عا رضۂ ادب

0
192

معز ہا شمی
CELL – 9372696300

اور پھر ہمارے شہر کی فضاء اچا نک ہی ادبی و باء کا شکا ر ہو گئی۔ انتظا میہ اپنی سی سعئی کر کے رہ گیا۔ اس وباء نے بستی کے گلی کو چوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سڑکیں و یران ہو گئیں چا روں طرف ہو کا عالم طا ری تھا۔ ہر گھر میں ایک نہ ایک ادبی مریض پا یا جا نے لگا۔ طر ح طرح کی تشوشیناک افو اہوں سے لوگوں کے دلوں پر دہشت طاری ہو گئی۔ انتظامیہ نے یہ اعلان کر وادیا کہ ’’ یہ و بائی مر ض اِس بستی کے لیئے نیا نہیں ہے بلکہ سینکڑوں برس قبل اس مرض نے اسی بستی سے وبائی شکل اختیار کی تھی۔ اس لیئے عوام سے پُر زور اپیل کی جا تی ہے کہ وہ ان افواہوں پر دھیان نہ دیں اور مرض کے تعلق سے تشو یش میں مبتلا نہ ہوں انتظا میہ بہت جلد اس کا ٹیکہ ایجا د کرنے میں کامیاب ہو جا ئے گا ۔ اُمید ہے آپ ہم سے پو را پو را تعاون کر یں گے اور افواہیں پھیلا نے والوں کی نشاند ھی کر کے ایک اچھے شہر ی ہونے کا ثبوت دیں گے۔‘‘
اس اعلان سے ہم نے چین کی سانس لی و اقعی انتظا میہ ایسے مو قع پر اپنے فرض سے کو تا ہی نہیں برتتا۔ مرض کی دہشت ہمارے دل میں بھی تھی ہم سو چنے لگے آخریہ مرض ہو تا کیا ہے اور کس طرح یہ ایک عا م انسان کو اپنی گرفت میں لیتا ہے یہ سب جا ننے کے لیئے ہم نے بستی کے نا مور حاذق حکیم و عامل دانش قلندر کو مناسب خیال کیا اس سے قبل ہمیں کبھی ان سے اس طرح کا سابقہ نہیں پڑا تھا۔ لیکن حالات ہی کچھ ایسے تشو یشناک ہو گئے تھے کہ ان سے رابطہ قائم کرنا نہا یت ضروری تھا ۔ کہنہ مشق حکیم و عامل ما ہر امراض پیچیدہ و تشو یشنا ک معاملات پر اچھا خاصہ عبو ر رکھتے تھے۔ اس لیئے اُن سے ملنے کے لیئے ہم نے اُن کے مطب کا رُخ کیا۔ مطب اچھا خا صہ پوسٹ ما رٹم روم دکھا ئی دیتا تھا۔ چاروں طرف عمل جر احی کے زنگ آلود اوز اربکھرے پڑے تھے۔ کتا بوں کی ردّی کے ڈھیر تلے دبے ہوئے نا مور حاذق حکیم دانش قلندر نے ہمیں دور ہی سے پہچان لیا بعجلت تمام وہ ڈھیرے سے برآمد ہو ئے ۔ہم نے کہا محتر می اطمینان سے ہم کو ئی مریض نہیںہیں ۔ بڑی تگ و دو کے بعد حکیم صاحب نے گرد سے اٹے کپڑوں کو جھاڑا ۔اپنی منحنی کمر کو بمشکل تمام خطِ مستقیم کی شکل دی ۔ ایک دائرہ ہمارے اطراف کھینچ کر وہ ایک بو سیدہ کر سی پر براجمان ہو گئے ۔آثار قدیمہ کے نوادر حکیم صاحب نے سلسلہ کلام کیا ، ’’ مطلب بیان کر و بر خور دار!۔ ‘‘
’’ آنجناب کے علم میں تو یہ بات آئی ہو گی کہ اس وقت بستی ایک خطرنک و باء کا شکار ہے ۔ ‘‘
’’ کیوں نہیں ۔ ‘‘ اُنھوں نے ہماری طرف دیکھا ، ’’ حکیموں عاملوں سے کیسے پو شید ہ رہ سکتی ہے یہ بات ۔‘‘
’’ تب اس کے معا لجے کی آپ نے کوشش نہیں کی۔ ‘‘
’’کر تور ہے ہیں برخوردار ۔۔۔ اس سلسلہ میں مرض کی تا ریخ جا ننا بہت ضروری ہے۔‘‘
