پرویز شہریا کے افسانوں میں عورت کا تصور از رضوان بن علاء الدین

1
233

پرویزشہریار کے افسانے کی عورت نہ جنسی شئے (Sex Object) ہے نہ ہی سامان تعیش (Luxury Item)ہے اور نہ ہی نظروں کو لبھانے والی Eye-candyجیسی نمائش کی کوئی چیز ۔ ان کے افسانے کی عورت آج کے نئے یگ کی ماڈرن اور الٹراماڈرن عورتیں ہیں۔ یہ عورتیں گذشتہ صدی کے رومانوی تحریک کے زیر اثر تخلیق پانے والے فکشن کی عورتوں سے یکسر مختلف ہیں۔ ان میں بھی چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش بدرجہ اتم موجود ہے ۔ تاہم اپنے مکمل وجود کے احساس کے ساتھ وہ سماج میں اپنے نام و ناموس کے تحفظ اور اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کیے بغیر زندگی کرناچاہتی ہیں۔ وہ پریستانوں کی پریوں کی طرح سماوی فضا میں معلق رہنا نہیں چاہتیں۔ بلکہ اپنے چاہنے والوں اورپرستاروں سے جنسی اختلاط بھی اپنی شرائط پر قائم کرنا چاہتی ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ اس معاملے میں کس حد تک جانا چاہیے۔ وہ اب موم کی مریم اور سلولائڈ کی گڑیا بنی رہنا نہیں چاہتی ہیں۔ وہ جنسی معاملات میں بھی اپنی شرائط ہی پر حد قائم کرتی ہیں یا حد سے تجاوز کرتی ہیں۔ وہ اپنی پسند اور نا پسندکی ترجیحات کی بنیاد پر ہی کی کسی بھی تفاعل پر آمادگی ظاہر کرتی ہیں۔ اب وہ مجبور ومقہور محض بن کر اﷲ میاں کی گائے بنے رہنا نہیں چاہتیں۔ وہ گوشت پوست کے زندہ انسانوں کی طرح جینا جانتی ہیں۔ ان کے بھی اپنے دکھ درد ہوتے ہیں۔ اپنے احساس کی تمام تر گہرائیوں میں وہ ڈوب کر جینا چاہتی ہیں۔
ازدواج کی ادلا بدلی میں ان کا رویہ مفعول محض نہیں رہا ہے۔ وہ اپنی پوری شدت کے ساتھ رد عمل کرتی ہیں اور اَن چاہے جنسی پیش قدمی پر پوری قوت سے مدافعت کرتی ہیں۔ اس کی مثال ان کے اس موضوع پر لکھے گئے دو افسانے ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ اور ’’سہاگ کاخون‘‘ سے دی جاسکتی ہے۔
’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کی مرکزی نسوانی کردار و صیغہ واحد متکلم میں اپنی روداد سنانے والی یہودی عورت ایک ایسی عورت ہے جو زندگی کے سرد گرم جھیل چکی ہے اور سولہ سال میں بیاہ کر آنے کے بعد شوہر کی وفاداری میں اپنی عمر کے چھیالیس سال گزار دیتی ہے۔ اس کے دو بیٹی بیٹے بڑے ہوکر انگلینڈ میں بس چکے ہیں۔ لیکن جب شوہر کی غیر مختتم سفلی خواہشات اور جنسی بوالہوسی اپنی حد کو تجاوز کر جاتی ہے تو وہ احتجاج کے طور پر اس کے شیطانی کھیل سے خود کو یکلخت علیحدہ کر لیتی ہے۔ وہ اس کی جنسی غلام بن کر اس کے ہر جائز و ناجائز حکم کی تابعداری سے صاف انکار کر دیتی ہے۔ وہ اپنی ہستی کا احترام کرتی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتی ہے۔ وہ آج کے یگ کی عورت ہے جو اپنے بھلے بُرے فیصلے خود کر سکتی ہے۔
