوئی ہیں مگر انہوں نے اس پالٹکس کو کبھی پرسنل نہیں بنایا ۔
نصرت ظہیر اپنے طور و طرز کے واحد شخص ہیں ۔ دل میں کسی کے لئے نہ کینہ رکھتے ہیں اور نہ سازشوں کا سفینہ بنانے کا ہنر انہیں آتا ہے ۔ ان کے لئے محبت اور انسانیت ایک دائمی قدر کی حیثیت رکھتی ہے اور اختلاف کی عارضی اور عبوری اہمیت ہے ۔ اختلاف ان کے نزدیک تعلق کو پرکھنے یا نباھنے کا پہمانہ نہیں ہے ۔ ان کی محبت مشورے پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ عملی اقدامات کی منزل تک لے جاتی ہے ۔ کسی بیمار کو وہ شفاخانہ کا پتہ نہیں بتاتے بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ اسے مکمل علاج کے لئے اس میں داخل کرادیا جائے ۔ وہ اپنی محبت کا ثبوت زبان نہیں عمل سے دیتے ہیں اور محبت میں مفاد کو مد نظر نہیں رکھتے ۔ اپنی ذات سے فیض پہچانے میں وہ بخل سے کام نہیں لیتے ۔ اس باب میں ان کا وطیرہ اوروں سے الگ ہے ۔
نصرت ظہیر کو میں نے نزدیک سے دیکھا ہے اور دور سے بھی مگر دونوں میں کوئی دوری نظر نہیں آئی ۔ جبکہ اکثر شخصیات میں یہ دوری نمایاں نظر آتی ہے ان کی شخصیت نیم دروں نیم بروں ہے اور نہ ہی دولخت ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں سے میری جتنی والہانہ شیفتگی ہے اتنی ہی ان کی شخصیت سے بھی ہے ۔
میں بہت کم لوگوں سے ذہنی قربت محسوس کرتا ہوں کہ دوغلی ذہنیت سے مجھے شدید نفرت ہے مگر نصرت ظہیر سے ذہنی قربت کی وجہ یہی ہے کہ دوسرے ادیبوں کی طرح ان کے یہاں دوغلا پن نہیں ہے ۔ وہ منہ در منہ بات کہنے کی جرات رکھتے ہیں ۔ وہ اس غیبت کدہ کا حصہ نہیں بنے جو ادیبوں کے مکان کو گھر میں تبدیل کر چکا ہے ۔
میں ان کی تحریروں کے ماضی ‘ حال اور مستقبل سے بھی ایک خاص لگاو رکھتا ہوں ۔ان کی تحریریں ذہن کو شاداب اور شگفتہ رکھتی ہیں اور عصری آگہی کے دروازے بھی کھولتی ہیں ۔ ان کی کئی کتابوں سے میری آنکھوں کا گہرا رشتہ رہا ہے ۔ باوجودیکہ وہ طنزیہ مزاحیہ ہیں مگر نصرت ظہیر کی کتاب پڑھتے ہوئے میں بہت ہی سنجیدہ ہوجاتا ہوں۔ پتہ نہیں کیوں مجھے مزاح میں سب سے زیادہ سنجیدگی نظر آتی ہے۔ میں ہنسی کے داخلی خارجی محرکات اور اس کی عضویاتی تشکیل، فکریاتی ترتیب، محرکاتی عوامل اور اس کے ساختیاتی عناصر اور جملہ مظاہر و ظواہر، عوارض و معارض، عوارف و معارف پہ غور کرنے لگتا ہوںجبکہ مجھے ایک انسان ہونے کے ناطے مسکرانا چاہیے کہ مابعد جدید اصطلاح میںکہا جائے تو مسکراہٹ حیوان و انسان کا افتراقی نشان ہے۔ انسان ایک ہنسوڑ جانور ہے اور اس جبلت انسانی سے حیوان محروم ہے۔ یہ ایک حد فاصل اور نشان امتیاز تھا مگر بعد میں تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ اس جبلت میں بھی حیوان کا اشتراک ہے یعنی کچھ بندر ایسے ہیں جو نہ صرف ہنسنے پر قادر ہیں بلکہ انسانوں سے زیادہ بہتر انداز میں بہت ہی سلیقہ اور متانت کے ساتھ ہنستے ہیں۔ ہنسی کے ابتدائی، ارتقائی اشکال و ظواہر پر غور کرنے کے لیے جب ہنسی کے محققین و مفکرین کی سنجیدہ رائیں پڑھیں تو پتہ چلا کہ ہنسی انسانی اعصاب کی آسودہ حالت کا عضوی اظہار ہے۔ طبی، مابعدالطبیعاتی، حیاتیاتی اور نفسیاتی تناظر میں ہنسی کے فلسفے پر غور کیا تو علی ابن ربان طبری، ابو حیان التوحیدی، اسحاق بن عمران، ابن مطران کے خیالات بھی نظر سے گزرے جنہوں نے ہنسی کے فلسفیانہ نکات اور جہات پر بہت ہی فکرانگیز روشنی ڈالی ہے۔ بعض لوگ ہنسی کو روح کا تحیر بھی قرار دیتے ہیں تو بعض کے خیال میں ہنسی ایک حیاتیاتی تعیش ہے۔ ہربٹ اسپنسر نے اسے دماغ کی فاضل قوت کے اخراج کا نام دیا ہے تو تھامس ہابز کی نظر میں یہ اخلاقی شر ہے اور ایمرسن بھی اسے انسانی کمزوری قرار دیتے ہیں۔ ایمانوئیل کانٹ، شوپنہاور نے بھی ہنسیکی فلسفیانہ توجیہ کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ برگساں ہنسی کو سماجی اقدار کا محافظ ہی نہیں بلکہ زندگی کی تخلیقی جہت کو بحال رکھنے کا ذریعہ بھی قرار دیتے ہیں۔ فرائیڈ نے اسے توانائی میں بچت کا نظریہ قرار دیا ہے۔ غرضیکہ ہنسی نے وحشیت سے تہذیبیت تک ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اب اسی تہذیبی مظہر یت کا مجموعہ ہے بقلم خود جس میں نصرت ظہیر کے تقریباً ۸۲ مضامین شامل ہیں اور ہر مضمون اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے مگر میں نے صرف انہیں مضامین کی قرأت پہ قناعت کی ہے جو ادب سے متعلق ہیں۔ ان تحریروں میں نصرت ظہیر ادب کے ایک بڑے ناقد کی صورت ابھرتے ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے آج کل کے مکتبی، مدرسی ناقد سے بہت بڑے… ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ادب کے جملہ خارجی و داخلی منظرنامے پر ان کی گہری نظر ہے۔ محمد حسن صاحب کو نصرت ظہیر کی شکل میں ریگستان میں نخلستان نظر آیا ہے اور یہ سچ ہے کہ نصرت ظہیر نے نخلستان میں کھڑکیاں کھول دی ہیں جن سے آنے والی تازہ ہواؤں کے جھونکوں سے روح معطر ہوتی ہے اور ذہن سرشار۔ نصرت ظہیر کی خوبی یہ ہے کہ وہ ’’سہل ممتنع‘‘ میں ’’مزاح‘‘ لکھتے ہیں اور حسن تعلیل، مراعاۃ النظیر اور دیگر صنائع و بدائع کا بہت ہی خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وہ ضعف تالیف نہیں ہے جو آج کے کچھ مزاحیہ نگاروں کے یہاں بطور علت موجود ہے ۔چند اقتباسات دیکھیں:
’’ہمارے چاروں طرف اتنے ادبی ڈاکٹر پیداہوگئے ہیں کہ بیچارہ ادب بیمار پڑگیا ہے۔ جدھر جاتا ہوں ادھر ایک نقاد راستے میں کھڑا ملتا ہے۔ یہاں تک کہ سڑک پر پڑی ہوئی کوئی اینٹ اٹھاؤ تو اس کے نیچے بھی کوئی نقاد موجود ہوگا جو اینٹ کے ہٹتے ہی کہے گا، جناب مجھے اس بارے میں کافکا کی رائے سے قطعی اتفاق نہیں جو اس نے بالزاک پر روسوکو کی رائی سے سارتر کے اختلاف کے حق میں دی تھی۔‘‘
ایک اور اقتباس دیکھیں:
چند ہفتے بعد ایک روز شام کا کھانا بنانے کے لیے باورچی خانے میں داخل ہونے سے پہلے بندو میاں نے اعلان کیا:
’’الحمدللہ! بعد از تحقیق بسیار، یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچا کہ اردو ادب میں سب سے اعلیٰ اردو ادب کتابوں، رسالوں اور اخبارات میں نہیں بلکہ ٹرکوں پر تحریر ہوا ہے۔‘‘
’’مثلاًکچھ شعر بھی ہیں جن سے اردو ادب ٹرکوں کی بدولت ہی روشناس ہوا ہے۔ مثلاً ایک ٹرک نے کہا ہے:
رات تو رات ہے اب دن کو بھی آرام نہیں
وہ مسافر ہوں مری صبح کہیں شام کہیں
یا یہ شعر ہے کہ:
میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی فریاد سے
مجھ کو جانا ہے بہت آگے مراد آباد سے
ایک اور ٹرک کہتا ہے:
ہٹ جاؤ بستی والو آیا ٹرک ہمارا
حافظ خدا تمہارا حافظ خدا تمہارا
ایک ٹرک نے تو میاں حد ہی کردی۔ کہتا ہے:
اے ٹائر لا ہوتی اس ٹیوب سے موت اچھی
جس ٹیوب سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
اس ٹرک کا دوسرا شعر یہ ہے:
تو جو جھکے تو کچھ نہ ہو
میں جو جھکوں خبر بنے
تیری نماز اور ہے میری نماز اور ہے!‘‘
’’بہت خوب!‘‘
’’یہ تو ہے شاعری۔ دوسرا پہلو ترسیل کا ہے جو آج کے ادب کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ ٹرک کا تو کام ہی ترسیل ہے۔ ترسیل میں آج کا ٹرک آج ے شاعر سے میلوں آگے ہے۔ ہمارے ٹرک جموں کی شاعری کو کنیا کماری اور کلکتہ کے ادب کو بمبئی پہنچا دیتے ہیں اور وہ بھی رات کو ڈپر کا استعمال کئے بغیر۔ بس ان ہی باتوں کو جوڑ جاڑ کر ٹرک اور اردو ادب کے موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ سپرد قلم کردیا ہے۔ آگے اللہ مالک!‘‘
’’کیا کہنے ہیں۔ تم ضرور تحقیقی ادب میں اپنا نام روشن کرو گے۔‘‘ ہم نے کہا۔
’’مگر ایک بات کا مجھے بڑا افسوس ہے بھائی میاں!‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’یہ کہ ادب کی اتنی خدمت کے باوجود اردو اکادمیوں نے آج تک کسی ٹرک کو ادبی ایوارڈ نہیں دیا جب کہ ناکارہ اور کھٹارہ چھکڑے اعزازات سے لدے پھندے پھر رہے ہیں۔‘‘
یہ چند سطریں اردو تحقیق کی زبوں حالی پر لکھی گئی ہیں۔ یہ پچاسوں صفحات پر بھاری ہیں۔ نصرت ظہیر نے اسی طرح اردو ادیبوں کے امراض مخصوصہ کی تشخیص بھی بہت ہی کاٹ دراز انداز میں کی ہے۔ ان کی ہر تحریر سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ادب کے بہت ہی گہرے پارکھ اور نباض ہیں۔ مثلاً ایک مباحثے کی پیروڈی میں وہ لکھتے ہیں اور کتنی سچی صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں:
’’ایک نقاد نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور ٹائی درست کرتے بولا۔
ناول دکان میں فاضل مصنف نے جس طرح عصر حاضر اور عصر غیرحاضر کے نفسیاتی، اعصابی اور روحانی بحران کی عکاسی کی ہے۔ اس کی دوسری مثال اردو ادب تو کیا افریقی ادب میں بھی مشکل سے ملے گی۔ ناول کا مرکزی کردار اپنی پان بیڑی سگریٹ کی دوکان کو ڈیمالیشن اسکواڈ سے بچانے کے لیے جس طرح ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی اور ایم ڈی ایم سی والوں سے جوجھتا ہے اور پھر وجیلنس سیل اور اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ والوں کی مدد سے ایک ایک کرکے ان اداروں کے بدعنوان افسروں کو رنگے ہاتھوں پکڑوا کر اخباروں میں سنگل کالمی خبریں چھپواتا ہے۔ اسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف وجودیت کے فلسفے میں گہرایقین رکھتا ہے جو ایک قابل تحسین بات ہے!‘‘
وجودیت کے ذکر پر دوسرے کونے میں بیٹھے ہوئے ایک نقاد کے کان کھڑے ہوئے، جو اوّل الذکر نقاد کے مخالف گروپ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے فوراً اپنے سامنے رکھے مائک کا بٹن دبا دیا اور بولا:
