کہانی”وہ خاص دن”از:شاہ تاج ( پونے)

0
128

سانپ کی چال دیکھی ہے..! دوسروں سے ایک دم مختلف۔۔۔لہراتا۔۔جھومتا۔۔۔مانو اُسے سیدھا چلنا تو آتا ہی نہیں۔میں جب دوسری جماعت میں تھی تو سوچتی تھی کہ یہ سیدھا کیوں نہیں چلتا۔۔! اس کے پیر کہاں ہیں۔۔؟ سانپ کے آگے بڑھنے کے بعد بنے مٹی پر ڈیزائن میرے تجسس کو مزید بڑھا دیتے تھے۔
حیران نہ ہوں۔۔۔میں نے اپنے گھر میں سانپ نہیں پالے تھے۔۔۔اور نہ ہی میں سپیروں کی فیملی سے ہوں۔ہوا یوں۔۔۔کہ۔۔ایک مرتبہ ہماری سوسائٹی میں سانپ نکل آیا تھا۔۔۔اور اُسے پکڑنے کے لئے “سرپ متر” بلائے گئے تھے۔تب میں نے پہلی بار اتنے قریب سے سانپ دیکھا تھا۔۔۔۔بس وہ دن ہے اور آج کا دن۔۔۔۔سانپ میرے چاروں طرف ہیں۔۔۔اب میں herpetologist ہوں
اب آپ پوچھیں گے کہ ماہر حشرات الارض کیا ہے۔۔۔؟ماہر حشرات الارض یا ہرپٹولوجسٹ وہ ہوتا ہے جو رینگنے والے جانوروں اور جل تھلیوں (خشکی اور پانی میں رہنے والے جاندار جیسے مینڈک اور آبی چھپکلی وغیرہ) سے متعلق اسٹڈی کرتا ہے اور ان کے مطالعہ میں مہارت رکھتا ہے۔
وہ بہت خاص دن تھا جب میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ میں سانپ کے بارے میں سب کچھ جان کر رہوں گی۔۔ ایک بات اور۔۔۔۔ میری امی کو سانپ سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔لیکن میرے شوق اور تجسس کو دیکھ کر وہ مجھے پونے کے راجیو گاندھی چڑیا گھر لیکر گئی تھیں۔جہاں ایک بہت بڑا کاترج سنیک پارک بھی ہے۔جہاں سیکڑوں کی تعداد میں سانپ موجود ہیں۔بڑے- چھوٹے،موٹے- پتلے،کالے- سفید اور کچھ سانپ تو بہت خوبصورت ہیں۔
سانپوں سے میری پہلی اور یادگار ملاقات میری امی نے کرائی۔۔۔مجھے آج بھی یاد ہے جب میں سانپوں کو دیکھنے کے لیے کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔۔۔دوڑ رہی تھی۔۔۔اتنے سارے سانپ۔۔۔۔دیکھ کر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور میری امی مجھے دیکھ کر دھیرے دھیرے مسکرا رہی تھیں۔
وہاں الگ الگ پنجروں میں،اور کچھ تو اوپر سے کھلی چار دیواری میں رینگ رہے تھے۔۔اُن کے بارے میں مختصر معلومات وہاں پر لگے بورڈ پر موجود تھیں۔۔۔لیکن مجھے میرے سوال کا جواب کہیں نہیں مل رہا تھا کہ سانپ سیدھے کیوں نہیں چلتے۔۔؟
اس وقت snake park میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔۔۔اور میرا جوش دیکھ کر وہاں موجود لوگ محظوظ ہو رہے تھے۔اپنے کیبن میں بیٹھے ہوئے پارک کے انچارج مجھے دیکھ رہے تھے،وہ باہر آئے اور مجھ سے بات کرنے لگے۔۔۔۔! مجھے اُن کا نام تو یاد نہیں لیکن میرے ذہن میں اٹھنے والے سوال کا جواب انہوں نے ہی دیا تھا اور میں نے وہ تمام معلومات اپنی چھوٹی سی ڈائری میں ٹوٹے پھوٹے انداز میں نوٹ بھی کی تھی۔انہوں نے آتے ہی مجھ سے پوچھا۔۔۔
” بیٹا آپ کو سانپ سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔؟ آپ کو سانپ پسند ہیں۔ ؟”