لیکن یہی جنسی غلامی کے احتجاج کا دوسرا چیختا چنگھاڑتا روپ ہمیں ’’سہاگ کا خون‘‘ کی مرکزی کردار دیویانی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں بھی ازدواج کی ادلا بدلی کا معاملہ ہے لیکن یہاں ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کے اجتماعی پرورژن کے علی الرغم انفرادی بیاہتے جوڑے کا معاملہ ہے، جس میں شوہر جنسی اعتبار سے ازکار رفتہ ہے جبکہ دیویانی زندگی کی توانائیوں سے بھرپور ایک پنڈتائن عورت ہے جس کے اندر ایک عدد بچے کی تولد کے لیے شعلہ دھک رہا ہے۔ اس کی رگوں میں گرم خون ہے جسم سے جنسی پکار پھوٹ رہی ہے۔ وہ اپنے گداز بدن کے لمس سے تنہا کھیل کھیل کر ایک دم تھک چکی ہے۔ ایسے میں اُس کا شوہر ایک تانترک کے ساتھ اُسے جنسی اختلاط کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔ وہ رات بھر اُس ڈھونگی تانترک کے ساتھ شعلوں میں تپتی رہتی ہے لیکن جوں ہی وہ تانترک اس کے ریشمی ڈوروں سے بندھے ہوئے اعضا کو کھول کر آزاد کرتا ہے وہ تیر کی طرح سیدھی اپنے نامراد شوہر کے پاس جاتی ہے اور پاس رکھے خنجر سے اُسے آن کے آن میں لہو لہان کر دیتی ہے —دیویانی آج کی عورت ہے وہ ستی ساوتری محض نہیں ہے بلکہ وقت پڑنے پر وہ کالی کا روپ دھارن کر سکتی ہے۔ پرویز شہریار کے افسانوں میں موجود عورت کا ایک روپ یہ بھی ہے جہاں وہ منٹوں میں وفا شعار عورت سے انتقام کی آگ میں جلنے والی دیوی کالی اور چنڈی معلوم ہونے لگتی ہے۔
’’آج دیویانی کی ہزاروں راتوں کی پیاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بجھ چکی تھی۔
آج دیویانی نے اپنے ہونٹوں پر چھائی ہوئی برسوں کی پیاس کو اپنے شوہر کے خون سے بجھائی تھی۔
جائے واردات پر موجود لوگوں کے ہجوم نے دیکھا۔
دیویانی کے بڑی بڑی آنکھوں والے کوبصورت چہرے پر آسمان سے ٹپکنے والے خون کے قطرے اُسے کالی کے روپ میں تبدیل کرتے جارہے تھے اور فرش پر خون کی ندّی میں ڈوبا ہوا سر بریدہ بھینسا سور بے حس و حرکت پڑا تھا۔ ‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں، ص 38-)
عورت نے ہی مرد کو محبت کرنا سیکھایا ہے۔ عورت کی ممتا مرد کو سینے سے لگا کر اپنے نو زائیدہ بچے کی طرح تھپتھپاتی بھی ہے ۔ وہ جب جنسی تکمیل چاہتی ہے تو پیش رفت بھی کرتی ہے اور ایک ایسی اقلیم کی سیر پر لے جاتی ہے جہاں صرف مرد اور عورت کے نوجوان جوڑے ہی کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ’’لِو ان ریلیشن سے پرے‘‘ کی مرکزی کردار پدمجا بھی ایسی ہی ایک عیسائی لڑکی ہے جو اپنی عمر سے زندگی کے عنفوانِ شباب پر پہنچ چکی ہے۔ اُسے ایک مرد کی بانہوں کی صلابت کی ضرورت ہے۔ وہ ایک ایسی عورت ہے جس کے اندر چاہے جانے سے کہیں زیادہ چاہنے کا جذبہ موجود ہے۔ وہ سعادت حسن منٹو کے افسانہ ’’ہننک ‘‘ کی ہیروئن سوگندھی کی طرح مجبور محض نہیں ہے۔ پدمجا آج کے جدید دور کی خود مختار عورت ہے جو معاشی اعتبار سے خود کفیل ہے اور اپنا فیصلہ خود لے سکتی ہے۔ محبت اور دولت کے درمیان کچھ عرصے تک وہ فیصلہ نہیں کر پاتی ہے کہ کسے ترجیح دے لیکن نیو یارک کا ویزہ مل جانے کے بعد اُسے اپنے روم پارٹنر شمبھو کے چھوٹ جانے کا احساس ستانے لگتا ہے اور وہ ایک دم سے اپنا ارادہ بدل دیتی ہے اور نیویارک نہ جاکر شمبھو سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔
’’اب میںنیویارک نہیں جائوں گی۔‘
اتنا سنتے ہی شمبھو کی بانچھیں خوشی سے کھل اُٹھیں۔اس کے مغموم چہرے پر جیسے خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی اور وہ شادمانی کے عالم میں تقریباً چیخ اُٹھا۔
