ادب کی اہمیت

0
353

عبدالوہاب قاسمی

یاسر کے پاس ایک خوبصورت کتاب تھی۔ جب بھی اسے وقت ملتا، وہ اس کو پڑھتا…کبھی ہنستا…کبھی اپنے من میں کچھ گنگناتا…اورکبھی اچانک چپ چاپ صرف ورق الٹا کرتا تھا…!!
اس کی بہن ادیبہ بارہا اس کا یہ انداز دیکھتی اور پریشان ہوتی…ایک دن پوچھ لیتی ہے…!!
بھیا…! آپ جب بھی اس کتاب کو پڑھتے ہیں…تو آپ کا خوش ہونا…اچھلنا…گنگنانا …اور پھر خاموش ہوجانا…دیکھنے لائق ہو تاہے…! آخر یہ کیسی کتاب ہے اور کیا ہے اس میں…؟؟
اسی دوران یاسر نے ہنستے ہو ئے بہن کو اپنے پاس بلایا اور کتاب میں لکھا یہ شعر گنگنانے لگا ؎
ہردل پہ مری دھاک بٹھادے اللہ
دنیا کو کرشمہ یہ دکھادے اللہ
لو گوں کی نگا ہوں میں جواں کردے مجھے
بچہ ہوں تو کیا مونچھ اگا دے اللہ
(چہکاریں:ازظفرکمالی)
دونوں ہنسنے لگتے ہیں…یاسر مزے لے لے کر کچھ دیر تک اس ٹکڑے کو دہراتا رہا :
’’مونچھ اگادے اللہ……دنیا کو کرشمہ یہ دکھادے اللہ…‘‘
یاسر کے ہاتھ سے کتاب لے کر ادیبہ الٹتی پلٹتی ہے۔ ہر ورق پر اسے چار چار لائن کی ایک مخصوص شعری ہیئت نظر آتی ہے…فورا وہ یاسر سے سوال کر تی ہے…!
بھیا یہ کتاب تو ویسی نہیں ہے جو ہم روز اسکول میں پڑھتے ہیں…؟؟
ہاں …!! یاسر نے جو اب دیا…یہ کتاب ویسی تو نہیں ہے مگر یہ ہم بچوں کے لیے ہی لکھی گئی ہے…!!اس میں جو چیز لکھی ہے ،اسے ’’شاعری‘‘ کہتے ہیں جو ادب کہلاتا ہے…!!
ادیبہ کے لیے’’شاعری‘‘اور ’’ادب‘‘دونوں نئے الفاظ تھے۔وہ ان دونوں کے معانی سے واقف ہو نا چاہتی تھی۔ یاسر سے اس کا اگلا سوال تھا…!
بھیا’’شاعری‘‘اور ’’ادب‘‘یہ دونوں کیا ہو تے ہیں …؟
بہن کا سوال سن کر یاسر کو اپنا وہ وقت یاد آیا وہ بھی ان الفاظ کے معانی نہیں جانتا تھا۔
وہ ادیبہ سے مخاطب ہو اکہ:
’’دیکھو…!ہم نے بھی تمھاری طرح جب یہ الفاظ پہلی بار سنا تھا تو کچھ ایسے ہی سوالات کے جوابات خود میں نہ پاکر جاننے کی تڑپ پیدا ہو ئی تھی …مگر ایک دن کلاس میں اسی طرح کا ایک سبق آگیا…استاد نے پڑھاتے ہوئے ان دونوں کے بارے میں بہت لمبی تقریر کی…جو میرے اوپر سے گذر گئی…مگر کچھ باتیں یاد ہیں۔
استاد نے کہا تھا …!!
’’بچو…!! آج تم سب ایک نیا سبق پڑھنے جارہے ہو ۔ اس میں ایک خوبصورت نظم ہے، جسے ’’شاعری‘‘ کہتے ہیں۔ شاعری ایک نغمہ اورگیت کی طرح ہو تی ہے۔کم الفاظ میں ڈھیر ساری باتیں کہی جا تی ہیں۔ جو اس کو لکھتا ہے اس کو شاعر کہتے ہیں۔یہ بڑوں کے ساتھ بچوں کے لیے بھی لکھی جاتی ہے۔بچوں والی شاعری بالکل آسان زبان اور الفاظ میں ہوتی ہے۔ تا کہ بچے سمجھ سکیں اور خوب مزہ لے لے کر پڑھیں۔ اس لیے اس میں کھلونا، مٹھائیاں، پھل،پھول، پرندے، جانور، پہاڑ، چاند، ستارے، صبح، شام، ندی، دریا، پیڑ، بچوں کی آپسی شرارت، کھیل کود، اسکول، کتاب، بستہ، جہاز، ریل اور راکٹ وغیرہ پر شاعر اچھے اچھے شعر کہتا ہے۔ جو زبان پر خود بخود جاری ہو جاتے ہیں۔ اردو میں بڑے بڑے شاعروں نے بچوں کے لیے شاعری کی ہے۔ غالب، اقبال، اسمعیل میرٹھی، افسرمیرٹھی اور شفیق نیر جیسے بڑے ادیبوں نے بچوں کے ادب پر لکھا ہے۔
یہاں تک بتانے کے بعد ہمارے استاد کتاب پڑھانے لگتے ہیں کہ اسی دوران ساحل نے کھڑے ہو کر استاد سے پوچھا:
استادصاحب…’’شاعری‘‘ کو تو ہم لو گوں نے سمجھ لیا مگر ’’ادب‘‘…!!
ارے ہاں بچو…! استاد نے جواب دیا…!
دراصل ’’ادب‘‘ دوحصوں میں بٹاہواہے۔ ایک کو نثری ادب کہا جاتا ہے اور ایک کو شعری ادب۔ کہانی، افسانہ، ناول اور ڈراما نثری ادب میں شامل ہے جب کہ نظم اور غزل شعری ادب کہلاتی ہیں…!!
یہاں پر میں آپ کو ایک اور بات بتادوں کہ اب دنیا میں بہت سے لوگ بچوں کا ادب لکھ رہے ہیں۔ بہت سے میگزین بچوں کے لیے ماہنامے اور ہفتہ وار کی شکل میں شائع ہو رہے ہیں، جن میں مزے مزے کی باتیں ہو تی ہیں۔چٹکلے، کہانیاں، کہاوتیں، علمی مضامین،شاعری اور دنیا بھر کی سیر کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہو تا ہے۔ ایسے میگزین پڑھنے سے زبان آتی ہے اور اچھی اچھی باتیں معلوم ہوتی ہیں‘‘
ساحل نے استاد کا شکریہ ادا اور اپنی جگہ لی۔
اچانک یاسر اور ادیبہ کے ابو گھر میں داخل ہوئے…ادیبہ دوڑ کر ابو سے لپٹ گئی…اور کہنے لگی …ابو…کل جب آپ اپنے آفس سے گھر آئیں گے تو میرے لیے ادب کی ایک اچھی کتاب خرید لائیں گے…!
ابو نے ہاں کہتے ہوئے…ادیبہ کو گود میں اٹھالیا…!!
(مطبوعہ:بچوں کی دنیا مئی ۲۰۱۷،نئی دہلی)
————-٭٭٭————

Previous articleخواجہ احمد عباس اور ان کا افسانہ “میری موت”
Next articleتغیر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here