ہم نے حیرت سے کہا، ’’ جناب والایہ مرض کوئی ڈھائی تین سو سال پُرانا ہے۔‘‘
حکیم صاحب نے جواباً ارشاد فرمایا، ’’ تاریخ صحیح ہے؟‘‘
’’ جی ہاں اس میں کو ئی مبا لغہ نہیں۔‘‘ اپنی معلومات پر ہم بھی بے حد خوش ہوئے۔
’’ جس وقت یہ مرض عالم و جو د میں میں آیا تھا اس وقت ستارے کون سی چا ل چل رہے تھے ۔‘‘
’’ پتہ نہیں۔‘‘
’’ یہی جا ننے کے لیئے ہم زائچہ تیار کر رہے ہیں ۔ ‘‘ حکیم صاحب نے حکیم لقمان بننے کی کوشش کی، ’’ جیسے ہی ستاروں کی چال معلوم ہو جا ئیگی ہم مرـض کاعلاج دریافت کرلینگے۔‘‘
’’ کیازائچہ دافع مرض کے لیئے مد د گار ثابت ہو گا ۔ ‘‘
’’ ہم ہر مرض کی تشخیص اور علاج بذریعہ زائچہ ہی کرتے ہیں تا کہ اس کی بیچ کنی کر نے میں آسانی ہو۔‘‘
’’ حکیم صاحب مر ض کیسے لا حق ہو تا ہے اس بارے میں آپ کچھ بتا ئینگے۔‘‘
’’ آج تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں۔ ‘‘ حکیم صاحب نہایت سنجیدگی کے ساتھ سمجھانے لگے، ’’ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کوئی مو رو ثی مرض نہیں ہے بلکہ ادبی وائرس (VIRUS) با ہم گفتگو یا کسی ادیب و شاعر کی صحبت سے ایک دوسرے میں منتقل ہو تے ہیں بچوں میں یہ مرض بڑوں کے مقابلے میں کم پا یا جا تا ہے یہ صرف عقل و فہم سے آراستہ بالغوں پر زیا دہ اثر انداز ہو تا ہے۔‘‘
’’ اس کی علا متیں کیا ہو تی ہیں جس سے یہ اندازہ لگا یا جائے کہ مریض عا رضۂ ادب میں مبتلا ہو گیا ہے ۔ ‘‘
حکیم صاحب نے ہمیں نیچے سے اوپر تک دیکھا، ’’سب سے اہم علا متیں یہ ہے مریض تبخیر معدہ کا شکا ر ہو تا ہے خو ابید گی کے عالم میں خوا ہ مخو ا ہ خو اہشوں کے سپنے دیکھتا ہے خو یش و اقا رب سے بلا وجہ دوری اختیار کر لیتا ہے ۔ہر ایک کو تکتاہے امُور خانہ دار ی میں اُلجھا رہتا ہے۔ دروْن خانہ اس کی حالت بھیگی بلی سی ہو تی ہے۔ بیرون خانہ اپنے ہم جنسوں میں چیڑ چڑ ا پن عود کر آتا ہے اختلاج ادب کا مریض ہمیشہ اپنی تعریف سُننا چا ہتاہے۔دائمی ادبی مریضوں کے تذکر ہ پر پھڑ ک اٹھتا ہے۔ خود کو عارضہ ادب کا پہلا شکار تصور کر تا ہے۔‘‘
ہم نے بھی نیچے سے اوپر تک اپنا جائزہ لیا اور دریافت کیا، ’’ حکیم صاحب کیا ایسی مہلک علا متوں سے یہ بات واضح ہو جا ئیگی کہ مریض عار ضہ ادب میں مبتلا ہو گیا ہے؟‘‘ ہمارے چہرے پر خوشی چھلکنے لگی تھی ۔
’’ با لکل۔۔۔۔! ‘‘ حکیم صاحب نے پورے اطمینان کے ساتھ ہماری آنکھوں میں جھانکا ۔
’’ اب اس کا مداوا کیسے کیا جا ئے آپ نے اس بار ے میں کچھ سو نچا ہے۔‘‘
’’ دیکھئے ۔۔۔ ‘‘ حکیم صاحب نے اپنے لکھے ہوئے نسخوں کے پلندے کو سلیقے سے جماتے ہوئے کہنا شروع کیا ، ’’ عنقر یب عا ملوں، حکیموں کی تین روز ہ کا نفرنس ’’ عا رضہ ادب اور سد باب’’ اس عنوان سے منعقد ہونے جارہی ہے ہمیں پوری اُمید ہے کوئی نہ کوئی حل نکل آئیگا۔‘‘
لیکن حکیم صاحب ۔۔۔فی الحال ایسے مریضوں کو کس دوا سے افاقہ ہو گا ؟ ‘‘
