اردو ادب اور سیکولرازم

0
324

ڈاکٹر محمد شاہنواز عالم
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہ اردو ،ملت کالج دربھنگہ

اردو زبان کے آغاز و ارتقا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ زبان کسی ایک مذہب یا کسی ایک طبقے سے مخصوص نہیں ہے. اس زبان کے بولنے والوں کا تعلق ہر ایک مذہب سے رہا ہے. یعنی اردو سیکولر عمل کے تحت وجود میں آنے والی زبان ہے.دوسری طرف اس کے ادب کو پروان چڑھانے میں بھی ہر ایک مذہب کے شاعروں اور ادیبوں نے نمایاں طور سے حصہ لیا ہے . لہٰذا یہ ناممکن تھا کہ اس زبان میں پروان چڑھنے والے ادب کا مزاج سیکولر نہ ہوتا. حقیقت تو یہ ہے کہ اردو ادب سیکولرازم کے ادبی و لسانی روپ کا دوسرا نام ہے جو سیکولر افکار مثلاً یگانگت، رواداری، روشن خیالی، انسان دوستی، آپسی بھائی چارگی اور وسیع المشربی کے اظہار و اعلان کا موثر ترین وسیلہ ہے. با الفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو ادب ابتدا سے لے کر اب تک جن ناموں اور کارناموں سے عبارت ہے، اس میں سیکولر تصورات اور فکر و نظریات کی ایک وسیع دنیا آباد ہے.
چونکہ اردو زبان مسلمان صوفیوں اور ہندو بھکتوں کی سیکولر تعلیمات کے سائے میں پلی بڑھی ہے،
اس لئے اردو ادب میں ان تعلیمات کا براہ راست اثر موجود ہے. واضح ہو کہ تصوف اور بھکتی تحریک کے عقائد و نظریات کی اساس انسان دوستی اور مذہبی وسیع النظری جیسے سیکولر صفات پر تھی. اردو
ادب بالخصوص اردو شاعری ان صفات کے اظہار و بیان کے لئے وسیلہ بنے تو لازماً اردو ادب سیکولر تعلیمات کے نور سے منور ہو گیا.
جس زمانے میں تصوف نے زور پکڑا یہ وہ زمانہ تھا جب انسان کی سماجی اور جذباتی زندگی جاگیردارانہ
استبداد کی نذر ہو چکی تھی. سیاسی، سماجی، مذہبی بدحالی سے عوام الناس ایک عجیب و غریب افراتفری کے ماحول میں زندگی گزار رہی تھی. صوفیوں کا طبقہ ایسے نظام سے برگشتہ تھا.. وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ مروجہ نظام انسانی عظمت کو ہلاک کرنے کے درپے ہے. لہٰذا وہ مائل بہ زوال قدروں جس میں سماجی ناہمواری اور سکہ بند مذہبی اصول بھی شامل تھا، کی مخالفت پر اتر آئے اور ایک صالح اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے کئی عملی اقدام بھی اٹھائے. ہندو بھکتوں کا بھی یہی مطمح نظر تھا. لہٰذا ان دونوں کے نظریہ فکر کی بنیاد اور فکری دھارے میں گہری یکسانیت اور مماثلت تھی.اس تعلق سے پروفیسر محمد حسن لکھتے ہیں-

“صوفیا کی تعلیم اور ہندو سنت رشیوں کی تعلیم میں بہت سی باتیں مشترک تھیں. دونوں مکاتیب تصوف
وحدت الوجود یا وحدت الشہود کے قائل ہیں.. .. دونوں کامل عشق، توفیق الہی اور خدمت خلق کوذریعہ نجات جانتے ہیں. دونوں کسی نہ کسی شکل میں نفی خودی یا تزکیہ نفس کے قائل ہیں. فنا کا کوئی نہ کوئی تصور پیش نظر ہے. دونوں یا تو انسان کے حقیقت اعلا سے روحانی ادغام کو حاصل زیست قرار دیتے ہیں یا دیدار خداوندی اور محویت عاشقانہ کو معراج قرار دیتے ہیں. اس روحانی ہم آہنگی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ متعدد ایسے مصلح اور مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے وحدت مذاہب پر بھی زور دیا اور مذہبی رواداری اور وسیع مشربی کو عین کا درجہ دیا. ”
(قدیم اردو ادب کی تنقیدی تاریخ – محمد حسن، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ – 1986ءصفحہ-56،57)