” جی انکل..! مجھے سانپ بہت پسند ہیں اور مجھے اُن سے ڈر بھی نہیں لگتا۔۔۔! مجھے اُن کا لہرا لہرا کر چلنا بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔!” میں نے خوش ہو کر اُنہیں بتایا۔وہ مسکرائے اور انہوں نے میرا نام پوچھا۔۔
” میرا نام لبیقہ ہے۔” میں نے اُنہیں اپنا نام بتایا۔
پھر انہوں نے مجھے بتانا شروع کیا۔میری امی میرے ساتھ کھڑی تھیں اور ہمارے درمیان ہونے والی باتوں کو بہت دھیان سے سن رہی تھیں،
” سانپ کے لہرا کے چلنے کو surpentine movement
کہتے ہیں۔سانپ ایک ہی طرح سے نہیں چلتے بلکہ وہ آگے بڑھنے کے لیے پانچ مختلف طرح کی حرکات کا سہارا لیتے ہیں۔” پارک والے انکل نے بتایا۔
میں نے ایک سانپ کے ذگ ذیگ چلنے کے انداز کو دیکھ کر کہا” اس طرح چلنے کو lateral undulation کہتے ہیں نہ۔۔؟
پارک والے انکل بہت حیران ہوئے کہ مجھے یہ بات معلوم ہے۔۔۔! تب میری امی نے ہماری سوسائٹی میں ملنے والے سانپ کے بارے میں بتایا،یہ بھی کہا کہ یہ معلومات ” سرپ متر” مجھے دے کر گئے تھے۔
مجھے شاباشی دینے کے بعد انہوں نے اپنی بات آگے بڑھائی۔۔
” سانپ کے پیر نہیں ہوتے،سانپ کے spinal column ہو تے ہیں۔جس سے متعدد ہڈیاں جڑی ہوتی ہیں۔۳۰۰ سے ۴۰۰ تک یہ تعداد ہو سکتی ہے۔یہ سانپ کی لمبائی پر منحصر ہے۔(ribs )
پسلیاں اس ہڈی سے آکر ملتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سانپ صرف دائیں اور بائیں ہی حرکت کر سکتا ہے۔یہ جو پھن والا حصّہ آپ دیکھ رہی ہو۔۔۔سانپ اسے ہی سیدھا اٹھا سکتا ہے۔zig Zag
انداز میں چلنے کے لئے سانپ کے muscle اورscales
سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں۔”
” انکل آپ نے بتایا پانچ طرح کے انداز میں سانپ چلتے ہیں، مجھے اس بارے میں بتائیے۔۔!” میں نے پوچھا
” جی لبیقہ ! سانپ کو پہاڑ، کھردری جگہ،پیڑ اور اونچی نیچی جگہوں پر رینگنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی لیکن چکنی جگہ جیسے کانچ یا شیشے پر آگے بڑھنا اُس کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے۔” میں نے فوراً پوچھا۔۔
” تو کیا سانپ شیشے پر نہیں چل سکتا۔۔۔؟”
” نہیں۔۔! ایسا نہیں ہے۔ایسے وقت میں سانپ کی رفتار ذرا سست اور چلنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔سانپ آگے بڑھنے کے لیے پانچ طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔lateral undulation (surpentine method)،concertina method،sidewinding، rectilinear method اور slide pushing کہتے ہیں۔” میرے لئے اُس وقت سمجھنا تھوڑا مشکل تھا لیکن انکل نے مجھے اسپیلنگ بتائی تو میں نے اپنی ڈائری میں سب نوٹ کر لیا۔
پارک والے انکل نے آگے بتایا۔۔۔
Lateral undulation
میں زگ زیگ اور مکمل” s”
زمین پر بنتا ہے۔۔یہ آپ جانتے ہو۔”