’’ابھی دوا نہیں۔۔۔ آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ ایسے مریضوں کو ادبی جلسوں،رسالوں اور اخباروں میں اچھا مقام دلا سکیںتاکہ مرض میں کچھ تحفیف ہو ، اس سے انھیں تسکین ہو گی۔‘‘ حکیم صاحب نے ہمارے کندھے پر محبت سے ہاتھ رکھا اور سلسلہ کلام جا ری رکھتے ہو ئے کہا، ’’عا رضۂ ادب میں اکثر دیکھا یہ جا تا ہے کے بے ادبی سے اگر مریض کو وہ مقام نہ مل سکا تو اس کی حرکتِ ادب بند ہو سکتی ہے ۔‘‘
ہم نے اضطراب سے کہا ، ’’ آپ اس سلسلہ میں کوئی قدم فوری اٹھائیے۔‘‘
’’ دیکھو میاں ‘‘ حکیم صاحب نے ایک شانِ بے نیازی سے ہمار ی طرف دیکھا،’’ اگر تمہارے گھر اس وباء کا کوئی شکار ہے تو میں آزمائش کے لیئے چند تعویذ اور گنڈے دیتا ہوں تا کہ مرض میں کچھ افاقہ ہو لیکن اعتقاد شرط ہے۔ پر ہیز وغیر ہ کی کوئی شرط اِس آزمائشی علاج میں نہیں ہے۔صرف تعویذ کھو ل کر مریض کو دور ہی سے دکھا نا اور گنڈہ بطور میڈل اس کے گلے میں ڈال دیناساتھ ہی صبح و شام’’لغت کشوری‘‘ اور دیوانِ غالب‘‘ کا پانی دم کرکے پلا تے رہنا تا کہ وہ مرض کی شدت میں الفاظ کامبہم استعمال ترک کر سکیں اور ہر جمعرات کو بابائے اُردو حضرت مولوی عبدالحق صاحب ؒ کی فاتحہ دلا کہ معصوم مریضوں میں شرینی تقسیم کر دینا ۔کبھی کبھی بزرگان علم وا دب کے مزارات پر بغرض زیارت لے جا یا کر نا ۔
حکیم صاحب کے عنا یت کر دہ تعویذ کو جب ہم نے کھول کر دیکھا تو اس میں شاعری کی گر دان فا علا تن فا علاتن فاعلن تحریر تھا اور گنڈے پرغالباً ’’ادب برائے عمل ‘‘ کا ورد کیا گیا تھا۔ حکیم صاحب نے خاص تا کید کی ’’دورانِ علاج مریض کے سامنے کسی نئے مریض کے بارے میں قطعی کچھ نہ کہنا و رنہ نیا مریض اُن کے بستر ادب پر دراز ہو جا ئیگا مرض کو پرا نے مریضوں کی تحریری تجربات پڑھنے کی کھلی چھوٹ دید ی جا ئے تا کہ وہ اُن سے استفا دہ کر سکیں۔‘‘
’’ لیکن حکیم صاحب ۔۔۔! ‘‘ ہم نے اپنے شبہات کی وضاحت چاہی ، ’’اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ مرض پو ری طرح حا وی بھی ہونے نہیں پا تا ہے کہ مریض اپنے تجر بات تحریر کر دیتا ہے اس تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے؟ ‘‘
حکیم صاحب نے بر ہم ہو کر کہا ، ’’ یہ توان کی نا دانی ہے جب تک مریض اچھی طرح نڈھال نہ ہو جا ئے اس وقت تک اُسے ایسی کسی بھی حرکت سے باز رکھنا چا ہئے و رنہ مرض خطرناک صورت اختیار کر لے گا او ر اس پر قابو پانا مشکل ہو جا ئیگا ایسے مریض جنہیں تحریر ی تجربات کی چاٹ لگ جا تی ہے وہ تیمار داروں کے لیئے مصائب کھڑے کر دیتے میں۔ مریض کی تحریری کو شش پر شروع ہی سے نگاہ رکھنی چاہیے۔‘‘
ہم نے حکیم صاحب کی جانب توصیفی نظروں سے دیکھا ، ’’حکیم صاحب آپ کے مفید مشو روں پر عمل کیا جا ئیگا۔ آپ کا قیمتی وقت لیا ہوں اس کے لیئے معذرت خواہ ہوں۔۔۔ اب اجازت دیجیے۔‘‘