پدمجا نے شمبھو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا:
’اِسٹوپِڈ! مجھے پیسہ نہیں ….. ‘ اتنا کہہ کے اُس نے شمبھو کے ہوٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کر دیئے اور ایک طویل وقفے کے بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا:
’ پیار چاہیے، ….. پیار!‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں، ص28-)
’’بتولن ڈائن کیسے بن گئی‘‘ جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے جھارکھنڈ جیسے بچھڑے ہوئے علاقے میں لینڈ مافیا آج بھی کسی معمر شخص کو اپنی زمین و جائیداد کا تنہا مالک سمجھ کر اُسے گھر سے بے دخل کرنے کے لیے طرح طرح کی الزام تراشیوں سے کام لیتے ہیں۔ بتولن بھی ستّر سال کی ایک ضعیف عورت ہے۔ چند مقامی غنڈے اس کا مکان ہڑپنے کے ارادے سے اس کے جوان بیٹے کو چوری کے جرم میں جیل بھجوا دیتے ہیں۔ اس کی بہو بے ضرر قسم کی عورت ہے لیکن ارہر بڑھیا ایک ایسی ان پڑھ لیکن بہادر عورت ہے جو ان کے ہر وار کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ غنڈے بدمعاش اُس پر کسی تانترک بابا سے ڈائن ہونے کا الزام لگا کر اسے گھر سے بے دخل بلکہ محلہ بدر کرنا چاہتے ہیں لیکن افسانے کا راوی اسے لڑکپن سے جانتا ہے کہ وہ چور نہیں ہے۔ راوی سوچتا ہے کہ آٹھ آنے کا سکہ لوٹانے کے لیے اگر وہ رات کے بارہ بجے اس کے گھر پر دستک دے سکتی ہے تو بھلا وہ چور اور ڈائن کیسے ہوسکتی ہے۔
آخر کار افسانے کا راوی اسے تانترک بابا سے بچا تو لیتا ہے لیکن دوسر ے ہی روز صبح اسے خبر ملتی ہے کہ ارہر بڑھیا مرگئی۔ لیکن جب وہ اپنا سفر ملتوی کر کے اس کی میّت پر جاتا ہے تو یہ دیکھ کے مبہوت رہ جاتا ہے کہ بتولن ایک ایسی عورت تھی جس کے چہرے پر مرنے کے بعد بھی فتحمندی کا نور چمک رہا تھا۔
’’ارہر بڑھیا مر گئی ہے۔‘
یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے سوٹ کیس چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔
میں انتہائی مغموم دل کے ساتھ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ارہر بڑھیا بستر مرگ پر سوئی ہوئی تھی۔
چہرے پر ابدی سکون جیسے دُنیا کا سارا کام نمٹانے کے بعد کوئی سو رہا ہو۔ منھ کا دہانہ کھلا ہوا تھا۔ارہر بڑھیا کے جبڑوں میں مِسّی لگے اس کے اپنے بتیس کے بتیس اصلی دانت ٹھیک ویسے ہی چمک رہے تھے، جیسے وطن کی حفاظت کی خاطر میدانِ جنگ مین شہید ہونے والے کسی میجر جنرل کے سینے پر براس کے چمکتے ہوئے تمغے اپنی فتحمندی کے گیت سنا رہے ہوتے ہیں۔‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں، ص125-)
اسی طرح پرویز شہریار کے ابتدائی چند افسانوں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی عورت اپنے وجود کے تمام تر رنگا رنگی کے ساتھ موجود ہے۔ اُن کا پہلا افسانہ ’’ چمبل کی دسویں رانی‘‘ کی نویں رانی بہت ہوشیار اور بہادر لڑکی ہے جو بے شک کسی گاؤں کی رہنے والی ہے لیکن اسے ڈاکوؤں کے سردار چمبل پر جب شک ہوجاتا ہے تو وہ اپنے حصے کے مرد کے ہرجائی پن کو برداشت نہیں کر پاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑوں کی غار میں چھپ کر کسی اغوا شدہ معصوم لڑکی کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے چمبل کو وہ اپنی بندوق کی گولیوں کا نشانہ بنا دیتی ہے۔