’’معاف کیجئے حاضرین، مجھے اس سے سخت اختلاف ہے۔ ناول دکان میں وجودیت کے فلسفے کا نہیں بلکہ عدم وجودیت کے فلسفے کا اثر زیادہ ہے۔ کیونکہ مصنف نے دکھایا ہے کہ تمام خارجی عناصر پان بیڑی سگریٹ کی دکان سے وجود کو عدم میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بلکہ ایک خارجی عنصر تو وہاں چھولے بھٹورے کی دکان کھولنا چاہتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ…‘‘
یہ سنتے ہی پہلے والے نقاد کا پارہ چڑھ گیا۔ مخالف گروپ کے نقاد کی بات کاٹتے ہوئے اس نے کہا:
’’اس سے قطعی ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ عدم وجودیت کی بات ہے۔ ناول کا مرکزی کردار جو کہ ایک یتیم اور بظاہر بے آسرا، تنہا رہنے والی قبول صورت لڑکی ہے، اپنی دکان کے وجود کو قائم رکھنے پر مصر ہے۔ لوگ کہتے ہیں عورت ذات کا بیڑی سگریٹ سے کیا تعلق؟ اس سے لڑکی کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ وہ بپھر جاتی ہے اور خارجی عناصر کی تمام داخلی کوششوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ…‘‘
نصرت ظہیر نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ ادبی بقراطوں کی دستارِ علمیت کو اچھالا ہے اور ان کی قلعی کھولی ہے۔ سچ ہے اردو کے زیادہ تر ادیب و نقاد کاغذ کے ناؤ پر سوار ہیں اور میں نصرت ظہیر کی محولہ بالا بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ان کے یہ مضامین ادبی مریضوں کے لیے بوعلی سینا، حکیم اجمل خان اور اطبائے مشاہیر کے حاذق اور بیاضِ کبیر کے نسخوں کی طرح ہیں۔ نصرت ظہیر نے عمل جراحی کا مشکل کام بہت ہی سرلتا سے انجام دیا ہے۔ ’’بقلم خود‘‘ یوں تو سیاسی اور معاشرتی سماجی موضوعات بھی ہیں۔ ان میں بھی وہی دل فریبیاں، مسکراہٹیں، قہقہے ہیں اور ان قہقہوں کے پیچھے ایک انسان کا درد چھپا ہوا ہے کہ وہ انسان اپنے معاشرے کو جس آئینے میں دیکھتا ہے وہ آئینہ سماج کے سامنے پیش کردیتا ہے۔ مگر ہمارے سماج نے اپنے چہروں پر اتنے نقاب ڈال لیے ہیں کہ اب انہیں کسی آئینے کی ضرورت نہیں رہی۔ نصرت ظہیر صاحب کا یہ کام کرتے جائیے اللہ بھلا کرے گا۔ آپ کی تحریر میں واقعتاً بہت دم ہے۔ آپ سدا تازہ دم رہیں اور اسی طرح لکھتے رہیں۔
میں نہ کوئی خلیق انجم ہوں نہ محمد حسن نہ کوئی بڑا شارح متن… کہ آپ کی تحریروں کی گہرائیوں میں اتر کر لکھوں اور آپ کے متن کی تہہ در تہہ قرأت کروں اور ساختیاتی طریق قرأت کر بروئے کار لاکر ایسے معانی، مفاہیم اور مطالب نکالوں جو لکھتے وقت آپ کے حاشیہ خیال میں بھی نہ رہے ہوں گے، آپ تو سیدھی سچی باتیں لکھتے ہیں۔ مولوی اسماعیل میرٹھی کی طرح رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی جیسی سمجھ میں آجانے والی نثر لکھتے ہیں۔ میں تو بس ایک ادنیٰ قاری ہوں۔ میں نے آپ کو پڑھا ہے اور جی چاہتا ہے کہ ہمیشہ آپ کی تحریریں پڑھتا رہوں اور اپنے سینے میں جذب کرتا رہوں۔
٭٭٭

Previous articleافسانہ ” قضا و قدر” از : الف عاجز اعجاز
Next articleجے این کالج نہرا دربھنگہ میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی نشست

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here