’’جانے سے پہلے ایک بات اور سنتے جاؤ ‘‘ ہمارے قدم وہیں رُک گئے اور ہمارے کانوں میں حکیم صاحب کے الفاظ گونجنے لگے ، ’’ واقعی اگر تم سنجیدہ ہے تو اس و باء سے نجات پانے کا ایک اور طریقہ بتا تا ہوں۔
’’ ضرورضرور حکیم صاحب۔ ‘‘
‘‘ہاں۔۔۔! میرا تو یہ خیال ہے بلکہ یقین ہے کہ وہ ادیب و شاعر جن کے کلام یا تخلیقات کو اب تک کسی رسالے نے شائع نہیں کیا ہو، بلکہ لوگ باعث تمسخر اُن کی چیزیں پڑھتے ہوں ، اُن ہی کی پھیلائی ہوئی اس آفت سے بچنے کی خاطر کسی نامور ادیب یا شاعر کو ایصا ل ثواب پہنچا نے کے لیئے ایک بڑے جشن یا سمینار کا اہتمام کیا جائے ہو سکتا ہے ایسا کرنے سے آپ کا شہر اس وباء سے نجات پا جا ئے۔‘‘
‘‘ منا سب خیال ہے آپ کا ۔ ‘‘ ہم نے حامی بھری ، ’’ حکیم صاحب اب اس جشن یا سمینار کے سلسلے میں ـضروری اقدامات کرنے کی اجازت دیجیے ۔ ‘‘
’’ اور سنو برخوردار ۔۔۔۔ ‘‘ حکیم صاحب نے کہا، ’’ ایک بہت ہی خاص بات کا خیال رکھنا ضروری ہے ، اس جشن یا سمینار میں ذی حیثت افراد کی شمولیت بہت اہم ہے ورنہ مرحوم ادیبوں اور شاعروں کی ارواح اپنی شان میں گستاخی تصور کرینگی ۔ ان کے شایان شان جشن مناکر ہی اس وبائی قہر سے نجات مل سکتی ہے۔‘‘
حکیم و عامل دانش قلندر کے مطب سے باہر آتے ہی ہمارے قد م من من بھاری ہو گئے۔ جشن منا نے کا ایک بوجھ لیئے ہم اپنے دیر ینہ دوست آں میاں کے گھر پہنچے ۔ دستک پر سسکیاں سنائی دی۔ خدا جانے اب کونسی پر یشانی ہمارے استقبال کے لیئے تیار تھی۔ دروازہ کھلتے ہی ہمارے چو دہ طبق روشن ہو گئے ہمارا یا ر،ہمدرد،غمگسارا س مہلک وباء کا شکار ہو چکا تھا ابھی ہم اس کی کیفیت دریافت کر بھی نہ پائے تھے کہ دوست کی والدہ محترمہ ہمارا گر بیاں پکڑ کر ہمیںہلانے لگی ،’’دیکھو بیٹے کیا حال ہو گیا ہے تمہارے دوست کا آدھاآدھا مصرعہ پڑھ رہا ہے اور بار بار اپنے والد کا نام لے رہا ہے ۔۔ارشاد ۔۔۔ ارشاد ‘‘۔
ہم نے کہا ، ’’خاطر جمع رکھئیے خا لہ جان سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ابھی یہ پہلے اسٹیج پر ہی ہے میں اسے آج ہی کسی ادبی اسٹیج پر چڑ ھا دیتا ہوں۔ انشا ء اللہ دو ایک دن میںنارمل ہو جائے گا۔‘‘
ہم نے اپنے دوست پر ایک اچٹتی ہو ئی نظر ڈالی۔ اسٹیج کے نام پر اس کے یرقان زدہ چہرے پر سُر خی دوڑ گئی۔ ہم نے کہا ، ’’ میرے دوست چل آج شام ’’ادبی محفل‘‘ منعقد ہو رہی ہے حتی الا مکان کو شش کرکے تجھے وہاں پڑھنے کا موقع دلادیتا ہوں ۔‘‘
دوسرے ہی لمحہ وہ ایک لمبی جست لگا کر ہمارے قریب پہنچ گیا تب ہمیں ڈارون کی تھیوری کی صداقت پر یقین آگیا۔
اس کی اس حر کت پر سارے گھر نے اطمینان کی سانس لی ۔ پتہ چلا کہ وہ تین دن سے ایک ہی جگہ دھونی جائے بیٹھا تھا نہ کھا رہا تھا نہ ہی پی رہا تھا صرف خلاؤں میں آنکھیں پھاڑ تا رہتا تھا۔