” جی انکل! میں نے یہاں کئی سانپوں کو دیکھا ہے جو ایس بناتے ہوئے ہی چل یا رینگ رہے تھے۔”
پارک والے انکل نے آگے بتانا شروع کیا۔۔۔” concertina method تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔سانپ یہ طریقہ تنگ جگہ پر آگے بڑھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس طریقے میں صرف اتنا جان لیجئے کہ اگلا حصّہ خود کو آگے بڑھاتا ہے اور پچھلا حصّہ دھکا دے کر سانپ کو آگے بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔تیسرا طریقہ یعنی sidewinding کو ریگستان میں سانپ اپناتے ہیں۔جہاں (loose ) ڈھیلی اور پھسلنے والی سطح ہے۔جیسے ریت اور کیچڑ ۔۔۔ جہاں سانپ سیدھے نہیں بلکہ side
یعنی صرف دائیں یا صرف پھر بائیں جانب رینگتے ہیں۔چوتھا طریقہ بہت ہی سست ہوتا ہے۔کیونکہ سانپ کے لیے سیدھا چلنا آسان نہیں ہوتا اُن کے جسم کی بناوٹ ایسا کرنے میں حائل ہوتی ہے ۔پھر بھی rectilinear method کئی مرتبہ سانپ اپناتے ہیں۔سانپ اپنے scale اور belly کو زمین پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے اور خود کو آگے بڑھاتا ہے۔ایسے میں اُس کے scales بالکل کشتی کے چپپو کی طرح کام کرتے ہیں۔” مجھے کچھ سمجھ آ رہا تھا اور بہت کچھ نہیں بھی۔۔۔لیکن مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔جیسے ہی انکل تھوڑا رکے تو میں نے کہا۔۔
“اور پانچواں طریقہ۔۔۔” انکل تھوڑا مسکرائے تھے اور انہوں نے کہا۔۔
” ہاں ہاں بتاتا ہوں۔slide pushing میں سانپ کی رفتار نہ کے برابر ہوتی ہے۔زمین کی ایسی سطح جہاں سانپ کو grip نہ مل پا رہی ہو تب وہ اس طریقے کو اپناتا ہے۔خود کو لمبے پھیلاؤ کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے۔” میں نے فوراً پوچھا”۔ لمبا پھیلاؤ کیا۔۔؟”
انکل نے ایک سانپ کی طرف اشارہ کیا اور کہا” عام طور پر سانپ “s “بناتا ہے اور جہاں اُسے آگے بڑھنے میں مشکل آتی ہے تو وہ بہت بڑا سا ” s”بناتا ہے ۔پھسلنے اور چکنی جگہوں پر خود کو بچانے کی کوشش میں یہ طرز عمل اپناتا ہے۔” انکل نے مجھے سمجھا تے ہوئے کہا
” ابھی آپ بہت چھوٹی ہیں،اس لیے اتنی معلومات کافی ہیں جب تھوڑی بڑی ہو جاؤ گی تب آنا،میں آپ کو اور بھی بہت سی باتیں بتاؤں گا۔میں نے ہاں میں سر ہلایا اُن کا شکریہ ادا کیا اور ہم پھر پارک میں گھومنے لگے۔
میرے ذہن میں اٹھنے والے سوال کا جواب دینے والے پارک والے انکل مجھے دوبارہ کبھی نہیں ملے۔میں آج بھی اکثر katraj snake park میں جاتی ہوں اور برسوں پہلے کے اپنے پہلے سبق کو اپنی ڈائری سے پڑھتی ہوں۔۔۔۔! اور ان باتوں کو یاد کرکے کچھ نیا سیکھنے کا جوش اپنے اندر محسوس کرتی ہوں۔۔۔!

Previous article“خطبات سبحانی” :ایک سرسری مطالعہ از: عین الحق امینی قاسمی
Next articleغزلیں :جلال عظیم آبادی[مرحوم]، بنگلا دیش

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here