کہانی”کالا سونا” از:شاہ تاج- (پونے)

3
173

اسکول سے بیٹے کو پک اپ کرکے میں نے کار اسٹارٹ کی۔سڑک پر حسب معمول گاڑیوں کے ہجوم میں رکتی،چلتی کار آگے بڑھ رہی تھی۔
“ہم جب بھی گھر سے نکلتے ہیں ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں!”
“کیا کریں بیٹا،سڑکوں پر گاڑیاں بھی تو بہت زیادہ ہو گئی ہیں!” میں اپنے بیٹے کو سمجھا تے ہوئے بولی۔

“لوگ ہارن بھی بہت بجاتے ہیں، امی بدبو کتنی آ رہی ہے،سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہے۔میں تو سوچتا ہوں کہ سرکار کو پٹرول،ڈیزل ایک حساب سے دینا چاہیے تاکہ لوگ سوچ سمجھ کر باہر نکلیں!”
“ارے واہ! آپ کی بات سوچنے لائق ہے۔اگر ایسا ہوا تو آنے والی جنریشن کے لئے تیل بچ جائےگا!”
“کیا مطلب……؟”

“اگر ہم اسی طرح تیل استعمال کرتے رہے تو ایک دن تیل ختم ہو جائے گا.”
“کیوں؟ کیا کمپنیاں تیل بنانا بند کر دیں گی؟ ”
“نہیں بیٹا! کمپنیاں تیل نہیں بناتیں بلکہ یہ پوری طرح قدرتی ہے۔”
وہ بہت حیران ہو کر میری طرف دیکھ رہا تھا تبھی سگنل ہو گیا تو میں نے کہا کہ گھر پہنچ کر اس بارے میں بات کریں گے۔