’’اس نے دیکھا منگل کسی نازک سی لڑکی کو اپنے پہلوؤں میںجکڑے زبردستی اس کے کومل جسم کو نوچ رہا تھا اور اب معصوم لڑکی کا جسم نیم عریاں ہوچکا تھا۔ اتنے میں رانی کے دماغ پر اس بوڑھے ڈاکو کی بات تیزی سے رقص کر گئی۔ وہ آہستہ سے بڑ بڑائی، اچھا تو یہ ہوگی’’ چمبل کی دسویں رانی۔‘‘ دوسرے ہی لمحہ اس کی نظر بندوق کے گھوڑے پر تھی۔ گھوڑا دبایا گولی کی آواز سنسان پہاڑوں کی فضا میں گونج گئی … مجبور وبے بس لڑکی آنکھ پھاڑ پھاڑ کر اپنی خوف زدہ نگاہوں سے اُسے دیکھ رہی تھی… ادھر چمبل کے سینے میں گولی پیوست ہوچکی تھی۔ جب رانی غار سے اس لڑکی کو نکال کر آگے بڑھی تو چمبل کے سارے ساتھیوں کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں…!‘‘
( بڑے شہر کا خواب ، ص102-)
پرویز شہریار کے افسانوں میں عورت اپنے ہزار رنگ کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ مختلف معاشی حیثیت رکھنے والی یہ عورتیں اپنی محبت میں خیانت برداشت نہیں کرپاتی ہیں۔ اپنی محبت کے لیے بڑی سے بڑی قربانیاں دینے سے دریغ نہیں کرتی ہیں۔ جسمانی اعتبار سے بہت ہی دھڑلے کی اور خونخوار عورتیں بھی ان کے افسانے میں موجود ہیں جو اپنی بات منوانا جانتی ہیں۔ جنسی اعتبار سے پیار کرنے والی ممتا سے لبریز عورتیں بھی ان کے افسانے میں موجود ہیں۔
پرویز شہریار نے عورت کے کردار کو ٹائپ اور اسٹریو ٹائپ کردار نہیں بنایا ہے بلکہ ان کے کردار میں حالات کے تغیر کے ساتھ نامیاتی بالیدگی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے یہاں عورت ،مغربی تصور کے برخلاف مشرقی، اشتراکی اور اسلامی تصور کے پیکر میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے۔ ان کی عورت دنیا کی جننی ہے جس نے آدم کو پیار کرنا سیکھایا ہے جس کے دم سے آج دنیا روشن ہے۔ یہی دنیا جنت بھی ہے جہنم بھی، عورت وہ آئینہ ہے جس میں مرد اپنا ہی عکس دیکھتا ہے ۔وہ مرد کے اچھے اور بُرے خیال کو بہتر بنا کر اور بڑھا کر اُسے لوٹا دیتی ہے۔ وہ اپنے عزیزوں کی خوشی سے خوش ہوتی ہے اور اپنے عزیزوں کے دکھ تکلیف سے دکھی ہو اٹھتی ہے۔
پرویز شہریار کے افسانوں میں آج کی جدید تر عورت کا تصور موجود ہے جو اپنے وجود کا خاطر خواہ احساس رکھتی ہے اور اپنی ہشت پہلو شخصیت کے ذریعے ان کے افسانوں میں زندہ گوشت پوست کی عورت کی طرح دھڑکتی ہوئی بہ نفس نفیس دکھائی دیتی ہے۔
ان کے افسانوں میں سانس لینے والی عورت گذشتہ صدی کی عورت کے تصور سے قطعی مختلف ہے۔ وہ خود کو قابل پرستش محض نہیں سمجھتی کہ جن سے پیار کیا جائے جن سے عشق کا اظہار کیا جائے اور انھیں سلولائڈ کی گڑیا کی طرح محبت کا سامان (Object)سمجھا جائے۔ اس کے الرغم پرویز شہریار کے افسانوں کی عورت احتجاج کے اونچے سر میں بات کرسکتی ہے۔ وقت پڑنے پر وہ خنجر اور تلوار بھی اُٹھا سکتی ہے اور اپنے مخالفین کے سینے میں بے خوف وخطر پیوست کرکے اُنھیں موت کے گھاٹ بھی اُتار سکتی ہے۔
