کہانی ”امتحان” از : عبدالوہاب قاسمی

0
95
کہانی ”امتحان” از : عبدالوہاب قاسمی

آج اسکول میں امتحان کا آخری دن تھا۔ سارے بچے وقت پر اسکول پہنچ چکے تھے۔ تحریری امتحان کے بعد ہمیشہ کی طرح تقریری امتحان میں بھی بچے جوش وخروش سے حصہ لیتے تھے۔ اس لیے آج اسکول میں کچھ زیادہ ہی چہل پہل تھی۔ امتحان کے ختم ہونے کی خوشی،چھٹی کی خوشی اور سب سے بڑھ کرسیروتفریح کے لیے جانے کی خوشی…!
امتحان کا وقت ہوچکا تھا۔ ممتحن الگ الگ کمروں میں بیٹھے تھے۔ بچے باری باری جاتے اور پوچھے گئے سوالات کا جواب دے کر واپس آتے۔
شاکر کی کلاس کے ممتحن کچھ الگ قسم کے تھے۔ کتاب کے علاوہ ایک خاص سوال وہ تمام بچوں سے کرتے۔ اسی لیے بچے باہر آکر اس نئے مگر عجیب قسم کے سوال پر آپس میں باتیں کرتے۔ کبھی حیرت سے ایک دوسرے کودیکھتے اور کبھی اپنے دیے ہوئے جواب پر جی بھر کر ہنستے…!!
وہ خاص سوال یہ تھا:
’’اگر تم سے کوئی سوال کرے اور تم اس کا جواب نہ دے سکو پھر بھی امتحان لینے والا تمھیں پاس کردے تو بدلے میں تم انھیں کیا دوگے؟‘‘
واقعی یہ عجیب سوال تھا…!
تمام بچوں نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق جواب دیا ۔
کسی نے کہا’’میں انھیں ٹافی دوں گا‘‘
کسی نے کہا ’’میں ڈھیر سارے پیسے دوں گا‘‘
کوئی یہ کہہ آیا کہ ’’میں گھڑی دوں گا‘‘
کسی نے کپڑے دینے کی بات کہی ، تو کوئی لنچ کھلانے کا وعدہ کرتا…ایک بچے نے ہوائی جہاز تک دینے کی بات کہہ دی…جتنا منہ اتنی باتیں…!
شاکر تمام بچوں کی باتیں غورسے سنتا رہا۔ جب اس کی باری آئی تو وہ اندرداخل ہوا۔ ممتحن نے دوسرے بہت سے سوالوں کے ساتھ اپنا خاص سوال بھی اس سے پوچھا۔
وہ تھوڑی دیر خاموش رہا…پھر بولا:
استاد! میں انھیں کچھ بھی نہیں دوں گا!
استاد حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔ انھوں نے پوچھا کیوں؟
شاکر نے جواب دیا:
’’انھوں نے مجھے غلط نمبر دیا ہے۔ جب میں نے کوئی جواب دیا ہی نہیں تو مجھے نمبر کس چیز کے ملے…یہ ایک طرح کی رشوت ہوئی۔ میرے استاد نے کلاس میں بتایا کہ رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا اور محمد ﷺ نے بھی سختی سے منع فرمایا ہے…اس لیے میں ایسا کبھی نہیں کروں گا‘‘
ممتحن نے شاکر کو شاباشی دی۔
سارے بچے شاکر کے انتظارمیں تھے۔ جب وہ باہر نکلا تو بچوں نے پوچھا :
’’تم نے اس خاص سوال کا کیا جواب دیا‘‘
شاکر نے کہا ’’میں نے کہہ دیا کہ کچھ بھی نہیں دوں گا‘‘
چند دنوں بعد اسکول کی دیوار پر بچوں کاامتحانی نتیجہ چسپاں کیا گیا۔ یہ دیکھ کرشاکرکی خوشی کاٹھکانا نہیں رہا کہ اسے پورے اسکول میں امتیازی نمبر ملاتھا۔

————–٭٭٭————

Previous articleسیاسی اور معیشی ابتری کے بھنور میں ڈوٗبتا ملک : حکومتیں اپنے تماشوں میں مصروف از:صفدر امام قادری
Next articleغزل از : افتخار راغبؔ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here