کہانی “دودوست” از جہانگیر انس

0
300

نعیم اور ارشد دودوست تھے۔ دونوں ایک ساتھ گھومتے رہتے۔ نعیم باتونی تھا۔ وہ گپ ہانکتا اور ارشد اپنی ذہانت سے اس کے گپ کو سچ ثابت کردیتا۔ اس طرح لوگوں کو بے وقوف بناکر وہ اپنا کام چلا تے رہتے۔
ایک دن دونوں بادشاہ کے دربار میں گئے۔ نعیم اپنی عادت سے مجبور تھا۔ اس نے بادشاہ سے کہا’’آج ہم نے ایک حیرت انگیز واقعہ دیکھا ہے۔اگر حضور اجازت دیں تو عرض کروں‘‘۔
بادشاہ سے اجازت لے کر نعیم نے کہا’’آج ہم نے ایک بہت بڑے اور بھاری پتھر کو دریا میں کشتی کی طرح تیرتے دیکھا ہے‘‘۔
بادشاہ نے تعجب سے پوچھا’’بھلا پتھر بھی دریا میں تیرسکتاہے‘‘۔

نعیم نے اپنی بات پر زور دے کر کہا’’حضور! میں غلط نہیں کہہ رہا ہوں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے‘‘۔
بادشاہ کو اب بھی یقین نہیں آیا۔ اس نے کہا’’ اگر تم نے اسے ثابت نہیں کیا توچمڑی اُدھڑوادوں گا‘‘۔
نعیم نے تو اپنی عادت کے مطابق گپ ہانک دی تھی لیکن بادشاہ کی دھمکی سن کر ڈر سے اس کی حالت خراب ہوگئی۔ وہ ارشد کی طرف دیکھنے لگا۔ بادشاہ کی دھمکی سن کر ارشد کے دل میں بھی خوف پیدا ہوا۔ لیکن اسے اپنی ذہانت پر بھروسہ تھا۔ اس نے کہا’’جہاں پناہ! بھلا ہماری کیا مجال کہ حضور کی خدمت میں جھوٹی بات عرض کر سکیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک بہت بڑا اور بھاری پتھر مدت سے دریا کے کنارے پڑا ہواتھا اور ہر سال طغیانی میں اس پر مٹی کی تہہ جمتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ کئی سال میں اس پر مٹی کی کافی موٹی تہہ جم گئی۔ ایک دن کسی چڑیا نے اس پر کدّو کا ایک بیج گرادیا۔ کچھ دنوں میں کدو کا بیج اگ گیا اور اس کی بیل چاروں طرف پھیل گئی اور اس میں بہت سے بڑے بڑے کدو پھلے۔ یہ کدو بعد میں خشک ہو گئے اور اس کے بعد جو طغیانی آئی تو یہ تونبوں کا کام دینے لگے اور پتھر کو پانی پر اٹھا لیا۔ پتھر کے پانی میں تیرنے کی یہی وجہ تھی‘‘۔
بات معقول تھی۔ دونوں کی جان بچ گئی اور دربارِ شاہی سے انعام و اکرام بھی ملا۔ اس واقعہ کے بعد ارشدنے نعیم کو سمجھا یا کہ آج جان بچ گئی ہے۔ اگر کسی دن بات نہیں بنی تو جان سے ہاتھ دھونے پڑجائیں گے۔ اس لیے اب ہم لو گوں کو محنت و مشقت کر نی چاہیے اور لوگوں کو بے وقوف بنا نا چھوڑ دینا چاہیے‘‘۔
نعیم اپنی عادت سے مجبو رتھا۔ ارشد کی باتوں کا اس پر کوئی اثر نہیںہوا اور ایک دن ارشد کو بتائے بغیر ، وہ اکیلے ہی بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ بادشاہ نے نعیم کو دربار میں دیکھ کر پوچھا’’تم پھر کیوں آئے ہو‘‘؟
نعیم نے کہا’’حضورِاعلا ! غلام نے آج پھر ایک حیرت انگیز واقعہ دیکھا ہے اگر اجازت ہو تو عرض کروں ‘‘۔
بادشاہ نے کہا ’’اجازت ہے‘‘۔
نعیم نے کہا’’ غلام نے آج دریامیں ایک گھوڑے کو جل کر مرتے دیکھا ہے‘‘۔