’’شہر نور شیرواں ایک یادگار محرم‘‘ اور’’ سہاگ کا خون‘‘ کی کاشی ڈیہہ کے خلیفہ کی بیٹی شاہدہ اور جوتشی پنڈت کی بیٹی دیویانی اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ اسی طرح ان کے سب سے اولین افسانہ’’ چمبل کی دسویں رانی‘‘کی نویں رانی بھی ہے جو ڈاکوؤں کے اڈے پر اغوا کی ہوئی تن تنہا عورت ہے اور منگل کو دسویں رانی کی عزت لوٹنے سے باز رکھنے کے لیے اپنی بندوق کی گولیوں کا نشانہ بھی بنا سکتی ہے۔
پرویز شہریار کی عورت اگر ایک طرف دلیر ودبنگ ہے تو دوسری طرف نرم اور محبت کرنے والی ہے بھی جو اپنے مثبت اقدار سے متاثر کرکے منگل سنگھ نامی ڈاکو کی پوری ٹولی کو راہ راست پر بھی لا سکتی ہے۔ اس کی بہترین مثال ہمیں ’’داسی تیرے چرنوں کی‘‘ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
’’منگل سنگھ، وہ مشہور داکو جس سے دُنیا کانپتی ہے، جو آج تک اپنی من مانی کرتا آیا تھا، جس کی زندگی کے صھرا میں کبھی خوشی و محبت کے پھول نہ کھل سکے ، جس کے دل گلشن میں کبھی بہار نہ آسکی، جسے دُنیا کو صر ف نفرت کی نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملا۔وہ آج وجودِزن (چمپا) کی بدولت راہِ راست پر آگیا ہے۔‘‘
( بڑے شہر کا خواب ، ص123-)
پرویز شہریار کے افسانوں کی چند عورتیں ایسی بھی ہیں جو کمزور یعنی معاشی اور سماجی حیثیت کے اعتبار سے کمتر اور ادنیٰ درجے کی ہیں۔ تاہم ان کے اندر حوصلے کا فقدان نہیں ہے وہ اپنے نام و ناموس کی حفاظت کے لیے موت کو گلے لگانے میں بھی کوئی خوف محسوس نہیں کرتی ہیں۔ ’’خودکشی کا سوال‘‘ کی امیرن ایک بھکارن ہے جو نہیں چاہتی کہ ایک ایسی بچی کو جنم دے جس کو جیتے جی کبھی باپ کا نام نصیب نہیں ہوگا اور ایک دن وہ بھی رات کی سیاہی میں کسی آوارہ شرابی کی ہوس کا شکار ہوکر ابتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے، لہٰذا خودکشی جیسا انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
اس کے بر عکس ’’سونیا بوٹیک‘‘ کی سنِ بلوغ کو پہنچتی ہوئی لڑکی سونیا ایک کوئلے کی کان میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مرنے والے مزدور کی بیٹی ہے جو اپنے سوتیلے اور شرابی باپ کے مظالم کو برداشت نہیں کرتی اور اپنی ماں کو پٹنے سے بچاتی ہے۔ بڑی بہادری اور صلاحیت سے اپنے سوتیلے باپ کے ناپاک ارادے کو ناکام بنا دیتی ہے۔
’’سونیا نے یکایک اپنی ماں پر اُٹھے ہوئے سوتیلے باپ کے ہاتھوں کیو مضبوطی سے تھام لیا۔’’بس باپو! بس بہت ہوچکا اور ایک بھی ہاتھ اُٹھایا، ماں پر….. تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
آج تو سونیا کے تیور ہی کچھ اور تھے ۔ اس نے سوتیلے باپ کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر سوال کیا۔
’’عورت پر ہاتھ اُٹھا نا کہاں کی مردانگی ہے؟‘‘
( شجر ممنوعہ کی چاہ میں ، ص129-)