اسکول کا بیگ رکھ کر وہ سیدھا میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ پیٹرول کے بارے میں بتائیے۔تجسس اس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔میں نے کہا ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھا لیجئے پھر باتیں کریں گے۔
شایان تیسری جماعت میں پڑھتا ہے۔اس کی استاد ہمیشہ کہتی ہیں کہ وہ سوال بہت پوچھتا ہے۔کئی بار تو اس کے جواب دینے کے لئے اُنہیں گوگل سرچ کرنا پڑتا ہے۔
آج وہ کئی سوال لےکر میرے سامنے ہے۔وہ سمجھ نہیں پا رہا کہ تیل قدرتی کیسے ہو سکتا ہے۔
شایان نے کہا کہ ہماری ٹیچر نے بتایا ہے کہ جو چیزیں انسان نہیں بنا سکتا وہ قدرتی ہیں۔ میں نے ہاں میں سر ہلا کر اس کی جانب دیکھا۔
اس کا سوال تھا،”تیل قدرتی ہے تو پھر یہ ملتا کہاں ہے؟” میں پھنس جاتے ہیں!”
“کیا کریں بیٹا،سڑکوں پر گاڑیاں بھی تو بہت زیادہ ہو گئی ہیں!” میں اپنے بیٹے کو سمجھا تے ہوئے بولی۔
“لوگ ہارن بھی بہت بجاتے ہیں، امی بدبو کتنی آ رہی ہے،سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہے۔میں تو سوچتا ہوں کہ سرکار کو پٹرول،ڈیزل ایک حساب سے دینا چاہیے تاکہ لوگ سوچ سمجھ کر باہر نکلیں!”
“ارے واہ! آپ کی بات سوچنے لائق ہے۔اگر ایسا ہوا تو آنے والی جنریشن کے لئے تیل بچ جائےگا!”
“کیا مطلب……؟”
“اگر ہم اسی طرح تیل استعمال کرتے رہے تو ایک دن تیل ختم ہو جائے گا.”
“کیوں؟ کیا کمپنیاں تیل بنانا بند کر دیں گی؟ ”
“نہیں بیٹا! کمپنیاں تیل نہیں بناتیں بلکہ یہ پوری طرح قدرتی ہے۔”
وہ بہت حیران ہو کر میری طرف دیکھ رہا تھا تبھی سگنل ہو گیا تو میں نے کہا کہ گھر پہنچ کر اس بارے میں بات کریں گے۔
اسکول کا بیگ رکھ کر وہ سیدھا میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ پیٹرول کے بارے میں بتائیے۔تجسس اس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔میں نے کہا ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھا لیجئے پھر باتیں کریں گے۔
شایان تیسری جماعت میں پڑھتا ہے۔اس کی استاد ہمیشہ کہتی ہیں کہ وہ سوال بہت پوچھتا ہے۔کئی بار تو اس کے جواب دینے کے لئے اُنہیں گوگل سرچ کرنا پڑتا ہے۔
آج وہ کئی سوال لےکر میرے سامنے ہے۔وہ سمجھ نہیں پا رہا کہ تیل قدرتی کیسے ہو سکتا ہے۔
شایان نے کہا کہ ہماری ٹیچر نے بتایا ہے کہ جو چیزیں انسان نہیں بنا سکتا وہ قدرتی ہیں۔ میں نے ہاں میں سر ہلا کر اس کی جانب دیکھا۔
اس کا سوال تھا،”تیل قدرتی ہے تو پھر یہ ملتا کہاں ہے؟”
“جی! یہ سمندر کی گہرائیوں میں،ریگستان کی گہرائیوں میں،بس اتنا سمجھ لیجئے کہ یہ زمین کے بہت نیچے کہیں موجود ہوتا ہے۔”میں نے اسے اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے بتایا تو اس کا دوسرا سوال تیار تھا۔
” کیا تیل ہر جگہ ہوتا ہے؟”
“نہیں صاحبزادے؟ اسے بہت محنت سے تلاش کیا جاتا ہے۔”
“کیسے.۔۔؟” وہ کچھ حیران سا تھا کہ اتنی گہرائی میں ہم تیل کیسے ڈھونڈ پاتے ہیں؟
“ابھی آپ صرف اتنا سمجھ لیجئے کہ ماہر ارضیات یہ کام کرتے ہیں!”
“ماہر ارضیات کون؟”
اس کا اگلا سوال سن کر میں مسکرائی اور اسے سمجھا تے ہوئے کہا” جس طرح ڈاکٹر انسانی جسم اور بیماریوں کے بارے میں جاننے ہیں ایسے ہی ماہر ارضیات(geologist) ہوتے ہیں جو زمین کے بارے میں جاننے ہیں!”
شایان نے کچھ سمجھتے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے گردن ہلادی۔
“پھر۔ ۔۔۔۔؟” وہ ہر بات جاننا چاہتا تھا۔
“ماہر ارضیات بہت محنت کے بعد یہ معلوم کرتے ہیں کہ سمندر کے کس حصّے میں تیل کا کنواں موجود ہو سکتا ہے۔پھر وہاں بڑی بڑی مشینوں کے ذریعے کھدائی کی جاتی ہے۔کبھی کبھی تو مہینوں کی محنت کے بعد crude oil
یا خام تیل ملتا ہے۔اسے کچّا تیل بھی کہتے ہیں۔”
“امی !آپ تو پیٹرول کے بارے میں بتانے والی تھیں اب یہ کروڈ آئل کیا ہے؟ ”
میں نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا کہ “پٹرول،ڈیزل ہمیں سیدھے ہی نہیں مل جاتا بلکہ وہ ایک گاڑھا چیپچپا مادہ ہوتا ہے۔زیادہ تر کالے رنگ کا ہوتا ہے لیکن براؤن،لال اور ہرا بھی ہوتا ہے۔کروڈ آئل کو بلیک گولڈ بھی کہا جاتا ہے۔جب کروڈ آئل مل جاتا ہے تو اسے نکال کر ریفائنری لے جایا جا تا ہے۔”
“ریفائنری کیاہے؟”
“تیل صاف کرنے والے کارخانے کو ریفائنری کہتے ہیں۔”
“اچھا!”اسے ان باتوں میں بہت مزا آ رہا تھا۔
“یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ پٹرول،ڈیزل کی ہماری زندگی میں کتنی زیادہ اہمیت ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ تقریباً ۸۰ فیصد آئل ہم انرجی کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔وہ بھی جسے ہم دوبارہ مصرف میں نہیں لا سکتے۔اس کے علاوہ بیوٹی پروڈکٹ جیسے لپ اسٹک،آئی لائنر،ہیئر ڈائی اور بیبی آئل ،بیبی کریم میں بھی پیٹرولیم کو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔”شایان کو ان باتوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اس لیے وہ صرف گردن ہلا رہا تھا۔
“اور کچھ بتائیے؟”
میں نے کچھ سوچتے ہوئے بتایا “ہاں! کروڈ آئل کو لیٹر میں نہیں ماپتے بلکہ بیرل میں ناپتے ہیں۔ایک بیرل میں ۱۵۹ لیٹر آئل ہوتا ہے۔سمجھے۔۔۔۔!”
“یہ تو نئی بات معلوم ہوئی۔لیکن یہ تیل زمین کے اندر آیا کہاں سے؟”
اس کا سوال بہت معقول تھا۔یہ بات تو مجھے سب سے پہلے بتانا چاہیے تھی خیر! میں نے اسے بتانا شروع کیا ” ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سال پہلے سمندر کے اندر پیڑ پودے،جانور مر کر زمین میں دفن ہوتے گئے۔وہاں کیمیائی عمل جاری رہے اور وہ ریت مٹی کے نیچے دبتے چلے گئے کیمیکلز اور بیکٹیریا نے اپنا کام کیا ۔اورلاکھوں سال بعد وہ آئل میں تبدیل ہو گئے ۔”
“کیا۔۔۔۔؟ایک بوند تیل بننے میں لاکھوں سال لگ جاتے ہیں؟” شایان کچھ سوچتے ہوئے بولا۔میں نے ہاں کہہ کر اُس سے پوچھا۔”کیا سوچ رہے ہو؟”
“ہم کتنا تیل صرف سگنل پر کھڑے ہو کر ضائع کر دیتے ہیں!!” میں دھیان سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
“امی! بہت سےلوگ یہ جانتے ہی نہیں ہیں ک ایک دن تیل کے کنویں خالی ہو جائیں گے۔کیا ہم تیل بچانے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے؟”
میں نے اس کی باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ” ہم اتنا تو ضرور کر سکتے ہیں کہ تھوڑا دھیان سے تیل خرچ کریں۔تاکہ آنے والی نسلوں کو تیل استعمال کرنے کے لئے ملے۔ورنہ بچوں کو تیل کی کہانیاں سنانی پڑیں گی”۔میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
“آپ بتائیے کہ آپ کیا کریں گے؟”میں نے شایان سے سوال کیا۔
شایان کھڑا ہو گیا اور بولا۔”امی! میں سگنل پر ہمیشہ گاڑی بند کرونگا ۔۔!”
میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا۔شاباش۔۔۔۔!(یہ بھی پڑھیں!کہانی”وہ خاص دن”از:شاہ تاج ( پونے)