نعیم کی گپ سن کر بادشاہ کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا’’تم بڑے جھوٹے ہو۔ ایسی ناممکن بات کہتے ہو جسے سن کر جی میں آتا ہے کہ تمھیں فوراً سو جوتے لگوائوں۔ پھر بھی میں تمھیں اپنی بات کو سچ ثابت کر نے کے لیے ثبوت پیش کر نے کا ایک موقع دیتا ہوں‘‘۔
ارشد تو تھا نہیں کہ اس کی تائید میں اپنی ذہانت سے کوئی ثبوت پیش کرتا اور نعیم جیسے باتونی کے لیے کو ئی ثبوت پیش کرنا مشکل نہیں نا ممکن تھا۔ وہ بغلیں جھانکنے لگا۔ جب وہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا تو بادشاہ نے اسے سوجوتے لگوائے اور منھ پر کالک پتوا کر قید خانے میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔
ارشد کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اسے بہت افسوس ہوا۔ نعیم آخر اس کا دوست تھا۔ اسے قید سے رہائی دلا نا ارشد نے اپنا فرض سمجھا۔ وہ بھی دربار میں گیا اور اس نے بھی بادشاہ سے کہا’’غلام نے بھی اس گھوڑے کو دریا میں جل کر مرتے دیکھا تھا۔ نعیم نے جھوٹ نہیں کہا‘‘۔
بادشاہ نے کہا’’کیوں رے پاجی! اب تو ہمیں بے وقوف بنانے آیاہے۔ کیا تجھے اس احمق نعیم کا حشر معلوم نہیں‘‘؟
ارشد نے دل میں سوچا نعیم بے وقوف تھا لیکن میں بے وقوف نہیں ہوں۔ اس نے ہاتھ جو ڑ کر کہا’’غلام کی اتنی مجال کہاں کہ حضور کو بے وقوف بنائے۔ میں نے بالکل سچ کہا ہے اور نعیم نے بھی سچ کہا تھا۔ ہم دونوں نے اس گھوڑے کو پانی میںجل کر مرتے دیکھا تھا۔‘‘
بادشاہ نے کہا’’نہیں۔ تم دونوں جھوٹے ہو۔ ایسا کبھی ہوہی نہیں سکتا‘‘۔
ارشد بولا’’حضور! ہم جھوٹے نہیں ہیں ۔ واقعہ یوں ہے کہ اس گھوڑے پر دوبورے چونے کی کلیاں لدی ہوئی تھیں۔ دریا پار کرتے وقت گھوڑے کا پائوں پھسل گیا اور وہ پانی میں گر پڑا۔ اس کا گرنا تھا کہ چونے کی تمام کلیاں پانی میں بھیگ کر پھد پھد کرکے پکنے لگیں۔ آگے جو کچھ ہوا ہو گا حضور خود سمجھ سکتے ہیں‘‘
بادشاہ نے کہا’’ہاں میں سمجھ گیا چونے کی کلیوں کو پانی ملا تو وہ پکنے لگیں اور گھوڑا جل گیا۔ میں نے تو اسے نعیم کی ایک گپ سمجھا تھا اس لیے سو جوتے لگوا کر اور منھ کالا کر اکر قید کردیا۔

بادشاہ نے نعیم کو قید سے آزاد کردیا اور دونوں کو کافی انعام و اکرام دیا۔
اب نعیم کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس نے گپ ہانکنا بند کردیا۔ دربارسے انھیں جو انعام و اکرام ملااس سے دونوں مل کر تجارت کرنے لگے۔ نعیم کی محنت اور ارشد کی ذہانت کے سبب دیکھتے ہی دیکھتے بڑے تاجروں میں ان کا شمار ہو نے لگا۔

٭٭٭

Previous articleساس اور بہو:خاندان کےلئے رحمت: قسط نمبر2) محمد علی جوہر سوپولوی
Next article“سروش غیب “:ایک مطالعہ از: مولانا سید شاہ ہلال احمد قادری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here