پرویز شہریار کے افسانوں کو اگر زمانی ومکانی بعد کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو عورت کے تصور کے تعلق سے ان میں ایک واضح خطِ امتیاز نظر آتا ہے۔ وہ افسانے جو انھوں نے جمشید پور جیسے خوبصورت لیکن چھوٹے شہر میں رہ کر دیکھے ہیں اُن میں جس نوعیت کی عورتوں کا بیان ہے وہ عمومی طور پر سماج کے ادنیٰ اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں ’’بنجاروں کا پیار عجب‘‘ کی ایک بنجارن لڑکی چاند کی والہانہ محبت کا ذکر ہے جو اپنے شہری بابو کے پیار میں اپنے قبیلے کی دشمنی مول لینے سے بھی گریز نہیں کرتی اور بہت ہی دلیری اور بیباکی سے ان کا مقابلہ کرتی ہوئی ایک دن قبیلے کی جبر کا شکار ہوکر لاپتہ ہوجاتی ہے۔
’’نیا سورج نیا سویرا‘‘ کی کامنی ہے جو جھگی جھونپڑی میں رہتی ہے اور اپنے گزربسر کے لیے چائے بیڑی بیچتی ہے۔ ’’ہات رے تیرا بھولپن‘‘ کی مزدور کی بیوی ہے جو گاؤں کے مکھیہ کے آوارہ بیٹے کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہے۔ ’’خود کشی کا سوال‘‘ کی وہ بھکارن عورت امیرن ہے جواپنی سیاہ بختی کی ماری ہوئی خودکشی پرآمادہ ہوجاتی ہے کیونکہ اس کی کوکھ میں پلنے والی اولاد ناجائز ہے اور کسی شرابی کی ہوس کا شاخسانہ جسے وہ جنم دے ایک ’’امیرن‘‘ کا اضافہ کرنا نہیں چاہتی۔ ’’جہیز کی آگ میں جلتی زندگی‘‘ کی آشا ایک غریب والدین کی بیٹی ہے جس کی ایک عمر دراز شخص سے شادی ہو جاتی ہے۔ لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے اُس انمیل شادی کا خاتمہ رخصتی کے وقت ٹرین حادثہ میں اُس کے شوہر کی موت کے ساتھ واقعہ ہوجاتا ہے۔ غربت کی مار اُسے گھر لوٹنے کے بجائے اسمگلروں کے ہتھے چڑھا دیتی ہے اور پھر خبر ملتی ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر میں اسمگلروں کے گروہ کے ساتھ پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن جانے سے اُس کی موت ہوجاتی ہے۔
’’داسی تیرے چرنوں میں‘‘ میں چمپا گاؤں کی ایک الھڑ اور حسین دو شیزہ ہے جِسے ڈاکو منگل سنگھ جس کے دام محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے وہ اُسے گاؤں کی شادی والے ماحول سے اُٹھا لاتاہے لیکن ’’چمپا‘‘ جب اُسے ہوس کی آگ بجھانے سے روکنے کے لیے اُس کی ماں کی سوگند دیتی ہے تو اُس کے اندر کا انسان جاگ جاتاہے اور پھر ایک دن وہ ڈکیتی چھوڑ کر خود کو پورے گروہ کے ساتھ قانون کے حوالے کردیتا ہے۔
’’انوکھا انتقام‘‘ میں شکنتلا بھی ایک ادنیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والی معصوم اور نو خیز لڑکی ہے جو بچپن سے ہی اپنے بھائی کے ساتھ ایک مشہور شخص کے گھر میں ملازمت کرتے تھے لیکن ایک رات مالک کا اکلوتا بیٹا ونود جو کہ شہر کا آوارہ غنڈہ بدکار نوجوان تھا۔ سنِ بلوغیت کو پہنچتی ہوئی بھولی بھالی شکنتلا کو اپنی ہوس کا شکار بنا لیتا ہے۔
اسی طرح ’’نقاب پوش بے نقاب‘‘، ’’جولان گاہ کی حد‘‘، ’’حالات کے مارے‘‘ اور ’’پھول کا بوجھ‘‘ میں متوسط طبقے کے مسلم خاندان کی گھریلو زندگی کے مسائل سے جو جھتی ہوئی عورتوں کے ذہنی کوائف اور جنسی وجسمانی اضطراب کو بڑے سلیقے سے پرویز شہریار نے اپنے بیانیہ کا حصہ بنایا ہے۔