Previous articleامیر شریعت رابع: ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next article(سلسلہ) خوشگوار ملاقاتیں “محسن نامہ” از: عبدالمالک بلندشہری

3 COMMENTS

  1. شاہ تاج کی پہلی سائنسی کامیاب کہانی اس سے پہلے شاہ تاج نے بچوں کے ادب پر کبھی خامہ فرسائی نہیں کی تھی پہلی بار میرے اصرار پر بچوں کے لئےلکھنا شروع کیا اور ماشاءاللہ، آج بچوں کے ادب میں صرف ڈیڑھ سال میں ایک کامیاب سائنسی کہانیاں لکھنے والی مصنفہ کے طور پر شاہ تاج اپنے آپ کو اردو ادب میں عمومی طور پر ادب اطفال میں خصوصاََ مستحکم کرنے میں کامیاب ہیں۔ شاہ تاج کی ذہانت کا اور ان کے تواتر سے لکھنے کا یہ ایک ریکارڈ ہے کہ 18اپریل کو انھوں نے پہلی کہانی لکھی اور چار مہینے میں کہانیوں کا مجموعہ پکنک تیار ہوگیا جو فروری 2021 میں قومی اردو کونسل کے تعاون سے منظر عام پر آگیا۔ یہ میرے لئے انتہائی خوشی اور باعث فخر ہے۔ میں نے شاہ تاج کی کتاب پکنک کا پیش لفظ شاہ تاج کے اصرار پر تحریر کیا ہے۔ میں شاہ تاج کی کامیابیوں کے لئے دعا گو ہوں سراج عظیم

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here