بڑی، تگ ودو کے بعد ہم نے اپنے دوست کو اسٹیج پر چڑ ھا ہی دیا۔ اب جو ہمارے دوست نے منظر دیکھا وہ خوشی سے پھو لے نہ سمایا۔ نا مور چو ٹی کے ادیب اپنی باری کے انتظار میں دوزانوں بیٹھے تھے چند ایک تو چار زانوں تھے وہ جا نتے تھے کے اُن کا نمبر بہت دیر بعد آئیگا۔ اس لیئے کہ جو صاحب اپنی کا ر گذاری دکھا رہے تھے وہ لمبی پا ری کھیل رہے تھے، پہلے شعر پھر قطعہ اور پھر چھو ٹی بڑی بحر کی غزل یعنی پہلے دورن پھر ایک چو کا اور آخر میں چھکا ما ر کر لانگ لیگ پر کیچ آوٹ ہو گئے لیکن نثری ادب میں طو یل کہانی یعنی سنچری باقی ماندہ کھلا ڑیوں کو اخیر تک مو قع نصیب نہیں ہوتا اسی لیئے مشاعر ے ون ڈے ہو تے ہیںجبکہ ادبی پر وگرام ۔پانچ دن کے اکتاد ینے والا ٹیسٹ۔ ہمارے دوست نے بھی بعجلت تمام پیڈ باندھ لیئے تھے۔ لیکن ہائے قسمت ان کی باری آنے سے قبل ہی سا معین نے جما ہیاں لینی شروع کردی تھی۔ کا ر گذار صاحب اپنی طویل کہانی میں تمہید ی بیل گاڑی کو پُر پیچ راستو ں سے لے جا رہے تھے پتہ نہیں بیل کمزور تھے یاراستہ خستہ حال نا ہموارتھا تنگ آکر ہمارے دوست آں میاں نے جراتمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اُن کی چلتی بیل گاڑی میں چھلانگ لگا دی یہ سوچ کر کے گھر واپسی کے لیئے یہ موز وں ترین سواری ہے۔
سہا نا سفر اور یہ موسم حسین الا پتے ہوئے یہ صاحب کا ر گذار اس آفت بلائے نا گہانی سے چونک پڑے ساتھ ہی اُن کے لا غرو کمزور بیل بدک گئے اب جو اسٹیج پر سماں بند ھا تو پیڈاپ ادیبوں میں بھگڈر مچ گئی سامعین کہاں پیچھے رہنے والے تھے وہ قیامت صغریٰ بر پا ہوئی کہ الاماں۔بڑی مشکل سے آں میاں کو تلاش کیا ہمیں یقین تھا کہ وہ انہی بیل گاڑی والے صاحب کے ہمر اہ ہو نگے بحفاظت تمام انہیں بیل گاڑی سے نیچے اتارا اور ان کے گھر پہنچا یا ۔ بستر پر لٹا تے ہوئے ان کے والدین کو تا کید کی کہ فوری دیوانِ غالب کے دَم کیئے پانی کے چھینٹے ما رئیے اور کانوں کے قریب رزمیہ اشعار کا ور کریں تا کہ صبح یہ بیدا ر مغز شاعر کے روپ میں اپنی آنکھیں کھو لیں اس پر یہ بات آشکارا ہو گئی کہ ادیب سے بہتر شاعر ہو تا ہے جس کے ہر اچھے شعر پر وی آئی پی اسٹینڈ سے ایک شور اٹھتا ہے ہماری بار ہا تا کید نے اس کے وا لد ین پر کا فی اثر کیا۔ ان کے چہر وں سے یہ ظاہر ہو نے لگا کہ وہ ہماری بات سے متفق ہیںاس کے والد نے کہا بیٹے ہماری پچھلی سا ت پشتوں نے دیوانِ غالب کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا اور اب اس کے لیئے ہمیں غالب جیسے رند کے دیوان کا سہارا لینا پڑ یگا کیا کریں یہ ہمارے خاندان کا واحد چشم و چراغ ہے دوسرے دن بیمار دوست کی خیریت دریافت کرنے ہم اس کے مکا ن پہنچے داخلی دروازہ پران کے والد بز ر گوار سے مد بھیڑ ہو گئی وہ عجلت میںنظر آئے پتہ چلا کہ دیوان ِ غالب کے پانی سے افاقہ ہو ا ہے۔ لیکن حکیم صاحب نے مکمل دیوان معہ عکسی تر جمہ کا پانی پلانے اور چھڑ کا ؤ کرنے کے لیئے کہا ہے ۔پاکٹ سائیز کے دیوان کا پانی پلانے کے فوری بعد اس نے اپنے خود کے دواشعار کہے لیکن اس میں ردیف اور قافیہ کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اس لیئے حکیم صاحب نے بڑے سائیز کے مکمل اور مجلد دیوان کا کہا ہے خدا کرے قدیم نسخہ دستیاب ہو جائے۔ہم نے کہا قبلہ قسمت بار آور ہو ئی تو میرا دوست جلدہی اچھا اور مکمل شاعر بن جائیگا آپ ایسا کیوں نہیں کرتے پاکٹ سائیز کی دو جلدیں گھو ل کر پلادیں ۔ہماری رائے سے وہ متفق نہیں ہو ئے بو لے نہیں بیٹے بقول حکیم صاحب پاکٹ سائیز میں کتابت کی غلطیوں کے ساتھ پر نٹنگ کا مسئلہ بھی درپیش آتا ہے اگر خدانخوا استہ ایک شعر بھی الٹا سیدھا ہو گیا تو جان لو تمہارا دوست ردلیف اور قا فیے کے تناؤ کا شکا رہو کر لمبی اور چھوٹی بحر میں شاعری شروع کر دیگا اور اس کی جان کے لالے پڑ جا ئینگے اس لیئے کہیں سے بھی اور کیسے بھی ہمیں قد یم نسخہ ہی تلاش کرنا ہے۔کا فی تگ ودو کے بعد ایک ردی فروش کے پاس ہمیں قدیم نسخہ نظر آیا ۔ نسخہ کیا تھابوسید ہ کا غذات کا ایک پلندہ حا شیے میں جگہ جگہ غالب کا انگریز شاعرسے مو ازنہ کیا ہو ا تھا ہم نے کہا قبلہ یہاں تو اُردو انگریزی کا چکر ہے جوبھی ملا قدیم نسخہ ہے ۔گھر پہنچ کر فوراًنسخہ کو ہانڈی میں چلو بھر پانی ڈالکر چو لھے پر رکھد یا گیا دوست کی حالت ابتر تھی لیکن وہ خطرہ سے با ہر تھا عرقِ دیوان پلا تے ہی اس نے جھر جھری لی بد ن اینٹھنے لگا کچھ دیر بعد ہی حالات معمول پر آگئے لبوں میں جبنش ہو ئی۔ مبہم سے الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہو نے لگے تلفظ صا ف نہیں تھا زبان میں لکنت تھی پھر بھی کچھ کچھ سنائی دے رہا تھا جیسے عرررض کر ررتا ۔ عرررض کر ررتا ۔پد ر بز رگو ار کے چہرے پر سُر خی دوڑ گئی یا اللہ تیرا لا کھ لاکھ احسان ہے یہ شاعر تو بن گیا۔ ہم نے مشورہ دیا قبلہ تھو ڑا ساپانی اٹھا کر رکھد یجئے تا کہ اس سے غسل صحت بھی ہوسکے۔
دوسری صبح مسرت کا پیام لے آئی،عالم استراحت میں ہمارا دوست غزل سرا تھا۔ ما نو مرزا نو شہ مشاعرہ لو ٹ رہے ہیں ۔لیکن اشعار میں اُردو تلفظ انگریزی میں ادا ہو ررہے ہیں ہم نے حیرت سے والد صاحب کی طرف دیکھا چہرے پر برسوں کی اداسی طاری تھی کہنے لگے یہ سب حا شیہ کی کا رستانی ہے جو ہوا اچھا ہوا جان تو بچ گئی غز ل پر غزل صبح سے شام اور پھر شام سے رات ہو گئی داد دیتے دیتے چہروں پرتھکن نظرآنے لگیں۔ہم نے کہا قبلہ کہیں اوورڈوز تو نہیں ہو گیا ۔

1-27-54. MO1Z RESIDENCY
MANZOORPURA,AURANGABAD.
E-MAIL-mhmypleasure@g-mail.

Previous articleگلوبلائزیشن اور اسلام ” از مولانا یاسر ندیم
Next articleدینی تعلیم سبھوں کے لئے!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here