تصوف اور بھکتی کی اس ہم آہنگی کو سماجی اور سیاسی پس منظر میں دیکھا جائے تو ان کا مطمح نظر مذہبی ظاہر پرستی اور رسوم و روایات کی مخالفت بھی تھی جس نے پورے معاشرے کو فرسودہ روایات میں الجھائے رکھا تھا. لہٰذا تصوف اور بھکتی تحریک نے سماجی ضرورتوں کے پیش نظر جو سمتیں اختیار کی اس کی روح مذہبی وحدت میں پنہاں تھی جس کے تحت دونوں فرقوں میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مذاہب کے ظاہری ڈھانچوں کو چھوڑ کر خالص روحانی واردات قلب کی بنیاد پر ایک ایسا مذہب قائم کیا جائے جس میں ہندو باطنیت اور اسلامی تصوف کا جوہر گھل مل کر ایک ہو جائے اور سارا
ہندوستان مذہبی وحدت کے رنگ میں رنگ جائے.
دوسرے صوفیا اور بھکتون نے ظاہری مذہب پرستی
اور حکومت کے جبر کے خلاف نعرہ جنگ بھی بلند کیا اور ذات پات کے امتیازات کی بھی سختی سے مخالفت کی. جس کا نتیجہ یہ ظہور میں آیا کہ مذہبی اور تہذیبی سطح پر سیکولر تصورات کو فروغ حاصل
ہونے کے مواقع فراہم ہوئے. لہٰذا انسان دوستی، وسیع المشربی، قومی یکجہتی ،رواداری جیسے اعلیٰ انسانی اقدار کی اہمیت معاشرے میں تسلیم کی گئی. چونکہ ہر ادب اپنے ماحول کا آئینہ دار ہوتا ہے اور ماحول کی ہر تبدیلی کا براہ راست اثر ادب پر بھی پڑتا ہے.
لہٰذا اردو ادب بھی ماحول اور سماجی تبدیلیوں کے پیش نظر تصوف اور بھکتی کے فکر و خیالات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا. اس رو سے یہ کہنا کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ اردو شعر و ادب کو سیکولر فکر و خیال سے ہم آہنگ کرنے میں تصوف اور بھکتی تحریک نے نمایاں کردار ادا کیا ہے.

جس طرح اردو زبان کی تعمیر و آراستگی میں ہر مذہب و ملت اور ہر طبقے کے لوگوں نے حصہ لیا ہے. اسی طرح اردو ادب کی تعمیر و تشکیل میں مختلف مذاہب کے شاعروں اور ادیبوں نے اپنے افکار و خیالات سے اردو شعر و ادب کو ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ تخلیقات سے نوازا ہے. اردو شعر و ادب کے رنگا رنگ محفل میں مذہب کی کوئی قید نہیں، نسل کی کوئی بندش نہیں اور فکر و خیال کے اظہار و بیان پر کوئی قفل نہیں. کوئی بھی صنف خواہ غزل ہو یا قصیدہ، مثنوی ہو یا مرثیہ، نظم ہو یا رباعی، داستاں ہو یا ناول افسانہ ہو یا انشائیہ ہر ایک میں ہر مذہب کےشاعروں اور ادیبوں کے افکار کا نور بکھرا ہوا ہے. ظاہر ہے کہ جس ادب کی تعمیر و آراستگی میں تمام مذاہب، فرقوں اور علاقوں کے ادیبوں اور شاعروں کا تعاون رہا ہے اور جنہوں نے مذہب و ملت، ذات پات اور نسل سے اوپر اٹھ کر یگانگت، رواداری، انسان دوستی اور خلوص و محبت کا چراغ روشن کرنے میں اپنا خون جگر صرف کیا ہو، اس ادب میں سیکولرازم کے تصورات کا ہونا عین فطری ہے.
اردو ادب کے سیکولر مزاج اور اس کی بنیاد کا اندازہ
اس بات سے بھی بخوبی ہوتا ہے کہ اس کے
شاعروں اور ادیبوں نے خواہ ان کا تعلق کسی ذات سے کسی فرقے سے ہو یا پھر کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو، اپنے مذہبی عقائد اور رسم و رواج کے ساتھ ساتھ دوسرے مذہب کے عقائد اور رسم و رواج کو بھی عقیدت کی نظروں سے دیکھا ہے.اور انہیں اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا ہے. لہٰذا متعدد
مسلمان شعرا نے رام چندر جی، کرشن جی گوتم بدھ، گرونانک….. اور دوسرے غیر مسلم مذہبی
پیغمبروں، سادھو سنتوں پر نظمیں کہیں ہیں اور ناول
نگاروں اور افسانہ نگاروں نے ان کے اقوال زریں کو اپنے ناولوں اور افسانوں میں جگہ جگہ پیش کیا ہے. اسی طرح ہندو شعرا نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت علی، حضرت امام حسین، خواجہ معین الدین…… وغیرہ کو عقیدت کے پھول
چڑھائے ہیں. اردو ادب کی یہ بےمثال روایت سیکولر تصورات کی ایک تابناک علامت ہے. اس کے علاوہ دوسرے عوامل بھی ہیں جس سے اردو ادب سیکولر افکار و خیالات سے مزین نظر آتا ہے. اردو کے شعری اور افسانوں ادب کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کس طرح اردو ادب مذہب کی حدبندیوں کو توڑتا ہے، تعصب پرستی کی مذمت کرتا ہے اور کس طرح مذہب کے نام پر انسانیت کو خیموں میں تقسیم کر دینے کے نازیبا فعل پر لعنت و ملامت کرتا ہے اور اس کے برعکس اخوت، بھائی چارگی، انسان دوستی، رواداری، وسیع المشربی، وطن دوستی اور اتحاد و اتفاق جیسی اعلیٰ اقدار حیات کی وکالت کرتے ہوئے “جیو اور جینے دو” کا پیغام دیتا ہے.
**
Dr. Md.Shahnawaz Alam
Assistant Professor
Deptt.of Urdu
Millat College Darbhanga
Bihar
Email. drshahnawaz52@gmail.com

Previous articleمیاں بیوی آپس میں کیسے رہیں۔ قسط نمبر….(١)
Next articleجب ضمیر جاگ اٹھا…!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here