لیکن دلّی جیسے بڑے شہر میں اقامت کے بعد ان کے افسانوں میں سماجی اعتبار سے ادنیٰ اور بچھڑے طبقے کی عورتوں کا ذکر کم ہوتا جاتا ہے اور ان کی جگہ اعلیٰ متوسط طبقے کی عورتوں کے مساوی حقوق اور اپنے نام و ناموس کے تحفظ کے متعلق حساس قسم کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی دخل یابی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس میں زمانی اور مکانی بُعد دونوں ہی کارفرما نظر آتے ہیں۔ پرویز شہریار کی افسانہ نگاری کا یہ دوسرا دور ہے جہاں وہ خود بھی اعلیٰ تعلیم سے متصف ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب ان کے افسانوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اونچی سوسائٹی کی اُن عورتوں کے مسائل نمودار ہونے لگتے ہیں جو مالی اور سماجی اعتبار سے زیادہ مستحکم ہیں۔ ایسی عورتیں بھی ہیں جو ملک کی سرحد پار کرکے ممالک غیر میں بر سرِ روزگار شوہر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں لیکن روح تشنہ ہے۔ آسائش کے تمام تر ساماں میسر ہونے کے باوجود ان کی آتمائیں نا آسودگی کے کرب میں مبتلا ہیں اور اس کے لیے اندر ہی اندر اپنے وجود کو ٹوٹتا بکھرتا ہو ا محسوس کرتی ہیں۔ ان میں ’’سہاگ کا خون‘‘ کی دیونانی ہے جو کینیڈا میں مقیم ہے۔ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کی وہ تنہا ادھیڑ عمر عورت ہے جس کے بیٹے اوربیٹی انگلینڈ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ ’’شادی کے سات سال بعد‘‘ کی کبیر کی بیوی ہے جو ایک آئی ایس افسر کی بیوی ہے اور دلّی جیسے بڑے شہر میں مقیم ہے لیکن ایک گھٹن بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ’’لِو ان ریلشن سے پرے‘‘ کی پدمجا ہے پیشے سے ایک نرس ہے اور امریکہ جا کر سیٹل ہونے کی متمنی ہے کیونکہ دلی جیسے شہر کے ایک گنجان آبادی والے محلے میں کمپرومائز بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کا نیویارک کا ویزہ لگ جاتا ہے لیکن دل اور دماغ کی جنگ میں جیت دل کی ہوتی ہے اور پیسہ پرپیار کو فوقیت حاصل ہوجاتی ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سماجی حیثیت کے تفرق اور میعارِ زندگی میں تبدل کے ساتھ ساتھ پرویزشہریار افسانوں میں موجود عورت کے اخلاقی اقدار میںبھی نمایاں امتیازات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ان کے ابتدائی دور کے افسانوں میں جینے والی گائوں اور دیہاتوں کی بے وقعت سی زندگی گزارنے والی عورتوں کے بر خلاف بڑے شہروں کی گہماگہمی میں زندگی بسر کرنے والی عورتیں اپنے وجود کے مکمل احساس کے ساتھ زیادہ پر وقار اور خود اعتماد معلوم ہوتی ہیں۔
افسانہ نگار کے بیانیہ کا یہ سب سے مضبوط پہلو ہے کہ اس نے ہوائی قلعے تعمیر کرنے کے بجائے اپنے گرد وپیش کی جیتی جاگتی زندگی کو اپنی فنی بصیرت اور سماجی شعور کے ساتھ جو کچھ بھی مشاہدے میں آیا اُنھیں مِن وعن بیان کردیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پرویز شہریار کے فن کے ساتھ ساتھ فکر میں بھی مسلسل ارتقا نظر آتا ہے جو انھیں ایک بڑے افسانہ نگار ہونے کا اعتبار بخشتا ہے۔
٭٭٭

عیدگاہ محلہ مصوریہ ،مقام و پوسٹ مصوریہ ، وایہ گڑھی بنیلی ،
ضلع ارریہ (بہار)

Previous articleقضیۂ فلسطین اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی!
Next articleمعاف کیجیے: از جہانگیر انس

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here